شپّرہ چشم

روزنامہ صحافت کی 25/09/12کی اشاعت میں سہیل انجم صاحب نے ’’موجودہ حالات اور مسلمانوں کا احتجاجی رویّہ‘‘ میں’ ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات‘ کے اصول کے تحت ساری لعن طعن اور وعظ و نصیحت کا ٹھیکرا مسلمانوں کے سر پھوڑ دیا ہے ۔غیر متعلق مثالیں دیکر اپنی کج فکری کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ۔اگر دنیا میں جمہوریت کا غلغلہ ہے اور ہندوستان سب سے بڑی جمہوریت ہے تواپنے حقوق اور دکھوں کے اظہار اور مسئلہ کے حل کے لیے احتجاج کرناکیا برائی ہے ،دنیا میں یہ کہاں نہیں ہوتا ہے۔ہاں یہ بات الگ ہے کہ دنیا میں ہندوستان کی طرح بے دردری سے گولیاں نہیں چلائی جاتی۔ بات جمہوری ملکوں کی ہو رہی ہے۔ ہندوستان میں بھی گولیاں نہ گوجر مظاہرین پر چلتی ہیں نہ شیو سینیکوں پر چلتی ہیں،نہ جاٹوںپر چلتی ہیں،نہ دلتوں پر چلتی ہیں۔سکھ مظاہرین کے پر امن احتجاج کا جھوٹا فریب سہیل انجم صاحب نے دیا ہے ۔گرودوارہ فائرنگ کے بعد کے دو تین دن کا اخبار اٹھا کر دیکھ لیجیے سکھ مظاہرین کا دہلی میں ننگی ننگی تلواروں کے ساتھ جالندھرو امرتسر وغیرہ میں مظاہر کی تصاویر مل جائیں گی۔
آزاد میدان میں تشدد سازش کانتیجہ تھی جس کی حقیقت کبھی نہ کبھی ……کی طرح انشاء اللہ سامنے آجائیں گی ۔سکھوں نے اپنے تاریخی گرودوارہ میں بے انت سنگھ کے قاتلوں کو مذہبی اعزازات سے نوازا نہ بی جے پی کی ہمت ہوئی ،نہ چدمبرم کی اور نہ سہیل انجم ساحب کی۔فصیح محمود کے تعلق سے مسلمانوں نے آج تک سڑک پر میرے علم کی حد تک کوئی احتجاج نہیں کیا ان کی اہلیہ نے سیدھے سپرم کورٹ میں رٹ دائر کی تھی ،کیا اس کی بھی اجازت مسلمانوں کو نہیں ہے؟
برما اور آسام کے بارے میںمولانا ارشد مدنی صاحب کا بیان آن ریکارڈ موجود ہے کہ انہوں نے حکمرانوں سے بات کی اور توجہ دلائی تھی مگر کیا اثر ہوا تھا ؟سارے مظالم اور سازش کو smsکی افواہیں اڑا کر الٹا مسلمانوں کو مجرم بنا دیا گیا ۔مگر ہندو انتہا پسند تنظیمیں جو اس smsمہم میں شامل تھیں ان پر کیا کارروائی ہوئی؟پر امن احتجاج کو تشدد میں بدلنے کے لیے حکومت کی انتظامیہ میںموجود مسلم دشمن عنصر ذمہ دار ہے جو وقت رہتے مسلمانوں کی آواز پر موثر کاروائی نہیں کرتا ۔U.P.کے مسلمان اس خام خیالی میں مبتلا ہیں کہ’ سیّاں بھئے کوتوال ‘مگر ملائم انتظامیہ بھی تو انہی مسلم دشمن افسروں کے ہاتھوں میں ہے جو ریٹائر ہوتے ہی RSSاور BJPمیں شامل ہو رہے ہیں ۔وہ جب رائفل کے ٹریگروں کے مالک رہتے ہیں تو مسلمانوںکے سینوںپر گولیاں چلاتے ہیں۔
جلوسوں کے تشدد کی طرف جانے کی دوسری اہم وجہ ہمارے نام نہاد قائدین کی تن آسانی ہے۔وہ حالات کی پیش بینی کرکے پہل کر کے قوم کی رہنمائی کرنے کے بجائے سب سے آخر میں شامل ہوتے ہیں اور نہ ہی کوئی موثر رول ادا کرتے ہیں سوائے سجے سجائے اسٹیج پر تقریر کرنے کے ۔اگر ایک ضرورت پید اہوئی تو اس ضرورت کوصحیح طریقہ سے نہیں پورا کیا جائے گا تو غلط راہ سے وہ ضرورت پوری ہونے کا ذمہ دار کون ہوگا؟
مسلمان حکومت کی ایجنسیوں سے کیسے دوستی کریں اس کا طریقہ سہیل صاحب بتادیتے توبہتر ہوتا۔ جن جن لوگوں کو خصوصی ایجنسیوں میں بھرتی کیا گیا ہے وہ کس ذہنیت کے ہوتے ہیں ان کے ذہنوں میںلگاتار کیا ٹھوسا جاتا ہے اس کاہلکا سا نمونہ امریکہ میں فوجیوں کی تربیت کے نصاب کے افشاء ہونے پر سامنے آیا ہے۔کہ اگر ضرورت پڑے تو مکہ اور مدینہ پر بھی حملہ کرو۔ہماری پولیس اور ایجنسیوں کا کار نامہ اور مسلم دشمنی پر ایک دو نہیں درجنوں انکوائری کمیشنوں کی رپورٹیں کافی روشنی ڈالتی ہیں ۔
مسلمان عوام کس کی بات پر بھروسہ کریں کچھ دانشور بتاتے ہیں کہ مسلمان بہت طاقت ور ہیں وہ اتنےMPاور اتنے MLAجتوا سکتے ہیں انہیں حکومت میں حصہ داری لینی چاہیے اور سہیل صاحب جیسے دانشور بتاتے ہیں کہ ’’بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ حق چھین لیا جاتا ہے مانگا نہیں جاتا۔لیکن ایسا اس وقت ہوتا ہے جب حقوق سے محروم لوگوں میں حق چھیننے کی طاقت ہو۔اگرحقدار کے بازوؤں میں طاقت نہیں ہے اور وہ اپنا حق چھیننے کی کوشش کرے گا تواپنا ہی بازو تڑوا بیٹھے گا۔مسلمانوںکو تن کر نہیں …ہو کر اپنے کا م نکالنے ہوں گے‘‘۔
اگر 120کروڑ کے ملک میں 20-25کروڑ کی آبادی سر اٹھا کر اپنی جائز مانگ ،جائز ذرائع سے نہیں مانگ سکتی توکیا اس کو جمہوریت کہیں گے؟ہندوستان میں سینکڑوں جگہ احتجاج فلم کو لے کرہوئے ایک جگہ بھی تشدد نہیں ہوا ،ابھی ایسا سنگین معاملہ جیسا کچھ ماہ قبل ماسکو کی عدالت میں گیتا کی پابندی کے تعلق سے تھا اس وقت ہماری ساری حکومت کیسی سرگرم تھی؟کیسے کیسے احتجاج ہو رہے تھے؟کیا یہ فلم اس سے کم درجہ کا ظلم تھا جو ہماری حکومت احتجاج یا مذمت نہیں کر سکی ؟
عمل اور ردِّ عمل کا فلسفہ بھی خوب ہے ۔گودھرا کے ردّ عمل پر گجرات میں کچھ بھی ہو اسب جائز تھا۔مگر گجرات کے ردّعمل پر کچھ ہوا تو وہ دہشت گردی ہے۔قانونی لڑائی بھی ہم مہلوکین کی نہیں لڑ سکتے وہ بھی دہشت گردوں کی معاونت ہے۔9/11کے ردّ عمل میں اب تک لاکھوں بے گناہ مسلمان ،عورتیں، بچے ،بوڑھے شہید ہو گئے کوئی واویلہ نہیں ہوتا۔امریکی … ردّ عمل میں مارے گئے تو دنیا بھر میں زلزلہ کیوں آگیا؟اگر بے گناہوںکامارا جانا ظلم ہے تو 9/11کے ردّ عمل پر امریکی سرکار کی اندھا دھند تشدد کی پالیسی کیسے جائز ہو گئی۔دنیا اس سچ کو کیوں نہیں بولتی ۔اوبامہ نے تو آج بھی کہا ہے کہ وہ اپنی جمہوری آزادیوں کا تحفظ دنیا کے ہر کونے میں کرے گی یعنی امریکی ہر جگہ فتنہ پھیلاتے رہیں گے ۔سہیل انجم صاحب ایک رمشہ مسیح کے لیے ساری دنیا بولتی ہے مگر لاکھوں گمنام فاطماؤںکے لیے بولنا جرم کیوں ہے ؟عید الاضحی ،حج اور محرم الحرام کی آمد آمد پر مسلمانوں کو سر جھکانے کی تلقین …… فاعتبروایا اولی الابصار

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *