شان رسالت مآب ﷺ میں گستاخیاں مغرب کی علمی اور اخلاقی شکست

نبی پاک حضرت محمد ﷺ کی ذات و صفات کو بہت سے مغربی ملکوں میں نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ان کی شخصیت کو مجروح کرنے کے لیے نت نئے ہتھکنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں۔کا رٹونوں ،فلموں ،تصویروں ،کتابوں اور اشتہاروں کی باڑھ لگی ہوئی ہے۔آئے دن طرح طرح کے واقعات جنم لے رہے ہیں لیکن درحقیقت یہ ہر زہ سرائیاں اور نا شائستگیاں اسلام کے مقابلے مغرب کی اخلاقی اور علمی شکست کی علامتیں ہیں ۔ابھی کل کی بات ہے مغربی سماج کو دنیا نے دیوالیہ ہوتے دیکھا ہے لیکن یہ ان کا دیوالیہ پن محض معاشی نہیں بلکہ اخلاقی اور تہذیبی دیوالیہ پن بھی ہے۔ نام نہاد اعلیٰ تہذیب و ثقافت کے اپنے تمام بلند بانگ دعوؤں کے باوجود مغربی معاشرہ بتدریج اپنی رعنائی اور سنجیدگی کھوتا جا رہا ہے ۔مغرب جو کبھی تحمل و بردباری ،حریت فکر ،مذہبی آزادی اور عوام کے اندر مکالماتی انداز و اطوار اختیار کرنے کے حوالوں سے جانا جاتا تھا وہ بڑی تیزی اور مضبوطی سے ایسے مغرب کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے جہاں تعصب ،قدامت پسندی،ایک مخصوص تہذیب کی حکم رانی اور نسلی ہیجان و بربریت کے نمونے دکھائی دینے لگے ہیں ۔
یہ عجیب وغریب حرکتیں بتا رہی ہیں کہ مغرب گویا ایک ایسا ناکام و نامراد مناظر (Debator) بن گیا ہے جو دلائل اور اصول پسندی کے میدان میں شکست کھاکر جھنجھلاہٹ میں اس طرح کی گستاخانہ تقریروں اور تحریروں اور ہجو گو یا نہ رویوں کا سہارا لے رہا ہے ۔ایک وقت تھا جب ادب اور ابلاغ عامہ کے بعض ذرائع یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ اسلام میں فلاں فلاں خامیاں ہیں ،تعدّدازدواج ہے ،تین طلاقیں ہیں ،اور ظالمانہ حدود وتعزیرات اور سزائیں ہیں وغیرہ وغیرہ اور معمولی معمولی باتوں کے لیے نبی پاکﷺ کی مسلسل کر دار کشی کی جاتی پھر ٹیریریزم کی موجودہ صورت حال سامنے آتی ہے لیکن ان تمام متعلقہ بحثوں اور مناظروں میں بہر حال فتح اسلام کی ہی ہوتی رہی ہے ۔اس طرح کی مبینہ خامیوں کے سبب عقیدے و مذہب کو ہدف ملامت تو بنا یا گیا لیکن مغرب کا کوئی بھی معروضی فیصلہ کبھی بھی ان الزامات کی تصدیق و توثیق نہیں کر سکا ہے ۔اسلام کے مختلف پہلوؤں پر اٹھائے جانے والے ان تنازعوں سے کچھ اور تو ہوا نہیں لیکن اتنا ضرور ہوا کہ اسلام کا اپنا یہ دعویٰ بالکل بر حق ثابت ہو گیا کہ یہی زندہ و پایندہ اور باقی رہ جانے والا مذہب ہے ۔یورپ میں آج جہاں عیسائی ویہودی عبادت گاہیں اپنی ویرانی پر ماتم کر رہی ہیں وہیں مسجدیں اپنے نو عمر نمازیوں اور عبادت گزاروں سے آباد ہو تی جا رہی ہیں۔حجاب ان مغربی خواتین کی خصوصی توجہ کا موضوع و مر کز ہے جو اپنی موجودہ تہذیب کی بے ہو دگیوں اور ناشائستگیوں سے بے زار ہیں ۔قرآن مجید کے خلاف جس قدر لکھا گیا اسی قدر اس کے شیدائیوں کے حلقوں میں نئے قاریوں اور مطالعہ کرنے والوں کا اضافہ ہوا۔ٹیررزم کا بورڈ اور اشتہار بھی ناکام ثابت ہوا۔ اس سے بھی (ان کے )ہم نواکم ہوئے کہ انہیں یہ یقین نہیں آرہا تھا کہ ٹیررزم کے الزامات کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق بھی ہے ۔اس طرح مغرب ایک بار پھر میدان میں آگیا اور دوبارہ مایوسی اور شکست خوردگی کے عالم میں پیغمبر اسلامﷺ کو بدنام کرنے کا محاذ کھول دیا ۔
مغرب میں ہونے والے ان واقعات کے پیچھے ایک اور سبب صہیونیت ہے جو مقامی لوگوں کو عیسائی اور مسلم سماج میں تقسیم کر رہا ہے۔ ان مذہبی ا کائیوں کے درمیان ہم آہنگی،امن و آشتی اور عدم تشدد کی فضا یہود کو راس نہیں آتی۔ عام حالات میں عیسائی اکثریت یہی سوچتی ہے کہ یہود ان کے آقا بن بیٹھے ہیں؛ ان کے جملہ امور ان یہودیوں کے کنٹرول میں ہیں ۔ان کا یہ خیال اس وقت پایۂ ثبوت کو پہنچ جاتا ہے جب وہ دیکھتے ہیں کہ موجو دہ مغربی نظام سیاست ،معیشت ، تہذیب وثقافت،ذرائع ابلاغ اور بین الاقوامی روابط سب کچھ واقعتا صہیونی مقاصد و عزائم کے تابع ہیں ۔جبکہ کشیدگی اور آویزش کے حالات اور ماحول میں، جس کے اندر آج کل وہاں کے لوگ ہیں، عیسائیوں کا بڑا طبقہ یہ باور کرنے لگتا ہے کہ ان کے مسائل اور مشکلات کا اصل سبب مسلمان ہیں ۔ یورپی ممالک کی طرف مسلمانوں کی ہجرت کو مقامی روزگار کے لیے بڑا خطرہ سمجھا جانے لگا ہے ۔مسلمانوں کی بڑھتی آبادی کو دیکھا جانے لگاہے کہ یورپی تہذیب و ثقافت پر رفتہ رفتہ ایک اجنبی تہذیب غالب آتی جا رہی ہے ۔ حجاب، مسجد ،منارے،عربی نام،قرآن پاک،آنحضورﷺکی موثر شخصیت و سیرت اور اس کی طرح دیگر اسلامی اور مسلم علامتوں کو مغربی سماج کے لے خطرہ تسلیم کیا جانے لگاہے ۔لہذا یورپ اوردوسرے ملکوں کے اندر مسلمانوں اور عیسائیوں کو ایک دوسرے کے مد مقابل بنانے کے لیے صہیونی ایجنسیاں دائیں جماعتوں اور تنظیموں کو فنڈ فراہم کرتی ہیں اور ان کے ذریعے مالی تعاون حاصل کرنے والا ابلاغ عامہ ایک خاص اور منظم انداز سے اس طرح حوادث و اخبار کو نشر کرتا ہے کہ اس سے وہاںکی مذہبی اکائیوں میں جداگانہ ارتکاز کے عمل کو مہمیز دے سکے۔خود صہیونی تنظیموں جیسے مڈل ایسٹ فورم پر یہ الزام ہے کہ وہ الیکشن مہموں کے درمیان اسلام مخالف نمایندوں جیسے ڈچ سیاسی قائد گیرٹ ویلڈر کو مالی تعاون پیش کرتی ہیں ۔نسلی کشیدگی بھی بہت سے یورپی حکمرانوں کو اس لیے پسند ہے کہ اس سے معاشی اور دیگر محاذوں پر ان کی ناکامیوں سے عوامی توجہ ہٹ جاتی ہے ۔
مقدس شخصیت کی حیثیت سے پیغمبر اسلام ﷺمغربی بے حرمتیوں کے اولین(ہدف )نشانہ نہیں ہیں۔یہودی عیسائی تہذیب تو پیغمبروں اور مذہبی شخصیات کی شرم ناک بے حرمتیوں اور پامالیوں کی تاریخ سے لبریز ہے۔آج یہودیوں کی سب سے بڑی آرزو ہے کہ یروشلم میں مسجد اقصیٰ کے مقام پر حضرت داؤد کی عبادت گاہ تعمیر کریں لیکن ان کے آباء واجداد نے خود حضرت داؤد ؑ کو ہی عاشق مزاج ثابت کرنے کے لیے ان پر طرح طرح کے فحش الزامات لگائے ہیں ان کے حوالے سے مبینہ بد کاری کی داستانیں بائیبل کی مشہور کہانی اور کتاب مقدس کی زینت ہے۔ یہودی قبائل نے کتنے ہی پیغمبروں کو قتل کے گھاٹ اتار دیا (نعوذ باللہ من ذالک)جیسے حضرت زکریاؑ وغیرہ ۔حضرت مریم ؑ کی معصومیت اور بن باپ کے ان کا ماں بن جانا یہودیوں کے یہاں ہمیشہ مشکوک رہا ہے ۔ابھی حال میں متعدد مغربی فلم کاروں اور فن کاروں نے حضرت عیسیٰ اور دیگر مذہبی شخصیات کا جو استہزا کیا ہے اس کی وجہ سے بہت سے عیسائی ممالک میں خدائی بے حرمتی کے مخالف قوانین و ضع کرنے کی پہل ہوئی ہے کہ اس طرح سخت مجرمانہ قوانین کی بدولت حضرت عیسیٰ ؑ اور ان کے خاندان کے دوسرے بزرگوں کو اب نشانہ بنانا مشکل ہو گا مگر پھر بھی مغربی دانشوران اپنی مذموم پختہ عادتوں کے طفیل پیغمبر اسلام کو نشانہ بنانے میں اب بھی آزاد ہیں ۔
فرانس جہاں خدائی بے حرمتی مخالف قانون نہیں ہے بدستور یورپی ممالک کا جزو ہے اور وہاں کے بعض حد درجہ آزاد خیال لوگ با اختیار ہیں اور وہ مقدس شخصیات اور محترم چیزوں کی بے حرمتی پر مشتمل مواد وقتاً فوقتاًطبع کراتے رہتے ہیں اسلام کے خلاف بھی اور عیسائیت کے بھی خلاف۔فرانسیسی اخبار Liberationنے ۲۰۰۵؁ء میں حضرت عیسیٰؑ کی ایسی برہنہ تصویر شائع کی جس میں ان کے بدن پر کوئی سوت نہ تھا بس ایک کنڈوم کی پوشش تھی ۔اس کے خلاف جب عدالت میں چارہ جوئی کی گئی تو عدلت نے تصویر کشی کو تو’’ بھونڈا عمل ‘‘ قرار دیا لیکن ساتھ میں یہ بھی کہا کہ اس میں قانون شکنی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے ،۲۰۰۷؁ء میں Chalie Hebadoمیگزین کے خلاف پیغمبر اسلام مخالف کا رٹون بنانے پر عدالتی چارہ جوئی کی گئی تو عدالت نے پیروان اسلام کے لیے اسے باعث صدمہ تو قرار دیا لیکن کہا کہ اسے میگزین کے وسیع سیاق میں دیکھا جانا چاہیے کہ یہ شمارہ مذہبی بنیاد پرستی کے تجزیہ پر مشتمل ہے اس لیے اگر چہ یہ مسلمانوں کے لیے باعث قلق و اضطراب ہے لیکن اس میں مسلمانوں پر حملے جیسا کو ئی ارادہ نہیں ہے ۔لیکن یہی مغربی عدالت جو مسلمانوں اور عیسائیوں کے جذبات کا کوئی احترام نہیں جانتی جب ایک میگزین میں ایک مغربی ملک کی شہزادی کی بر ہنہ تصویر شائع ہونے کا معاملہ اس کے سامنے آتا ہے تو نہ صرف میگزین کی اگلی اشاعتوں پر بھی یہی عدالت قدغن لگا دیتی ہے بلکہ اس کے دفتر پر چھاپہ مار کر اس کی تمام کا پیاں ضبط کر لیتی ہے ۔
ان واقعات سے جہاں یہ بات عیاں ہے کہ یورپی عدالتیں مذہبی اکائیوں کے جذبات کی کوئی پرواہ نہیں کرتی ہیں وہیں کچھ ایسے مغربی افراد ضرور نظر آتے ہیں جو ان حرکتوں کو عوامی بے ہودگی قرار دیتے ہیں ۔لیکن بد قسمتی سے مغربی لیڈر اور مغربی ذرائع ابلاغ مذمت صرف رد عمل کی کرتے ہیں ان اشتعال انگیز حرکتوں پر کچھ نہیں بولتے جو ایک خاص انداز سے مسلسل آج کل جاری ہیں ۔جرم کی ترغیب بھی جرم ہے قانون کی نظروں میں وہ بھی مجرم ہے جو دوسروں کو ارتکاب جرم پر آمادہ کرے ۔تشدد کا سبب بننے والی عوامی تقریریں بھی قانوناً قابل سزا ہیں لیکن پھر بھی مغرب میں بغیر روک ٹوک پابندی سے اشتعال انگیز مواد نشر ہوتے جا رہے ہیں جو ان اشتعال انگیز یوں کے محرک کے طور پر سامنے آتے ہیں ۔
دہشت گردی کے بین الاقوامی مراقبین کے مطابق جب بعض مسلم عراقی ملیٹینٹ نے کچھ عراقی عیسائیوں کو نشانہ بنا یا تو مغرب کے لیے سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور قابل نفریں دہشت گرد نام، اسامہ بن لادن نے اسے ’’جہاد کو بدنام کرنے‘‘ سے تعبیر کیا۔ایک بدنام زمانہ تو اس قدر اخلاقیات کا مظاہرہ کر سکتا ہے لیکن کتنے ایسے مغربی اہل فن ہیں جو مقدس حرمتوں کو پامال کرنے والے ان ظالموں ،کارٹونوں اور اشتہاروں کی فوراًمذمت کرتے ہیں جن سے ہمیشہ بے شمار اور نا معلوم جانیں تلف ہوتی ہیں۔ نہ تو یورپ اور امریکہ کا کوئی بھی سر کردہ شخص، نہ سیکڑوں نوبل انعام یا فتہ افراد میں سے کوئی ،نہ پوپ کے حامیوں میں سے کوئی، نہ خود پوپ نے ہی اس طرح کی کسی حرکت پر نا پسندگی کا اظہار کیا ہے۔ مغرب کی خاموش اکثریت بھی واقعتا خاموش ہی ہے ۔جو کچھ بھی ہے وہ بس اتنا کہ رد عمل کے مظاہروں پر یہ کہتے سنا جاتا ہے’’ کتنی معمولی باتوں پر کیوں یہ ہنگامہ برپا کر رکھا ہے ‘‘!!
میں جو تڑپ کے روؤں ہوں تو ظالم یو ں فرمائے ہے
اتنا گہرا زخم کہا ں ہے ناحق شور مچائے ہے
المیہ یہ ہے کہ مغربی نظام سیاست بھی ان مقدسات کی بے حرمتیوں پر یکساں طور پر غیر سنجیدہ ہے مثلاً فرانس کی حکومت نے ہفتہ وار SATIRICALمیگزین میں کچھ اشتعال انگیز کا رٹونوں کے شائع ہونے کے خلاف مظاہروں پر پابندی عائد کردی ۔لیکن خود اس میگزین پر کوئی لگام نہیں لگائی جس نے ان مظا ہروںکو جنم دیا تھا ۔حالانکہ’’نقض امن‘‘کے تحت یا تو دونوں پا بندی کے مستحق تھے یا ’’ آزادی اظہار‘‘کے تحت دونوں کو منظوری اور آزادی ملنی چاہیے تھی۔امریکہ کے اندر اوبامہ انتظامیہ نے گستاخانہ فلم (INNOCENCE OF MUSLIMS)کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا ۔البتہ پاکستان کے ٹیلی ویژن اشتہارات پر ۷۰ ہزار ڈالر کی بڑی رقم صرف یہ بتانے پر صرف کردی کی حکومت مذہب کا احترام کرتی ہے ۔اور اس فلم سے اس کا کوئی سروکار نہیں ۔یہ اشتہارات محض پاکستان کے اندر ہی نشر کئے گئے یہاں تک کی خود امریکہ میں بھی انہیں دہرایا نہیں گیا ۔ظاہر ہے یہ سب کچھ اس لیے نہیں کیا گیا کہ مقامی لوگوں کی اشک شوئی ہو یا ان کا شریک غم ہوا جائے بلکہ پاک ۔افغانستان محاذ جنگ پر اس فلم کے ممکنہ ردعمل کو دور کرنا اور اثرات کو موڑنا مقصود تھا ۔مغرب کے ایک قائدانہ رول کے حامل ملک کا یہ کتنا بھونڈا مذاق ہے ۔ مذہب کی تعظیم کا ڈھونگ وہ صرف اس لیے رچ رہا ہے کہ اسے اپنے محاذ جنگ پر کچھ ہنگامی صورت حال نظر آتی ہے ۔
مسلمان دوہری پریشانی میں ہے ۔ان کی روایات اور اقدار کسی بھی مذہبی شخصیت کے استہزا کی مطلق اجازت نہیں دیتی ہیں خواہ وہ عیسائیت یا یہودیت کی محترم شخصیات ہوں یا کسی اور مذہبی اکائی کی۔پہلا سبب تو اس کا یہی ہے کہ اپنے آپ میں یہ ایک مکروہ عمل سمجھا جاتا ہے ۔ دوسرے وہ یہودیت اور عیسائیت کے تمام پیغمبروں کو یکساں طور پر محترم سمجھتے ہیں یہی چیز مسلمانوں کو رد عمل کے طور پر حضرت داؤدؑ ،حضرت سلیمانؑ ،حضرت موسیٰؑ،حضرت مریمؑ اور حضرت عیسیٰؑ کے کار ٹون اور فلمیں بنانے سے باز رکھتی ہے ۔ یہ دو باکل الگ الگ قسم کی اقدار و روایات ہیں ۔ایک طرف تو تمام مقدس شخصیات کی بے محابہ توہین سے بے پروائی ہے دوسری طرف تقدیس و تعظیم میں اتنی احتیاط کہ فریق مخالف کے مذہبی اور ثقافتی رہنماؤں کے خلاف بھی کوئی حرف غلط نہیںادا کیا جا سکتا ۔
شاید اس چیلنج کے مقابلے کی ایک اور صورت ہے وہ اس طرح کہ مذہبی عقائد کے سر کردہ مغربی لوگوں کو ان کے اپنے اعمال یاد دلائے جائیں ۔مسلمان یا تو انجیل کی اس ہدایت کو راہ عمل بنائیں جس میں حضرت عیسیٰؑ نے فرمایاہے ’’میں اپنے ہر سننے والے کو بتا رہا ہوں کہ اپنے دشمنوں سے محبت کرو،جو تم سے نفرت کرے ان کے ساتھ حسن سلوک کرو،جو تمہیں بد دعائیں دیں تم انہیں دعائیں دو ،جو تمہارے ساتھ بد سلوکی کر یں ان کے لیے دعا کرو ،اگر کوئی تمہارے ایک رخسار پر طمانچہ مار تا ہے تو دوسرا رخسار بھی اسے پیش کرو‘‘یا پھر مسلمان پوپ بنیڈکٹ۲۰۱۰ء کے کرسمس کی دعامیں شامل ہو جائیں ۔’’خدایا اپنا وعدہ سچا کردے ،ظالموں کے ڈنڈے توڑ دے ،کفش آوارہ گرد کو جلا دے ،خون میں آلود قالینوں کی بساط اُلٹ دے۔‘‘
بہر حال مختلف مغربی ممالک میں حواس با ختگی کی یہ حرکتیں امریکہ کے WISCONSINگرودوارہ قتل عام سے لیکر نیدرلینڈ کے مہاجرین پر نسل کش فائرنگ تک،فادرٹیری جونز کی قرآن مخالف تحریک سے لیکر جینوا کے ترکی سفارتخانہ میں مسجد کے مینارے کی تعمیر پر سوئس حکومت کے ریفرینڈم تک کے واقعات ایک نئے مغرب کی علامت ہیں۔اس مغرب کی علامتیں جو علمی اور اخلاقی سطح پر شکست خوردہ ہے ۔the nationکے اندر کچھ ماہ قبل ایک سرگرم عیسائی Wright Millsنے موجودہ تشدد اور نسلی کشیدگی کے بارے میں عیسائی دنیا کی اکثریت کی خاموشی کے حوالے سے لکھتے ہوئے اسے عیسائی سماج کی شکست سے تعبیر کیا تھا ۔وہ کہتا ہے ’’اس طرح کی حد درجہ اخلاقی گراوٹ کی صدائے باز گشت ،جواب سیاسی قائدین تک سرایت کر چکی ہے ،خاموش رہ کراور چپ بیٹھ کر ظا لمانہ مسائل سے بھرے اس دور میں تم اپنے بانی (حضرت عیسیٰؑ) کے نمونوں کو مزید کمزور کرنے میں مدد گار ثابت ہو رہے ہو۔ عیسائیت آج انسان کی اخلاقی شکست کا سبب بن چکی ہے ‘‘۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *