’’دلیل کی قوت ‘‘ہی تو رسالت محمدی ﷺ کا اصل امتیاز ہے!

اسلام کی ’تلوار ‘کو موضوع بنانے والے عیسائیوں کے لیے یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ وہ پہلا عیسائی جو نبی آخر الزماں ؐ پر ایمان لایا ،وقت کا ایک مقتدر بادشاہ تھا اور وہ بھی جب مکہ میں اس نبی پر ستم کے پہاڑ توڑ دئے گئے تھے اور جب اس کے پیرو کاروں کو اپنی قوم کے ظلم سے چھپنے کے لیے پورے ملک میں کہیں جگہ نہ ملتی تھی ۔تب ان میں سے کئی ایک پناہ گیر ہوکر اس نصرانی بادشاہ کے ملک میں چلے گئے تھے۔ان کی قوم ان کا پیچھا کرتی ہوئی بحر قلزوم پار کر کے اس ملک تک گئی اور بادشاہ سے ان کی حوالگی کا مطالبہ کیا ۔تب بادشاہ نے ان پناہ گیروں کو طلب کیا ،جن سے قرآن سن کر بادشاہ کی کایا پلٹ گئی ،سورۂ مریم میں خدا کی کبریائی اور مسیح علیہ السلام کی عبدیت کا ذکر سن کر اس کی آنکھیں نمناک ہو گئیں اور یہ بادشاہ مکہ کے ان پناہ گیروں کو ان کی ظالم قوم کو واپس دینے کے بجائے محمد ﷺ کو اپنا دل دے بیٹھا! محمد ﷺ پر پائی جانے والی تاریخ (سیرت)کی کوئی کتاب نہ ہوگی جس میں ’ہجرت حبشہ ‘کے عنوان سے یہ واقعہ درج نہ ہو!
اس کے علاوہ بھی امام ابن قیم ؒ نے اپنی مشہور کتاب ’ھدایۃ الحیاری فی الرد علی الیھود و النصاریٰ‘میں متعدد واقعات نشان زد کیے ہیں جن سے صاف واضح ہو جاتا ہے کہ نصاریٰ کے بڑے اونچے اونچے ایوانوں میں محمد ﷺ کی شان نبوت کا رعب کس طرح چھایا تھا ۔خود قیصر روم نے آپ کا نامۂ مبارک کس انداز میں وصول کیا بلکہ یہ خواہش تک ظاہر کی ’ہو سکے تو میں اس کے پیر دھوؤں‘،صحیح بخاری کے اندر درج ہے ۔مصر کا نصرانی بادشاہ مقوقس ، آپ کے نامۂ مبارک کا جواب کس ادب اور احترام سے دیتا ہے اور بیش قیمت تحائف آپ کی خدمت میں روانہ کر کے اپنے نیک جذبات کا کیا خوب اظہار کرتا ہے ،تاریخ کا معلوم واقعہ ہے۔عمان کے بادشاہ جیفر بن الجلندی کے پاس آپ ؐ کا نامہ بر جاتا ہے،عمان کا بادشاہ اس سے آپ ؐ کے بارے میں اور آپ کے دین کے متعلق سوالات کرتے ہیں خود وہ اور اس کابھائی عبید بن الجلندی دونوں حلقہ بگوش اسلام ہو جاتے ہیں ۔تاریخ کی مشہور ہستی حاتم طائی کے بیٹے عدی بن حاتم جو اپنی قوم کے بادشاہ ہیں اور نصرانی ہیں آپؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر شرف صحبت حاصل کرتے ہیں ۔نجران کے علاقہ سے جو ۷۳ بستیوں پر مشتمل تھا اور ایک لاکھ مردان جنگی کہ سب کے سب عیسائی تھے اس کے تصرف میں تھے،۲۴ سردار آپ ؐکے پاس آکر ٹھہرتے ہیں اور ان میں سے کئی ایک مسلمان ہو جاتے ہیں ،وفد ِ نجران کا کچھ ذکر ابھی ہم آگے کریں گے۔
علاوہ ازیں ،کیا یہ بات ان کے نوٹ کرنے کی نہیں کہ …’’دلائل‘‘رکھنے میں معاذ اللہ اس نبی ؐ کے ہاں کوئی کمی ہوتی تو یہ یثرب کا رخ کیوں کرتا جہاں یہود کے احبار اپنے صحیفے کھول کر بیٹھے تھے؟انبیاء کے صحیفے پاس رکھنے کے حوالے سے پورے عرب میں احبار ِیہودی کی دھاک تو بیٹھی تھی !کیا اس واقعہ کی کوئی دلالت یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ کیونکر اس نبیؐ کا دارالہجرت پورے عرب میں سے ایک یثرب ہی کو بنایا جاتا ہے!یہ تو در حقیقت پورے عرب کو دکھانے کے لیے تھا کہ بے شک یہ (عرب )خود امّی (ناخواندہ)ہیں مگر ایسا نہیں کہ اس نبیؐ کے دلائل و آیات صرف ان عربوں کو لاجواب کر سکتے ہیں بلکہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ احبارِیہودجو علم نبوت کے ماہر مانے جاتے ہیں ۔ایسے ’ماہرین دینیات‘بھی اس نبیؐ کے سامنے کس طرح گھگیاتے ہیں اور ان کی ہٹ دھرمی سب دیکھنے والوں کے روبرو کیونکر آشکار ہوتی ہے ۔
یقینا پورے عرب کے متلاشیان ِحق نبیؐ کے پیچھے مدینہ پہنچ چکے تھے ۔یہ لوگ پہلی نبوتوں کا کچھ زیادہ علم نہ رکھتے تھے تو بھی مدینہ میں ہونے والے وہ مناظرے تو جو آپ ؐ کے اور احبار ِ یہود کے مابین ہوتے رہے دیکھ ہی سکتے تھے کہ کس طرح انہی میں کا ایک آدمی ان ’فریسیوں ‘پر بھاری پڑ رہا ہے !قدرتی ذہانت سے مالامال اور تلاش ِحق سے سر شار عرب گزشتہ نبیوں اور صحیفوں سے کچھ اتنا باخبر نہ تھے تو بھی مدینہ میں برپا ہونے والے ان مناظروں سے نہایت مفید نتائج پر تو پہنچ ہی سکتے تھے،اور کیا پہنچے نہیں ؟!’’تعلیم‘‘کا یہ بھی تو ایک حصہ تھا!کہ اس جماعت کو عنقریب دنیا بھر کے فلسفوں کا سامنا کرنا تھا!اس ’’تعلیم ‘‘ سے وجود میں آنے والی جماعت ہی کی جانب تو اس سورت میں جو ’’ امیوں کے اکٹھ‘‘کا حوالہ جانی جاتی ہے،نگاہ والوں کی نگاہ مبذول کرائی جاتی ہے:
’’وہی جس نے (عرب کے)ناخواندہ لوگوں میں انہی میں سے ایک پیغمبر برپا کیا،جو انہیں اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے،انکا(ظاہر وباطن)نکھار دیتا ہے،اور ان کو کتاب اور دانشمندی کا تعلیم دیتا ہے۔حالانکہ یہ اس سے پہلے ایک کھلی گمراہی میں ہی تو تھے !اور (علاوہ ان موجودین کے ) دوسرے(اقوام)کے لئے بھی ان میں سے جو ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے۔اور وہ تو زبردست حکمت والا ہے!یہ ہے اللہ کا فضل جس کو وہ چاہتا ہے دیتا ہے،اور اللہ تو بڑے فضل والا ہے۔وہ لوگ جن کو تورات اٹھائی گئی تھی پھر انہوں نے تورات اٹھاکر نہ دی ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے وہ گدھا جس پر بہت سی کتابیں لاد دی گئی ہوں !بری ہے مثال ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیت ہی کو جھٹلادیا۔ایسے ظالموں کو تو اللہ ہدایت کی توفیق نہیں دیتا۔(سورۃ الجمعۃ،۲-۵)
جس کے پاس دلیل کی قوت نہیں کیا وہ پورے عرب میں سے یثرب ہی کا انتخاب کرتا؟’جنگ‘کی نوبت نبی ﷺکی طرف سے تو آئی ہی نہیں لیکن یہود کی طرف سے یہ نوبت آئی بھی تو اس کو کچھ عرصہ لگا۔کیسی کیسی مجلسیں اس دوران علمائے یہود اور نبی آخرالزماں ﷺ کے مابین منعقدنہیں ہوئیں !کتنی ہی بار ایسا ہوا کہ سوالات کرنے آئے ہوئے یہود ی مجلس برخاست ہونے پر آپؐ کے پیر چوم کر اٹھے۔ان کے بعض چوٹی کے علماء مانند عبداللہ بن سلامؓ حلقہ بگو شِ اسلام بھی ہوئے۔کتنی ہی بار ایسا ہوا کہ ان مناظروں میں احبار یہود کی بددیانتی کا تماشا بر سر عام دیکھا یا گیا۔یہ تک دیکھنے میں آیا کہ یہود تورات کی عبارتیں نکال کر دکھاتے ہوئے نص کے متعلقہ حصے ہاتھ سے چھپالیتے ہیں اور تب احبار یہود ہی میں سے اسلام قبول کر چکے صحابی عبداللہ بن سلام ؓ آنحضور ؐ سے کہتے ہیں کہ انہیں کہیے جو حصہ ہاتھ کی اوٹ میں کر رکھا ہے اس کو پڑھیں اور تب وہ شرمسار ہو کر اٹھتے ہیں !
مستشرقین کی ریس میں ،اور یہ ادراک کئے بغیر کہ اس کی زد ’کہاں‘پڑنے والی ہے،کس ’ناقدانہ بے پروائی‘سے آج کے کیتھولک اور پروٹسٹنٹ لکھاری اپنے تئیں ’ترپ کا پتہ‘پھینکتے ہیں :’اگر آپؐ نبی تھے اور دلیلیں پاس رکھتے تھے تو پھر نبیوں کے واقف یہود نے تو آپؐ کو پہچان کر نہ دیا،بلکہ ان میں سے کئی سارے آج کل یہ بھی لکھتے پھرتے ہیں (نقل کفر کفر نہ باشد)کہ ’محمدﷺ ان پڑھ عربوں کو ہی ساتھ ملا سکتے تھے مانتے تو تب جب کتاب کا علم رکھنے والے یہود آپؐ کو مان کر دیتے مگر یہود نے نہ کہ صرف وہی تھے جو انبیاء کی تاریخ سے واقف تھے،آپؐ کی اس دعوت کا ذرا بھر بھی وزن نہ لگایا اور عرب امیّوں کے سوا کہیں آپؐکو پزیرائی نہیں ہوئی ‘(معاذ اللہ)۔ان حقائق کو فی الحال ایک جانب رکھتے ہوئے کی آپؐ نے ان ’ان پڑھوں ‘کو قعر جہالت سے نکال کر علم و عرفان کے کس ثریا تک پہنچایا اور کیونکر ان ’امیّوں ‘ کو زمانے بھر کا استاد بنا ڈلا اور یہ کہ پورے جہاں کے پڑھے لکھوں کے ہاں کہاں تک آپؐ کی پزیرائی ہوئی اور ا بھی تک ہو رہی ہے ……..کیا ان معترضین سے ،جنکی اکثریت نصرانی ہے ،ہم یہ پوچھ سکتے ہیں کہ ان یہود نے اس سے پہلے کیا مسیحؑ کو پہچان کر دیا تھا؟!یہودی جو انبیاء کی تاریخ سے نہایت خوب واقف تھے مسیحؑ ایمان کیوں نہ لے آئے تھے؟!! کیا معاذ اللہ ’دلیل‘ کی کمی تھی؟؟! حالانکہ مسیحؑ کو تو بھیجا ہی یہود کی طرف گیا تھا!!! محمد ﷺ پر تو پھر آپ ؐ کی اپنی قوم ایمان لے آئی ،مسیح کو تو ان کی اپنی قوم جو کتاب کا علم رکھتی تھی ،یعنی یہود،نے رد ہی کر دیا تھا۔یہودیوں کے ایمان نہ لانے سے ہم مسلمانوں کے یہاں محمد ﷺ کی ’نبوت‘کیوں متاثر ہونے لگی؟مسیح علیہ السلام نے یہودی فریسیوں کو جیسی جیسی سنائیں کیا وہ تمہاری بائبل کے عہد جدید میں مذکور نہیں؟کیا آج تک تمہارے یہاں یہ نہیں کہا جاتا رہا کہ ان لوگوںنے (معاذ اللہ)تمہارے خدا کو سولی پر چڑھوایا تھا؟ہمارے نبیؐ نے ایسے لوگوں سے اپنی بچت کر لی بغیر اس کے کہ ان پر ذرہ بھر بھی ظلم کرے تو یہ ایک کہانی ہی الگ ہے مگر کیا یہ حق نہیں کہ انبیاء کی واقف اس قوم کا رویہ مسیح علیہ السلام اور محمد ﷺ ہر دو کے ساتھ ایک سا ہی رہا؟اصل چیز یہ ہے کہ ایک نبی جو خدا کے ہاں سے مبعوث ہوا ہو ان لوگوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرے جو پہلی نبوتوں کا نہایت خوب علم رکھتے ہوں اور نہایت مدلل انداز میں ان پر حجت قائم کرے ۔یہ کام ہمارے اعتقاد کے مطابق مسیح علیہ السلام اور محمد ﷺ ہر دو نے یہود کے رو برو بدرجہ اتم انجام دیا۔یہود میں سے چند حق پرست مسیح علیہ السلام پر بھی ایمان لائے۔یہود میں سے چند حق پرست محمد ﷺ پر بھی ایمان لائے۔یہود کی اکثریت نے مسیح علیہ السلام کے ساتھ بھی کفر کیا ،پھر فرق کیسا ؟البتہ خاص بات یہ ہے یہود مسیح کی اپنی قوم تھے اور مسیح کو خاص بھیجا ہی انہی کے لیے گیا تھا لہذا مسیح علیہ السلام کو یہود کا سامنا کرنا ہی تھا،تاہم محمد ﷺ کی نہ یہ اپنی قوم تھی اور نہ ان کا سامنا کرنے کی آپ کو ویسی ضرورت۔پھر بھی آپ کا یہود کے گڑھ میںجا بیٹھنا یہاں تک کی بعض مواقع پر یہود کے بڑے بڑے اجتماعات کے وقت ان کے عبادت خانوں کے اندر جاکر ان سے بات کر کے آنا کیا اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ یہ تو خد اکا کوئی خاص منصوبہ تھا کہ اخبار ِ انبیاء سے واقف اس قوم کے ساتھ اس نبیﷺ کے جدال اور ان پر اس کی حقانیت کی دھاک بٹھا کر پورے عرب کو دکھا دی جائے ،بلکہ اس کی زندگی کا ایک لمحہ چونکہ بیک وقت تاریخ کے مستند ترین وثائق کا بھی حصہ بن رہا تھا ،لہذا آپ کا یہ جدال قرآن کی ان سورتوں سمیت جو بنی اسرائیل کو خطاب کر کے اتاری گئیں ،پوری انسانی تاریخ کو ہی دکھلا دیا جائے ۔یوں بھی قرآن کا ایک حصہ جو آسمانی امتوں کے صلاح و فساد سے متعلق تھا ،عصرِ تنزیل کے وقت بنی اسرائیل کا آمنا سامنا کیے بغیر بلکہ بنی اسرائیل سے معاملہ کیے بغیر شاید پوری طرح واضح ہی نہ ہو سکتا تھا۔
بلکہ یہ معاملہ تو اور بھی دلچسپ ہو جاتا ہے!آنحضور ﷺ کی اپنی قوم نہ یہودی تھی اور نہ عیسائی ۔مگر آپ ﷺ نے یہود ہی نہیں نصاریٰ کے ساتھ بھی پورا اتر کر دکھایا !یہ کوئی محدود سطح کی نبوت ہو تی ،جیسا کہ اس سے پہلے کی نبوتیں ہوتی رہی ہیں ،تو ضرورت ہی نہ تھی کہ آنحضور ﷺ ان ہر دو گروہ کے ساتھ طویل جدال کریں ،آپ ؐ کی اپنی قوم کے عقلاء کی ایک بڑی تعداد تومکہ میں اور پھر یہود کے ساتھ پالا پڑنے سے بہت پہلے مدینہ میں ہی آپ ؐ پر ایمان لے آئی تھی اور ان کے لیے تو وہ معجزات کافی تھے جو وہ اپنی آنکھوں دیکھ چکے تھے ! وہ طویل مناظرے جو آنحضور ﷺ نے یہود اور نصاریٰ ہر دو کے ساتھ کیے اسی لیے تو تھے کہ سب سے پہلے آپ ؐ کی اپنی قوم اور پھر پوری دنیا دیکھ لے نبوتوں کا تسلسل کیونکر محمد رسول ﷺ پر اختتام پزیر ہوا ہے۔یہ سب تو تھا ہی اسی لیے کہ دراصل یہ عالمی نبوت ہے اور آخری نبوت ہے۔لہذا اس کے ماسوا اگر کسی کوحق رکھنے کا زعم ہے (یقیناہمارا ایمان ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کو ملنے والی اصل تعلیمات حق ہی تھیں ،ہم اس وقت کی بات کر رہے ہیں جب آخری نبوت میدان میں آئی خصوصاً یہود اور نصاریٰ کا محمد ﷺ کو قبول نہ کرنا )تو وہ اس نبی ؐکے جیتے جی سامنے آلے کہ اس دعوت کو پھرپوری دنیا کے عقلاء تک پہنچنا ہے ۔بائبل کا عہد جدیدپڑھیں تو یقینا سچائی کا وہ اعتماد مسیح علیہ السلام کی شخصیت میں بولتا ہو امحسوس ہوتا ہے جو یہودی فریسیوں کے رو برو مسیح علیہ السلام کی شخصیت میں بولتا ہو امحسوس ہوتا ہے جو یہودی فریسیوں کے رو برو مسیح علیہ السلام کے خطبوں سے مترشح ہے ۔سچائی کی ایک اپنی زبان ہوتی ہے اور وہ خود بخود بولتی ہے عام حالات میں یہ ایک حقیقت بول بول کر اپنا آپ نہ بتائے گی؟پس وہ لوگ جنہوں نے بائبل کے عہد جدید میں یہودی فریسیوں کے رو برو مسیح علیہ السلام کا اعتماد دیکھا ہے وہ ذرا قرآن کی سورۃ البقرۃ اور سورۃ آل عمران پڑھ لیں،سورۃ البقرۃ احبار یہود کے روبرو اور سورۃ آلِ عمران علمائے نصاریٰ کے روبرو! علاوہ ازایں حدیث اور سیرت کی کتابوں سے وہ مناقشے پڑھ لیں جو نبی آخر الزماں ﷺ اور یہود و نصاریٰ کے چوٹی کے علماء کے مابین پیش آئے اور پھر فیصلہ کر لیں کہ سچائی جب آدمی کے پاس ہو تو وہ کیونکر بولتی ہے۔
حق کی قوت ہی تو اس نبی ؐ کی دعوت میں بولتی ہے۔اس حقانیت کی گواہی عقلائے عالم نے جتنی اس نبی اور اس رسالت کے حق میںدی اور کس کے حق میں دی؟
دلائل ،بینات،آیات ،معجزات،عقلی شواہد ،آسمانی مؤیدات ،تاریخی حقائق ،قلوب پر وار ہونے والی کیفیات شریعت کے محیر العقول خصائص ،شخصی اوصاف ،عظیم اخلاق ،فتوحات ،تحصیل ِ اہداف،جو کچھ کہا وہ پورا ہوا،بد ترین دشمنوں کا بالآخر آپ ؐ پر ایمان لا کر عقیدت اور فدائیت کی آخری حد تک چلے جانا اور ایک دو نہیں ایسے بے حساب ان گنت واقعات کا رونما ہوتے چلے جانا ۔یہ سب کچھ اس نبی ؐ کی زندگی میں یوں وافر پایا جاتا ہے کہ انسان کے متاثر ہو جانے کے یہاں ہزار ہا پہلو سامنے آجاتے ہیں۔مختصر یہ کہ اللہ کا آخری رسول یعنی ایک ایسا حسین و خوب سیرت نادر ِروزگار انسان جسے جہانوں کے مالک نے قلب انسانی کو اپنی بندگی کاشعور بخشنے کے لیے کھرب پا کھرب انسانوں میں سے منتخب فرمایا ہو اور جوقلوب کے لیے آخری با رزمین پر آسمان کی خیر بانٹنے آیا ہو،کیا خدائے رب العالمین ،کہ قادر ِمطلق ہے ،ایسے انسان کو نہایت کافی شواہد اور مؤیدات کے بغیر ہی بھیج دے گا ،کہ سچے اور جھوٹے میںمعاذ اللہ کوئی فرق ہی نہ ہو اور لوگ اس کے تعین میں یوں ہی سر پٹختے رہیں ؟یہ نبیؐ توایک قرآن ہی لے آیا ہوتا توکسی معجزے کی ضرورت باقی نہ تھی!کیا آج تک ،جی ہاں آج تک ،کسی بھی مذہب کی کتاب کسی بھی پہلو سے اس کے مقابلے میں پیش کی جا سکی ہے یا کی جا سکتی ہے؟قرآن کا مقابلہ تو ہزاروں پہلوؤں سے کرنا پڑے گا ،کیاصرف اس ایک ہی پہلو سے کسی مذہب کی کتاب اس کا مقابلہ کر سکتی ہے کہ وہ تناقضات سے مکمل طور پر پاک ہو ؟کوئی مذہب آج تک اس قرآن کے مقابلے پر کچھ بھی تو نہیں لا سکا !یہاں رہنے کا حق تو سب کو ہے مگر مقابلہ کرنا کس کا بس ہے؟

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *