اسم اعظم

ایک دن معلم شاہ عبداللہ کمر ۂ اساتذہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ کچھ اور اساتذہ بھی موجود تھے۔باہمی گفتگو جاری تھی جس کا کوئی مرکزی موضوع نہیں تھا، جو کوئی سخن گفتنی آگے بڑھاتا، کچھ دیر کے لیے باہمی گفتگو کا موضوع بن جاتا۔ عین اس وقت عبداللہ نے مصر کے جنرل نجیب کی خود نوشت سوانح عمری کا ذکر چھیڑ دیا، جس کا نام جنرل نجیب نے’’مصر کی تقدیر‘‘ رکھا تھا۔ شاہ عبداللہ نے چونکہ انہی ایام میں یہ کتاب پڑھی تھی لہٰذا بڑے جوش اور جذبے کے ساتھ اس کاتعارف کرانے لگے۔ انہوں نے جنرل نجیب کے زمانۂ طالب علمی کا ایک واقعہ سنایا جنرل نجیب نے لکھا ہے:
’’میں جس زمانہ میں گورڈن کالج(خرطوم) میں بی۔ اے کا طالب علم تھا تو ایک دن انگریزی کے گھنٹے میں انگریزی کے انگریز استاد نے اپنے موضوع سے ہٹ کر یہ کہا کہ مصر پر انگریزوں کی حکومت ہے۔ میں یہ تبصرہ بن کر غضبناک ہوگیا اور کھڑے ہو کر گرج کر کہا’پروفیسر صاحب! آپ جھوٹ بولتے ہیں‘ مصر پر انگریزوں کی حکومت نہیں بلکہ انگریزوں کا قبضہ ہے۔ حاکم اور غاصب کا فرق سن کر پوری جماعت میری ہمنوا ہوگئی لیکن پروفیسر مشتعل ہوگیا اور پنجے جھاڑ کر میرے پیچھے پڑگیا۔‘‘
عین اس وقت نویں جماعت کا ایک طالب علم سیداحمد کسی کام سے کمرے میں آگیا۔ شاہ عبداللہ نے اسی وقت اپنے ساتھیوں سے دریافت کیا’’کیا آپ میں سے کسی نے یہ معرکۃ الآرا کتاب پڑھی ہے؟‘‘
’’نہیں ۔‘‘ یہ سب کا متفقہ جواب تھا۔
اس وقت شاہ جی کو احساسِ برتری کی ایک نامعلوم تیزرَو بہا کر لیے گئی، انہوں نے کہا ’’بڑی عجیب بات ہے کہ کتاب کو بازار میں آئے ہوئے ایک برس ہوگیا ہے اور آپ میں سے کسی صاحب نے ابھی تک یہ کتاب نہیں پڑھی۔‘‘
سننے والوں کے لیے یہ جملہ خاصاناگوار اور تکلیف دہ تھا کہ اس میں ان کی تحقیر کا خاصا سامان موجود تھا، تاہم عبداللہ صاحب کو یہ احساس نہیں ہوا۔ وہ جنرل نجیب کے ذہن کا تجزیہ کرنے لگے کہ حکمران اور غاصب کاجو تصور جنرل کے ذہن میں راسخ ہوچکا تھا، وہ کیا نتائج پیدا کرسکتا تھا۔
اس وقت ان کے ساتھی یہ باتیں سننے کے خواہشمند نہیں تھے۔ اتنے میں آواز آئی’’جناب والا۔‘‘
سننے والوں نے دیکھا کہ سید احمد کچھ کہنے کے لیے بے قرار ہو رہا تھا، اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ اس نے شاہ عبداللہ کی طرف متوجہ ہوکر کہا’’جناب ! میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔‘‘
شاہ عبد اللہ اپنے طالب علم کی طرف ملتفت ہوئے۔ اس وقت اس کے چہرے پر ایک عجیب و غریب رونق نمایاں تھی۔ ’’جناب! کیا آپ نے قرآن مجید اسی انہماک سے پڑھا ہے جیسے جنرل نجیب کی کتاب پڑھی ہے؟‘‘
شاہ عبد اللہ کے لیے یہ سوال بجلی کا جھٹکا ثابت ہوا۔ وہ اک دم سکتے میں آ گئے اور چونکہ بات کلام اللہ کی تھی لہٰذا انھوں نے اعترافاً کہا ’’نہیں تو! کیوں کیا بات ہے؟‘‘
’’جناب والا! اس کتاب کو زمین پر اترے کئی صدیاں گزر چکی ہیں اور آپ نے ابھی تک اسے نہیں پڑھا۔‘‘
یہ کہہ کر سید احمد خاموش ہوگیا مگر یہ سن کر شاہ عبد اللہ گنگ ہوگئے، بقیہ اساتذہ سید احمدکی ذہانت پر عش عش کر اٹھے۔ اس نے انھیں احساس ِ کمتری کے اس زمین دوز ٹھکا نے سے باہر نکال لیا جہاں شاہ عبد اللہ نے انھیں نادانستہ طور پر پہنچا دیا تھا۔
سید احمد کا یہی جملہ تھا جو ایک بے پناہ انجام کی خوشگوار ابتدا بیان کر رہا تھا۔
سالانہ امتحانات ہوئے تو مدرسے کا روایتی جلسہ تقسیم ِ انعامات منعقد ہوا۔ اس تقریب میں روایت کے مطابق محکمہ تعلیم کے سربراہ کے علاوہ اسکول کی انتظامیہ کے ارکان شریک ہوئے، اخبار وں کے نمائندے بھی آئے ہوئے تھے۔ اس روز فی الواقعہ ااسکول میں بڑی گہما گہمی تھی جو ایسی تقریب کے موقع پر ہمیشہ اور ہر جگہ دیکھنے میں آتی ہے۔
تقریب کلامِ پاک کی تلاوت سے شروع ہوئی، پھر صدر معلم نے مدرسے کی سالانہ رپورٹ پڑھی۔ پھر محکمہ تعلیم کے ناظم تعلیمات نے تقریر کی جس کے بعد انتظامیہ کے صدر نے اسکول کو بہتر بنانے کے لیے اپنے آئندہ عزائم کا اعلان کیا۔ مدرسے کے اوّل، دوم اور سوم آنے والے طلباء کو انعامات اور توصیفی اسناد دی گئیں۔ ان کی بڑی تکریم کے ساتھ حوصلہ افزائی ہوئی۔ ان کے والدین بہت مسرور دیکھے گئے۔ تقسیم انعامات کے بعد ایک پروگرام شروع ہوا جس میں بعض طلباء کو مباحثے میں حصہ لینا تھا، بعض کو نظمیں پڑھنی تھیں، بعض نے مضامین سنانے تھے۔ اس پروگرام میں سید احمد نے نعت پڑھنی تھی اور اسی سے اس آخری پروگرام کا آغاز ہونا تھا۔
سیّد احمد نے مائیک پر نعت پڑھنی شروع کی۔ بلاشبہ اس کی آواز میں کوئی حلاوت نہ تھی مگر سننے والے محسوس کر رہے تھے کہ کثرت ِ مشق نے آواز میں ایک وجد آفریں کیفیت پیدا کردی تھی اور علامہ اقبالؒ کے ترنم کی طرز اس پر مستزاد تھی۔ پورا مجمع محویت کے ساتھ سن رہا تھا مگر ااسکول کے صدر معلم پیلے ہو رہے تھے کیونکہ سیّد احمد مولانا الطاف حسین حالی کی مشہور نعت یوں پڑھ رہا تھا؎
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والے
مرادیں غریبوں کی برلانے والے
غریبوں کے مولا یتیموں کے والی
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والے
معلوم نہیں سید احمد کو کیا سوجھی تھی یا سجھائی گئی کہ تصرف ِ لفظی سے کام لیتے ہوئے وہ ’والا‘ کے بجائے ’والے‘ پڑھ رہا تھا۔
جونہی سید احمد نے نعت ختم کی، صدر معلم نے اسے آڑے ہاتھوں لیا اور نہایت غصے میں اس سے پوچھا ’’برخوردار! تمھیں اردو کون صاحب پڑھاتے ہیں؟‘‘
’’جناب شباہت حسین یوسف زئی صاحب!‘‘
’’یوسف زئی صاحب آپ کہاں ہیں؟‘‘
اس پر شباہت حسین یوسف زئی کھڑے ہوگئے۔
’’انھیں اردو آپ پڑھاتے ہیں؟‘‘
’’جی ہاں۔‘‘
’’آپ پٹھان ہیں؟‘‘
’’جی ہاں۔‘‘
’’آپ کو اردو آتی ہے؟‘‘
’’جی ہاں! آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟‘‘
’’آپ نے اس چھوکرے کو نعت غلط کیوں یاد کرائی؟‘‘
یہ جملہ سن کر نوجوان پٹھان معلم طیش میں آکر سرخ ہوگیا، اس نے بڑے تیز و تند لہجے میں کہا:
’’جناب پہلے تو آپ اپنی اردو درست کریں۔ آپ میرے انتہائی عزیز طالب علم کے لیے چھوکرے کا لفظ استعمال کر رہے ہیں جو کسی طرح سے مناسب نہیں۔ آخر آپ کو اتنا غصہ کس بات پر آیا ہے؟‘‘
’’آپ یہ بتائیں آپ نے اسے نعت غلط کیوں یاد کرائی ہے؟‘‘
’’نعت کیسے غلط ہے؟‘‘
’’غلط اس طرح ہے کہ مولانا حالی نے لکھا ہے ’وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا‘ اور یہ پڑھ کر گیا ہے، وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والے۔‘‘
یہ سن کر پٹھان معلم اس جگہ سے اٹھ کر مائیک پر آگیا اور اس اعتراض کا جواب اس نے مجمع ِ عام کو یہ دیا:
’’صاحبو! میں نے سید احمد کو اسی طرح نعت یاد کرائی جیسے حالی مرحوم نے لکھی ہے مگر سید احمد اسے اس طرح پڑھنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتا تھا۔ اس کا کہنا یہ تھا کہ میرے والد نے مجھے نعت پہلے ہی سے اسی طرح یاد کرا رکھی ہے جیسی اس نے آپ کے سامنے پڑھی ہے اور ایسا کرنے کے لیے اس کے پاس دلیل یہ تھی کہ تکریمِ رسولؐ، حب رسولؐ اور ادب ِ رسولؐ کا تقاضا یہ ہے کہ میں ’والا‘ کو ’والے‘ پڑھوں۔ مجھے اس کی دلیل درست معلوم ہوئی، اس کے دل میں تکریم ِ رسولؐ کے جو جذبات تھے، ان کا پاس کرتے ہوئے میں نے اسے اسی طرح پڑھنے دیا اور مشق کراتا رہا جیسے اس کے والد کی تمنا تھی۔‘‘
’’شاباش، شاباش۔‘‘ ہال سے آوازیں اٹھیں۔
اگلے دن کے اخبارات اسکول میں بپا ہونے والے ہنگامے کی روئیداد سے بھرے تھے۔ خبر تھی کہ صدر معلم صاحب غیر مسلم تھے لیکن انہوں نے خود کو مسلمان ظاہر کر رکھا تھا۔قصہ کو تاہ سات دن کے اندر اسکول میں نئے صدر معلم آگئے اور پرانے برطرف ہوگئے۔ان پر ایک لاکھ اکتالیس ہزار روپے کے غبن کا پرانا مقدمہ ازسرِ نودائر کردیا گیا۔
اسکول سات روز کے بعد کھلا اب سید احمد جو بلاشبہ ہر ایک کی آنکھ کا تارا بن کر آیا لڑکوں کا ہیرو تھا اور اساتذہ کا عزیز ترین طالب علم۔ جس طرح ایک بیج درخت بن کر صدہا پھل دیتا ہے اس تمثیل پر اس واقعہ نے اسکول میں نتائج در نتائج پیدا کیے اور یہ سلسلہ ایک زمانے تک چلتا رہا۔
چھ مہینے گزر گئے۔ موسمِ گرما کی تعطیلات کے بعد اسکول دوبارہ کھلا۔ ایک دن انگریزی کے استاد نے شاہ عبداللہ سے سید احمد کی بڑی شکایت کی اور خشت ِ اول ہی یہ جملہ تھا’’صاحب! یہ سید احمد بڑا گستاخ لڑکا ہے‘ بات نہیں مانتا۔‘‘
کیوں‘کیا ہوا؟‘‘
’’ہونا کیا تھا‘آج میں نے اسے تختہ سیاہ صاف کرنے کو کہا مگر اس نے صاف انکار کردیا۔ تختہ سیاہ پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا تھا‘ بس صاحبزادے اسی بات پر اڑگئے کہ میں کلمہ طیبہ پر گندا کپڑا نہیں پھیروں گا۔ بھلا یہ کوئی اڑنے کی بات تھی؟‘‘
’’آپ کے بگڑنے کی اس میں کیا بات ہے۔ آپ اس پر توجہ کیوں نہیں دیتے کہ اس کے دل میں کلمہ طیبہ کی کس قدر تکریم موجود ہے۔ پھر آخر وہ ابھی لڑکا ہی تو ہے۔ ‘‘
’’نہیں صاحب! وہ آپ لوگوں کا لاڈلا ہے اور ہم سے مسخری کرتاہے۔‘‘
شاہ عبداللہ نے مزید کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھا مگر اتنا ضرور کہا ’’میں اسے سمجھادوں گا‘ آئندہ آپ کو شکایت نہیں ہوگی۔‘‘
ایک دن شاہ عبداللہ کا پیاں دیکھ رہے تھے۔ انہیں ایک عجیب مشاہدہ نصیب ہوا ۔جب وہ سید احمد کی کاپی دیکھ کر اس کی غلطیاں نشان زد کرکے دستخط کرنے کے بعد اسے رکھنے لگے تو کاپی ان کے ہاتھ سے نیچے گر پڑی۔ انہوں نے جب اسے اٹھایا تو کاپی کونے سے پکڑے جانے کے باعث کھل گئی۔ جو صفحہ کھلا اس پر مندرجہ ذیل تحریر رقم تھی مگر خط تحریر سید احمد کا نہیں تھا:
حجازی۔ احمد الکبیر۔۔۔۔۔شامی۔ احمد کامل الثابت
اردنی۔ احمد۔۔۔۔۔مصری احمد البنا
مراکشی۔ احمد عبداللہ۔۔۔۔۔ترکی۔احمد الپتگین
پاکستانی۔ لطیف احمد۔۔۔۔۔بھارتی۔ رشید احمد
انڈونیشیا۔ احمدسوئیکار نو۔۔۔۔۔الجزائری۔احمد بوکافی
لبنانی۔احمد ذوالنون۔۔۔۔ ۔ایرانی۔احمد رضا
نائجیریا۔ احمد فولانی۔۔۔۔۔افغانی۔داؤد احمد رضا
علی ہذا القیاس یہ فہرست کافی طویل تھی‘ اس کے نیچے لکھا تھا:
اسمِ مشترک‘ قدر مشترک:احمدؐ
شاہ عبداللہ کچھ سمجھ نہ سکے کہ یہ کیا ہے‘ انہوں نے سید احمد کو بلا کر پوچھا’’برخوردار یہ کیا ہے؟‘‘
’’جناب! مجھے معلوم نہیں۔‘‘
’’یہ کس نے لکھا ہے؟‘‘
’’اباجی نے۔‘‘
’’کس مقصد کے لیے؟‘‘
’’جناب والا! معلوم نہیں۔ رات ہی انہوں نے یہ لکھا ہے‘ پھر سمجھا نے کے لیے بیٹھے ہی تھے کہ ماموں ملنے آگئے۔ انہوں نے مجھے کہا کہ بات پھر کسی وقت تمہیں سمجھاؤںگا۔‘‘
’’اچھا‘ مگر خوب اچھی طرح سمجھنا۔‘‘
جیسے جیسے وقت گزرتا گیا‘ شاہ عبداللہ کو یقین ہوتا گیا کہ کوئی رفیع الشان سند ِکمال سید احمد کا انتظار کر رہی ہے جو ایک زمانے کے لیے مینارۂ نورثابت ہوگا۔
مگر ایک دن آیا کہ سب کیے کرائے پر پانی پھر گیا۔ وہ خوشنما ٹاپو غرق ہوگیا جس پر شاہ عبد اللہ سند باد جہازی کی طرح خیمہ زن تھے۔ تب حقیقت کھلی کہ وہ ٹاپو، ٹاپو نہیں تھا، وہیل مچھلی تھی جس نے سند باد جہازی کو فریب نظر کی ہمرنگ زمین میں مقید کرلیا تھا۔
واقعہ کچھ یوں ہوا:
مہینے کا آخری دن تھا اور اس دن اسلامیات کے معلم نہیں آئے تھے۔ نویں جماعت میں ان کا گھنٹہ خالی جا رہا تھا۔ صدر معلم نے شاہ عبد اللہ کو وہاں جانے کے لیے کہہ دیا، وہ چلے تو گئے مگر بادل ِ نخواستہ۔ جماعت میں خاصا شور بپا تھا، شاہ عبد اللہ جماعت کے اندر داخل ہوئے تو شور و غل تھم گیا اور لڑکے خاموش ہوگئے۔ جماعت کو پرسکون دیکھ کر شاہ عبد اللہ رجسٹر کھول کر بیٹھ گئے اور حاضریوں کا حساب کرنے لگے۔ لڑکوں نے انھیں اپنی طرف سے غافل پایا تو اپنی اپنی کارروائیوں کے لیے ہوشیار ہوگئے اور آہستہ آہستہ پر پرزے نکالتے چلے گئے تا آنکہ شور کا آہنگ اتنا بلند ہوگیا کہ عبد اللہ کے لیے کام پر توجہ مرکوز کرنا دشوار ہوگیا۔ انہوں نے رجسٹر بند کیا اور کھڑے ہوئے تو ایک بار پھر شور بیٹھ گیا، اب انھوں نے بھی بیٹھنے کی بجائے کھڑا رہنا پسند کیا اور پوچھا ’’سید احمد یہ کس مضمون کا گھنٹہ ہے؟‘‘
’’جناب، اسلامیات کا۔‘‘
’’اسلامیات کی کتاب مجھے دو؟‘‘
کتاب انھیں دی گئی۔
’’آپ نے کہاں تک پڑھ لیا ہے؟‘‘
معلوم ہوا کہ لڑکے حضوؐر کی پیدائش سے لے کر ہجرت تک کا حال پڑھ چکے ہیں۔ اب آگے پڑھنا تھا۔ عبد اللہ آگے پڑھانے کے موڈ میں نہیں تھے مگر جماعت کی مجموعی، مہیب اور جناتی قوت کو قابو کرنے کے لیے ضروری تھا کہ لڑکوں کو کام میں مصروف کردیا جائے۔ لہٰذا انھوں نے بہتر یہی سمجھا اور حصۂ آموختہ سے سوالات کرنے شروع کیے۔ سوالات ان کے منہ سے نکلتے رہے اور جوابات لڑکوں کی زبان سے۔
پھر انھوں نے سید احمد سے ایک سوال کیا۔
سید احمد ہکا بکا کھڑا تھا اور گم سم بھی تھا۔
شاہ عبد اللہ قدرے حیران ہوئے کہ اچانک سید احمد کا رنگ فق کیوں ہوگیا ہے۔
’’سید احمد تمھاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘
’’جی بالکل ٹھیک ہے۔‘‘
’’اچھا بتاؤ بانی ِ اسلام کون تھے؟‘‘
’’اللہ کے رسولؐ‘‘
’’کہاں پیدا ہوئے؟‘‘
’’مکہ معظمہ میں۔‘‘
’’ان کا روضۂ اطہر کہاں ہے؟‘‘
’’ان کا اسمِ گرامی کیا ہے؟‘‘
یہ سوال سنتے ہی سید احمد ایک دم گنگ، اس کا رنگ متغیر ہوگیا اور اس کے چہرے پر خوف اور ندامت کی کیفیات آگے پیچھے دوڑنے لگیں۔ شاہ عبد اللہ نے نہایت ہی گہری نظروں سے اس کا چہرہ دیکھا اور پڑھا، وہاں کوئی مجرمانہ کیفیت نمایاں نہیں تھی، تمسخر اڑانے کی کسی کیفیت کی غمازی بھی نہیں تھی، البتہ یہ احساس ضرور ہوا کہ وہ اندرونی طور پر نا آسودہ اور زخمی جذبات کی زد میں ہے، پھر اس نے آہستہ سے سر جھکا لیا۔ اس کے ساتھ بیٹھے ہوئے لڑکے اسے نہایت دھیمے لہجے میں نبی آخری الزماں کا اسمِ مبارک بتا رہے تھے۔ بقیہ جماعت بھی اس کے رویے پر تلملا رہی تھی۔
عبد اللہ نے لڑکوں کو خاموش رہنے کی سختی سے ہدایت کردی۔ ان کا پارہ چڑھنے لگا، خون گرم ہونے لگا۔ مسلسل خاموشی سے بھڑک کر عبد اللہ نے سید احمد کو ڈیسک سے باہر آنے کے لیے کہا۔ وہ بڑی انکساری اور محبت کے ساتھ باہر آگیا، اس کا یہ منکسر رویہ دیکھ کر شاہ عبد اللہ کا بگڑتا ہوا مزاج پھر سے ذرا حلیم ہوگیا۔
’’سید احمد! تمھیں اللہ کے رسولوں کے نام آتے ہیں؟‘‘
’’جی آتے ہیں۔‘‘
’’تمھیں اللہ کے آخری رسولؐ کا بھی نام آتا ہے؟‘‘
’’جی آتا ہے۔‘‘
’’ان کا صرف ایک نام یا زیادہ؟‘‘
’’جی ذاتی نام تو ایک ہے صفائی نام بہت سے ہیں۔‘‘
’’تمھیں ان کے سارے نام یاد ہیں؟‘‘
’’جی یاد ہیں۔‘‘
’’اچھا، پھر ان کا اسم مبارک بتاؤ؟‘‘
اور عین اس مقام پر پھر سے ڈرامے کے المیہ منظر کا آغاز ہوگیا، سید احمد پھر سے عالم گویائی سے شہر خموشاں کی طرف ہجرت کر گیا اور شاہ عبد اللہ کا باطن حلم اور شفقت سے غضب اور تشدد کی سمت کا مسافر ہوگیا۔ تشدد عملی صورت گری کے قریب پہنچ رہا تھا مگر ابھی تک تشدد کی رو حیرت اور استفہامیہ حصار ہی میں تھی۔ شاہ عبد اللہ نے اپنے آپ پر غالباً آخری بار قابو پا کر پوچھا:
’’سید احمد تم عیسائی ہو؟‘‘
’’جی نہیں۔‘‘
’’ہندو ہو؟‘‘
’’جی نہیں۔‘‘
’’کمیونسٹ ہو؟‘‘
’’جی نہیں۔‘‘
’’سوشلسٹ ہو؟‘‘
’’جی نہیں۔‘‘
’’پھر کیا ہو؟‘‘
’’جی میں مسلمان ہوں۔‘‘
’’شاباش! مسلمان ہو تو اپنے نبیؐ کا اسمِ مبارک بتاؤ۔‘‘
جواب میں خاموشی کے سوا کچھ نہ ملا۔ وہ کسی پہلو سے سید احمد کو سمجھ نہیں پا رہے تھے جس نے انھیں تکریمِ رسولؐ دی تھی، وہ آج نامِ رسولؐ لینے سے گریزاں تھا۔ وہ لڑکا جو رجسٹر اپنے ہم جماعتوں سے لے کر ان کی اصلاح کیا کرتا تھا کہ جہاں بھی Mohdلکھا ہوتا کاٹ کر Muhammad لکھ دیا کرتا تھا، آج وہ اپنے قلم سے ہزاروں بار لکھے ہوئے نام کو زبان سے ادا کرنے سے منکر ہو رہا تھا، جو کلمہ طیبہ پر کپڑا پھیرنے سے گریز کرتاتھا، آج اس نے اس پر خاموشی کا ورق چسپاں کردیا تھا۔
وہ سید احمد کو گھور رہے تھے۔ انھوں نے زچ ہو کر چیخ کر کہا:
’’سید احمد یہ کیا فراڈ ہے، تم بولوگے یا نہیں؟‘‘
اس چیخ کو سن کر بھی سید احمد نے گویائی کی طرف ہجرت نہیں کی۔
اب یہاں طبل ِ جنگ بج گیا اور تیمور لنگ کی افواج ِ قاہرہ نے دہلی پر حملہ کردیا، حملہ شدید سے شدید تر ہوتا چلا گیا۔ دہلی کی اینٹ سے اینٹ بج گئی۔ سید احمد کا رنگ سرخ ہوگیا، ناک سے خون بھی بہہ نکلا، بال الجھ گئے اور قمیص شکنوں کا پلندہ ہوگئی۔ آخر شاہ عبد اللہ کے ہاتھ تھک گئے، بید چر کر بیکار ہوگیا۔ سید احمد کا انگ انگ دکھ رہا تھا، آنکھیں اشکبار تھیں اور سسکیوں کی آواز کافی بلند تھی لیکن اب بھی اس کے چہرے پر جواب دینے کی کیفیت نمودار نہیں ہوئی تھی۔ وہاں تو ایک سرمدی احساس جگمگا رہا تھا اور سید احمد جیسے کہہ رہا تھا ’مجھے بے شک مار ڈالو‘ دفن کردو‘ مگر میرا منہ…‘‘
شاہ عبد اللہ نے تھک ہار کر جماعت کا جائزہ لیا تو بظاہر تو وہ پہاڑ تھی مگر بباطن اس کے اندر آتش گیر لاوا بھڑک رہا تھا۔ شاید ان کے لیے سید احمد کی شدید پٹائی ناقابل ِ برداشت تھی۔ وہ ایک بار پھر ان کی آنکھ کا تارا بن گیا تھا۔ وہ اس کے لیے سرکشی پر آمادہ ہوتی چلی جا رہی تھی۔
اتنے میں آدھی چھٹی کا گھنٹہ بج گیا۔ لڑکے بے تابانہ اٹھ کھڑے ہوئے اور سید احمد کو اپنے حصار میں لے لیا۔ شاہ عبد اللہ نے گرج کر کہا۔ ’’میں اگلے گھنٹہ میں پھر آؤں گا اور اس کا دماغ درست اور زبان چالو کرکے دم لوں گا۔‘‘
شاہ عبد اللہ کا خون کھول رہا تھا۔ وہ کمرے سے باہر نکلے اور کمرۂ اساتذہ میں جانے کے بجائے کینٹین میں چلے گئے او رکڑک قسم کی چائے لانے کو کہا۔ اب جو خیالات ان کے ذہن کی غلام گردشوں میں گشت کر رہے تھے، وہ حقارت اور غضب اور احساس ِ عزت کی شکست و ریخت نے مہیا کیے تھے۔ انھیں یقین ہو رہا تھا کہ وہ لڑکا کوئی نو عمر عبد اللہ بن سبا، حسن بن صباح یا کمسن شیخ الجبال ہے۔ یہ اور اس کا باپ دونوں سازشی قرامطی ہیں۔ انھیں اجاڑنے کے لیے چنگیز خاں ہی بننا پڑے گا۔ معلوم نہیں یہ کیا کھیل، کھیل رہے ہیں اور آئندہ کیا کر گزریں؟ اب لازم ہے کہ دیہات سے دربار تک ان کا تعاقب کیا جائے۔ جب گھنٹہ بجا تو شاہ عبد اللہ پھر سے نئے جوش و خروش کے ساتھ اسی کلاس پر چڑھ دوڑے۔ بعد میں جماعت کے دوسرے استاد آئے تو انھیں عبد اللہ نے اپنی جماعت میں جانے کی ہدایت کردی۔
شاہ عبد اللہ نے پہلے جماعت کا جائزہ لیا۔
لڑکوں کے موڈ پر ایک خوشگوار فرحت اور سرخوشی چھائی ہوئی تھی، ان کی آنکھوں میں بغاوت کا شرارہ بجھ چکا تھا تا ہم انھیں یہ احساس ہو رہا تھا جیسے یہ جماعت بحیثیت مجموعی اپنی فتح اور ان کی شکست کا اعلان کر رہی ہے۔ ہر لڑکا سید احمد کی وکالت کرنے کے لیے بیکل ہو رہا تھا اور سید احمد… چپ چاپ سر جھکائے بیٹھا ہوا تھا۔ اس کا سرخ اور سپید چہرہ دھلا ہوا تھا۔ بالوں پر پانی کے قطرے کہیں کہیں جھلک رہے تھے۔ ناک میں ایک طرف روئی کا پھایا دیا ہوا تھا۔ خون بہنا بند ہوگیا تھا۔ سید احمد کے مطمئن چہرے پر سکون کے سوا کسی اور احساس کا سراغ لگانا مشکل ہو رہا تھا۔
اس تبدیل شدہ فضا نے عبد اللہ کے شکوک کی قوت کو دو چند کرکے انھیں ایک نئی کشمکش سے دو چار کر دیا تھا جو ایک طرف حلم اور نرمی کا تقاضا کر رہی تھی اور دوسری طرف سختی اور مار پیٹ کا۔ دو چار منٹ میں آدھی چھٹی کی کیفیت رخصت ہوگئی۔ جماعت مطمئن اور خاموش تھی۔ کشمکش سے دو چار شاہ عبد اللہ نے کہا ’’سید احمد! کھڑے ہوجاؤ۔‘‘
سید احمد یوں کھڑا ہوگیا جیسے وہ اس حکم نامے اور عتاب نامے کا ادراک کرچکا تھا اور کھڑا ہونے کے لیے بے چین ہو رہا تھا، جیسے اسے اپنی معصومیت کی وکالت کرنی ہو۔
’’بتاؤ، تم کس قوم کے فرد ہو؟‘‘
’’جی، مسلمان قوم سے۔‘‘
’’تمھارے والد مسلمان ہیں یا قرامطی؟‘‘
’’جی، وہ مسلمان ہیں۔‘‘
’’اور قرامطی کون ہے؟‘‘
’’جی، مجھے معلوم نہیں قرامطی کیا ہوتا ہے۔‘‘
’’یہ تمھیں ابھی پتہ چل جائے گا۔ تمھیں اپنے رسولؐ کا نام آتا ہے؟‘‘
’’جی آتا ہے۔‘‘
’’اچھا بتاؤ، نبی ِ آخر الزماں کا اسمِ مبار ک کیا ہے؟‘‘
’’جی، آپ کا اسم مبارک ہے محمد مصطفی ﷺ۔‘‘
اس کے بعد شاہ عبداللہ کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا، انھیں اپنے کانوں پر یقین نہ آسکا۔ انھوں نے پھر کہا ’’نبی ِ آخر الزماں کا اسمِ مبارک کیا ہے؟‘‘
’’جناب! آپ کا اسم مبا رک ہے محمد ﷺ۔‘‘
سید احمد نے درود شریف پڑھتے ہوئے کہا اور بعد ازاں اس نے دوبارہ درود شریف پڑھا۔
شاہ عبد اللہ اس وقت مفتوح، مفلوج تھے، خاموش تھے، متحیر تھے۔ انھوں نے ایک بار پھر سید احمد کو دیکھا اور پوچھا ’’سید احمد یہ نام تمھیں پہلے بھی یاد تھا یا بھول گیا تھا؟‘‘
’’جی ، بہت اچھی طرح یاد تھا۔‘‘
’’پھر پہلے تمھیں کیوں سانپ سونگھ گیا تھا؟‘‘
’’جی، میں اس وقت باوضو نہیں تھا۔‘‘
’’کیا مطلب، سید احمد؟‘‘ شاہ عبد اللہ نے ایک دم پھٹ کر پوچھا۔
’’جی، میں اس وقت بے وضو تھا۔‘‘
’’یہ کیا بات ہوئی؟‘‘
’’جی، یہ میرے والد کا حکم ہے کہ مرتے مرجانا پر کبھی اپنے رسول ﷺ کا نام بے وضو مت لینا۔ الحمد للہ کہ میں نے ایسا ہی کیا۔‘‘
اتنا کہہ کر سید احمد خاموش ہوگیا۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *