رسول اللہ ﷺ کے دشمنوں کی نفسیاتی تحلیل

نفسیاتی تحلیل ایک نیا علم ہے۔ اس میں اس کا تو ذکر نہیں ہوتا کہ بیج سے کس طرح درخت نکل کر پھلتا پھولتا ہے، بلکہ اس کے برعکس کسی تناور اور بار آور درخت کو دیکھ کر یہ پتہ چلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ کہاں سے آیا ہوگا۔ دوسرے الفاظ میں انسان کی کسی روش، کسی خلاف ِ توقع طرز عمل کے اسباب معلوم کرنے کی سعی ہوتی ہے، خاص کر وہ اسباب جن کو شاید متعلقہ شخص خود بھی بھول چکتا ہے یاکم از کم اسے اس کا احساس نہیں ہوتا کہ اس کے اعمال کا باعث وہ واقعہ ہوگا۔ ظاہر ہے کہ اس تحقیق میں جو معلوم سے نامعلوم کی طرف جانے پر مشتمل ہوتی ہے، بہت کچھ مفروضات سے کام لینا پڑتا ہے اور نتیجے میں ریاضیاتی صحت ہو نہیں سکتی، لیکن اس کی اہمیت اور اس پر اعتماد اب اتنا بڑھ گیا ہے کہ شاید ہی کوئی بڑا طبیب ہوگا جو اب تشخیص میں اس سے مدد نہ لیتا ہو۔
مجھے اس علم سے کوئی خصوصی واقفیت نہیں۔ حال میں قرآن ِ مجید کا فرانسیسی ترجمہ نیز سیرت النبی ﷺ پر فرانسیسی میں دو جلدوں میں ایک تالیف مرتب اور شائع کرنے کا موقع ملا تو اس ’’قصے‘‘ کے بعض کردار بے اختیار اپنی طرف توجہ منعطف کراتے رہے اور سوچنا پڑا کہ یہ کیا بو العجبی ہے؟ کچھ چیزیں معلوم ہوئیں۔ شاید وہی ان ’’خاردار درختوں‘‘ کے بیج ہوں۔ یہاں ان کا ذکر کرتا ہوں۔ ماہرین نفسیات ان سے فائدہ اٹھا سکتے اور فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔
بادشاہت تلاش کرنے والے کسی شخص کے لیے قدم قدم پر دشمنوں سے سابقہ پڑنا ایک سمجھ میں آنے والی بات ہے۔ وہ کیوں بادشاہ بنے، میں کیوں نہیں؟ حسد فطری چیز ہے اور انسان جتنا زیادہ فطری یعنی حیوانی اساس سے قریب ہوگا، اتنا ہی وہ اس برائی پر قابو کم پاسکے گا لیکن کسی نبی، کسی مصلح سے دشمنی کا سبب اتنا آسان نہیں کیونکہ وہ نہ کوئی مالی معاوضہ چاہتا ہے اور نہ اپنی بڑائی اور سرداری جتاتا ہے۔ وہ تو بے غرضانہ دوسروں کی بھلائی کے لیے اپنے آپ کو وقف کر رکھتا ہے۔ انبیاء سلف پر بھی وہی گزرا ہوگا جو نبی عربی ﷺ پر۔ فی الحال رسول اکرم ﷺ کے بعض ہم عصر دشمنوں کا مطالعہ کرنا مقصود ہے۔
ابو لہب:
یہ آنحضرت کا حقیقی چچا ہے۔ عرب میں ہم قبیلہ شخص کا ساتھ دینے میں ظالم و مظلوم کا بھی امتیاز نہ کیا جاتا تھا۔ پیغمبر اسلام ﷺ اپنی مرنجان مرنج طبیعت ، بزرگوں کے ادب، چھوٹوں پر رحم، محتاجوں سے حسن سلوک کے لیے بچپن سے امتیاز رکھتے تھے، پھر ان میں کیوں نہ نبھی؟ عمومی تبلیغ سے بھی قبل جب آنحضرت ﷺ نے صرف اپنے قریبی رشتہ داروں کو جمع فرمایا اور ’’وانذر عشیرتک الاقربین‘‘ سے اپنی ربانی مہم کا آغاز کیا تو واحد شخص جس نے مخالفت کی اور کھنڈت ڈالی وہ یہی ابو لہب تھا۔ اس کی دشمنی مرتے دم تک باقی رہی بلکہ روز افزوں ہی ہوتی چلی گئی۔ کیا وجہ ہوسکتی ہے؟
شاید ذیل کا واقعہ (جو انساب الاشراف للبلاذری مطبوعہ قاہرہ ۱۹۵۹ء جلد اول صفحہ ۱۳۰ تا ۱۳۱ میں درج ہے) اس پر کچھ روشنی ڈالے:
ایک دن ابو لہب اور ابو طالب میں کسی سلسلے میں بات بڑھ گئی۔ ابو طالب کو پچھاڑ کر ابولہب سینے پر چڑھ بیٹھا اور طمانچے مارنے لگا۔ جب آنحضرت ﷺ نے یہ دیکھا تو رک نہ سکے اور ابولہب کو پہلوؤں سے پکڑ کر زمین پر گرا دیا۔ اب ابو طالب نے اس کے سینے پر بیٹھ کر طمانچے لگانے شروع کیے۔ اس پر ابو لہب نے آنحضرت سے کہا: ’’وہ تیرا چچا ہے تو میں بھی تیرا چچا ہوں۔ تونے میرے ساتھ یہ سلوک کیوں کیا؟ اللہ کی قسم میرا دل تجھ سے پھر کبھی محبت نہ کرے گا۔‘‘
ابو جہل:
اس کا اصلی نام ابو الحکم عمرو تھا۔ یہ مکے کے ایک ممتاز گھرانے کا فرد تھا۔ وہاں بلدیہ (دار الندوہ) میں ہر شہری چالیس سال کی عمر میں رکن بن سکتا تھا لیکن ’’لجودرأیہ‘‘ (اپنی عمدہ رائے اور معاملہ فہمی کے باعث) اسے تیس سال ہی کی عمر میں رکن بنا لیا گیا تھا (دیکھو الاشتقاق لابن درید، صفحہ ۷) ذیل کے دو واقعے جو آغاز ِ اسلام کے وقت کے بیان کیے جاتے ہیں، قابل ِ ذکر معلوم ہوتے ہیں:
بلاذری (انساب الاشراف جلد اول، صفحہ ۱۳۰) نے لکھا ہے:
’’یمن کے قبیلہ زبید کا ایک شخص مسجد کعبہ میں آیا اور فریاد کرنی شروع کی: اے قریشیو! تمھارے پاس غذائی اور دیگر رسد کیسے آیا کرے گی جبکہ تم لانے والوں پر ظلم بھی کرتے ہو؟ لوگوں نے توجہ نہ کی تو وہ حلقہ بہ حلقہ آنحضرت ﷺ تک بھی پہنچا۔ آپ ﷺ نے پوچھا تجھ پر کس نے ظلم کیا؟ کہا، ابو الحکم (ابوجہل) نے، مجھ سے اس نے تین سب سے اچھے اونٹ مانگے اور چاہتا ہے کہ گھاٹے سے بیچوں؟ اور اس کی خاطر اور بھی مجھ سے نہیں خریدتا۔ اس نے میرا سودا خراب کرکے مجھ پر ظلم کیا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے منہ مانگے مول پر اس کے تینوں اونٹ خرید لیے۔ ابوجہل وہیں بازار میں کھڑا دیکھتا رہا اور کچھ نہ بولا۔ پھر آنحضرت ﷺ نے اس کے پاس جاکر کہا: اے عمرو! ایسا پھر نہ کرنا ورنہ اچھا نہ ہوگا۔ ابوجہل نے جواب دیا: ہاں میں پھر کبھی ایسا نہ کروں گا۔
آنحضرت ﷺ کے جانے کے بعد امیہ بن خلف اور دیگر مشرکوں نے طعنہ دیا کہ محمدﷺ نے تجھے ذلیل کردیا، معلوم ہوتا ہے کہ تو بھی اس کی اتباع کرنی چاہتا ہے؟ ابو جہل نے کہا: ’’ہرگز نہیں، میں نے توصرف اس لیے کہا کہ اس کے جادو سے اس کے ساتھ دائیں بائیں نیزہ برداروں کی ایک جماعت نظر آئی جو نیزے میری طرف جھکا رہی تھی۔ اگر میں مخالفت کرتا تو وہ آر پار کردیتے۔‘‘
اس کا کم و بیش ہم عصر واقعہ ابن ہشام (سیرت رسول اللہ ﷺ ، صفحہ ۲۵۷) اور بلاذری (انساب الاشراف جلد اول، صفحہ ۱۲۸ تا ۱۲۹) نے بیان کیا ہے:
’’یمن کے قبیلہ اراش ( یا اراشتہ) کا ایک فرد کچھ اونٹ لایا کہ مکے میں بیچے۔ ابوجہل نے خریدا مگر قیمت ادا کرنے میں ٹال مٹول کی۔ اس پر تاجر نے قریش کی ایک مجلس میں پہنچ کر کہا کہ میں ایک مسافر ہوں، ابو الحکم (ابو جہل) نے مجھ سے اونٹ تو مول لیے مگر رقم ادا نہیں کرتا، جس سے میں اٹکا ہوا ہوں۔ یہ مجھ پر بار گزر رہا ہے۔ کیا کوئی اس سے میرا حق دلائے گا؟ قریش نے ٹھٹھول سے کہا: دیکھو وہ شخص جو کونے میں بیٹھا ہے (یعنی آنحضرت ﷺ ) اس کے پاس جاؤ، وہ تمہارا حق دلائے گا۔ جب اس نے دکھڑا سنایا تو آنحضرت ﷺ فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور ابو جہل کے گھر جاکر دروازے پر دستک دی۔ اس نے اندر سے پوچھا: کون ہے؟ آنحضرتؐ نے نام بتایا اور کہا: باہر آؤ۔ آنے پر اس سے فرمایا: ’’اس کا حق فوراً ادا کرو، ادائی تک میں ٹلوں گا نہیں۔‘‘ اس نے فوراً رقم ادا کردی۔
ابو عامر راہب:
مدینہ کے قبیلہ اوس کا فرد تھا۔ اس کے فرزند حضرت حنظلہ غسیل الملائکہ مسلمان ہوگئے تھے اور نو جوانی میں شب زفاف میں بیوی کو چھوڑ کر فوج میں آشامل ہوئے اور صبح کو غزوۂ احد میں شہید ہوگئے۔ باپ مشرکین کی صف میں تھا۔جنگ تھمی توبیٹے کی لاش پر کھڑے ہوکر کہا: اسی لیے تو میں تجھے اس شخص(آنحضرتﷺ) سے روکا کرتا اور اس طرح مار پڑنے سے ڈرایا کرتا تھا۔ خدا کی قسم تو شریف اخلاق کا مالک اور والدین کے ساتھ نیک برتاؤ کیا کرتا تھا۔ (بلاذری، انساب الاشراف، جلداول صفحہ۳۲۹) اگر بچوں کا اچھا کردار والدین کی اچھی تربیت کا نتیجہ ہوتا ہے اور اگر اچھی تربیت وہی دے سکتے، خاص کر آزادی ِرائے وہی پیدا کرسکتے ہیں جو خود بھی عمدہ کردار کے مالک ہوں تو گمان کرنا پڑتا ہے کہ خود ابو عامر بھی بھلامانس ہی رہا ہوگا۔ یہ جو یائے حق بھی تھا۔ مشرک گھرانے میں پیدا ہونے کے باوجود (بلاذری، ایضاًصفحہ۲۸۱ کے مطابق) اہل کتاب سے مناظرے کرتا اور عیسائی راہبوں کی طرف بہت مائل تھا اور اکثر شام و فلسطین جا کر ان سے ملتا، پھر کیوں نہ نبھی؟ اور راہب ہونے کے باوجود کیوں آنحضرتﷺ کے تلوار کھینچ کر جنگ میں علمی حصہ لیتا رہا؟ اور کیوں مرتے دم تک یہ مخالفت جاری رہی؟
مورخ الہیشم بن عدی نے(جسے بلاذری نے صفحہ۲۸۲پرنقل کیا ہے) لکھا ہے: ابو عامر چاہتا تھا کہ خود نبوت کا دعویٰ کرے مگر آنحضرتﷺ کی دعوت شروع ہوئی اور ترقی کر گئی تو ابوعامر کو حسد ہوگیا۔ ابن ہشام(سیرت رسولﷺ صفحہ۴۱۱ تا ۴۱۲) نے اس کی مزید تفصیل دی ہے: جب آنحضرتﷺ ہجرت کرکے مدینہ آئے تو ابو عامر مکہ بھاگنے سے قبل آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور دونوں میں یوں بات چیت ہوئی۔ وہ: ’’تو یہ کیا دین لایا ہے؟‘‘ آپ ﷺ: ’’حنیفیت، حضرت ابراہیمؑ کا دین۔‘‘ وہ: ’’یہی تو میرادین ہے۔‘‘ آپ:’’نہیں یہ تیرادین کہاں؟‘‘ وہ: ’’ہے تو، محمدﷺ ، اصل میں تو نے ہی اس میں وہ چیزیں داخل کی ہیں جو اس میں نہ تھیں۔‘‘ آپﷺ:’’ہر گز نہیں، بلکہ میں تو اسے میل کچل سے صاف کرکے نکھار لایا ہوں۔‘‘ وہ: ’’خدا جھوٹے کو وطن سے دور تنہائی کی موت مارے۔‘‘آپﷺ:’’ضرور، خدا جھوٹے کے ساتھ ایسا ہی کرے۔‘‘
کازانووا کی فرانسیسی تالیف(’’محمدﷺ اور اختتام کائنات۔‘‘صفحہ۲۸) کے مطابق عیسائیوں کے ہاں یہ عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ کے بعد پانچ سوبرس ختم ہوں تو مسیحا آئے گا (جس کا ذکر انجیل یوحنا، باب اول جملہ۱۹ تا ۲۸ میں بھی ہے) آنحضرتﷺ کی بعثت۶۱۰ء میں ہوئی۔ ان حالات میں الہیشم بن عدی کے بیان پر شبہ کرنے کی وجہ نہیں معلوم ہوتی۔
عبداللہ بن اُبی بن سلول:
مدینہ کے قبیلہ خزرج سے تعلق رکھا تھا۔ وہاں کئی نسلوں سے اوس وخزرج کے رشتہ دار قبیلوں میں خانہ جنگیاں چلی آرہی تھیں۔ ابن ہشام(سیرت رسول اللہﷺ صفحہ۴۱۱) نے لکھا ہے کہ ’’اوس و خزرج نے عبداللہ بن ابی سے نہ پہلے اور نہ بعد کبھی کسی مشترکہ فرد کی اطاعت پر اتفاق کیا،بجز عبداللہ بن ابی کے۔ یہ غیر معمولی ہرد لعزیزی، اعلیٰ کردار اور منصف مزاجی وغیرہ کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتی مگر تاریخ اسلام میں اسے’’راس المنافقین‘‘کالقب دیا گیا ہے۔ حضرت عائشہؓ پر تہمت و بہتان کا آغاز بھی اسی سے ہوا تھا۔ ساری زندگی اس نے مسلمانوں میں اندرونی فتنہ برپا کرنے میں صرف کی ۔وجہ؟
صحیح بخاری(کتاب۷۹ باب۲۰) تفسیر طبری(برسورہ۶۳، آیت۸)تاریخ طبری (سلسلہ اول صفحہ۱۵۱۱)،سیرت ابن ہشام (صفحہ۴۱۳-۷۲۷) روض الانف للسیلی (جلد دوم صفحہ۵۱) بیا ن کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ کے ہجرت فرماکر مدینہ آنے سے عین قبل طے کیا گیا تھا کہ عبداللہ بن ابی کو اوس وخزرج کا مشترکہ بادشاہ بنایا جائے اور تخت نشینی کے لیے تاج بنانے کا کام سناروں اور جوہریوں کے سپرد بھی کردیا گیا تھا۔ پھر جب مدینہ والے مسلمان ہوگئے تو پرانی تجویز منسوخ ہوگئی۔
کعب بن الاشرف:
مدینہ کے یہودی قبیلہ بنی النضیر کا سردار تھا۔ ابن ہشام(سیرت رسول اللہﷺ صفحہ۵۵۲ ) نے لکھا ہے کہ جس دن اسے قتل کیا گیا وہ تازہ بیاہا ہوا تھا۔’’دوستوں‘‘ نے رات کو گھر پر پہنچ کر آواز دی تو جلدی میں کپڑے پہننے کی جگہ لحاف ہی میں اپنے کو لپیٹ کر نیچے اترا۔ بیوی نے کہا:مجھے اس آواز میں شر بھرا ہوا نظر آتا ہے۔ جواب دیا:’’لویدعی الفتی الطعنۃ لاجاب‘‘ (جواں مرد کو نیزہ بھونکنے کے لیے بھی بلائیں تو وہ انکار نہیں کرتا۔) ابن ہشام( سیرت رسول اللہﷺ صفحہ۳۵۱ ) ہی کے مطابق اس کا باپ شمالی عرب کے قبیلہ طے کی شاخ بنہان کا فرد تھا اور ماں نبی النضیر کی۔ اس طرح نیم غیر ملکی ہونے کے بادجود قوم کا سردار خاص کر پنچ اور حاکم عدالت بننا اعلیٰ ذہنی قابلیتوں کے بغیر ممکن نہیں۔ بگاڑ کی وجہ ؟
مقاتل(فوت۱۵۰) مشہور مفسر(مخطوطۂ کتب خانہ حمیدیہ، استنبول، ورق ۹۶؍الف، سورہ۵ آیت۴۴) میں لکھا ہے کہ مدینے میںبنی النضیر بڑی ذات کے اور نبی قینقاع نیچ ذات کے یہودی سمجھے جاتے تھے اور اگر کوئی نضیری کسی قینقاع کو قتل کرتا تو اس کے لیے آدھا خوں بہا دیا کرتا۔ جب آنحضرتﷺ ہجرت کرکے مدینے آئے اور ایک قتل کا مقدمہ پیش ہوا تو آپ ﷺ نے حکم صادر فرمایا کہ نضیری قاتل قینقاعی مقتول کا سالم خون بہا ادا کرے۔ اس پر نضیری سردار کعب بن الاشرف چیخنے لگا: ’’ہم تیرا فیصلہ نہیں مانتے اور نہ تیرا حکم تسلیم کرتے ہیں۔ ہم تو اپنے پرانے رسم ورواج ہی پر عمل کریں گے۔‘‘

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *