سلطان نورالدین زنگی ؒ اور دو بدبخت نصرانی

سلطان نور الدین زنگی ؒ کے زمانے میں روضہ ٔپاک میں نقب زنی کی ناپاک جسارت کی گئی مگر اللہ جل مجدہ نے شر پسندوں کا منصوبہ خاک میںملا دیا ۔سلطان کوخواب میں حضور ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی اور آپ ؐ نے دو نیلی آنکھوں والے آدمیوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ ان سے میری حفاظت کرو۔سلطان کو سخت تشویش ہوئی، اٹھ کر وضو کیا ،نفل ادا کیے مگر جوں ہی لیٹے پھر وہی خواب دیکھا ۔غرض یہ کہ تین دفعہ ایسا ہوا تو آپ اٹھ کھڑے ہوئے۔اپنے وزیر جمال الدین کے مشورے پر فوراً مدینہ کی تیاری شروع کر دی۔سولہویں دن مدینہ طیبہ پہونچے۔ریاض الجنۃ میں تحیۃالمسجد ادا کرنے کے بعد سوچنے لگے کہ حصول مقصد کے لیے کیا تدبیر اختیار کرنی چاہیے ۔آخر وزیر نے اعلان کیا کہ بادشاہ مدینہ منورہ میں تشریف لائے ہیں ۔وہ اہل مدینہ کو انعامات سے نوازیں گے ،ہر شخص حاضر ہو کر اپنا حصہ لے لے ۔ایک ایک آدمی آتا گیا ،بادشاہ انعامات تقسیم کرتا رہا ۔وہ ہر شخص کو بغور دیکھتا اور خوا ب میں نظر آنے والی شکلوں کو تلا ش کرتا رہا۔حتیٰ کہ مدینہ کے تمام لوگ گزر گئے مگر مجرمین کا کھوج نہ لگایا جاسکا۔باداشاہ نے حکم دیا کہ کوئی رہ گیا ہو تو حاضر کیا جائے ۔بڑی سوچ بچار کے بعد بادشاہ کو بتایا گیا کہ صرف دو فرنگی باشندے ہیں ،جو نہایت متقی ہیںاورانہوں نے گوشہ نشینی اختیار کر رکھی ہے ۔ہر وقت عبادت و ریاضت میں مصروف رہتے ہیں ۔بادشاہ نے انہیں بھی طلب کر لیا اور انہیں ایک نظر دیکھتے ہی پہچان لیا ۔پوچھا کون ہو؟اور یہاں کیوں پڑے ہوئے ہو؟انہوں نے بتایا کہ ہم مغرب کے رہنے والے ہیں ۔حج کے لیے آئے تھے ،روضہ ٔانور کی زیارت کے لیے مدینہ آئے تو حضور ﷺ کے پڑوس میں رہنے کے شوق میں یہیںکے ہو کر رہ گئے ۔بادشاہ ان دونوں کو وہیں چھوڑ کر ان کی رہائش گاہ پر پہنچا جوایک قریبی سرائے میں تھی ،مگر وہاں کوئی مشکوک چیز نظر نہ آئی جس کی وجہ سے بادشاہ اور پریشان ہو گیا۔
مدینہ پاک کے لوگوں نے ان کی صفائی میں بہت کچھ کہا کہ یہ تو نہایت پرہیز گار ہیں ۔ریاض الجنۃ میں نماز پڑھتے ہیں ۔روزانہ جنت البقیع کی زیارت کرتے ہیں اور ہر شنبہ کو قبا میں نفل نماز ادا کرتے ہیں ۔یہ قائم اللیل اور صائم النہار ہیں ۔اس سے بادشاہ کی تشویش میں اور اضافہ ہو گیا ۔دفعتاً بادشاہ کے دل میں کچھ خیال آیا اور اس نے ان آدمیوں کے مصلیٰ کو الٹ دیا ۔بوریا کا مصلیٰ ایک پتھر کے اوپر تھا۔پتھر اٹھایا گیا تو نیچے سرنگ نمودار ہوئی جو دور تک روضہ انور کے قریب پہنچ چکی تھی ۔بادشاہ نے اس کمینہ حرکت کا سبب دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ نصرانی ہیں اور عیسائی بادشاہوں نے انہیں بیش بہا دولت دے کر اس کام پر مامور کیا ہے کہ کسی طرح وہ حضور نبی اکرم ﷺ کے حجرہ ٔمقدسہ میں داخل ہو کر آپ کا جسم عنبریں یہاں سے نکال کر لے جائیں ۔ان کا طریقہ واردات یہ تھا کہ رات بھر سرنگ کی کھدائی کرتے اور مشکوں میں مٹی بھر کر بقیع کے مضافات میں ڈال آتے ۔
سلطان نور الدین زنگی یہ باتیں سن کر آتش غضب سے بھڑک اٹھا ۔ساتھ ہی رقت بھی طاری ہو گئی کہ اسے اس کام پر مامور کیا گیا ہے ۔ چنانچہ ان دو عیسائیوں کو صبح کے وقت قتل کرا دیا اور شام کے وقت ان کے ناپاک نعشوں کو نذر آتش کر کے خاکستر کر دیا گیا ۔
اس کے بعد اس بیدار بخت بادشاہ نے حجرہ پاک کے چاروں طرف اتنی گہری بنیادوں کو سطح زمین تک بھر دیا تاکہ آئندہ کسی ملعون کو نبی پاک ﷺ کی لحد مبارک کے قصد کا موقع نہ مل سکے ۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *