آداب ِ دربار رسالتﷺ

وہ ہستی جو ساری انسانیت کے لیے واجب الاحترام ہے اس کے دربار رسالت میں، جو تاابد قائم ودائم رہے گا، ادب واحترام، گفتگواور تخاطب کے آداب بھی قرآن مجید نے اہل ایمان کوسکھلائے ہیں۔ آپ ﷺ کی مخالفت اوردشمنی توصریحاً کفرہے لیکن آپ ﷺ کی شان میں کسی قسم کی سوء ادبی بھی غارت گراعمال اوراعلان کفرہے۔
یاایھا الذین اٰمنو لاترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ولا تجھروا لہ بالقول کجھر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم وانتم لاتشعرون ان الذین یغضون اصواتھم عند رسول اللہ اولئک الذین امتحن اللہ قلوبھم للتقوی ٰ ۔ لھم مغفرۃ واجرعظیم (سورۃ الحجرات ، آیت ۲، ۳)
ترجمہ : اے لوگو! جوایمان لائے ہو اپنی آواز کو نبی ﷺ کی آواز سے بلند نہ کرو اورنہ نبی ﷺ کے ساتھ اونچی آواز کے ساتھ بات کیاکرو جس طرح کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے بات کرتے ہو۔ کہیں ایسانہ ہوکہ تمہارے اعمال غارت ہوجائیں اورتمہیں خبر بھی نہ ہو۔ جولوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور بات کرتے ہوئے اپنی آواز پست رکھتے ہیں وہ درحقیقت وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے جانچ لیاہے ان کے لیے مغفرت ہے اوراجر عظیم ہے ۔
اس سے قبل یہ ارشافرمایا:
’’یاایھاالذین اٰمنولاتقدموا بین یدی اللہ ورسولہ واتقوا اللہ ان اللہ سمیع علیم ‘‘
ترجمہ : اے لوگو! جوایمان لائے ہو اللہ اوراس کے رسول ﷺ کے آگے پیش قدمی نہ کرو۔ اللہ سے ڈرو۔ اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔
سورہ حجرات کا موضوع ہی اہل ایمان کو آداب دربار رسالت کی تعلیم دیناہے۔ سب سے پہلے مسلمانوں کو واضح طورپر یہ حکم دیاجارہاہے کہ وہ تمام معاملات میں احکام الٰہی کی تعمیل اوراللہ کے رسول ﷺ کا مکمل طورپر اتباع کریں اوران کو دل وجان سے اپنا رہنما بناکر ان کی پیروی کرتے ہوئے ان کے پیچھے پیچھے چلیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی اطاعت کے ساتھ اہل ایمان کواطاعت رسول ﷺ کا پابند کر دیا اور اطاعتِ رسول ﷺ کو اطاعتِ الہی قرار دیا۔ اطاعت رسول ﷺکا اولین تقاضا یہ ہے کہ ہر ہرقدم پر آپ ﷺ کے ادب واحترام کو ملحوظ رکھاجائے ۔ وگرنہ آپ ﷺ کی جناب میںکسی قسم کی بے ادبی بارگاہ الوہیت میں بے ادبی تصور ہوگی۔ جب کسی مسلمان سے ادب واحترام رسول ﷺ ختم ہوجائے تواس کے بعد نہ اس کا ایمان باقی رہے گا اور نہ ہی اس کا عمل۔ اس طرح اس کے سارے اعمال غارت ہوکر رہ جائیں گے اوروہ سرحد کفر میں داخل ہوجائے گا۔
سورہ حجرات کی یہ آیات اہل ایمان کو دربارنبوت میںنرم دم گفتگو ہونے کی تعلیم دیتے ہوئے یہ وعید بھی سنارہی ہیںکہ حضور رسالت مآب ﷺ سے ارتفاع صوت اور بلند کلامی کا انجام ’’حبوط اعمال‘‘ ہے جو کفر اورشرک کی صور ت اختیار کرلیتاہے۔ قرآن مجید میں واضح طور پریہ بتلایا گیاہے کہ کفر اورشرک دراصل نتیجہ ہیں حبوط اعمال کا۔ چنانچہ سورۃ المائدہ میں فرمایا: ومن یکفر بالا یمان فقد حبط عملہ وھو فی الاخرۃ من الخاسرین (المائدۃ ) ترجمہ : اور جس کسی نے ایمان کی روش پر چلنے سے انکارکیا تواس کاسارا کارنامہ زندگی ضائع ہوجائے گا۔
’’ولو اشرکو لحبط عنھم ماکانو یعملون‘‘ (الانعام:۸۸)
ترجمہ: لیکن اگرکہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتاتو ان کاسب کیاکرایا غارت ہوجاتا۔‘‘
’’لئن اشرکت لیحبطن عملک‘‘ (الزمر:۶۶)
ترجمہ: اگر تم نے شرک کیا توتمہارا عمل ضائع ہوجائیگا۔
ان کے علاوہ متعدد آیات اوربھی ہیں جن سے ظاہر ہوتاہے کہ کفر کی سزا سے اگر کوئی دنیامیں بچ بھی جائے تو آخری عدالت الٰہی میں اسے پوری سزامل کررہے گی اورشرک توخدا کے نزدیک ناقابل معافی جرم ہے۔ ان آیات سے یہ بھی معلوم ہواکہ جناب رسالت مآب ﷺ میں تیز اوربلند آواز سے گفتگو غیر شعوری طورپر بھی بے ادبی ہے جو غارت گراعمال ہونے کے سبب کفر اورشرک ہے۔
اپنی معرکۃ الآراء تصنیف ’’ الصارم المسلول ‘‘ جو شاتم رسولﷺ پر فی الواقع چمکتی ہوئی تلوار ہے میں اسی آیت مبارکہ کی تفسیر کرتے ہوئے امام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں :
’’جب ایسی تکلیف واستخفاف جو بلا قصد ہونے کے باوجود سوء ِ ادب اورکفر میںداخل ہے تو پھر وہ استخفاف اورتکلیف جو عمداً اور بالقصد کی جائے تواس کے صریحاً کفر ہونے میںکیا شبہ رہ جاتاہے یہ تو بطریق اولیٰ کفرشمار ہوگا۔ ‘‘(۳۲)
اسی آیت ’’ لاترفعوا اصواتکم …‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے ابو عبداللہ محمد بن احمد القرطبی اپنی شہرہ آفاق تصنیف ’’الجامع الاحکام للقرآن ‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’ اس آیت میں جس بلند آواز سے منع کیا گیا ہے وہ ایسی بلند آواز نہیں جس کا مقصد آنحضور ﷺ کااستخفاف واہانت ہو کیونکہ ایسی بلند آواز توکفر ہے اور یہ خطاب بھی اہل ایمان سے ہے۔ جن کے لیے آپﷺ کی ذات گرامی بھی اصل ایمان بلکہ عین ایمان ہے کیونکہ آپ ﷺ ہی سراپا دین ہیں ۔ اسی لیے توعلامہ اقبال نے کہاہے۔ع
بہ مصطفی برساں خویش راکہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نہ رسیدی تمام بولہبی است
قاضی ابوبکر ابن العربی اسی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’حضوررسالت مآب ﷺ کی ذات اقدس وصال کے بعد بھی اسی طرح تحریم وتکریم کے لائق ہے جس طرح آپ ﷺ کی زندگی میں آپ ﷺ کی تعظیم کی جاتی رہی ہے۔‘‘
آپﷺ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ کو آج بھی وہی حرمت وعظمت حاصل ہے جو انہیں آپ ﷺ کی حیات طیبہ میں حاصل تھی۔ نطق پیغمبر چونکہ وحی الٰہی ہے اس لیے آپ ﷺکاکلام بھی قرآن مجیدکے کلام کی طرح قابل احترام ہے۔ اسی آیت کی روشنی میں علمائے تفسیر وحدیث ہمیں بتلاتے ہیں کہ جب کبھی اور جہاں کہیں بھی آپ ﷺ کاکوئی حکم یاآپﷺ کی کوئی حدیث سنائی جائے اسے خاموشی اوراحترام سے سناجائے اور ایسی محفل میںتیز اورباآواز بلند گفتگو سے احترازکیاجائے۔ سورہ حجرات کی اگلی آیت ’’لاتجھرو الہ بالقول‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے علامہ آلوسی اپنی مستند کتاب ’’ روح المعانی‘‘ میںلکھتے ہیں :
’’مسلمہ قاعدہ ہے کہ آنحضور ﷺ کوکسی قول یافعل کے ذریعہ تکلیف پہنچانا کفر ہے، جس سے انسان کے تمام اعمال غارت ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا ایسے اعمال سے بھی منع فرمایاگیاجس سے آپ کواذیت پہنچنے کااحتمال ہو۔‘‘(۳۳)
اس سے اگلی آیت میں ایسے اہل ایمان کا ذکرہے جوبارگاہ رسالت ﷺ میں بات کرتے ہوئے ادب واحترام کے پیش نظراپنی آواز کوپست رکھتے ہیں ۔ ان کے بارے میں ارشاد ہواکہ یہی وہ لوگ ہیں جوا متحان اورآزمائش کے دشوارمراحل سے گزر کرمعیار تقویٰ پرپورے اترے ہیں۔ نزول کتاب کا مقصود ہی اہل ایمان، اہل تقویٰ کی ہدایت اوررہنمائی ہے۔ اور اللہ کے نزدیک مستحق تکریم اورلائق عزوشرف صرف وہی شخص ہے جو صاحب تقویٰ ہے۔جس سے معلوم ہواکہ انسان کامعیار فضیلت یامعیار تقویٰ ادب واحترام رسول ﷺ ہے۔ اوروہ لوگ جوادب واحترام رسولﷺ کو شعوری یاغیر شعوری طورپر ملحوظ نہیں رکھتے ، وہ متاع ایمان وتقویٰ سے محروم ہوجاتے ہیں ۔ اس لیے وہ پھر کسی عزت وتکریم کے مستحق نہیں ہوتے بلکہ بارگاہ خداوندی میں ذلیل اوررسواہوتے ہیں ۔
سورہ نور میں پیغمر ﷺ کے حفظ مراتب اورآداب گفتگو کی تعلیم دیتے ہوئے حکم دیاگیا:
لاتجعلوا دعاء الرسول بینکم کدعاء بعضکم بعضاً ۔
ترجمہ : تم لوگ اپنے درمیان رسول ﷺ کے بلانے کوآپس میں ایک دوسرے کو بلانانہ سمجھ بیٹھو۔
تفسیرآیت:
مسلمانوتم پرواجب ہے کہ تم پیغمبرﷺ کی عزت وتکریم ، تعلیم وتوقیر کرو۔ آپ ﷺ کے حفظ مراتب کا خیال رکھو اور آپ ﷺکی موجودگی میںاپنی آواز وں کو پست رکھو اورآپ ﷺ کو نبی اور رسول اللہ جیسے الفاظ سے مخاطب کرو۔ (۳۴) اس حکم کی تعمیل سے انحراف کو بھی توہین نبوت اورکفر قرار دیاگیاہے ۔ ایمان لانے کااقرار کرنے کے بعد اللہ اور اس کے رسول اورآیات الٰہی سے استہزا کرنے والوں کو قرآن نے کافر قراردیاہے۔ چنانچہ سورہ توبہ کی ۶۵ /ویں آیت میں گستاخان نبوت سے پوچھا جارہاہے:
’’کیا تم اللہ کے ساتھ اس کی آیتوں اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے ہو؟ بہانے نہ بنائو ! حقیقت یہ ہے کہ تم نے ایمان کے اقرار کے بعد پھرکفر کیا۔‘‘
اس آیت مبارکہ کی تفسیر کرتے ہوئے شیخ الاسلام اما م ابن تیمیہ ؒ اپنی اسی گراں مایہ تصنیف ’’الصارم المسلول ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:
’’اس آیت سے یہ ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ، آیات الٰہی اوراللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ تمسخر اوراستہزا کفرہے ، تو پھروہ سب وشتم جو حضورﷺ کی شان میں قصد اً ہو وہ توکھلا کفرہے اوریہ آیت اس امر پر قطعی طورپر دلالت کرتی ہے کہ جس کسی نے بھی جناب رسالت مآب ﷺ کی تنقیص واہانت قصد اً کی یا ہنسی مذاق میںکی بہر صورت وہ کفر ہے۔ ‘‘ (۳۵)
قاضی ابوبکر ابن العربی اسی آیت کی تفسیر میںلکھتے ہیں:
’’ منافقین نے جوکچھ کہااس کی دوصورتیں ہیں : یا تویہ (اہانت و تضحیک ) بالقصد ہوگی یا پھر بطور استہزا۔ ہردوحالتوں میں یہ کفر ہے کیونکہ کلمات کفر کے ساتھ تضحیک واستہزا ء کفرہی ہے۔‘‘

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *