توہین رسالت اور ملت اسلامیہ کی ذمہ داری

شیطانی فلم کے خلاف امریکی حکمرانوں اور ترجمانوں نے انتہائی گستا خانہ طنز آمیز بیانات جاری کر کے اپنی شیطنت پر پردہ ڈالنا چاہا ہے ۔اور انہیں کی لے میں ہمارے کچھ علمائ، نام نہاد دانشور اور اردو میڈیا کے بعض حضرات بھی لے ملا رہے ہیں ۔ایک گھر یا ایک ادارہ کے آپ ذمہ دار ہیں ،آپ کے کا ر کنوں میں سے ایک رکن خلافِ قانون یا خلافِ تہذیب حرکت کرتا ہے مثلاً ایک راہ گیر کے پتھر مار دیتا ہے ۔وہ آپ کے پاس شکایت کے لیے آتا ہے ۔آپ کہتے ہیں ،مجھے افسوس ہے میں آپ کے دکھ پر افسوس کرتا ہوں ۔وہ کہتا ہے کہ اپنے ملازم کو سزا دیجئے ۔وہ آئندہ سے ایسا نہ کرے ۔آپ کہتے یہ نہیں ہو سکتا ۔یہ تو اس کی آزادی پر پابندی لگانے والی بات ہے۔ ہماری تہذیب میں ایسا نہیں ہوتا ۔بتایئے ایسے میں شکایت کرنے والا فرد کیا کرے گا ؟ہمارے نام نہاد دانشوران نے جملہ رٹ لیا ہے ’’یہ تو ان کی سازش ہے،وہ اشتعال دلانا چاہتے ہیں ۔ہماری امیج خراب کرنا چاہتے ہیں ۔دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ مسلمان خونخوار ہیں دہشت گرد ہیں ۔ہمیں صبر وضبط و حکمت اور ہوش سے کام لیناچاہئے‘‘۔ حالانکہ امریکی حکمرانوں نے اپنے بیانات سے اپنی نیت صاف کردی ہے ۔یورپ کے بڑے مسلم آبادی والے ملک فرانس میں کارٹون کی اشاعت اور حکومتی سطح پر اس کی حمایت اور احتجاج پر پابندی کے ذریعے اپنا عندیہ واضح کر دیا ہے کہ وہ آئندہ بھی اس طرح کی مذموم حرکتیں جاری رکھنے پر پابندی نہیں لگائیں گے ۔اس مسئلہ پر خاص طور پر اقوام متحدہ میں اوبامہ اور اس کے نمائندہ الان چیمبر لن Alien Cchamberlainنے جلے ہوئے پر نمک چھڑکتے ہوئے کہا کہ’’ ہمیں افسوس ہے مگر ہم دنیا میں ہر جگہ انسانی حقوق اور حق اظہارِ رائے کی حفاظت کریں گے۔‘‘اور اس طرح طنز بھی کیا کہ جہاں اظہارے رائے کی آزادی نہیں ہے وہیں تشدد ،غریبی اور انتہا پسندی پائی جاتی ہے ۔میں اپنے دانشور علماء اور بزرگان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ مندرجہ بالا بیان پڑھ کر انصاف سے بتائیں کہ اس میں افسوس کا اظہار ہے یا اپنی جہالت اورشرارت پر اصرار اور ملت اسلامیہ پر طنز ہے۔ یہ مغربی بھیڑیئے کتنے جمہوریت پسند ،انسانی حقوق کے دلدادہ اور حق اظہارے رائے کے حمایتی ہیں ،اس پر الجیریا سے لے کر ہندوستان تک کروڑوں بے گناہوں کا خون اور صدیوں کی غلامی گواہ ہے ۔ان کی جمہوریت نے کتنی جمہوریتوں کا گلا گھونٹا ہے اور آج بھی گلا گھونٹ رہے ہیں۔ ساری دنیا میں مسلمانوں کے احتجاج میں چارامریکی ہلاک ہوگئے تو سارا میڈیا آسمان سرپر اٹھائے ہوئے ہے۔مگر عراق پر بش کے اقوام متحدہ کی اجازت کے بغیر کئے گئے حملے میں پانچ لاکھ سے زیادہ بچے ،بوڑھے، خواتین شہید کئے گئے تب میڈیا چپ رہا ؟ جو میڈیا اور مسلم دانش ور اس وقت چپ بیٹھے رہے جب گوانتانا موبے اور ابو غریب میں امریکی حکومت کی مرضی سے قرآن پاک کی بے حرمتی کو ایک تعذیبی ہتھکنڈہ Torture Toolکی طرح بار بار استعمال کیا گیا ؛قرآن کو جوتوں کی ٹھوکریں ماری گئیں اور اسے فلش بھی کیا گیا تاکہ قیدی برداشت نہ کر کے اپنے راز اگل دیں ؛یہ سب ریکارڈ میں محفوظ ہے ۔وکی لیکس میں بھی محفوظ ہے ۔گردنوں میں پٹہ ڈالکر خبیث امریکی خاتو ن فوجی کی فوٹو لوگوں کو ابھی بھی یاد ہے۔ اس وقت یہ واعظین اور صبر و حکمت کی تلقین کرنے والے کہاں تھے؟ مسلمانوں کو گردن جھکا کر جینے اور شعائر اسلام اور پیغمبر آخر الزماں ﷺ کی کردار کشی پر مظاہرہ کرنے والوں کو جذباتی ،بیوقوف اور صبر و حکمت سے عاری بتانے والے کہا ںتھے؟ اور ابھی یہ رکا کہاں ہے ۔ پچھلے ہی دنوں افغانستان میں قرآن سوزی امریکی فوجیوں کے ذریعہ کی گئی ۔اس پر دنیا میں کوئی ہنگامہ نہیں ہوا ۔افغانستان سمیت دنیا نے مسلمانوں کو کیا تمغے عطا کر دیے۔کتنے غیر مسلم اسلام لے آئے کہ مسلمانوں نے بڑ ے اونچے اخلاق کا مظاہرہ کیا اور قرآن سوزی کے واقعات کے باوجود آرام سے قورمہ ،نہاری کھا تے رہے اور T-20کا مزہ لیتے رہے!!
علم و حکمت کے ٹھیکیداروں سے سوال یہ ہے کہ ۵۶ ملکوں اور ڈیڑھ ارب آبادی والی امت مسلمہ پر شعائر اسلام کی بے حرمتی ہونے پر کوئی شرعی ذمہ داری حکومتی اور اجتماعی سطح پر عائد بھی ہوتی ہے یا نہیں ؟جس طرح امریکہ عافیہ صدیقی ،خالد شیخ ،ابو حمزہ مصری کو زبردستی اغوا کر کے قانوناً ملک بدر کر ا لیتا ہے،یہ ۵۶ مسلم ملک ایسا کیوں نہیں کرتے ؟اگر یہ ایسا نہیں کرتے تب ملت میں مایوسی ،بے مائیگی اور انتشار پھیلتا ہے۔جب اجتماعیت کے سربراہ مجرمانہ خاموشی یا د کھاوے والی کارروائیاں کر کے عوام کو بے وقوف بنانا چاہتے ہیں ،تب عوام اپنے طور پر فیصلہ کرتی ہے ۔خواص اور نام نہاد دانشوروں اور صحافیوں کے امریکی دوروں اور مدرسوں اور جامعہ ملیہ و مسلم یو نیورسٹی اور اسلامک کلچر سینٹر دہلی وغیرہ میں امریکی سفارت کاروں کی بار بار کی آمد اور نوازشوں کے طفیل عراق پر امریکی حملہ کے بعد سے لگا تار مسلم قائدین اور اردو صحافت میں ایمانی بے حسی بڑھی ہے۔گو کہ اس کے عنوانات بہت خوشنما صبر ،حکمت ،ہوش مندی وغیرہ کے ہی ہیں ۔اگر یہ مغرب کی سازش کا ایک پہلو ہو سکتا ہے کہ وہ ہمیں چھیڑ کر اس کے رد عمل کے ذریعہ ہماری منفی تصویر دکھانا چاہتا ہے تو کیا ایک پہلو یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ دھیرے گ دھیرے ملت کے اندر سے ایمانی غیرت ،حمیت ،حس اور اللہ اور رسول ،قرآن ،کعبہ کی بے توقیری کا ماحول پیدا کردے۔آج رسول اللہ ﷺ کا کارٹون اور کردار کشی پر ہم چپ رہیں تو خدا نخواستہ جب کل کعبہ مشرفہ پر حملہ ہو جیسا کہ امریکی فوج کے تربیتی اسکول میں حال تک تربیت کی جاتی رہی ہے تو اس وقت بھی کچھ ’’جذباتی ،بے صبروں اور بے وقوفوں ‘‘کے علاوہ ساری امت ’صبر ‘حکمت ،اور دانائی ‘کے ساتھ( انا ھھنا قاعدون)’’ہم تو بیٹھے رہنے والوں میں سے ہیں ‘‘کا ورد کرتی رہے گی ۔تو کیا اللہ تعالیٰ کے حضور بھی یہ پوری ملت ،حکومتیں ،اجتماعیتیں اور علماو دانشور جوا بد ہی کر پائیں گے؟
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی غزوات میں صحابہ کرام میںسے بعض سے ڈسپلن کی خلاف ورزی یا اجتہادی غلطیاں و غیرہ سرزد ہوئیں ہیں ۔ مثلاًایک مقابل کو کلمہ پڑھنے کے باوجود قتل کر دیا کہ جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھ رہا ہے تو حضور ﷺ نے افسوس بھی کیا ۔صحابی رضی اللہ عنہ کو بھر پورپھٹکار لگائی مگر کیا آئندہ ایسا پھر نہ ہو جانے کے اندیشہ سے جہاد کو ہی ختم کر دیا کہ بس اب صرف دعوت اور تبلیغ ہوگی؟دنیا بھر کے احتجاج میں جو بھی غیر قانونی حرکتیں اور نقصانات مسلمانوں نے کئے اس کا قانونی اور مالیاتی جرمانہ،سزا اور تاوان کی شکل میں متاثر ین کو دیا جانا چاہئے۔مگر مغرب سے بھی حساب چکانا ضروری ہے ۔اس نے مسلم دنیا میں جو لوٹ مار کی ہے ،عراق سے جو تیل چرایا ہے ،جو لاکھوں بے گناہ شہید کئے گئے ہیں ۴۵ سالوں سے لاکھوں فلسطینی مہاجرین کی زندگی گزار رہیں ہیں ،خود امریکی حکومت کے اعتراف کے مطابق ڈرون حملوں میں ہزاروں بے گناہ بچے، عورتیں متوازی نقصان Collateral damageکے طور پرمارے گئے ہیں ان سب کا جرمانہ بھی لیا جانا ضروری ہے۔ان کا یاد دلایا جانا بھی ضروری ہے ۔مغرب کے ان بے شرم قائدوں اور ان کے مشرقی غلاموں کو جمہوریت کی دہائی دیتے ہوئے شرم نہیں آتی کہ الجیریا میں جمہوریت کا گلا گھونٹے کی وجہ سے ابتک ۲۵ لاکھ انسانی جانیں ملٹری اور عوام کی ضائع ہو گئیں ۔کیونکہ امریکہ اسلام پسند اسلامک سالوشن فرنٹ کو الیکشن میں منتخب ہو کر اقتدار میں آنے نہیں دینا چاہتا تھا اور آج ۲۰ سال سے قتل و خون جاری ہے ۔یہ سوال اوبامہ اور اس کے غلاموں سے کون پوچھے گا جو مسلمانوں کو انسانی حقوق کے عدم تحفظ اور تشدد کے فروغ کا طعنہ دیتا ہے۔ آج فلسطین میں حماس کی جمہوری جیت کے خلاف الفتح کو مغرب کیوں حمایت دے رہا ہے ۔یہ کس جمہوریت کا اصول ہے ؟ آل سعودکی عرب کی بادشاہی کی طرف سے آنکھیں کیوں بند رکھی جا رہی ہیں ۔بادشاہی اور جمہوریت میں کیا تعلق ہے ؟
آزادی اظہارِ رائے کی حقیقت سب کو معلوم ہے کہ یہودیوں کو بدنام کرنا جرم ہے ۔لند ن کے مئیر کین لیو نگسٹن کو عہدہ سے ہاتھ دھونا پڑا ۔تاریخ داں ارون کو جیل ہوگئی۔احمدی نژاد کے خلاف میڈیا میں طوفان کھڑا کیا گیا ،برٹش شہزادی کے بر ہنہ فوٹو کو حضوڑ ﷺ کے کارٹون کے اگلے دن کورٹ کے آرڈر سے شائع نہیں ہونے دیا اور امریکہ اور یورپ میں سیکیورٹی کے نام پر انسانی حقوق کی دھجیا ں اڑائی جا رہی ہیں ۔ہوائی اڈوں پر اسکینگ سے لیکر ننگی تلاشیاں لینے والے ، ہر مسجد میں FBIکے مخبر گھسیڑنے، ہر امریکی کی E Mail اور فیس بک پر نظر رکھنے والے کس منھ سے انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں ۔ضرورت ہے اس منافقت کو برہنہ کر کے سامنے لانے کی۔
ان کے انصاف کے پیمانے بھی ملاحظہ ہوں ۔پادری ٹیری جونز قرآن پاک کو جلا کر بے حرمتی کرتا ہے ۔ اسے ایک دن کی سزا یہ مکار حکومت دیتی ہے ۔کیا دنیا میں ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے حقوق کی قیمت ان ظالموں نے اتنی ہی لگائی ہے؟ اس سے چھوٹے چھوٹے جرائم میں مسلم علماء عمر قیدوتنہائی کی سزا کاٹ رہے ہیں ۔گذشتہ روزہی ایک امریکی عدالت نے 9/11کے مشکوک پر اسرار واقعہ کے لئے القاعدہ اور ایران پر ۶ ارب ڈالر کا جرمانہ صرف ۴۵ متا ثرین کے خاندانوں کے لیے کیا ہے ؟مگر عراق پر غیر قانونی امریکی حملہ کے ۴۵ لاکھ متا ثرین لوگوں سے الٹا ان کا پیٹرول بطور خرچہ وصول کیا جا رہا ہے ؟
یہ ہے اس انسانی حقوق اور آزادی اظہارے رائے کی حقیقت جس کا شور مچا کر ذہنی خباثت اور مذہبی دشمنی کو روبعمل لا یا جا رہا ہے ۔ اقوام متحدہ ماحولیات کے خلاف ،نشہ آور ادویہ کے خلاف ،بچہ مزدوری کے خلاف، سر پر غلاظت ڈھونے کے خلاف، تمباکو نوشی کے خلاف قوانین بناتی ہے مگر اہانت دین کے قانون کو یہ ظالم مغربی ممالک پاس نہیں ہونے دیتے کہ اس کا غلط استعمال ہوگا ۔غلط استعمال تو دنیا کے ہر قانون کا ہو رہا ہے ۔سیکورٹی کے قوانین ہوں ،جہیز کے خلاف قوانین ہوںیا زنا یا خواتین کے خلاف دست درازی کے قوانین ہوں مگر اس کے باوجود یہ قوانین جاری وساری ہیں ۔دہشت گردی کے خلاف خصوصی قوانین کی زد میں ہندوستان سمیت دنیا بھر میں ہزاروں بے گناہوں کی جو جوانیاں برباد کردی گئیں اور گھر اجاڑ دئے گئے مگر قوانین زندہ ہیں ۔کیونکہ ممالک کے تحفظ کا سوال ہے ۔اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ اہل ایمان کے لیے اللہ اور رسولﷺ ،قرآن ،کعبہ عزیز ہے۔وہ ان کی بے ادبی پر تمام قانونی کارروائیاں کریگی چاہے دشمنان دین کو کتنا ہی ناگوار گذرے ۔جس جس طرح کی کارروائیاں اہل مغرب دین اسلام کے خلاف کر رہے ہیں وہ علمی نوعیت کی ہیں ہی نہیں کہ ان کا علمی جواب دیا جائے ۔وہ سب کے سب ہتک اور توہین کے زمرہ میں آتی ہیں ۔امت مسلمہ کے لیے فی الوقت ترجیحات میں سب سے ضروری کا موں میں الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کو وجود میں لانے کا ہے ۔کروڑوں روپیہ کے کانفرنس ،سیمنار،اجتماعات ،امریکہ ،برطانیہ کے تبلیغی دوروں کے ساتھ ساتھ صبر، حکمت ،طویل المدتی پالیسی کے تحت اپنا میڈیا کیوں نہیں کھڑا کیا جاتا ؟غیر مسلموں نے E-TVاور Salam Z-شروع کر دیا اور ہمارے دانشور بھی انہیں کے بھروسے بیٹھے رہتے ہیں ۔جو حضرات بڑی حکمت و دانائی کی باتیں کررہے ہیں وہ ایمانداری کے ساتھ بتا سکتے ہیں کہ احتجاج یا مظاہرہ کے بجائے کتنے غیر مسلموں تک نبی رحمت ﷺ کی سیرت سے متعلق مواد پہنچا سکے ؟اب تک طویل المدتی پالیسی کے تحت وہ کتنے غیر مسلموں تک اب تک دعوتی ربط کر پائے؟
آج وطن پرستی کے نام پر اس کی حفاظت کے لیے اس کے پرچم ،قومی نشان ، قومی ترانہ ،قومی جانور تک کی بے عزتی پر سزا ہوتی ہے ۔اور ہمارے دانشور ہمیں بتا رہے ہیں کہ رحمۃ اللعالمین کی بے حرمتی کی سزا قرآن میں بیان ہی نہیں ہوئی ہے ۔جب کی قرآن تو رسول اللہ ﷺ کی آواز سے آواز بلند کرنے پر سارے اعمال غارت ہونے کی خوفناک تنبیہ کرتا ہے ۔اور ہم رسول ﷺ کی کردار کشی کو بھی ماں کے دودھ کی طرح پی جانے پر آمادہ کئے جا رہے ہیں ۔کیا خود حضور ﷺ نے شاتم رسول کعب بن اشرف کے خلاف کاروائی نہیں کرا ئی تھی؟ جھوٹے داعیان نبوت میں سے ایک خاتون بھی تھی ، اس کے خلاف مسلح کا رروائی نہیں کی تھی ؟یہ کام عوام نے نہیں کئے تھے مگر حکومتیں کیوں نہیں کرتیں ؟ جمہوریت کس چڑیا کا نام ہے ۔اگر عوام اپنے جذبات کا بھی اظہار نہیں کر سکتی ؟قیامت کے دن اللہ دلوں کے راز کھول کر سب سے حساب لے گا اس حساب سے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیشی کا خیال کرکے اپنے خیال کا اظہار کرنا چاہئے ۔حالات کا جبرغلط رجحانات و خیالا ت کے اشاعت کا سبب بن جائے اس بد نصیبی سے پناہ مانگنی چا ہئے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *