اہانت کا حق

وہ سلسلہ جو ۱۹۸۸ء میں سلمان رشدی کی کتاب ’’شیطانی آیات‘‘ سے شروع ہوا تھا، ۲۰۰۵ میں ڈنمارک کے اخبار جیلینڈس پوسٹن میں شائع ہونے والے مذموم کارٹونس کی وجہ سے جس نے شدت اختیار کر لی تھی وہ اب ویڈیو فلم (Innocence of Muslims)کی وجہ سے انتہا کو پہنچ گیا۔ جسے عالمی سطح پر سخت جارحانہ اور قابل مذمت قرار دیا جا رہا ہے۔ محمدؐ رسول اللہ کی توہین کا مغرب میں ایک طویل تاریخی سلسلہ ہے۔ جیسے کہ Minou Reeves نے اپنی عالمانہ تحقیق Mumhammed in Europe: A thousand years of Western Myth making(شائع شدہ ۲۰۰۱ئ) میں واضح کیا ہے۔
یہ سلسلہ بہر کیف جاری رہے گا۔ چنانچہ اس سلسلہ میں جو نکات اٹھائے جا رہے ہیں انہیں اچھی طرح سمجھ لینا ضروری ہے تاکہ آنے والی صورتحال سے مقابلہ کی تیاری کی جا سکے۔ مغرب کے فکری تساہل، اخلاقی اندھے پن، تہذیبی کج روی اور سیاسی غرور کی بناء پر یہ بحث بے سمت ہو کر رہ گئی ہے۔ خود ہمارے ملک میں یہ انداز اختیار کرنے والوں کی کمی نہیں جو اسی مسابقت کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ جیسے کہ George Town Universityکے Louis Michael Slidmanلکھتے ہیں: ’’ہمارے ملک میں اظہاررائے کی تو بڑی آزادی ہے مگر خود اظہاررائے کی آزادی پر اظہاررائے کی کافی آزادی نہیں ہے۔‘‘
اس نازک مسئلہ کو اظہاررائے کی آزادی کے تحت بڑے سپاٹ انداز میں دبا دیا جاتا ہے۔ اور رشدی، ڈنمارک کارٹونسٹ اور حالیہ فلم ساز نے جو مسئلہ چھیڑا ہے اسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔شریانی باسو کے مطابق رشدی یہ دعوی کر چکا ہے کہ اس کی کتاب’’مذہب اور الہام کے متعلق سیکولر نقطہ نظر سے لکھنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔‘‘ (Sunday18/9/88)جب کہ کچھ ہی دن بعد اس نے این۔ رام سے کہا کہ ’’محمدؐ سے مشابہت رکھنے والے ایک نبی کے متعلق میں نے افسانہ لکھا ہے‘‘(The HIndu 10/10/88)فرانسیسی مارکسسٹ Maxime Rodinsonکی کتاب ’’محمدؐ‘‘(1971)یا وی ایس نائپال کی تصنیف ’Among the believers: An Islamic Journey‘ (1981)کے خلاف مسلمانوں نے اتنے شدیدرد عمل کا مظاہرہ نہیں کیا۔ لائبریریوں اور کتب فروشوں کی الماریاں اسلام سے شدید مخالفت پر مبنی کتابوں سے بھری پڑی ہیں۔ مسلمان اس لیے مشتعل ہو گئے کہ رشدی نے بے احتیاطی سے نہیں جان بوجھ کر توہین کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ یہی اصل مسئلہ اس وقت بھی تھا اور اب بھی برقرار ہے۔
رشدی کی کتاب کے دو ابواب ’Mohaund‘اور ’جاہلیت کی طرف واپسی‘ اسی سے متعلق ہیں یہ ناقابل تصور ہے کہ رشدی لفظ ’Mohound‘کی تاریخ سے ناواقف ہو۔ جسے صلیبیوں نے ایجاد کیا تھا جسے محمدؐ کے نام کے پہلے حصے اور ’ hound‘کو ملا کر بنایا گیا ہے۔Shorter Oxford Dictionary کے مطابق مہاوند کا مطلب ’’جھوٹے نبی محمدؐ ۔۔۔ یا شیطان کا ایک نام ہے‘‘(نعوذ باللہ) اور Concise Oxford Dictionaryکے مطابق اس کا مطلب ہے ’’محمدؐ جنہیں غلطی سے خدا سمجھ لیا گیا تھا‘‘ Brewster’s Dictionaryیہ محمدؐ کی تذلیل کے لیے بگاڑا ہوا نام ہے خصوصا ًصلیبی اور رومانوی کہانیوں میں ۔۔۔جسے کبھی کبھی شیطان کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے‘‘(نعوذ باللہ) جب کوئی مصنف محض ’’مہاوند‘‘کا لفظ استعمال کرتا ہے تو حضرت محمدؐ کی توہین کے ارادہ ہی سے کرتا ہے۔ رشدی کی کتاب میں حضرت محمدؐ کی زندگی کی تفصیل سے تصویر کشی کی گئی ہے وہ بھی رکیک توہین آمیز الفاظ میں۔ جاہلیت کی جسم فروش خواتین کو (معاذ اللہ) ازواج مطہرات کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔حالانکہ ان کی سب سے چھوٹی بیوی حضرت عائشہ ؓ مسلمانوں کی توجہ کا خاص مرکز ہیں۔ آنحضورؐ کی زندگی کے مشہور واقعات کی رشدی نے بیہودہ انداز میں خاکہ نگاری کی ہے۔ صفحہ ۳۹۴ پر ان کی موت کا تذکرہ ہے۔ آخری الفاظ جو ان سے منسوب کیے گئے ہیں وہ ایک دیوی لات کے شکریہ پر مبنی ہیں۔ (نعوذ باللہ) وہ نبیؐ جس کا فرمان ہے کہ ’عالم کے قلم کی سیاہی شہید کے خون سے زیادہ مقدس ہے‘‘ ان سے وہ الفاظ وابستہ کیے گئے ہیں کہ ’’قلم کار اور جسم فروش عورت میں مجھے کوئی فرق نظر نہیں آتا۔‘‘(صفحہ۳۹۳۔نعوذ باللہ من ذالک) رشدی کے اسلام کی طرف لوٹنے پر وقت ضائع کرنے کی ضرورت چنداں نہیں ہے۔ یا اس کے یپیپر بیک ایڈیشن کی اشاعت پر روک لگانے سے بھی کچھ حاصل نہیں ۔ نہ اس کے تائب ہونے کے دعوے کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ کسی بھی قسم کاادبی معیار اس سنگین غلطی کا ازالہ نہیں کر سکتا۔ جب کہ کارٹونس اور حالیہ فلم میں تو کسی ادبی معیار کا بھی مظاہرہ نہیں کیا گیا ہے۔ مگر جو کچھ بھی سامنے آیا ہے، مغربی روایات کے عین مطابق، اظہار رائے کے نام پر ’اہانت کے حق‘ کا جواز فراہم کیا جار ہا ہے۔ اس معاملہ میں کوئی مغالطہ نہیں اور ا س کا راست مقابلہ کیا جانا چاہیے!
دی اکنامسٹ نے 1990میں لکھے گئے برنارڈ لیوس(جو کہ ڈک چینی کے مشیر تھے) کے مضمون’The roots of muslims rage‘(مسلمانوں کے اشتعال کی بنیادیں) کی دہائی دی ہے۔ جس کا دعوی ہے کہ مغرب اسلام سے نابلد نہیں بلکہ دوسرے ہیں۔ بیشتر مسلم ممالک میں مغرب کے رویہ سے ناواقفیت کی بناء پر عوامی رد عمل کا اظہار آسان ہو گیا ہے۔(The Economist 15/9/12)ایک ہفتہ بعد اسی اکنامسٹ نے مصری صدر محمد مرسی پر یہ کہہ کر اعتراض کیا کہ ’’وہ بخوبی جانتے ہیں کہ مغرب میں اظہار رائے کی آزادی کے پیش نظر یہ ممکن نہیں کہ کسی کو محمدؐ ،عیسی ؑیا موسیؑ یا کسی بھی ایسی شخصیت کی اہانت سے روکا جا سکتا، ’’جسے لوگ مقدس سمجھتے ہوں‘‘۔فرانس میں ڈنمارک کارٹونس کی تازہ اشاعت کو بھی آزادیٔ اظہار رائے کے بہانے ڈھانک دیا گیا۔’’یہ اخوان کے مذہبی رہنما اور مرسی کے قریبی ساتھی کی صریح ناواقفیت اور بددیانتی ہے کہ ’’ہولوکاسٹ کا انکار مغرب میں غیر قانونی ہے۔‘‘ جب کہ امریکہ میں نہیں ہے اور جرمنی میں مختلف تاریخی وجوہات کی بنا پر ظاہر ہے کہ یہ غیر قانونی ہے۔‘‘
دیکھا جائے تو دی اکنامسٹ ہی در حقیقت بددیانتی سے کام لے رہا ہے۔ اسے معلوم ہے یا ہونا چا ہیے کہ امریکی دستور کی پہلی ترمیم کسی انسانی گروہ کی اجتماعی تذلیل یا اس کے خلاف نفرت کے اظہار کی اجامت نہیں دیتی۔ اسے یہ بھی اندازہ ہونا چاہیے کہ ہولوکاسٹ کے انکار سے مغربی ذہنوں کو وہ اذیت نہیں پہنچ سکتی جو مشرق میں مذہبی رہنماوں کی توہین سے پہنچتی ہے۔
امریکی رویہ: دو زیادہ تجربہ کار امریکی کالم نگار اس معاملہ میں امریکی رویہ کو سمجھنے میں مدد دے کستے ہیں۔ Nicholas D. Kristoffلکھتے ہیں ’’حضرت عیسیؑ کے (معاذ اللہ) پیشاب کرنے سے متعلق ایک تصویر(Piss Chirst)جس کے لیے کچھ امریکی ٹیکس دہندگان نے خصوصی تعاون دیا تھا اس میں ایک مصلوب شخص کو آرٹسٹ نے اس کے اپنے پیشاب میں ڈوبا ہوا دکھایا گیا ہے۔ لیکن قدامت پسند عیسائیوں نے واشنگٹن مال پر کوئی ہنگامہ نہیں کیا۔ Marmonایک کتاب میں چرچ کے عقائد کو فضول او رخرافات قرار دیا گیا ہے مگر تشدد کے مظاہرہ کیوں کیا گیا؟ مجھے اس سوال اور اس سے وابستہ ایک اور سوال کا جواب دینے دیجئے۔’’کیا ہمیں ان مذاہب کی توہین کی آزادی پر قدغن لگانا چاہیے جو زیادہ سخت گیر ہیں؟‘‘ ان کا کالم Exploiting Prophet Mohd.(پیغمبر محمدؐ کا استحصال) 24ستمبر2012کے International Herold Tribuneمیں شائع ہوا ہے۔ منطق الٹی ہے کہ ’’وہ مسلمان جو حضرت محمدؐ کی توہین پر اعتراض کرتے ہیں وہ در حقیقت ان کا استحصال کرتے ہیں۔‘‘ توقع کے عین مطابق وہ لکھتے ہیں کہ ’’رد عمل کی وجہ خود ان کے اپنے ہاں اظہار رائے کی آزادی کا فقدان ہے۔ لندن میں ان کی قبیل کے ہی کالم نگار Roger Cohenلکھتے ہیں ’’مسلم دنیا بیک وقت دونوں چیزیں حاصل نہیں کر سکتی ایک طرف اسلام کو سیاسی زندگی سے خلط ملط کرنا، بلکہ سیاسی تشدد کی بنیاد بنانا تو دوسری طرف یہ کہنا کہ ان کا مذہب کسی قسم کی رقابت یا تضحیک کی بنیاد نہیں بن سکتا۔‘‘ (۲۲ ستمبر ۱۲) جب کہ مغرب و مشرق میں تہذیبی فرق ہے عقائد کا کا نہیں۔ خود ہندوستانی عیسائی حضرت عیسیؑ کے متعلق Kristofکے اقتباس پر شدید اشتعال کا شکار ہو جائیں گے جب کہ ’رقابت‘ اور ’تضحیک‘ ہم معنی بھی نہیں ہیں۔
عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل نبیل العربی ایک قابل احترام ڈپلومیٹ ہیں انہوں نے ا قوام متحدہ کی سیکوریٹی کاونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ ’’بین الاقوامی برادری نے جس طرح جسمانی اذیت کو قابل تعزیر قرار دیا ہے اسی طرح نفسیاتی اور روحانی اذیت کو بھی قابل تعزیر جرم قرار دیا جانا چاہیے۔‘‘ جو کہ نیویارک یونیورسٹی اسکول کے پروفیسر Jeremy Waldronکی کتاب ’The harm in hate speech‘(اظہار نفرت کی تکلیف) کا موضوع ہے کہ نفرت پر مبنی الفاظ اذیت پہونچاتے ہیں۔ جب کہ امریکی دستور کی پہلی ترمیم کی حتمی حیثیت امریکی پروپگینڈہ کرنے والوں کے لیے ایک مفروضہ بن چکی ہے۔ جب کہ امریکی سپریم کورٹ نے گروئی گالی گوچ اور جارحانہ الفاظ پر سزائیں دی ہیں۔ مثلاً 1942میں فیصل کیے گئے Chaplinskyبنام New Hempshireکے ایک مقدمہ میں جارحانہ الفاظ کے استعمال سے متعلق ایک اصول وضع کیا جس کے مطابق کسی ذاتی توہین کے متعلق الفاظ کو اظہار رائے کی آزادی کی شق سے خارج کر دیا گیا ہے۔ ا سکے مطابق ایسے اظہار کے ذریعہ نہ کسی قسم کے نظریہ کو پیش کیا جا سکتا ہے نہ حقائق کی طرف پیش قدمی کے معاملہ میں کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اور نہ اس کی کوئی سماجی حیثیت ہے۔
گروہی اہانت سے متعلق قوانین: جیسے کہ Oliver Wendell Holmesنے نشان دہی کی ہے کہ قانون ہمیشہ رائے عامہ سے پیچھے رہتا ہے اور ارئے عامہ سماجی ضروریات سے پیچھے۔Thomas I. Emersonکی کتاب The system of Freedom of Expressionقانونی سفر کی ایک اچھی روداد ہے۔ امریکہ میں گروہی توہین سے متعلق قوانین کبھی نسلی اور مذہبی عدم تحمل کے خلاف بہترین ہتھیار تھے۔ خصوصا جنگ عظیم دوم کے بعد نسلی منافرت کی روک تھام کے لیے ان کا بھر پور استعمال کیا گیا۔ لیکن حالیہ برسوں میں ان کی طرف کم توجہ دی گئی ہے۔ پھر بھی مختلف ذرائع کی جانب سے نفرت کے پروپیگنڈہ کے خلاف ان قوانین کے استعمال کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ دیگر مختلف ممالک میں بھی گروہی توہین کے خلاف ان قوانین کا ا ستعمال کسی نہ کسی صورت میں کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں برطانیہ نے اپنے نسلی مسائل کے حل کے لیے ان کا استعمال کیا ہے۔
گروہی تذلیل سے متعلق قوانین کی امریکہ نے مختلف شکلیں اختیار کی ہیں۔ عام بدگوئی کے خلاف نقض امن کے قوانین اور بداخلاقی پر مبنی قوانین کا استعمال بھی انہی مقاصد کے لیے کیا جا چکا ہے۔ نفرت کے پروپیگنڈہ کو روکنے کے لیے کوئی بھی سنجیدہ کوشش اس مقصد کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کرتی ہے۔ فی الحال اس قسم کی قانون سازی اگرچہ محدود شکل میں تقریبا درجن بھر ممالک میں موجود ہے۔ امریکی سپریم کورٹ نے گروہی تذلیل سے متعلق قانون کا ا ستعمال صرف ایک ہی موقع پر یعنی 1952کے Beauhanais-Vs-Ilinoisکیس میں کیا ہے۔ اس مقدمہ نے کسی بھی فرد کے لیے ایسی کسی اشاعت کو ظاہر کرنے یا بیچنے کو غیر قانونی قرار دیا ہے جو کہ رنگ، نسل، ذات یا مذہب پر مشتمل شہریوں کے کسی بھی گروہ کے خلاف برائی، بدعنوانی جرائم پسندی، بے حیائی یا بے اصول پن کے پروپگنڈہ پر مشتمل ہو۔ یا ان کی تذلیل ، تحقیر یا توہین کرے اور نقض امن کا باعث ہو۔ White Circle Leagueکے صدرJoseph Beauharnaisنے شکاگو میں ایک ایسا پرچہ تقسیم کیا تھا جس میں میئر اور سٹی کونسل سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ ’’سفید فام لوگوں کے خلاف حق تلفی، اذیت اور ان کی جائدادوں میں سیاہ فاموں کی مداخلت کو روکا جائے۔‘‘ اور ایک ملین سفید فاموں کو سیاہ فاموں کے خلاف متحد ہو جانے کا پیغام دیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ سفید فاموں کے ستائے جانے کے باوجود اگر اتحاد قائم نہ ہو سکا توکم از کم سیاہ فام نیگروؤں کے ذریعہ ہونے والے عصمت دری، ڈکیتی، چاقو زنی، بندوقوں اور منشیات کا استعمال گوروں کو ضرور متحد کر دے گا۔‘‘ اس نفرت انگیز پروپگنڈہ کے لیے سپریم کورٹ نے Beauharnaisکو مجرم قرار دیا تھا۔ اور دو سو ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ جس کی کورٹ کی بنچ نے پانچ مقابل چار ووٹوںسے توثیق کر دی تھی۔
جج فرینکفرٹ نے اکثریت کی جانب سے بولتے ہوئے توہین سے متعلق اس فوجداری قانون کا حوالہ دیا تھا۔ ا نہوں نے واضح کیا کہ ہر ملک میں اس قسم کا قانون موجود ہے۔ ان کے مطابق گروہی تذلیل گفتگو کی وہ مخصوص قسم ہے جس کی روک تھام اور سزا میں کوئی قانونی دشواری نہیں ہے۔‘‘ کورٹ کے سامنے اصل سوال یہ تھا کہ دستور کی چودھویں ترمیم کسی ایسے شخص کو جو اس قسم کے جرم کا مرتکب ہو سزا دینے سے روکتی ہے۔ انہو ںنے مزید کہا کہ اگر کسی فرد کے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ قابل تعزیر ہوں تو ریاست کو اس فرد کے خلاف سزا کے اختیار سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر چہ یہی الفاظ کسی گروہ کے متعلق استعمال کیوں نہ کیے جائیں۔‘‘
اس مقدمہ میں دستور کی پہلی ترمیم کے متعلق جج فرینکفرٹ نے کہا’’توہین آمیز الفاظ چونکہ دستور ی تحفظ سے باہر ہیں، یہ ہماری یا ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ نازیبا اور فحش الفاظ کی ادائیگی کے لیے لازماً سزا مقرر کرلے۔ برطانیہ کے رائل گورٹ تھیٹر نے ایک ڈرامہ ’Perdition‘ 1987میںیہودی تنظیموں کی بنا پر منسوخ کر دیا تھا۔ Jeremy Waldronکی کتاب ’The harm in hate speech‘اس سلسلہ کی دیانت دارانہ بحث کے لیے سب سے زیادہ قابل قدر اضافہ ہے۔ وہ امریکہ کے اس نظریہ کو مسترد کرتے ہیں کہ ’جو لوگ نفرت انگیز گفتگو کا نشانہ بنے ہیں وہ اسی کے ساتھ جینا سیکھیں۔‘ یعنی اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے ماحول میں زندگی گزارنا، اپنا کاروبار کرنا اور اپنے بچوں کی پرورش اسی ماحول میں کرنا سیکھیں۔ اکثر امریکہ کے مباحث میں نفرت انگیز اظہار خیال سے متعلق فلسفیانہ دلائل محض، اچانک، پرجوش انداز میں بلا سوچے سمجھے دیے جاتے ہیں۔ جو کہ مغرور، خود پسند اور اپنے سوا کسی کی خاطر میں نہ لانے والے امریکی رویہ کا بہت اچھے انداز میں انکار کرتا ہے۔
نفرت انگیز اظہار رائے کی قیمت کسی قوم کو یکساں طور پر نہیں چکانی پڑتی یہ اسی حصہ کو زیادہ متاثر کرتی ہے جسے نشانہ بنایا گیا ہو۔ وہ سماجی طور پر اچھوت بنا دیے جاتے ہیں۔ جیسے کہ 9/11کے بعد کے تجربات سے ثابت ہوتا ہے۔ حالانکہ اس کتاب میں موضوع تشددکو نہیں وقار کو بنایا گیا ہے۔ اس میں یہی ایک بنیادی جھول ہے وہ ایک فرد کے حقوق کا تو تحفظ کرتی ہے مگر گروہی حقوق سے اس کی وابستگی کا انکار کرتی ہے۔ قانون سازی سے متعلق مصنف والڈران لکھتے ہیں کہ ’’نفرت کے اظہار سے متعلق آئین سازی سے میرا مطلب ہے اس قسم کی آئین سازی جو کہ کناڈا، ڈنمارک، جرمنی، نیوزی لینڈ اور برطانیہ میں کی گئی ہے۔جس کی رو سے علی الاعلان ایسے بیانات دینا جس سے کسی مخصوص گروہ کے خلاف نفرت کے جذبات بھڑکتے ہوں اس لیے ممنوعہ قرار دیے جانے چاہیے کہ وہ نقض امن کا باعث بن سکتے ہیں۔ (کناڈا) یا ایسے بیانات جن کی وجہ سے عوام کے کسی گروہ کو دھمکی دی جائے یا ان کی تضحیک یا توہین جو خواہ وہ ان کی رنگت کی وجہ سے ہو یا قومی اور نسلی بنیادو ں کی وجہ سے (ڈنمارک،) یا توہین آمیز گھناؤنے انداز میں آبادی کے کسی گروہ کی شبیہہ بگاڑتے ہوئے اس کے انسانی وقار پر حملہ کیا جائے۔(جرمنی) یا دھمکیوں گالیوں اور توہین آمیز ا لفاظ کے ذریعہ کسی گروہ کے خلاف دشمنی کے جذبات پیدا کیے جائیں۔(نیوژی لینڈ) یا دھمکی بھرے، گالیوں پر مشتمل توہین آمیز الفاظ کے ذریعہ نسلی منافرت کو اکسایا جائے(برطانیہ) جیسے کہ دیکھا جا سکتا ہے نفرت آمیز اظہار رائے کے معاملہ میں ان قوانین میں مشابہت بھی پائی جاتی ہے اور کچھ فرق بھی ہیں پھر صر ف امریکہ ہی کیوں اپنے دستور کی پہلی ترمیم کی بنیاد پر خود کو مستثنیٰ رکھنے کے نشہ میں مبتلا ہے۔ جب کہ اس کے سپریم کورٹ نے خود ہی مستثنیات کو علیحدہ کر دکھایا ہے۔
کناڈا کے گیگستر بنام آر نامی ایک مثالی کیس 1990میں کنیڈا کے چیف جسٹس Brian Dicksonنے نفرت کے عام اظہار کے لوگوں پر اثرات کے متعلق کہا تھا’’توہین ،دشمنی اور تذلیل پر مشتمل نفرت انگیز پروپگنڈے کے افراد کی خود اعتمادی پر شدید منفی اثرات ہوتے ہیں یہ اثرات پروپگنڈہ کا شکار ہونے والے گروہ کو شدید ا قدامات پر ابھار سکتے ہیں۔ اور اس ملک کے لیے بھی برے نتائج سامنے آتے ہیں جو نسلی، مذہبی اور تہذیبی اکائیوں کا احترام کرتے ہوئے تحمل اور انسانی وقار کے تحفظ میں فخر محسوس کرتے ہیں‘‘۔
اپنی کتاب میں والڈران لکھتے ہیں کہ دستور کی پہلی ترمیم کی بنیا پر سیاسی وجوہات کی بنا پر سزا دینے کے عمل کے مقابلہ میں عیسائیت کی توہین پر سزا دینے کا عمل کہیں زیادہ تیزی سے کمزور ہوتا چلا جا رہا ہے۔ کیوں کہ ملحدوں کو سزا دینے کی منطق امریکہ میں مذہب کے متعلق پائے جانے والے نظریات سے میل نہیں کھاتی۔Anthony Lewisنے اپنی کتاب Freedon of Thought that we hate: A Biography of the First Amendment (2007)یعنی اظہار رائے کی آزادی جس سے ہمیںنفرت ہے:پہلی ترمیم کی سوانح عمری (مطبوعہ ۲۰۰۷) میں مصنف نے لکھا ہے ’’ایک ایسے زمانے میں جہاں الفاظ نے قتل عام اور دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کی ہے میرے لیے یہ تسلیم کرنا پہلے جتنا ا ٓسان نہیں رہا کہ برائی کاعلاج صرف اچھے الفاظ سے کیا جا سکتا ہے۔‘‘ فحش تصاویر پر بے لگام آزادی کی طرح نفرت انگیز ا ظہار رائے بھی سنگین مشکلات پیدا کر سکتا ہے‘‘۔ مصنف نے Catharine Mackinکی کتاب (مطبوعہ1992) Only Words(صرف الفاظ) کا حوالہ دیا ہے۔ انہو ںنے اپنا نظریہ دو ٹوک انداز میں پیش کیا ہے کہ ’’الفاظ کام کرتے ہیں‘‘ وہ عریانیت زدہ سماج کا گہرے انداز میں تجزیہ کرتی ہیں ان کے مطابق’’ جیسے جیسے عریانیت کی صنعت پھیلتی جا رہی ہے جنس کا تجربہ زیادہ سے زیادہ عام ہوتا چلا جا رہا ہے۔ انسان جیسے ’’چیز‘‘ بن کر رہ گیا ہے۔ عریاں تصویر کشی کا مقصد خواتین کو کمتر درجہ کی انسان تصور کرتے ہوئے محض جنسی تسکین کا ذریعہ قرار دینا ہے خواتین کو مردوں کی جنسی خواہش کے استعمال اور استحصال کے لیے غیر انسانی درجہ تک پہنچاتا اور تہذیبی سطح پر پست کر دیتا ہے‘‘ والڈران کہتے ہیں ’’نسلی اور علاقائی عصبیت پر مشتمل پوسٹرس اور علامتیں بھی اسی نوعیت کی ہیں جو مخصوص علاقوں میں نسلی اور مذہبی اقلیتوں پر مشتمل انسانی گروہوں کی تذلیل کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں‘‘۔
دونوں ہی مصنفین اس طرح کے معاملات کو پوری طرح ’توہین‘ کے قوانین کے تحت لانے میں تامل سے کام لیتے نظر آتے ہیں ۔والڈران اپنی مضبوط بحث کے نتائج سے قدرے گریز کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’انفرادی طور پر عیسائی توہین کے معاملہ میں تحفظ کا حق رکھتا ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی بھی پوپ، راہب یا عیسائیت کا اصول بھی یہ حق رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ حضرت عیسیٰؑ کی نیک نامی یا وقار کو بھی تحفظ حاصل ہوگا۔ اسی اصول کے مطابق انفرادی طور پر ہر مسلمان کو توہین کے خلاف تحفظ کا حق حاصل ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسلمانوں کے عقائد یا حضرت محمدؐ کو توہین کے خلاف تحفظ کا حق حاصل ہوگا۔ کسی بھی گروہ کے ممبرس کا شہری وقار ان کے مذہبی مقام سے علیحدہ ایک چیز ہے۔ اگر چہ قرآن یا رسولؐ پر حملہ کتنا ہی جارحانہ کیوں نہ ہو۔‘‘
اس مغالطہ کے ذریعہ والڈران کی فکری بے راہ روی کا اندازہ ہوتا ہے اور یہ عظیم جج Benjamin N Cardozisکی حقیقت پسندی کی یاد دلاتا ہے جن کے مطابق ’ہم کسی چیز کو بہترین طریقہ پر دیکھنے کی کوشش تو کر سکتے ہیں مگر اپنی آنکھوں کے سوا کسی اور کی آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتے۔‘‘ کتاب کے مصنف (والڈران) کا علمی مقام اتنا بلند ہے کہ وہ کسی پوپ، راہب اور مذہبی اصولوں اور کسی مذہب کے بانیوں میں فر ق نہیں کر سکتے۔ ا سکے علاوہ’توہین‘ یا ’تذلیل‘ کو تنقید پر محمول نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں سب و شتم اور بدنام کرنے کا بنیادی عنصر پایا جاتا ہے۔ میکالے کے فوجداری قوانین اپنی چار بنیادی وضاحتوں میں کہتے ہیں ’اس کا اطلاق اس توہین پر بھی ہوتا ہے جس کا تعلق کسی مرنے والے سے ہو۔ کہ اگر وہ زندہ ہو تا تو اس سے منسوب کی جانے والے خصوصیات کی وجہ سے اس کی بدنامی ہوتی یا اس کے پسماندگان یا خاندان کے لیے اذیت کا باعث ہوتی۔ جرمن فوجداری قوانین کی دفعہ ۱۸۹ بھی یہی کہتی ہے کہ ’جو کوئی کسی مردہ شخص کی عزت سے کھلواڑ کرے اسے کم سے کم دو سال کی سزا دی جائے گی یا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔‘ اسی دلیل کا اطلاق مذاہب کے بانیوں مثلاً ’زرتشت، گوتم بدھ، موسیؑ، عیسیؑ اور حضرت محمدؐ پر کیا جا سکتا ہے۔ البتہ کھینچ تان کر اس کا اطلاق مقامی ہیروز پر مثلاً چھترپتی شیواجی یا سبھاش چندربوس پر نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ مذہبی شخصیات پر بھی تنقید کی اجازت دی جاسکتی ہے توہین آمیز حملے کی نہیں یہ پرلے درجہ کی بے احتیاطی اور غیر ذمہ دارانہ خود پسندی ہے اسی بنا پر برطانیہ کے Hastley Showcrossاور Nissim Eizekielکے ذریعہ رشدی پر شدید سنسرشپ کا جواز فراہم کیا جا سکتا ہے۔ Ronald Dahlنے اسے ایک خطرناک موقع پرست قرار دیا تھا۔
وکیلوں کے لیے یہ حد بندی مشکل نہیں۔ محمد علی جناح نے ۵ ستمبر ۱۹۲۷ئ؁ کو سنٹرل اسمبلی میں فوجداری قوانین میں ترمیم پر بحث کرتے ہوئے کہا تھا’’ میں شدت سے اس اصول کی حمایت کرتا ہوں کہ یہ اقدام ان لوگوں کے خلاف ہونا چاہیے جو بلا وجہ کسی مذہب یا ا سکے بانیوں یا پیغمبروں کی توہین یا کردار کشی کرتے ہیں۔ البتہ وہ لوگ جو تاریخی اور تحقیقی مقاصد کی بنا پر تنقید کریں وہ اس سے مستثنیٰ ہیں۔‘‘ ہندوستان کے فوجداری قوانین کی دفعہ 295-Aکے مطابق ’قصداً‘ اور بدنیتی کے ساتھ ہندوستانی شہریوں کے کسی بھی گروہ کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا اور مذہب یا مذہبی عقائد کی توہین کسی کو مجرم قرار دینے کے لیے کافی ہے۔
برطانیہ کے ہاؤس آف لارڈس نے ۲۱؍فروری ۱۹۷۹ء میں ایک ایسے مقدمہ میں جس میں ایک ہم جنس پرست شاعر نے حضرت عیسیؑ کی سولی پر موت کے بعد ان کے جسم کے ساتھ کسی کی ہم جنسی پر مبنی نظم لکھتی تھی تو اسے Blasphemy(کفر) کا مرتکب اور قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا۔ ججوں میں جسے سب سے زیادہ لبرل سمجھا جاتا تھا یعنی Lord Scarman وہ اُسے سزا دلانے میں سب سے آگے تھے۔ اس مقدمہ کی طویل بحث کے دوران ججوں نے اپنے فیصلے میں یہ بھی شامل کیا تھا کہ برطانیہ میں نہ صرف عیسائیوں بلکہ غیر عیسائیوں کے لیے بھی اس قسم کا تحفظ ہونا چا ہیے۔ انہو ںنے کہا تھا ’’تیزی سے تکثیریت کی طرف بڑھتے جدید برطانوی سماج میں نہ صرف یہ ضروری ہے کہ مختلف مذاہب کے عقائد اور جذبات اور مذہبی رسومات کا احترام کیا جائے بلکہ انہیں توہین ، تذلیل اور تضحیک سے تحفظ فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ جب کہ تقریبا ایک صدی پہلے لارڈ میکالے نے پارلیمنٹ میں ًBlasphemyسے متعلق قوانین پر تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اگر میں ہندوستان میں جج ہوتا تو کسی ایسے عیسائی کو سزا دینے میں کوئی حرج نہ محسوس کرتا جس نے کسی مسجد کو ناپاک کیا ہو۔‘‘ جب میکالے قانون ساز اسمبلی کے رکن بنے تو انہوں نے اس بات کا خیال رکھا کہ سب کے مذہبی جذبات کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔ان دنوں ہندوستان ایک تکثیری سماج تھا آج برطانیہ ہے۔‘‘
یہی وہ چیز ہے جسے کچھ یورپی ممالک اور امریکہ مسلمانوں کے علی الرغم تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ تکثیری سماج میں ان لوگوں کو بھی سمو لیا جاتا ہے جن کا نظریہ حیات ان کے اپنے نظریہ سے مختلف ہو۔ نسلی منافرت سے متعلق برطانیہ میں قانون سازی کا حوالہ دیتے ہوئے Scarmanکہتے ہیں کہ ’’کسی مصنف یا پبلشرکا اپنی نیک نیتی کا دعویٰ کرتے ہوئے اور اظہار رائے کی آزادی کی دہائی دیتے ہوئے قانونی گرفت سے فرار ہو جانا قابل برداشت نہیں ہو سکتا، در آں حالیکہ اس کے الفاظ کفریہ یا اپنے ساتھی شہریوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے ہوں۔ یہ کسی بھی تکثیری سماج کے آگے بڑھنے کا راستہ نہیںہو سکتا‘‘۔ Scarmanایک نرم خو جج تھے انہوں نے تسلیم کیا کہ ہم جنس پرست شاعر نے جو کچھ لکھا وہ ہم جنس پرستوں کو راحت پہنچانے کے لیے تھا گویا کہ عیسائیت میں اس کی بھی گنجائش موجود ہے۔ مگر ان کے نیت کچھ بھی ہو انہوں نے حضرت عیسیٰؑ کو اس طرح پیش کیا جیسا کہ وہ چاہتے تھے جو قانوناً جرم ہے۔ والڈران اپنے ایک سرسری ریمارک کے ذریعہ گہری تحقیق سے گریز کرتے ہیں کہ’’ ہر گروہ کے عقائد بظاہر دوسروں کے عقائد کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔‘‘ انہیں چاہیے کہ وہ کیرالہ آئیں جہاں چرچ، مندر اور مسجد ایک دوسرے کے قریب قریب کھڑے ہیں وہ ایک یقین رکھنے والے عیسائی ہونے کے باوجود کہتے ہیں کہ ایسا نہیںکہ عیسائیت سے کبھی اختلاف نہیں کیا گیا ہو اور اس کی تضحیک نہ کی گئی ہو۔ یہاں وہ اپنے خیالات اور اصل مسئلہ میں فرق کرنے سے قاصر ہیں۔ سائبر کرائم سے متعلق Additional protocol to the European Convention on cyber crimeکے مطابق نسل پرستانہ یا دیگر انسانی گروہوں سے نفرت پر مبنی مواد کا مطلب ہے ’وہ تحریری مواد جو کہ نسل پرستی، علاقائی یا مذہبی بنیادوں پر کسی فرد یا گروہ کے خلاف نفرت پیدا کرنے ،فروغ دینے یا اکسانے کا باعث ہو‘ قابل تعزیر ہے۔
مذہب کی بنیاد پر نفرت کے جذبات کو اکسانا جرم ہے پھر یورپ میں مسلمانوں کو سیاسی وجوہات کے علاوہ اور کس بنا پر نشانہ بنایا جا رہا ہے ؟ کیوں آخر ایک تاریخی حقیقت یعنی ہولوکاسٹ کا انکار جرم قررا دیا گیا ہے کیونکہ وہ یہودیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا ہے اور ان لوگوں کو تقویت پہنچاتا ہے جو ان سے نفرت کرتے ہیں حالانکہ اس میں کسی قسم کی بدکلامی شامل نہیں ہے۔ پھر قانون مذہب کی توہین کو قابل تعزیر کیوںنہیں بناتا؟ جب کہ ہولوکاسٹ کے انکار پر فرانس، جرمنی، سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا میں سخت سزائیں دی جا چکی ہیں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ سلسلہ جاری رہے گا۔(بشکریہ فرنٹ لائن ۱؍نومبر ۲۰۱۲ئ)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *