رسولوں میں انتخابؐ

وہ لطف رنگ سحاب بھی ہے نسیم رحمت مآبؐ بھی ہے
رسولوں میں انتخابؐ بھی ہے زمیں پہ گردوں کاب بھی ہے
رفیقؐ بھی ہے، خلیقؐ بھی، شفیقؐ و رمزِ طریق بھی ہے
وہ ایک بحر عمیق بھی ہے بشر فرشتہ جناب بھی ہے
وہ پیکرِ نور ہے مجسم وہ رازِ عرفان حق کا محرم
وہ عاجزوں بیکسوں کا ہمدم وہ اک جلالتمابؐ بھی ہے
رحیم بھی ہے کریم بھی ہے نعیم بھی ہے حکیم بھی ہے
جہاں میں فضل عظیم بھی ہے علیمِ راہ ثواب بھی ہے
مئے رسالت کا نورپیکر‘خمِ حقیقت کا صاف منظر
وہ بادۂ معرفت کا ساغر جہاں میں دورِ شراب بھی ہے
وہ بحر عرفاں کا ہے سفینہ کہ‘ حق کا سینہ ہے اک خزینہ
ہے بامِ حقانیت کا زینہ وہ گویا قد ِحساب بھی ہے
وہ ذرہ ہو کر مہر ٹھہرا‘ وہ قطرہ ہو کر بنا ہے دریا
بشر بھی فوق البشر ہے یکتا وہ بحر بھی ہے حباب بھی ہے
وہ سینہ اس کا فلکِ فضا ہے وہ قلب اس کا رہِ صفا ہے
وہاں وہ بیدار رہنما ہے خضر جہاں محو خواب بھی ہے
وہ قاب قوسین کا نظارا‘جیبؐ کہہ کر جسے پکارا
احد کا احمدؐ سے ہے اشارا سوال بھی ہے جواب بھی ہے
ہے روحِ فردوس کا خزانہ کہ نعت گوئی کا ہے ترانہ
کہ جس کا شیدا ہے اک زمانہ‘ یہ باغِ رضواں کا باب بھی ہے

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *