توہین رسالتﷺ

رسول اللہ ﷺ کی تقدیس کے متعلق مسلمانوں کے جذبات کا صحیح اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ آپ کی شان میں گستاخی کرنے والے کے لیے اسلام میں قتل کی سزا ہے اور آپ کو گالی دینے والے کا خون مباح قرار دیا گیا ہے۔نسائی میں کئی طریقوں سے ابو برزہ الاسلمی کی یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ:’’حضرت ابو بکر صدیق ؓ ایک شخص پر ناراض ہو رہے تھے ۔میں نے عرض کیا کہ کیا میں اس کی گردن مار وں؟یہ سنتے ہی آپ کا غصہ دور ہو گیا اور آپ نے جھڑک کر مجھے فرمایا :’’ما ھذا لا حد بعد رسول اللہ ‘‘یعنی رسول اللہ ﷺ کے بعد یہ کسی کادرجہ نہیں کہ اس کی گستاخی کرنے والے کو قتل کی سزا دی جائے۔
ایک دوسری حدیث میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ مدینہ میں ایک اندھے مسلمان کی لونڈی نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کی اور اس مسلمان نے تکلے سے اس کا پیٹ چاک کر دیا ۔دوسرے دن جب اس کے مارے جانے کی خبر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچی تو آپ ؐ نے فرمایا ـ: ’’کہ جس نے یہ کام کیا ہے اس کو میں خدا کی قسم دے کر یہ کہتا ہوں کہ اٹھ کھڑا ہو۔یہ سن کر وہ اندھا گرتا پڑتا آیا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ فعل میں نے کیا ہے ۔وہ میری لونڈی تھی ،مجھ پر مہربان تھی،مگر آپ کی شان میں بہت بد گوئی کرتی تھی، میں اسے منع کرتا تھا تو نہںمانتی تھی ۔میں ڈانٹتا تو اس پر کوئی اثر نہ ہوتا ۔کل رات پھر ا س نے آپ کو بر اکہا ۔اس پر میں اٹھا اور تکلا چبھو کر اس کا پیٹ پھاڑ دیا ۔یہ سن کر حضور ﷺ نے فرمایا:سب لوگ گواہ رہیں کہ اس کے خون کی کوئی قیمت نہیں ہے۔
اسی طرح بخاری شریف میں کتاب المغازی میں کعب بن اشرف کے قتل کا واقعہ موجود ہے کہ وہ رسول اللہ کی ہجو کرکے اور قریش کو آپ کے خلاف بھڑکا کر آپ ؐکو ایذا دیتا تھا ،اس لیے آپ ؐ نے محمدؓ بن مسلمہ کے ہاتھوں اسے قتل کروا دیا۔ابی داؤد میں کعب بن اشرف کے قتل کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ :’’وہ نبی ﷺ کی ہجو کرتا تھا اور کفار قریش کو آپ کے خلاف جوش دلاتا تھا‘‘۔
قسطلانی میںبخاری کی مذکورہ حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ:’’وہ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتا تھا۔اس طرح کہ رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوںکی ہجو کرتا تھا اور قریش کو ان کے خلاف بھڑکاتا تھا‘‘۔
ابن سعد نے بھی اس کے قتل کی یہی وجہ بیان کی ہے:’’وہ ایک شاعر تھا ۔نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب کی ہجو کرتا تھا اور ان کے خلاف لوگوں کے جذبات کو بھڑکاتا تھاــ‘‘۔
کتب فقہ میں اس کے متعلق صریح احکام موجود ہیں ا سکے بعد مولانا مودوی ،علامہ شامی اورشیخ الاسلام احمد ابن تیمیہ کے فتاویٰ اور اقوال کا حوالہ دے کر لکھتے ہیں :’’پس جزئیات میں فقہاکے درمیان خواہ کتنا ہی اختلاف ہو ،مگر رسول اللہ ﷺ کی اس عظمت میں حنفی،مالکی،شافعی،حنبلی سب کا اتفاق ہے۔آپ ؐ کو گالی دینے والا واجب القتل ہے ۔اس سے صحیح اندازہ کیا جا کستا ہے کہ اسلام میں داعی اسلامﷺ کی حرمت وعزت کے متعلق کیا احکام ہیں ۔ اس بارے میں مسلمانوں کا مذہب ان کو کیاتعلیم دیتا ہے ۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *