تخت رہا نہ تاج

یہ سنہ۶ ہجری کی بات ہے خسرو پرویز کو اطلاع دی گئی کہ مدینے سے ایک قاصد آیا ہے۔ نوشیروان کے پوتے نے بڑے تعجب سے پوچھا۔ ’’مدینہ سے؟ بتایا گیا، ہاں!‘‘
شہنشاہوں کے دربار میں سفیر، شہنشاہوں، بادشاہوں اور امیروں کی طرف سے آتے ہیں۔ یہ مدینے میں کون سی سلطنت قائم ہوئی ہے جہاں سے اب سفیر بھی آنے لگے؟ حکم دیا ’’اچھا اس قاصد کو ہمارے حضور پیش کیا جائے‘‘ عبد اللہ بن خذافہؓ پیش ہوئے ۔عرب کے صحرا نشینوں کا حلیہ… ڈھیلے ڈھالے کپڑے، پیوند زدہ جوتیاں، شان و طمطراق کا کوئی شائبہ بھی عبد اللہؓ کو چھو کر نہ گیا تھا، یہ سفیر تھا یا فقیر! دربار ِ عجم کے حاضر باش خود بھی اس ہیئت سے کچھ خوش نہ تھے اور شہنشاہ کے غصے کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا۔ پہلی ہی نظر میں بے شمار سلوٹیں اس کے ماتھے پر ابھر آئی تھیں۔ شہنشاہ نے ایک درباری سے مخاطب ہوکر کہا ’’پوچھو کیا عرض کرنا چاہتا ہے؟‘‘ درباری نے وہ الفاظ دہرائے ’’کیا عرض کرنا چاہتے ہو؟‘‘ عبد اللہ بن خذافہؓ خسرو پرویز کی ذہنی کشمکش سے بالکل لاپروا آگے بڑھے اور حضور اکرم ﷺ کا نامۂ مبارک اس کے حوالے کیا۔
کیا ہے؟خسرونے پوچھا۔ بتایا گیا عرب میں ایک نبیﷺ معبوث ہوئے انہوں نے آپ کے نام ایک خط بھیجا ہے۔ نبیﷺ! خط!!…ہمارے نام!!!خسرو پرویز کا غصہ برابڑھتا جارہا تھا۔ پوچھا’’کیا لکھا ہے اس میں‘‘! خط پڑھ کر سنایا گیا۔’’ خدائے رحمن ورحیم کے نام سے محمدﷺ پیغمبر کی طرف سے کسریٰ والی ِفارس کے نام … ‘‘یہاں تک خط پڑھا جاسکا تھا کہ خسر و کا چہرہ تمتما اٹھا اور وہ غصے سے کانپنے لگا۔ بولا! ’’شہنشاہ فارس کا نام اپنے نام کے بعد! ہم سے یہ گستاخی! شہنشاہ عجم کی یہ تحقیر! یہ ہمارے دست نگریوں ہمارے منہ آنے لگے‘‘؟ حالانکہ وہ جانتا تھا کہ عرب میں خط کا یہی طریقہ رائج ہے لیکن وہ خدائی خوار تو ادھا ر کھائے بیٹھا تھا کہ کسی طرح مسلمان سفیر کو شکوہ سلطانی کا جلوہ دکھائے۔ بولا بادشاہ یمن کو آج ہی حکم بھیجا جائے کہ ان پیغمبر صاحب کو جنہوں نے ہمیں یہ خط بھیجنے کی جرأت کی ہے فوراً ہمارے دربار میں پیش کیا جائے۔ نامۂ مبارک اپنے ہاتھ میں لے کر چاک کیا اور اس کے پر زے اڑا دئیے ۔ ملائک نے ان پرزوں کو آنکھوں سے لگایا۔
پھر تھوڑے ہی دنوں میں دنیا نے دیکھ لیا کہ پیغام حق کس قدر قوت والا تھا۔ دس برس سے بھی کم عرصے میں اس سلطنت عجم کے پرزے اڑگئے۔ اس کی گستاخی کی قدرت کی طرف سے یہ سزا ملی کہ چند ہی دنوں میں اس کے بیٹے شیرویہ نے اسے تخت سے اتار کر قتل کردیا اور سولہ ہجری میں شان کسریٰ کے اس قلعہ سفید کے فرش کو عبد اللہ بن خذافہؓ کے بھائی بند اپنے پیوند زدہ جوتوں سے روند رہے تھے۔ نہ وہ تخت رہا تھا نہ تاج۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *