توہین رسالتﷺ کی سزا۔۔۔۔عہد رسالتﷺ میں

چندحضرات کی جانب سے دانستہ یا نا دانستہ یہ غلط فہمی پھیلائی جاری ہے کہ حضورﷺ نے رحمۃللعالمین کی صفت کی بناء پر اپنی توہین کر نے والے افراد کے بارے میں ہمیشہ عفوودر گذرسے کام لیا تھا اور قوت و اختیار رکھنے کے بادجود انہیں کوئی سزا نہیں دی، حالانکہ حضورﷺ کی سیرت کے مطالعہ کے دوران اس کے بر عکس صورت تحال سامنے آتی ہے۔
یہ ایک بین حقیقت ہے کہ اپنی بعثت کے بعد خصوصاً حضور ﷺ نے اپنی ساری زندگی اور اس کے جملہ افعال و اقوال کو مکمل طور پر احکام الٰہی کے تابع کردیا تھا، اور اس اعتبار سے ان ﷺ کی تمام حیات بقول حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا،قرآن کریم سے عبارت ہے۔ اپنی مکمل زندگی کے دوران حضورﷺ اللہ تعالی کے اس حکم کے پابند رہے کہ مشرکین مکہ کی تمام سختیوں کے جواب میں صبرو استقامت سے کام لیا جائے چنانچہ دشمنوں کے عام ظلم و ستم اور چیرہ دستیوں کے باوجود آپ ﷺ نے ان کے ساتھ مقابلہ ومقاومت سے گریز کیا کہ حکم خداوندی یہی تھا، تاہم ہجرت کے بعد جب مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آیا، اور دین حق کے غلبہ و شوکت کا سامان ہوگیا، تو خدا وند ذوالجلال نے حضور ﷺ کو کفار کے ساتھ پہلے جنگ کی اجازت(الحج۳۸) اور پھر جنگ کرنے کا حکم صادر فرمایا،یعنی نبی ﷺ پر جنگ فرض قرار دے دی(البقرہ:۱۹۰تا۱۹۳) جس کے بعد حق وباطل کے درمیان پے بہ پے کئی معرکے بپا ہوئے جن میں متعددغزوات شامل ہیں جو حضورﷺ کی زیر کمان کفار کے ساتھ محاربوں کی صورت رونما ہوئے۔ علاوہ ازیں شرانگیز دشمنوں کی سر کوبی کے لیے حضورﷺ نے موقع بہ موقع کئی جنگی مہمیں بھی اطراف و اکناف میں روانہ فرمائیں، جنہیں اصطلاح میں’’سرایا‘‘ کہا جاتا ہے، ان غزوات و سرایا کے ذریعے حضورﷺ نے عین ارشاد خداوندی کی تعمیل میں باطل قوتوں کے ساتھ مسلح کشاکش سے کام لیا‘ تا آنکہ مدینہ منورہ کی نوزائیدہ اسلامی ریاست ایک مستحکم مملکت کی صورت اختیار کرگئی اور اس مملکت میں شرعی قوانین کا یکے بعد دیگر ے نفاذ شروع ہوگیا۔
اس لحاظ سے جب بھی کسی مسلمان معاشرے کو اپنے خطہ زمین پر ایک آزاد مملکت کی نعمت حاصل ہوگی تو اپنے ہاں شرعی قوانین کی تشکیل کے لیے اسے لامحالہ حضورﷺ کی مدنی زندگی کو ماڈل بنانا ہوگا۔ جب اسلام ایک مقتد ریاست (SovereignState) کی حیثیت پاگیا تھا، نہ کہ مکی زندگی کو جب اسلام محض دعوتی اور تبلیغی دور سے گزر رہا تھا اور اس نے ابھی سیاسی اقتدار حاصل نہیں کیا تھا۔ آئیے اب یہ دیکھیں کہ اپنی مدنی زندگی کے دوران حضور ﷺ نے بحیثیت قانون ساز اور سر بر اہ مملکت توہین رسالتﷺ کے مجرموں کے ساتھ کیا سلوک کیا اور انہیں کیا سزا دی؟
اس سلسلہ میں سیرت نبویﷺ کی کتابوں کے سر سری مطالعہ سے جو نظائر سامنے آتے ہیں ان کا مختصر تذ کرہ ذیل میں کیا جارہا ہے:
پہلا واقعہ یا نظیر کا تعلق ۲ھ ؁ سے ہے یعنی ہجرت کے صرف ایک سال بعد کے زمانہ سے جب حضورﷺ کو غزوۂ بدر کی شکل میں حق و باطل کا اولین معر کہ پیش آیا اور آپﷺ نے اس میں بفضلہ تعالی شاندار فتح پائی۔ اس موقع پر حضور ﷺ کی سربرا ہی میں ایک آزاد مملکت کے قیام کا امکا ن روز روشن کی طرح واضح ہوگیا تھا۔
بدر سے فتح مندانہ مدینہ منورہ لوٹتے ہوئے جب حضورﷺ اثنائے سفر میں وادی صفرا کے درے سے باہر نکلے تو آپﷺ کو لشکر اسلامی کے ہمراہ آنے والے مشرک اسیران جنگ میں ایک شخص نصر بن حارث نظر آیا‘ جو حضورﷺ کو ان کی مکی زندگی کے دوران توہین وایذارسانی کا نشانہ بنایا کرتا تھا،حضورﷺ کے حکم پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس شخص کو فوراً قتل کردیا۔
اس کے بعد اسی سفر کے دوران آپﷺ جب عرق النطیبہ پہنچے تو حضور ﷺ نے انہی اسیران جنگ میں ایک اورشخص عقبہ بن ابی محیط کو دیکھا، جس نے ایک مرتبہ مکہ معظّمہ میں حضور ﷺ پر حالت نماز میں اونٹ کی اوجھ ڈال دی تھی، نیز ایک اور مرتبہ حرم کعبہ میں حضور ﷺ کی گردن کے گرد کپڑا کس کر انہیں ایذا پہنچائی تھی، حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے حضور ﷺ کے ارشاد کی تعمیل میں اس شخص کی بھی گردن ماردی۔
اس سے اگلے سال یعنی ۳ھ؁ میں توہین رسالتﷺ کے چار مجرموں کو یکے بعد دیگرے قتل کی سزادی گئی عقمانامی ایک یہودی شاعرہ جو حضورﷺ کی شان مبارک میں ہجویہ شعر کہا کرتی تھی، ایک نابینا صحابی عمیر بن عدیؓ کے ہاتھوں قتل ہوئی، جنہیں بعد میں حضورﷺ نے بطور تحسین’’بینا‘‘ اور’’ بصیر‘‘ کا خطاب دیا ، ابو عفک نامی ایک اور شاعر جو حضور ﷺ کے بارے میں درید ہ ذہنی سے کام لیتا تھا، حضورﷺ ہی کے حکم سے ایک بدری صحابی سالم بن عمرؓ کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اترا۔
قتل کی سزا کا اگلا نشانہ کعب بن اشرف بنا، جو شاعر ہونے کے علاوہ بڑا مال دار یہودی تھا اور اطراف مدینہ میں ایک مضبوط اور شاندار قلعہ کا مالک تھا، اپنی دولت مندی اور خاندانی وجاہت پر گھمنڈ کے باعث وہ حضورﷺ کی ذات اقدس کے بارے میں نہایت جارحانہ بدزبانی کیا کرتا تھا، اسے آنحضورﷺ کے خصوصی حکم کے تحت ایک صحابی حضرت ابو فائلہؓ نے اپنے چند رفقاء کے ساتھ اس کے قلعہ میں جاکر قتل کیا۔
کعب بن اشرف کے واقعہ قتل نے عہد رسالتﷺ میں شاتمان رسولﷺ کے تذکرے میں بہت شہرت پائی ہے چنانچہ اکثر سیرت نگاروں نے اپنی تالیفات میں اس واقعہ کو بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ادھر مدینہ منورہ کے مضافات میں اب بھی کعب بن اشرف کے قلعہ کے آثار موجود ہیں۔۱۹۸۵ئ؁ میں جب میں سفر حج کی سعادت سے سر فراز ہوا تو ایک واقف کار رفیق کے ہمراہ مجھے بھی اس قلعہ کے آثار دیکھنے کا موقع ملا تھا، پتھریلے نشیب و فراز پر مشتمل یہ ایک لق و دق مقام تھا، جس کے چاروں طرف اب بھی وحشت برس رہی تھی۔
اسلام دشمنی اور حضورﷺ کی توہین میں کعب بن اشرف کا مددگار ایک اور نہایت امیر تاجر ابورافع بھی تھا، جو خیبر میں واقع اپنی گڑھی میں رہتا تھا، یہ بھی حضورﷺ کے ایما سے ایک صحابی حضرت عبداللہؓ کے ہاتھوں اپنی خوابگاہ میں موت سے ہمکنار ہوا۔
اسی سال غزوہ ٔاحد سے واپسی کے سفر کے دوران حضور کی نظروں میں ایک شخص ابو عزہ جمعی آیا، جو اپنے اشعار کے ذریعہ نبیﷺ کے خلاف لوگوں کے جذبات بر انگیختہ کیا کرتا تھا،گرفتاری کے بعد آنحضورﷺ کے حکم کی تعمیل میں حضرت عاصم بن ثابت ؓ نے اس کوتہ تیغ کردیا۔ فتح مکہ کے موقع پر جب حضور ﷺ نے کفار و مشرکین کے لیے عفو عام کا اعلان کیا تو اس کے ساتھ ہی چند(بااختلاف روایات۹تا۱۶) اشخاص کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ عفوعام سے مستثنی ہیں،لہٰذا یہ جہاں بھی ملیں، انہیں قتل کردیا جائے خواہ وہ غلاف کعبہ ہی سے لپٹے ہوئے کیوں نہ ہوں ‘ان واجب القتل افراد میں ابن خطل کی دو ہجو گولونڈیاں ارتب اور ام سعد،نیز مشہور ہجو گوشاعرحارث بن طلال بھی تھا، جسے نبیﷺ کے حکم کے مطابق حضرت علیؓ نے قتل کردیا ۔
جناب محمد اسما عیل قریشی سینیئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنی محققانہ اور عالمانہ تصنیف ’’ناموس رسول ﷺ اور قانون توہین رسالتﷺ میں امام بخاریؒ کے جلیل القدر استاد حضرت عبدالرزاق بن ہمامؒ کے دوسری صدی ہجری میں مرتبہ مجموعہ احادیث’’المتصنف‘‘ کے باب ’’سب النبیﷺ ‘‘نیزسنن ابی داؤد اور قاضی عیاضؓ کی کتاب’’الشفائ‘‘ کے حوالہ سے آٹھ ایسے اشخاص کا ذکر کیا ہے ، جو حضور ﷺ کی توہین کے جرم میں خود حضور ﷺ ہی کے حکم کے مطابق واجب القتل قرار پائے۔
جیسا کہ میں نے ابتدا میں عرض کیا تھا، توہین رسالتﷺ کے جرم میں خود رسالت ماّب ﷺ کی زبان مبارک سے مستوجب قتل قراردئیے جانے والے افراد کی یہ کم و بیش ڈیڑھ درجن مثالیں ایسی ہیں، جو کتب سیرت کے سر سری مطالعہ سے نظروں کے سامنے آجاتی ہیں۔ اگر اہل علم مزید گہرائی سے کتب سیرت وا حادیث کا جائزہ لیں تو عین ممکن ہے ان مثالوں کی تعداد میں اضافہ ہوجائے، تاہم جیسا کہ معلوم ہے کہ کسی قانون کے تائیدی نظائر کی تعداد اجرائے سزا کے معاملہ میں اضافی اہمیت رکھتی ہے، اصل اہمیت کسی قانون کے و جود اور آئینی جواز کی ہے۔ حضورﷺ اللہ تعالی کے بعد اہل ایمان کے نزدیک شرعی آئین و قوانین کا دوسرا مسلمہ ماخذ ہیں۔ اگر حضور ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں توہین رسالت ﷺ کے کسی ایک مجرم کو بھی سزا ئے موت دی ہوتی تب بھی یہ تنہا نظیرامت مسلمہ کے لیے ایک واجب التعمیل قانون کی حیثیت رکھتی تھی، چہ جائیکہ اس معاملہ میں تقریباً ڈیڑھ درجن نظائر صفحۂ تاریخ پر موجود ہوں۔ اب ان نظائر کی موجودگی میں اگر کوئی شخص یہ دعوی کرتا ہے کہ اپنی توہین کرنے والے کسی شخص کو حضور ﷺ نے اپنی مبارک زندگی کے دوران کوئی سزا نہیں دی تو صاف ظاہر ہے کہ اس کا دعویٰ یا تو سراسر لاعلمی پر مبنی ہے یا پھر دیگر محرکات پر،جس کا علم خدائے علیم وخبیر ہی کو ہوسکتا ہے۔
جہاں تک حضور ﷺ کے’’رحمۃ للعالمین‘‘ ہونے کا تعلق ہے، تو ہر شخص جانتا ہے کہ حضور ﷺ کو یہ منفرد ویگا نہ خطاب، آنحضور ﷺ کے کسی عقیدت مند یا ان کی امت کے کسی عالم یا دانشور نے نہیں دیا، بلکہ قرآن مجید کے مطابق یہ خطاب براہ راست خدائے بزرگ و برتر کاعطا کردہ ہے، جس نے انہیں بطور خاتم النبیین مبعوث فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ خطاب مرحمت فرمانے کے بعد اگر حضور ﷺ کو اپنی قائم کردہ اسلامی ریاست کی خارجہ پالیسی میں فتنہ پرور کفار و مشرکین کے ساتھ مسلح جہادو قتال کا حکم دیا اور اپنی داخلی پالیسی میں معاشرتی جرائم کی سزا میں حدو دکی صورت میں سزائے موت اور تعزیر کی صورت میں قید و بند کے نفاذ کا فرمان جاری کیا تو ایسے تمام احکامات کو حضور ﷺ کی صفت رحمۃ للعالمین کا ایک حصہ قرار دیا جائے گا۔ کسی بھی ہلاکت خیز مخلوق پر، خواہ وہ انسان کی نوع سے ہویا درندوں اور زہر یلے کیڑے مکوڑوں کی صورت میں، ترس کھانا یا اس سے چشم پوشی کرنا اس کی ہلاکت آفرینی کے عمل میں ممدو معاون بننے کے مترادف ہے، جسے ظلم ہی کہا جاسکتا ہے۔ اس کے برعکس جرم و سزا کا وہ نظام جو نبی نوع انسان کو خوداس کے مفسدہ پر دازابنائے نوع کے ظلم و جورا ور ایذا رسانی سے محفوظ کرنے کے لیے وجود میں آئے دراصل رحمت ہی کا دوسرا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انفرادی اور اجتماعی دونوں قسم کے جرائم کی سزا پر مبنی عدل کے تصور سے مہذب دنیا کا کوئی فلسفۂ قانون خالی نظر نہیں آتا۔
حضور ﷺ کی توہین کا ارتکاب اس قبیل کا ایک سنگین جرم ہے، جو معاشرہ میں زبردست فتنہ فساد پیدا کرنے کی نوبت لاسکتا ہے۔ یہ جرم امن و سلامتی کے اس نظام کو منہدم کرنے کی کوشش کے مترادف ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اسلام کے نام سے بواسطہ حضور ﷺ بنی نوع انسان کے لیے پسند فرمایا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد کیا کہ ’’قتل اگر چہ براہے لیکن فتنہ اس سے زیادہ برا ہے‘‘۔ (البقرہ) حضور ﷺ کی رسالت سے اگر کوئی شخص انکار کرے تو ایسے منکر سے کوئی شرعی قانون تعرض نہیں کرتا، لیکن اگر کوئی شخص آنحضور ﷺ کی توہین کا مرتکب ہوا تو اس کا واضح مقصدحضورﷺ کے منصب نبوت اور اس منصب پر انہیں مامور کرنے والے رب عزوجل کی توہین ہوگا، یہ توہین، منکر کی بجائے ایسے شخص کو باغی کے مقام تک پہنچادیتی ہے۔ ظاہر ہے کہ دنیا کے کسی معاشرہ یا ریاست کو کسی باغی کا وجود گوارا نہیں ہوسکتا، جو اس کی سلامتی اور عافیت کے درپے ہو، ایسی صورت میں معاشرہ و ریاست کی سلامتی و عافیت کا تقاضا یہی ہوگا کہ اس کے وجود پر حملہ آور ہونے والے شخص کو صفحہ ہستی سے مٹادیا جائے۔ اسی بناء پر حضور ﷺ نے اپنی اہانت کے مرتکب اشخاص کو قتل کرنے کا حکم دیا اور پھر اس جرم کی سزا کی متعدد نظائر عملی طور پر قائم کرکے اپنی امت کو تا قیامت اس جرم کے کما حقہ‘استیصال پر مامور کردیا۔ اس اعتبار سے علوم و معارف کے بے مثال گنجینہ مجددالاسلام، امام ابن تیمیہؒ کے اس قول کی صداقت میں کوئی کلام نہیں کیا جاسکتا کہ’’اگر شاتم رسولﷺ کے قتل کے جواز کے باوجودا سے قتل نہ کیا جائے تو یہ صریحاً حددرجہ کی رسوائی اور تحقیر وتذلیل کی بات ہے۔ ‘‘ ادھر امام مالکؒ کا یہ قول اس موضوع پر حرف آخر ہے کہ ’’امت کو زندہ رہنے کا کیا حق ہے‘ جب اس کے رسولﷺ کو گالیاں دی جائیں۔‘‘

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *