اسپین میں تحریک توہینِ رسالتﷺ

[یورپ میںجب مسلمانوں کی حکومت ا سپین میں قائم ہوئی تو وہاں کے عام شہریوں کو کلیسا اور پادریوں کے خود ساختہ نام نہاد مذہبی قوانین کی سخت گیری سے نجات ملی اور اس کے بجائے اسلام کے عادلانہ اور فلاحی نظام کی بدولت انہیں خوش حالی ،تعلیم و تمدن اور امن وسلامتی نصیب ہوئی۔لیکن چونکہ اہل کلیسا کے ہاتھوں سے اقتدار جاتا رہا ،اس لیے ان کے دلوں میں اسلام اور مسلمان حکمرانوں کے خلاف آتش انتقام بھڑک اٹھی،جس نے انہیں پاگل کر دیا۔اگر وہ مسلمانوں کی حکومت یا ان کے نظام حکومت پر تنقید کرتے یا اس کے خلاف ہر زہ سرائی بھی کرتے ،تو حکومت وقت اسے نظر انداز کر دیتی کیو نکہ خلفائے راشدین اور مسلمان حکمرانوں کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ اپنی ذات پر حملہ کرنے والوں کو معاف کرتے رہے ہیں ،جس کا عیسائیوں کے مذہبی پیشواؤں کو بخوبی علم تھا اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ مسلمانوں اور ان کے حکمرانوں کے لیے اگر کوئی چیز ناقابل برداشت ہے تو وہ ان کے آقاو مولا پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام کی شان اقدس میں گستاخی ہے ،اس لیے اسپین کے پادری اور ان کے حواریوں نے ایک باقاعدہ منظم سازش کے تحت شماتتِ رسول ﷺ کا ناپاک منصوبہ بنایا۔ اس سلسلہ میں جناب سید سلطان محمد شاہ نے تاریخی حوالوں سے ایک مبسوط مقالہ’’ اسپین میں تحریک شماتت رسولﷺ ‘‘لکھا ہے۔جس سے متعلقہ اقتباس صاحب مضمون کے شکریہ کے ساتھ نذر قارئین ہے ۔اس مقالہ کا ماخذ زیادہ ترلین پول اور ڈوزی جیسے متعصب عیسائی مورخین کی تصانیف ہیں، جن میں واقعات کو مسخ کر کے پیش کیا گیا ہے ۔اگر چہ ان مورخین نے اسپین کے مسلمان حکمرانوں کی رواداری ،عدل گستری، اسلامی مساوات اور ان کے دور میں علوم و فنون ، تہذیب و تمدن ،فلسفہ اور سائنس کے فروغ کو تسلیم کیا ہے مگر پھر بھی اسلام کے خلاف ان کی زہر ناکی نمایا ں ہے ۔]
’’مسلمان اندلس میں حکمراں ہوئے تو انہوں نے عیسائیوں سے رواداری کا سلوک کیا ۔عبدالرحمن الاوسط انتہائی رحم دل حکمران تھا۔اس کے عہد میں اسپین میں بہت سے نصرانی حلقہ بگوش اسلام ہو گئے ۔مسلمانوں کے عمدہ اخلاق نے عیسائیوں کو بہت متاثر کیا اور وہ عربی زبان اور اسلامی تمدن کی طرف مائل ہو گئے ۔نصرانی پادریوں کو اس پر سخت غصہ اور رنج ہوا۔اسی زمانے کا ایک متعصب عیسائی الوارو ر قمطراز ہے :
’’میرے ہم مذہب عیسائی عربوں کی شاعری اور افسانوں سے حظ اٹھاتے ہیں ۔وہ مسلمان فقیہوں اور فلسفیوں کی کتابیں مطالعہ کرتے ہیں ۔اس غرض سے نہیں کہ ان کی تردید کریں بلکہ اس لیے کہ صحیح اور نفیس عربی لکھنی آجائے۔پادریوں کو چھوڑ کر آج کون سا عیسائی ہے ،جو کتب مقدسہ کی تفسیر لاطینی زبان میں مطالعہ کرتا ہو۔کون ساعیسائی ہے ،جو انجیل یا انبیاء اور حواریوں کے حالات پڑھتا ہو ۔افسوس کہ ایسے نوجوان عیسائی،جو ذہانت اور لیاقت میں اونچا درجہ رکھتے ہیں ،ان کو سوا عربی کے کسی اور زبان سے واقفیت نہیں ‘‘۔
جوں جوں عیسائیوں میں مشرقیت بڑھتی گئی ،پادریوں کی تشویش میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور مسلمانوں کے خلاف ان کے نفرت بھرے جذبات بڑھتے گئے۔امیر عبد الرحمن کی رواداری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے شماتت رسول ﷺ کی تحریک شروع کی۔اس کا ذکر کرتے ہوئے لین پول لکھتا ہے :
’’اندلس میں عیسائیوں کو اپنے مذہبی مراسم آزادی سے انجام دینے کی جورعایتیں حاصل تھیں ان کی طبائع کی کج روی سے اس کا عجیب بر عکس قسم کا نتیجہ ظاہر ہوا ۔اندلس کے پادری ،کلیسا ؤں کے پچھلے اقتدار کو بحال کرنے کے خواہاں تھے،لیکن اسلامی حکومت کی اس روادارانہ روش سے ان کو عیسائیوں کے جذبات کوبر انگیختہ کرنے کا موقع نہ مل سکتا تھا ،اس لیے انہوں نے چند غالی مسیحیوں میں یہ خیالات پید اکیے کہ مذہب کی اصل روح تکلیفیں اٹھانے سے پیدا ہوتی ہے۔اس لیے حکمرانوںکو مشتعل کر کے انسانی جسم اور گوشت پوشت کو تکلیفیں پہنچائی جائیں تاکہ روح کا تزکیہ و تقدیس ہو سکے۔اس تحریک کابانی ایک راہب یولو جیس تھا۔وہ مجاہدے کی راہبانہ زندگی کی وجہ سے عیسائیوںمیں عقیدت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔اس نے چند نوجوانوں میں فدائیت کا جذبہ پید ا کیا کہ اپنی روح کو پاک کرنے کے لیے اس نئے دین اسلام اور اس کے داعی (علیہ الصلوٰۃ والسلام )پر سب و شتم کریں ۔اسلامی قانون کی رو سے اسلامی حکومت میں شاتم رسول ﷺ کی سزا قتل ہے۔گویا یہ نوجوان حضرت مسیح علیہ السلام کی پیروی کریں گے اور اپنی جانوں کو قربان کر نے کے لیے صلیب پر چڑھ جائیں گے‘‘۔
’’امیر (عبدالرحمن)کے عہد دولت کے آخری ایام عیسائیوں پر (ان کی ناپاک جسارت کے سبب)سختی اور تشدد کی وجہ سے بہت برے گزرے ۔ عیسائیوں کے مذہبی دیوانے،بے ہودہ شہرت اور مفروضہ قربانی کی خاطر مسجدوں کو ناپاک بنادیتے اور نبی اکرم ﷺ کی شان میں بے ہودہ باتیں کہتے۔سختی سے کام لیا گیا اور نرمی سے بھی لیکن یہ سلسلہ بند نہ ہوا ۔ان واقعات نے امیر کی صحت پر برا اثر ڈالا اور وہ ۸۵۲ ؁ء میں دنیا سے رخصت ہوئے‘‘۔
’’شماتت رسول ﷺ کی یہ تحریک امیر عبدالرحمن الاوسط کے دور میں شروع ہوئی اور اس کے فرزند ارجمند امیر محمد بن عبدالرحمن کے عہد میں اپنے انجام کو پہنچی ۔دونوں باپ بیٹوں نے توہین رسول ﷺ کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے شرعی قانون کے مطابق سزائے موت کا فرمان جاری کیا تھا۔یہ تحریک ۲۳۴؁ھجری (۸۵۰ئ؁)میں شروع ہوئی اور ۲۴۶؁ھجری(۸۶۰ئ؁)میں ختم ہوئی‘‘۔
اس دوران بہت سے شاتمان رسول ﷺ کو واصل جہنم کیا گیا۔سٹینے لین پول ۸۵۱ئ؁ کے موسم گرما کے دو مہینے سے کم عرصے کے اندر گیارہ گستاخوں کو موت دیے جانے کا ذکر کرتا ہے ۔انسائکلو پیڈیا برٹانیکا میں ۵۳؍افراد کے شماتت رسول ﷺ کی پاداش میں قتل کیے جانے کا تذکرہ ملتا ہے ۔این میری شمل بھی عیسائی گستاخوں کی دانستہ طور پر پیغمبر اسلام ﷺ کی بے ادبی کرنے کی سزا میں قتل ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
اب ان بد بختوں کا ذکر کیا جاتا ہے ۔جنہوں نے جھوٹی شہرت کے لیے اپنی آخرت برباد کر لی۔
یولو جئیس:
اندلس میں چلائی جانے والی تحریک شماتت رسول ﷺ کا بانی پادری یو لیو جئیس تھا۔وہ قرطبی خاندان کا آدمی تھا۔یہ خاندان جس قدر عیسائی مذہب سے شغف رکھتا تھا اسی قدر اسلام سے عداوت رکھنے میں مشہور تھا۔یولو جئیس کا دادا (اس کا نام بھی یولوجئیس ہی تھا)جس وقت مسجد کے مینار سے موذن کی آواز سنتا تھا،تو اپنے جسم پر نشان صلیب بناتا تھا اورداؤود نبی کا یہ زبور گانے لگتا تھا:’’اے خدا ! چپ نہ ہو ۔اے خدا ! چین نہ لے، کیونکہ دیکھ تیرے دشمن اودھم مچاتے ہیں اور ان لوگوں نے جو تجھ سے کینہ رکھتے ہیں ،سر اٹھایا ہے‘‘۔یولوجئیس کی تعلیم شروع ہی سے اس غرض سے ہوئی تھی کہ پادری بنے۔ خانقاہ سنت زولوس کے پادریوں کی شاگردی میںاس نے رات دن اس قدر محنت کی کہ اپنے ہم مکتبوں ہی سے نہیں بلکہ استادوں سے بھی (مسلم دشمنی میں)بڑھ گیا۔اس کے بعد وہ پوشیدہ طور پر قرطبہ کے مشہور و معروف مسیحی علماء بالخصوص رئیس راہبان اسپرا کے درس میں شریک ہونے لگا ،جو انتہائی متعصب اور اسلام کا بد ترین دشمن تھا۔اس نے یولیوجئیس پر اپنا اثر دکھایا اور اسی رئیس راہبان نے اس کے دل میں اسلام کی طرف سے وہ عداوت پیدا کر دی جو بعد میں یولوجئیس کی طبیعت کاخاصا ہوگئی۔
یولیوجئیس شروع میں سنت زولوس کے گرجا میں شماس کے عہدے پر مقرر ہوا ،پھر وہاں کا پادری ہو گیا۔ عیسائی اس کی نیکیوں کی تعریف کرنے لگے۔یہ بد بخت جہاں پیغمبر اسلام ﷺ سے عداوت رکھتا تھا،وہیں جب بھی کوئی مہوش اور پری جمال چہر ہ دیکھتا ،اس کی زلف پر پیچ کا اسیر ہوکر رہ جاتا۔پروفیسر رائن ہارٹ ڈوزی نے کئی موقعوں پر اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یولوجئیس دل کے ہاتھوں مجبور تھا ۔لکھتا ہے :’’راہبات کی خانقاہوں کا جا کر معائنہ کرنے میں اس کو خاص لطف حاصل ہوتا تھا‘‘۔ایک اور مقام پر لکھتا ہے :’’باوجود اس سخت اور افسردہ زندگی کے ،عشق مجازی کی ایک نازک شعاع نے اس کے دل کو روشن کر دیا ‘‘۔
قرطبہ کے اسی پادری نے ۸۵۰ئ؁ میں سر عام پیغمبر اسلام ﷺ کی گستاخی اور بے ادبی کرنے کی تحریک کا آغاز کیا ۔یہ امیر عبدالرحمن کا دور تھا ۔ یولوجئیس نے لاطینی زبان میں کسی عیسائی کی لکھی ہوئی پیغمبر اسلام کی سیرت کی کتاب کا مطالعہ کیا ،جس میںمعجزات مصطفی ﷺ کو غلط رنگ میں پیش کیا گیا تھا۔اس سے اس کے دل میں حضور ﷺ کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوتا چلا گیا ۔اتفاق سے اس کی ملاقات رسول اکرم ﷺ پر سب و شتم کرنے کی سزا میں کوڑے کھانے والی فلورا سے ہوگئی۔پہلی ملاقات ہی میںاس نے یولوجئیس کو اپنے دام محبت میں اسیر کر لیا ۔ایک خط میں پہلی ملاقات اور کوڑوں کے زخمو ں کا ذکر کرتے ہوئے یولوجئیس اپنی محبوبہ فلورا کولکھتا ہے :
’’ ایک زمانہ تھا کہ تم نے اپنی مجروح گردن ،جس پر تازیانے کے نشان تھے،مجھے دکھانے کی عزت بخشی تھی۔افسوس اس وقت وہ خوبصورت لمبے لمبے بال ،جن میں حسین گردن چھپی رہتی تھی ،موجود نہ تھے۔نرمی سے میں نے اپناہاتھ تمہارے زخموں پر رکھا ۔اے کاش !مجھ کو یہ مسرت نصیب ہوتی کہ ایک بوسے سے ان زخموں کو اچھا کر دیتا ۔مگر ہمت نہ پڑی ۔جس وقت تم سے رخصت ہو اتوزمین پر میرے قدم اس طرح پڑتے تھے جیسے کوئی خواب میں چلتا ہوا ور میری آہوں کا یہ حال تھا کہ بند ہونا نہ جانتی تھیںــ‘‘۔
یہ ہے اس رسوائے زمانہ شخص کا ذاتی کردار ،جو خلاصۂ موجودات اور دیباچۂ کائنات ﷺ جیسی ہستی کے متعلق نازیبا باتیں گھڑتا اور عیسائیوں کو ا ن کی توہین و تضحیک پر اکساتا تھا۔امیر عبدالرحمن نے تحریک شماتت رسول ﷺ کے سرگرم ارکان کو قید خانہ میں ڈال دیا ۔ان میں یولوجئیس بھی تھا۔جب فلورا کو بھی زنداں میں ڈالاگیا،تویہاں بچھڑے دلوں کو ایک بار پھر وصل کی گھڑیاں میسر آئیں،جس کا یولو جیس بے چینی سے منتظر تھا۔یہاں اس نے اپنا رسالہ ’یادگار شہدائ‘مکمل کیا اور ۲۴ نومبر ۸۵۱ئ؁ کو اپنی محبوبہ فلورا کے قتل پر ایک پر درد گیت لکھا۔اس کے بعد عبد الرحمن کی وفات سے ایک سال قبل اسے رہا کیا گیا ،لیکن یہ اپنی مجنونانی حرکتوں سے باز نہ آیا اورعبدالرحمن کے فرزند کے ہاتھوں کیفر کردار کو پہنچا۔اس کے قتل کے بعد اس کی چلائی ہوئی تحریک خود بخود ختم ہو گئی۔لیور مور نے لکھا ہے کہ یولوجئیس کا ۸۵۹ئ؁ میں سر قلم کیا گیا۔
کیبرج میڈیول ہسٹری ج سوم ص ۴۱۶-۴۱۷ میں بھی اس کا تذکرہ موجود ہے۔مطالعہ مزید کے لیے ول ڈیوراں ’عہد مذہب ‘صفحات :۳۰۰-۳۰۱ رابن ہارٹ ڈوزی ہسپانوی اسلام صفحہ ۲۶۸

فلورا:
فلورا قرطبہ کی ایک نوجوان اور حسین دوشیزہ تھی۔اس نے تحریک شماتت رسول ﷺ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور خود جہنم کا ایندھن بنکر اپنی جوانی کی خواہشات کو دل میں بسائے یولوجئیس کی آنکھوں سے ہمیشہ کے لیے اوجھل ہو گئی ۔فلورا کا باپ مسلمان اور ماں عیسائی تھی۔باپ کا سایہ بچپن ہی میں سر سے اٹھ گیا ۔ماں نے اسے عیسائیت کی تعلیم دی ۔بائبل کی اس عبارت سے کہ ’’وہ شخص جو لوگوں کے سامنے میرا انکار کرے گا ،میں اس باپ کے سامنے ،جو آسمان میں ہے ،اس سے انکار کر دوں گا‘‘اس کے جذبات بر انگیختہ ہوئے ۔وہ بھائی کے گھر سے نکل بھاگی اور عیسائیوں میں جا کرپناہ گزین ہو گئی ۔جب اس کے فرار ہونے کی ذمہ داری عیسائی پادریوں کے سر ڈالی گئی تو وہ گھر واپس آئی اور دین مسیحی قبول کرنے کا اعلان کیا ۔بھائی نے اس کوسمجھایا مگر وہ عیسائیت پر قائم رہی۔اس کامعاملہ شرعی عدالت میں لایا گیا ۔اس کے بھائی نے قاضی سے کہا :’’یہ میری بہن ہے ،ہمیشہ اسلام کی عزت کرتی تھی اور میرے ساتھ نماز ،روزہ کرتی تھی مگر عیسائیوں نے اسے گمراہ کر دیا ۔ہمارے رسول ﷺ کی طرف اس کے دل میں نفرت پیدا کی اور اس بات کا یقین دلایا کہ عیسی ؑ خدا ہیں۔قاضی نے فلورا سے پوچھا،تمہارا بھائی جو کچھ کہتا ہے ،کیا یہ سچ ہے ؟فلورا نے جواب دیا :قاضی ! کیا تو اس بے دین کو میرا بھائی کہتا ہے ؟یہ میرا بھائی نہیں ہے ،میں اس کو اپنا بھائی نہیں سمجھتی ،جو کچھ وہ کہتا ہے ،سبھی جھوٹ ہے ،میں کبھی مسلمان نہ تھی ۔میں نے بچپن سے ہمیشہ مسیح پر ایمان رکھا اور مسیح ہی میرا خدا ہے ‘‘۔
قاضی نے فلورا کی کم سنی کے باعث اس کے قتل کا حکم جاری کرنے کے بجائے اس کی گردن پر کوڑے لگوائے اور اسے بھائی کے حوالے کر کے کہا : ’’اس کو دین برحق کی تعلیم دو ۔اگر پھر بھی وہ اس حالت کو نہ بدلے تو اسے میرے پاس لاؤ۔اسے گھر میں نظر بند کر دیا گیا ۔چند دن بعد وہ چھت پر چڑھ کر وہاں سے گلی میں کود گئی اور ایک عیسائی کے گھر میں روپوش ہوگئی ۔یہیں اس کی ملاقات یولوجئیس پادری سے ہو گئی ،جو اس کے عشق میں گرفتار ہوا ۔کافی عرصہ کے بعد ایک دن کلیساگئی اور وہاں میری نامی عیسائی لڑکی سے ملی ۔وہ بھی اس کی طرح آنحضرت ﷺ کی شان میں نازیبا الفاظ کہتی تھی،چنانچہ دونوں قاضی کے پاس آئیں اور آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخانہ کلمے پے درپے کہے۔قاضی نے ان کو با ز رہنے کی تلقین کی ۔پھر گرفتار کرکے قید خانہ میں بھیج دیا جہاں یولوجئیس پہلے ہی قید تھا۔یہ دونوں لڑکیاں گستاخی کا ارتکاب کرتی رہیں ،چنانچہ ۲۴ نومبر۸۵ئ؁ کو انہیں قتل کر دیا گیا۔ لین پول اس کے قتل پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے :’’فلورا اگر کسی جائز مقصد پر اپنی جان قربان کرتی تو اس سے زیادہ ناموری کی مستحق ہوتی‘‘۔
اسحاق راہب:
اسحاق قرطبہ کے عیسائی ماں باپ کا بیٹا تھا۔عربی زبان خوب جانتا تھا۔ابھی نو عمر ہی تھا کہ امیر عبدالرحمن کے دربار میں اس کو کاتب کی جگہ مل گئی ، لیکن ۲۴ برس کی عمر میں دنیا سے کنارہ کش ہو کر حبانوس کی مسیحی خانقاہ میں گوشہ نشین ہو گیا ،جہاں متعصب پادریوں کی تصانیف کا مطالعہ کرنے کی وجہ سے اس کے دل میں جوش پیدا ہوا کہ وہ اپنی جان دے کربزرگی حاصل کرے۔ایک دن وہ خانقاہ سے نکل کر قرطبہ پہنچا اور قاضی کے سامنے آکر کہا ’’میں آپ کا دین قبول کرنا چاہتا ہوں ۔مہربانی کر کے آپ مجھے اس کی ہدایات کریں ،قاضی اس سے خوش ہو کر اسے دین اسلام کے متعلق بتانے لگا تو اس نے برملا حضور نبی اکرم ﷺ پر سب و شتم کیا ۔جب قاضی نے سمجھایاتو اس کو بھی برا بھلا کہا ۔قاضی نے اسے جیل بھیج دیا ۔امیر عبدالرحمن نے اس گستاخ رسول ﷺ کی بابت حکم جاری کیا کہ اسے پھانسی دی جائے ،چنانچہ جون ۸۵۱ئ؁ میں ان احکام کی تعمیل ہوئی ۔
سانکو:
اسحاق کے قتل کے دو دن بعد ایک افرانجی عیسائی نے ،جس کا نام سانکو تھا اور امیر عبدالرحمن کا محافظ فوج کا ایک سپاہی اور پادری یولوجئیس کا شاگرد تھا ،پیغمبر اسلام ﷺ کو گالیاں دیں اور قتل ہو کر واصل جہنم ہوا۔رائن ہارٹ ڈوزی کے علاوہ لین پول کی کتاب کے ترجمے میں اس کا نام سانچو لکھا ہے ۔شاید اصل نام سینکو تھا۔
جرمیاس اور چھ راہب:
سانچو کے قتل کے بعد اتوار کے دن (7جون851ئ؁) چھ راہب جن میں ایک اسحاق کا چچا جر میاس اور دوسرا ایک راہب جانبتوس تھا،جو اپنے حجرے میں ہمیشہ تنہا پڑا رہتا تھا۔۔قاضی کے سامنے آئے اور کہا ’’ہم بھی اپنے دینی بھائیوں سا نکو اور اسحاق کے الفاظ کا اعادہ کرتے ہیں اور پھر پیغمبر اسلام علیہ الصلوۃ والسلام پر سب و شاتم کرنے لگے۔یہ چھ کے چھ قتل کر دیئے گئے لین پول نے بھی ان کے نام بتائے بغیر ان کے توہین
رسولﷺ کے ارتکاب کرنے اور قتل کر دیئے جانے کا ذکر کیا ہے ۔
سیسی نند:
سنت ایکس کلوس کے گرجا کا ایک پادری ،جس کا نام سیسی نند تھا،نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کی گستاخی کا مرتکب ہو کر واصل جہنم ہوا۔
پولوس:
پولوس سنت ایکس کلوس کے گرجا میں شماس تھا۔سیسی نند نے قتل ہوتے وقت اسے اس ذلت کی موت مرنے کی وصیت کی تھی۔چنانچہ یہ لعین بھی سیسی نند کے قتل کے چار دن بعد جولائی کو حضور سید عالم ﷺ کے خلاف نازیبا کلمات کہنے کے باعث قتل کر دیا گیا۔
تھیو دو میر:
تھیودو میر شہر قرمونہ کا ایک جوان راہب تھا ۔توہین رسول ﷺکا مرتکب ہو کر مسلم حکومت کے حکم سے قتل ہوا۔
آئیزک:
آئیزک عیسائی نے بھی قاضی کی عدالت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ۔جیسے ہی اس کو مسلمان کرنے کے لیے دینی عقائد اس کے سامنے بیان کئے گئے اس نے بھی سب وشتم شروع کر دیا۔قاضی کے لیے برداشت کرنا دشوار ہو گیا۔اس نے اس ذلیل کو ایک طمانچہ رسید کر کے کہا کہ جانتا ہے کہ اسلام میں اس کی سزا قتل ہے ۔اس نے کہا کہ وہ جان بوجھ کر یہاں آیا ہے ۔اس لیے کہ خدا فرماتا ہے کہ مبارک ہیں وہ لوگ جو دین داری کے لیے ستائے گئے ۔آسمان کی بادشاہت انہی کے لیے ہے ۔اس شاتم رسول ﷺ کو بھی قتل کر دیا گیا۔شاید آئیزک ،جرمیاس اور جانبتوس کا ساتھی تھا ۔کیونکہ پروفیسر رائن ہارٹ ڈوزی نے میری کے ذکر میں آئیزک کو مذکورہ بالا چھ راہبوں میں شمار کیا۔ (رائن ہارٹڈوزی ہسپانوی اسلام )
میری:
میری آئیزک کی بہن تھی جو قرطبہ کی ایک مسیحی خانقاہ کی راہبہ تھی۔اتفاقاً اس کی ملاقات فلورا سے ہو گئی۔ دونوں نے قاضی کے سامنے پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں بے ادبی کی ۔میری نے قاضی سے مخاطب ہو کر کہا کہ میں ان چھ ’’شہیدوں‘‘میں سے ایک کی بہن ہوں جو تیرے پیغمبر ﷺ کودشنام دے کر قتل ہوا ہے ۔پھر اس نے بھی دشنام طرازی کی۔چنانچہ اسے بھی فلورا کے ساتھ ۲۴ نومبر ۸۵۱ئ؁ کو قتل کر دیا گیا ۔
یہ ان بد نصیب مردوں اور خواتین کا ذکر تھا جنہوں نے حضرت محمد ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کا ارتکاب کیا اور ان کو امیر عبد الرحمن اور اس کے بیٹے محمد بن عبد الرحمن کے عہد میں قتل کیا گیا۔اس سلسلے میں سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ مسلم مورخین نے اول تو ان کا ذکر کرنا ہی مناسب نہیں سمجھا اور اگر ان کے متعلق کچھ لکھا بھی ہے تو انتہائی مختصر لکھا ہے ۔تاہم مسیحی مورخین نے خوب بڑھا چڑھا کر اور مبالغہ آمیزی کے ساتھ ان کا ذکر کیا ہے۔
تحریک شماتت رسول ﷺ کا اختتام:
یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اس تحریک کو خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی اور زیادہ تر پادری ہی لقمہ اجل بنے،کیونکہ عیسائی شرفاء امیرعبدالرحمن کے اس قدر گرویدہ اور جانثار تھے کہ انہوں نے اپنی متحدہ کوشش سے عوام الناس کو پادریوں کے زہریلے اثر سے محفوظ رکھا ۔سب ان خود غرض پادریوں کو یہ جواب دیتے تھے کہ عربوں کی حکومت سے ہم کو کیا نقصان پہنچا ہے جو ہم بلا وجہ تمہارا ساتھ دیں اور اپنی جانوں اور آزادی کو کھودیں۔ ہم ہر طرح آزاد اور ہماری جان اور مال ہر طرح محفوظ ہے ۔عرب ہمارے مذہب میں بالکل دخل نہیں دیتے ۔ہم بالکل مطلق العنان اور خوش حال ہیں ۔ان فوائد کے عوض محض حکومت کی تمنا میں (جیسا کہ پادری چاہتے تھے)اپنی جان اور مال تلف کر دینا عقل و دانش سے بالکل بعید ہے ۔لین پول لکھتا ہے :’’ہم تسلیم کرتے ہیں کہ یہ مسیحی ’’شہدائ‘‘راہ راست سے بھٹکے ہوئے تھے۔بے شک انہوں نے اپنی عزیز جانوں کو مفت ضائع کیا اور انہوں نے جوکچھ کیا،فی الجملہ برا کیا‘‘۔
امیر عبد الرحمن نے اس تحریک کو ختم کرنے کے لیے ایک کلیسائی کونسل بٹھانے کا فیصلہ کیا جو عیسائیوں کو پیغمبر اسلام علیہ السلام کی بے ادبی سے روکے۔چنانچہ تمام اساقفہ کو ایک مجلس میں جمع کیا گیا اور بادشاہ کی طرف سے ایک عیسائی سرکاری عہد ے دار نے اس مجلس میں شرکت کی۔جس کا نام قومس بن انطونیان تھا۔لین پول اس کا ذکر کرتے ہوئے رقم طراز ہے :’’تمام مجتہدین کی ایک کونسل جس کا صدر نشین اشبیلہ کا مجتہد اعظم تھا،منعقد ہوئی اور اس میں یہ فیصلہ ہوا کہ اس وقت تک جس قدر لوگ ’’شہید‘‘ہو چکے ہیں چونکہ تمام کلیساؤوں نے بالاتفاق ان کو ’’شاہ ولایت‘‘تسلیم کیا ہے لہذا وہ ہر قسم کے جرم و سزا سے بری کیے جائیں مگر آئندہ جو شخص ان کا اتباع کرے گا ،وہ مجرم اور خارج از مذہب سمجھا جائے گا۔
لیکن مفسد و مجنون طبیعتوں نے اساقفہ کے اس حکم سے سرتابی کی اور پادری جن کا سرغنہ یولوجئیس تھا،اپنی روش سے نہ ہٹے ۔امیر عبدالرحمن کی وفات کے بعد محمد بن عبدالرحمن کے عہد میں پادری یولوجئیس کے قتل کے ساتھ یہ فتنہ ہمیشہ کے لیے دفن ہو گیا۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *