روحِ محمد ؐ اس کے بدن سے نکال دو

ابھی چند ہی دن پہلے راقم السطور نے ایک پاکستانی کالم نگار کا مضمون پڑھا جس میں انہوں نے ایک یہودی سے کئی سال پہلے فرانس میں ملاقات کا ذکر کیا ہے۔ بقول کالم نگار کے، مذکورہ یہودی ـ’’اسلام میں شدت پسندی‘‘ کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کر رہا تھا اور جب اس کالم نویس نے اُن سے پوچھا کہ آپ کی ریسرچ کہاں پہونچی ہے اور آپ کس نتیجے پر پہونچے ہیں؟ تو اس ریسرچ اسکالر یہودی نے در جواب کہا کہ میری ریسرچ مکمل ہو چکی ہے اور اب میں اپنی Thesisلکھ رہا ہوں۔میں نے اپنی ریسرچ میں یہ پایا ہے کہ:
’’مسلمان اسلام کے بجائے اپنے رسولﷺسے محبت کرتے ہیں۔ قرآن کے احکامات پر (نعوذباللہ) تنقید کی جائے تو ان کا ردعمل شدید نہیں ہوتاہے، مسجدوں کو (العیاذ باللہ) مسمار کیا جائے تویہ لوگ آپے سے باہر نہیں ہوتے ہیں، اُن کے نوجوانوں کو تہہ تیغ کیاجائے تو انہیں اتنا دُکھ نہیں ہوتا۔ (خدا نخواستہ) ان کی عفت مآب ماؤں بہنوں کی عزت لوٹ لی جائے تو یہ اپنے معمولات میں فرق نہیں آنے دیتے ہیں، انہیں اسلامی عبادات وغیرہ سے روکا جائے تویہ برداشت کر لیتے ہیں، لیکن جب ان کے رسول ﷺ کی شان میں کوئی معمولی سی گستاخی بھی کرتا ہے تو پھر یہ لوگ کٹ مرنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ تمام آپسی اختلافات کو بھلا کر یک جُٹ ہو جاتے ہیں اور ردّ عمل میں خطرناک قسم کی شدت اختیار کر لیتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ مسلمانوں کو اگر مختلف خانوں میں بانٹے رکھنا ہے تو کسی بھی سطح پر اُن کے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کا سوچا بھی نہیں جانا چاہیے اور مسلمان کو زیر کرنے کے لئے ایسی حکمتِ عملی ترتیب دینی چاہیے کہ مسلمانوں کے دلوں سے (خاکم بدہن) محبتِ رسول ﷺ نکل جائے‘‘۔
یہودی ریسرچ اسکالر کے تجزیہ(کا بیشتر حصہ تسلیم نہ کرنے کے با وصف اُس) کا ایک پہلو صد فیصد سچائی پر مبنی ہے کہ مشرق و مغرب میں مسلمانوںکو اپنے نبی ﷺ سے اس حد تک محبت ہے کہ انؐ کے لئے وہ اپنی جان، مال، اولاد یعنی سب کچھ لٹا سکتے ہیں۔حُبّ رسولﷺکی جب بات ہو تو ایک گنہ گاراور نافرمان مسلمان بھی سر پہ کفن باندھ کر میدانِ عمل میں کود سکتا ہے۔ پھر مسلمانوں کا راستہ نہ فوج روک سکتی ہے، اور نہ ہی کروز میزائل انہیں ڈرا سکتے ہیں، نہ اُنہیں خوف زدہ کر سکتے ہیں اور نہ ہی ایٹم بم کی تباہ کاریوں کی اُنہیں پرواہ ہے۔ نبی ﷺ کی محبت کے بغیر مسلمان بلاشبہ مسلمان ہی نہیںہے۔ اس کا ایمان مکمل نہیں ہے۔ اس کی عبادات اور دینی مشغولیات اُسی وقت ثمر آور ثابت ہو سکتی ہیں جب تک نہ دُنیا کی ہر چیز سے زیادہ اُس کے دل میں رسولِ رحمت ﷺ کی محبت ہو۔ موت کا ڈر تو دشمنانِ دین کو لگا رہے گا، کیونکہ اُن کے لئے تو سب کچھ یہی دُنیا ہے۔ مسلمان کے لئے اس سے بڑا کوئی انعام نہیں ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ؐ کے لئے ہر مشکل اور ہر مصیبت کا خندہ پیشانی سے استقبال کرے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *