عالمگیر اور دائمی نمونہ عمل صرف محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت ہے

دوستو! آج ہماری بزم کا دوسرا دن ہے۔ اس سے پہلے جو کچھ عرض ہوچکا ہے وہ پیش نظر رہے تو سلسلہ سخن آگے بڑھے۔ میری پچھلی تقریر کا ما حصل یہ تھا کہ انسان کے حال و مستقبل کی تاریکی کو چاک کرنے کے لیے ماضی کی روشنی سے فیض حاصل کرنا ضروری ہے۔ جن مختلف انسانی طبقوں نے ہم پر احسان کیے ہیں، وہ سب شکریہ کے مستحق ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ ہم پر جن بزرگوں کا احسان ہے، وہ انبیائے کرام علیہم السلام ہیں۔ ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے وقت میں اپنی اپنی قوموں کے سامنے اس زمانہ کے مناسب حال اخلاق عالیہ اور صفات کاملہ کا ایک نہ ایک بلند ترین معجزانہ نمونہ پیش کیا۔ کسی نے صبر، کسی نے ایثار، کسی نے قربانی، کسی نے جوش توحید، کسی نے ولولہ حق، کسی نے تسلیم، کسی نے عفت، کسی نے زہد۔ غرض ہر ایک نے دنیا میں انسان کی پر پیچ زندگی کے راستہ میں ایک ایک مینار قائم کردیا ہے۔ جس سے صراط مستقیم کا پتہ لگ سکے۔ مگر ضرورت تھی ایک ایسے رہنما اور رہبر کی جو اس سرے سے لے کر اس سرے تک پوری راہ کو اپنی ہدایت اور عملی مثالوں سے روشن کردے۔ گویا ہمارے ہاتھ میں اپنی عملی زندگی کا پورا گائڈ بک دیدے جس کو لے کر اسی کی تعلیم وہدایت کے مطابق ہر مسافر بے خطر منزل مقصود کا پتہ پا لے۔ یہ راہنما سلسلہ انبیاء علیہم السلام کے آخری فرد حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ ﷺ ہیں۔ قرآن نے کہا ۔
یایھا النبی انا ارسلنک شاھدا و مبشرا و نذیرا و داعیا الی اللہ باذنہ و سراجا منیرا (احزاب ع:۶)
’’اے پیغمبر! ہم نے تجھ کو گواہی دینے والا اور (نیکوں کو) خوشخبری سنانے والا اور (غافلوں) کو ہشیار کرنے والا اور خدا کی طرف اس کے حکم سے پکارنے والا اور ایک روشن کرنے والا چراغ بنا کر بھیجا ہے۔‘‘
آپ ﷺعالم میں خدا کی تعلیم و ہدایت کے شاہد ہیں۔ نیکو کاروں کو فلاح و سعادت کی بشارت سنانے والے مبشر ہیں۔ ان کو جو ابھی تک بے خبر ہیں ہشیار اور بیدار کرنے والے نذیر ہیں۔ بھٹکنے والے مسافروں کو خدا کی طرف پکارنے والے داعی ہیں اور خود ہمہ تن نور اور چراغ ہیں۔ یعنی آپ کی ذات اور آپ کی زندگی راستہ کی روشنی ہے جو راہ کی تاریکیوں کو کافور کر رہی ہے۔ یوں تو ہر پیغمبر خدا کا شاہد، داعی، مبشر اور نذیر وغیرہ بن کر اس دنیا میں آیا ہے۔ مگر یہ کل صفتیں سب کی زندگیوں میں عملاً یکساں نمایاں ہوکر ظاہر نہیں ہوئیں۔ بہت سے انبیاء تھے جو خصوصیت کے ساتھ شاہد ہوئے؛ جیسے حضرت یعقوبؑ، حضرت اسحاقؑ اور حضرت اسماعیل ؑ وغیرہ۔ بہت سے تھے، جو نمایاں طور پر مبشر بنے؛ جیسے حضرت ابراہیمؑ، حضرت عیسیٰؑ۔ بہت سے تھے جن کا خاص وصف نذیر تھا؛ جیسے حضرت نوحؑ، حضرت موسیٰؑ، حضرت ہودؑ اور حضرت شعیبؑ ۔بہت سے تھے جو امتیازی حیثیت سے داعی حق تھے؛ جیسے حضرت یوسفؑ، حضرت یونسؑ۔ لیکن وہ جو شاہد، مبشر، نذیر، داعی، سراج منیر، سب کچھ بیک وقت تھا اور جس کے مرقع حیات میں یہ سارے نقش و نگار عملاً نمایاں تھے، وہ صرف محمد رسول اللہ ﷺعلیہ الصلوات والتحیات تھے۔ اور یہ اس لیے ہوا کہ آپ ﷺ دنیا کے آخری پیغمبر بنا کر بھیجے گئے تھے جس کے بعد کوئی دوسرا آنے والا نہ تھا۔ آپ ﷺ ایسی شریعت لے کر بھیجے گئے جو کامل تھی۔ جس کی تکمیل کے لیے پھر کسی دوسرے کو آنا نہ تھا۔
آپ ﷺکی تعلیم دائمی وجود رکھنے والی تھی، یعنی قیامت تک اس کو زندہ رہنا تھا، اس لیے آ پ ﷺکی ذات پاک کو مجموعہ کمال اور دولت بے زوال بنا کر بھیجا گیا۔
دوستو! یہ جو کچھ میں نے کہا یہ میرے مذہبی عقیدہ کی بنیاد پر محض کوئی دعویٰ نہیں ہے، بلکہ یہ وہ واقعہ ہے جس کی بنیاد دلائل اور شہادتوں پر قائم ہے۔ وہ سیرت یا نمونہ حیات جو انسانوں کے لیے ایک آئیڈیل سیرت کا کام دے اس کے لیے متعدد شرائط کی ضرورت ہے۔ جن میں سب سے پہلی اور اہم شرط تاریخیت ہے۔
تاریخیت: تاریخیت سے مقصود یہ ہے کہ ایک کامل انسان کے جو سوانح اور حالات پیش کیے جائیں وہ تاریخ اور روایت کے لحاظ سے مستند ہوں ان کی حیثیت قصوں اور کہانیوں کی نہ ہو۔ روز مرہ کا تجربہ ہے کہ انسان کی ایک سائیکالوجی یہ ہے کہ کسی سلسلہ حیات کے متعلق اگر یہ معلوم ہوجائے کہ یہ فرضی اور خیالی ہے یا مشتبہ ہے تو خواہ وہ کسی قدر موثر انداز میں کیوں نہ پیش کیا جائے طبیعتیں اس سے دیرپا اور گہرا اثر نہیں لیتیں۔ اس لیے ایک کامل سیرت کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اس کی تمام اہم اجزا کی تاریخیت پر یقین ہو، یہی سبب ہے کہ تاریخی افسانوں سے جو اثر طبیعتوں میں پیدا ہوتا ہے وہ خیالی افسانوں سے نہیں ہوتا۔
دوسرا سبب تاریخی سیرت کے ضروری ہونے کا یہ ہے کہ آپ اس سیرت کاملہ کا نقشہ محض دلچسپی یا فرصت کے گھنٹوں کی مشغولی کے لیے نہیں پیش کرتے۔ بلکہ اس غرض سے پیش کرتے ہیں کہ ہم اپنی زندگی اس نمونہ پر ڈھالیں اور اس کی پیروی و تقلید کریں۔ لیکن وہ زندگی اگر تاریخی اور واقعی طور سے ثابت نہیں تو آپ کیونکر اس کے قابل عمل اور پیروی و تقلید کے لائق ہونے پر زور دے سکتے ہیں۔ کہا جاسکتا ہے کہ یہ فرضی اور میتھالوجیکل قصے ہیں جن پر کوئی انسان اپنی عملی زندگی کی بنیاد نہیں ڈال سکتا۔ اس لیے کیا پر اثر ہونے کے لیے اور کیا قابل عمل اور لائق تقلید ہونے کے لیے سب سے پہلے ضروری یہ ہے کہ اس کامل انسان کی سیرت تاریخی اسناد کے معیار پر پوری اترے۔
ہم تمام انبیائے کرام علیہم السلام کا ادب اور احترام کرتے ہیں اور ان کے سچے پیغمبر ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ لیکن بفحوائے تلک الرسل فضلنا بعضھم علی بعض ’’یہ پیغمبر ہیں جن میں سے بعض کو بعض پر ہم نے فضیلت دی ہے۔‘‘ دوام بقا، ختم نبوت اور آخری کامل انسانی سیرت ہونے کی حیثیت سے محمد رسول اللہ ﷺ کو جو خاص شرف عطا ہوا ہے، وہ دیگر انبیاء ؑ کو اس لیے نہیں مرحمت ہوا کہ ان کو دائمی، آخری اور خاتم نبوت نہیں بنایا گیا تھا۔ ان کی سیرتوں کا مقصد ایک خاص قوم کو ایک خاص زمانہ تک نمونہ دینا تھا۔ اس لیے اس زمانہ کے بعد بتدریج وہ دنیا سے مفقود ہوگئیں۔
غور کرو کہ ہر ملک میں، ہر قوم میں، ہر زمانہ میں، ہر زبان میں کتنے لاکھ انسان خدا کا پیغام لے کر آئے ہوں گے۔ ایک اسلامی روایت کے مطابق ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے مگر آج ان میں سے کتنوں کے نام ہم جانتے ہیں اور جتنوں کے نام جانتے بھی ہیں ان کا حال کیا جانتے ہیں؟ دنیا کی تمام قوموں میں سب سے زیادہ قدیم اور پرانے ہونے کا دعویٰ ہندوؤں کو ہے۔ گو وہ مسلم نہیں لیکن بغور دیکھو کہ ان کے مذہب میں سینکڑوں کیریکٹروں کے نام ہیں۔ مگر ان میں سے کسی کو ’’تاریخی‘‘ ہونے کی عزت حاصل نہیں ہے۔ ان میں سے بہتیرے کے تو نام کے سوا کسی اور چیز کا ذکر تک نہیں اور میتھالوجی سے آگے بڑھ کر تاریخ کے میدان میں ان کا گزر بھی نہیں۔ ان میں بہتر سے بہتر معلوم کیریکٹر وہ ہیں جو مہا بھارت اور رامائن کے ہیرو ہیں۔ مگر ان کی زندگی کے واقعات میں سے تاریخ کس کو کہہ سکتے ہیں۔ یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ زمانہ کے کس دور اور دور کی کس صدی کے کس سال کے واقع ہیں۔
اب یورپ کے بعض علماء بیسیوں قیاسات سے کچھ کچھ تقریبی یا تخمینی زمانوں کا تعین کرتے ہیں اور انہی کو ہمارے ہندو تعلیم یافتہ اصحاب اپنے علم کی سند جانتے ہیں۔ لیکن یورپ کے محققین میں سے زیادہ تر تو ان کو تاریخ کا درجہ بھی نہیں دیتے اور یہ تسلیم نہیں کرتے کہ یہ فرضی داستانیں کبھی عالم وجود میں بھی آئی تھیں۔
ایران کے پرانے مجوسی مذہب کا بانی زرتشت اب بھی لاکھوں آدمیوں کی عقیدت کا مرکز ہے۔مگر اس کی تاریخی شخصیت بھی قدامت کے پردہ میں گم ہے۔ یہاں تک کہ اس کے تاریخی وجود کے متعلق بھی بعض شکی مزاج امریکی اور یورپین علماء کو شبہہ ہے۔ مستشرقین میں سے جو لوگ اس کے تاریخی وجود کو تسلیم کرتے ہیں، سینکڑوں قیاسات سے اس کے حالات زندگی کی کچھ کچھ تعیین کرتے ہیں۔ تاہم وہ بھی مختلف محققین کی باہمی متضاد رایوں سے اس قدر مشکوک ہیں کہ کوئی انسان ان کے بھروسہ پر اپنی عملی زندگی کی بنیاد نہیں قائم کرسکتا۔ زرتشت کی جائے پیدائش، سال پیدائش، قومیت، خاندان، مذہب، تبلیغ مذہب، مذہبی صحیفہ کی اصلیت، زبان، سال وفات، جائے وفات، ان میں سے ہر ایک مسئلہ سینکڑوں اختلافات کا مرجع ہے اور صحیح روایتوں کا اس قدر فقدان ہے کہ بجز تخمینی قیاسات کے اور کوئی روشنی ان سوالات کی تاریکیوں کو دور نہیں کرسکتی۔ با ایں ہمہ پارسی اصحاب ان مشکوک قیاسی باتوں کا علم براہ راست اپنی روایتوں سے نہیں رکھتے بلکہ یورپین اور امریکن اسکالرز کی تلقینات سے وہ ابھی سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور جو ان کے ذاتی ذرائع علم ہیں وہ فردوسی کے شاہنامہ سے آگے نہیں بڑھتے۔ یہ عذر بے کار ہے کہ یونانی دشمنوں نے ان کو مٹادیا۔ یہاں بہر حال ہم کو صرف اتنا بتانا ہے کہ وہ مٹ گئے۔ خواہ وہ کسی طرح سے مٹے ہیں، اور یہی اس بات کی دلیل ہے کہ ان کو دوام اور بقاء کی زندگی نہ ملی اور کرن (Kern) اور ڈارمیٹیٹر (Darmeteter) جیسے محققین کو زرتشت کی شخصیت تاریخی سے انکار کرنا پڑا۔
قدیم ایشیا کا سب سے زیادہ وسیع مذہب بودھ ہے جو کبھی ہندوستان، چین اور تمام ایشیائے وسطی، افغانستان، ترکستان تک پھیلا ہوا تھا اور اب بھی برما، سیام چین، جاپان اور تبت میں موجود ہے۔ ہندوستان میں تو یہ کہنا آسان ہے کہ برہمنوں نے اس کو مٹادیا اور ایشیائے وسطیٰ میں اسلام نے اس کا خاتمہ کردیا۔ مگر تمام ایشیائے اقصیٰ میں تو اس کی حکومت، اس کی تہذیب، اس کامذہب تلوار کی قوت کے ساتھ ساتھ قائم ہے اور اس وقت سے اب تک غیر مفتوح ہے۔ لیکن کیا یہ چیزیں بدھ کی زندگی اور سیرت کو تاریخی روشنی میں برقرار رکھ سکیں؟ اور ایک مورخ اور سوانح نگار کے تمام سوالات کا وہ تشفی بخش جواب دے سکتی ہیں؟ خود بدھ کے زمانہ وجود کی تعیین مگدھ دیش کے راجاؤں کے واقعات سے کی جاتی ہے ورنہ کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے اور ان راجاؤں کا زمانہ بھی اس طرح متعین ہوسکا ہے کہ ان کے سفارتی تعلقات اتفاقاً یونانیوں سے قائم ہوگئے تھے۔ جینی مذہب کے بانی کا حال اس سے بھی زیادہ غیر یقینی ہے اور چین کے ایک بانی مذہب کنفیوشس کی نسبت ہم کو بودھ سے بھی کم واقفیت ہے، حالانکہ اس کے ماننے والوں کی تعداد کروڑوں سے بھی زیادہ ہے۔
سامی قوم میں سینکڑوں پیغمبر آئے۔ لیکن نام کے سوا تاریخ نے ان کا اور کچھ حال نہ جانا۔ حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت ہودؑ، حضرت صالحؑ، حصرت اسماعیلؑ، حضرت اسحاقؑ، حضرت یعقوبؑ، حضرت زکریاؑ، حضرت یحییٰؑ کے حالات اور سیرتوں کے ایک ایک حصہ کے علاوہ کیا ہم کوکوئی کچھ بتا سکتا ہے؟ ان کی سیرتوں کے ضروری اجزاء تاریخ کی کڑیوں سے بہر حال گم ہیں۔ اب ان کی مقدس زندگیوں کے ادھورے اور نامربوط حصے کیا ایک کامل انسانی زندگی کی تقلید اور پیروی کا سامان کر سکتے ہیں؟ قرآن مجید کو چھوڑ کر یہودیوں کے جن اسفار میں ان کے حالات درج ہیں، ان میں سے ہر ایک کی نسبت محققین کو مختلف شکوک ہیں اور اگر ان شکوک سے ہم قطع نظر بھی کرلیں تو ان کے اندر ان بزرگوں کی تصویریں کس درجہ ادھوری ہیں۔
حضرت موسیٰؑ کا حال ہم کو تورات سے معلوم ہوتا ہے۔ مگر خود وہ تورات جو آج موجود ے، اہل تحقیق کے بیان کے مطابق جیسا کہ خود مصنفین انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا تسلیم کرتے ہیں ، حضرت موسیٰؑ کے صدہا سال کے بعد عالم وجود میں آئی ہے۔ اس پر بھی اب جرمن اسکالرز نے پتہ لگایا ہے کہ موجودہ تورات میں پہلو بہ پہلو ہر واقعہ کے متعلق دو مختلف صورتوں یا روایتوں کا سلسلہ ہے جو باہم کہیں کہیں متضاد ہیں اور یہی سبب ہے کہ تورات کے سوانح و واقعات میں ہر قدم پر ہم کو تضاد بیان سے سابقہ پڑتا ہے۔ اس تھیوری کی تفصیل انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے آخری ایڈیشن کے آرٹیکل ’’بائبل‘‘ میں موجود ہے۔ اب ایسی صورت میں حضرت موسیٰؑ بلکہ حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت موسیٰؑ تک کے واقعات کی تاریخی حیثیت کیا رہ جاتی ہے۔
حضرت عیسیٰؑ کے حالات انجیلوں میں درج ہیں۔ مگر ان بہت سی انجیلوں میں سے آج عیسائی دنیا کا بڑا حصہ صرف چار انجیلوں کو تسلیم کرتا ہے۔ باقی انجیل طفولیت، انجیل برنا باس وغیرہ نامستند ہیں۔ ان چار انجیلوں میں سے ایک انجیل کے لکھنے والے نے بھی حضرت عیسیٰؑ کو خود نہیں دیکھا تھا۔ ٰؑ انھوں نے کس سے سن کر یہ حالات کا مجموعہ لکھا یہ بھی معلوم نہیں۔ بلکہ اب تو یہ بھی مشکوک سمجھا جاتا ہے کہ جن چار آدمیوں کی طرف ان کی نسبت کی جاتی ہے وہ نسبت صحیح بھی ہے۔ یہ بھی واضح طورسے ثابت نہیں کہ وہ کن زبانوں میں اور کن زمانوں میں لکھی گئیں۔ ۶۰ء ؁سے لے کر بعد کے متعدد مختلف سالوں تک مختلف مفسرین اناجیل ان کی تصنیف کا زمانہ بتاتے ہیں۔ حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش، وفات اور تثلیث کی تعلیم ان سب کو سامنے رکھ کر اب بعض امریکن نقاد اور ریشنلسٹ یہ کہنے لگے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ کا وجود محض فرضی ہے او ران کی پیدائش اور تثلیث کا بیان یونانی اور رومی میتھالوجی کی محض نقالی ہے کیونکہ اس قسم کے خیالات ان قوموں میں مختلف دیوتاؤں اور ہیروؤں کے متعلق پہلے سے موجود تھے۔ چنانچہ شکاگو کے مشہور رسالہ روپن کورٹ میں مہینوں حضرت عیسیٰؑ کے فرضی وجود ہونے پر بحث رہی ہے۔ اس بیان سے عیسائی روایتوں کے ذریعہ سے حضرت عیسیٰؑ کی زندگی کی تاریخی حیثیت کتنی کمزور معلوم ہوتی ہے۔
کاملیت: کسی انسانی سیرت کے دائمی نمونہ عمل بننے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے صحیفہ حیات کے تمام حصے ہماری نگاہوں کے سامنے ہوں۔ کوئی واقعہ پردہ راز اور ناواقفیت کی تاریکی میں گم نہ ہو، بلکہ اس کے تمام سوانح اور حالات روز روشن کی طرح دنیا کے سامنے ہوں تاکہ معلوم ہو کہ اس کی سیرت کہاں تک انسانی سوسائٹی کے لیے ایک آئیڈیل زندگی کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس معیار پر اگر شارعین ادیان او ربانیان مذاہب کے سوانح اور سیرتوں پر نظر ڈالو تو معلوم ہوگا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سوا اور کوئی ہستی اس معیار پر پوری نہیں اترتی اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ خاتم الانبیاء ہوکر دنیا میں تشریف لائے تھے۔ ہم کہہ چکے ہیں کہ ہزاروں لاکھوں انبیاء علیہم السلام اور مصلحین دین کے زمرہ میں سے صرف تین چار ہی ہستیاں ایسی ہیں جو تاریخی کہی جاسکتی ہیں۔ لیکن کاملیت کی حیثیت سے وہ بھی پوری نہیں ہیں۔ غور کرو کہ مردم شماری کے لحاظ سے آج بودھ کے پیرو دنیا کی آبادی کے چوتھائی حصہ پر قابض ہیں۔ مگر با ایں ہمہ تاریخی حیثیت سے بودھ کی زندگی صرف چند قصوں اور کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ لیکن اگر ہم انھی قصوں اور کہانیوں کو تاریخ کا درجہ دے کر بودھ کی زندگی کے ضروری سے ضروری اور اہم سے اہم اجزاء تلاش کریں تو ہم کو ناکامی ہوگی۔ ان قصوں اور کہانیوں سے ہم کو زیادہ سے زیادہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی زمانے میں نیپال کی ترائی کے کسی ملک میں ایک راجہ کا لڑکا تھا۔ جس نے فطرتاً سوچنے والی طبیعت پائی تھی۔ جوان ہونے اور ایک بچے کا باپ بننے کے بعد اتفاقاً اس کی نظر چند مصیبت زدہ انسانوں پر پڑی۔ اس کی طبیعت بے حد متاثر ہوئی اور وہ گھر بار چھوڑ کردیس سے نکل گیا اور بنارس، گیا، پاٹلی پتر (پٹنہ) اور راجگیر (بہار) کے کبھی شہروں میں اور کبھی جنگلوں اور پہاڑوں میں پھرتا رہا اور خدا جانے عمر کی کتنی منزلیں طے کرنے کے بعد اس نے ’’گیا‘‘ کے ایک درخت کے نیچے انکشاف حقیقت کا دعویٰ کیا اور بنارس سے بہار تک اپنے نئے مذہب کا وعظ کہتا رہا، پھر اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ یہ خلاصہ ہے بودھ کے متعلق ہماری معلومات کا۔
زرتشت بھی ایک مذہب کابانی ہے۔ مگر ہم بتا چکے ہیں کہ قیاسات کے سوا اس کی زندگی اور سیرت کا بھی سراغ نہیں ملتا۔ ان قیاسات سے بھی جو کچھ معلوم ہوا ہے اس کو ہم بجائے اپنی زبان سے کہنے کے بیسویں صدی کے مستند خلاصہ معلومات یعنی انسا ئیکلو پیڈیا برٹانیکا کے آرٹیکل زر اسٹر سے یہاں نقل کرتے ہیں:
’’زرتشت کی جس شخصیت سے (گاتھا کے) ان اشعار میں ہماری ملاقات ہوتی ہے وہ نئے اوستا کے زرتشت سے بالکل مختلف ہے۔ وہ ٹھیک متضاد ہے۔ اس دوسرے افسانہ کی معجزانہ شخصیت سے (ا س کے بعد گاتھا کے کچھ واقعی حالات نقل کرکے مضمون نگار لکھتا ہے) تاہم ہم یہ توقع نہ کریں کہ ہم گاتھا سے زرتشت کے فیصلہ کن حالات جان سکتے ہیں۔ وہ ہم کو زرتشت کی لائف کا کوئی تاریخی بیان نہیں دیتی اور جو کچھ ملتا بھی ہے اس کے معنی یا تو صاف نہیں ہیں یا غیر مفہوم ہیں۔‘‘
زرتشت کے متعلق موجودہ زمانے کی تصنیفات کا باب شروع کرتے ہوئے مضمون نگار لکھتا ہے:
’’اس کی جائے پیدائش کی تعین کے متعلق شہادتیں متضاد ہیں۔‘‘
اس کے زمانہ کے تعین کے متعلق بھی یونانی مورخین کے بیانات، نیز موجودہ محققین کے قیاسات مختلف ہیں۔ مضمون نگار لکھتا ہے:
’’زرتشت کے زمانہ سے ہم قطعاًناواقف ہیں۔‘‘
بہر حال جو کچھ ہم کو معلوم ہے وہ یہ ہے کہ آذر بائیجان کے کسی مقام میں پیدا ہوئے۔ بلخ وغیرہ کی طرف تبلیغ کی۔ ہشتا سپ بادشاہ نے اس کے مذہب کو اختیار کیا۔ کچھ اس نے غیر معمولی معجزے دکھائے۔ اس نے شادی بیاہ کیا اولادیں ہوئیں اور پھر کہیں مرگیا۔ کیا ایسی نامعلوم ہستی کے متعلق کوئی کاملیت کا گمان بھی کرسکتا ہے اور اس کی زندگی انسانی سوسائٹی کے لیے چراغ راہ بن سکتی ہے یا بنائی جاسکتی ہے؟
انبیائے سابقین ؑمیں سب سے مشہور زندگی حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی ہے۔ موجودہ تورات کے مستند یا غیر مستند ہونے کی بحث سے قطع نظر کرکے ہم اس کے بیانات کو بالکل صحیح تسلیم کیے لیتے ہیں۔ تاہم تورات کی پانچوں کتابوں سے ہم کو حضرت موسیٰؑ کی زندگی کے کس قدر اجزاء ہاتھ آتے ہیں؟ جو کچھ ہے وہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰؑ پیدا ہوکر فرعون کے گھر پرورش پاتے ہیں۔ جوان ہوکر فرعونیوں کے مظالم کے خلاف بنی اسرائیل کی ایک دو موقعوں پر مدد کرتے ہیں۔ پھر مصر سے بھاگ کر مدین آتے ہیں۔ یہاں شادی ہوتی ہے اور معتد بہ زمانہ تک یہاں زندگی بسر کرکے مصر واپس جاتے ہیں۔ راہ میں نبوت سے سرفراز ہوتے ہیں۔ فرعون کے پاس پہنچتے ہیں معجزات دکھاتے ہیں اور بنی اسرائیل کو مصر سے لے جانے کی رخصت چاہتے ہیں۔ رخصت نہیں ملتی۔ بالآخر غفلت میں مع اپنی قوم کے نکل جاتے ہیں۔ خدا کے حکم سے سمندر میں ان کو راہ مل جاتی ہے۔ فرعون غرق ہوجاتا ہے اور وہ اپنی قوم کو لے کر عرب اور شام میں داخل ہوتے ہیں۔ کافر باشندوں سے لڑائیاں پیش آتی ہیں۔ اسی حالت میں جب وہ بہت بوڑھے ہوجاتے ہیں تو ایک پہاڑی پر ان کی وفات ہوجاتی ہے۔ تورات استثنا کے اختتامی فقرے میں ہے۔
’’سو خداوند کا بندہ موسیٰ خداوند کے حکم کے موافق مو اب کی سر زمین میں مرگیا اور اس نے اسے مواب کی ایک وادی میں بیت نفور کے مقابل گاڑا۔ پر آج کے دن تک کوئی اس کی قبر کو نہیں جانتا اور موسیٰؑ اپنے مرنے کے وقت ایک سو بیس برس کا تھا اور اب تک بنی اسرائیل میں موسیٰ کے مانند کوئی نبی نہیں ہوا۔‘‘
۱- یہ تورات کی پانچویں کتاب کے فقرے ہیں جس کی تصنیف بھی حضرت موسیٰؑ کی طرف منسوب ہے۔ ان فقروں میں سب سے پہلے آپ کی نظر اس پر پڑنی چاہیے کہ یہ پوری کتاب یا اس کے آخری اجزاء حضرت موسیٰؑ کی تصنیف نہیں۔ لیکن با ایں ہمہ دنیا حضرت موسیٰؑ کے اس سوانح نگار سے واقف نہیں ہے۔
۲- ان ورسوں کے الفاظ ’’آج تک اس کی قبر کو کوئی نہیں جانتا‘ اور اب تک ایسا کوئی نبی بنی اسرائیل میں نہیں ہوا‘‘ ظاہر کرتے ہیں کہ سوانح موسوی کے یہ تکمیلی اجزاء اتنی مدت دراز کے بعد لکھے گئے ہیں جس میں ایک مشہور یادگار کو لوگ بھول سکتے ہیں۔ اور ایک نئے پیغمبر کے ظہور کی توقع کی جاسکتی تھی۔
۳- حضرت موسیٰؑ نے ایک سو بیس برس کی عمر پائی۔ مگر غور سے دیکھو کہ اس ایک سو بیس برس کی عمر میں طویل زمانہ کی وسعت کو بھرنے کے لیے ہم کو حضرت موسیٰؑ کے کیا واقعات معلوم ہوئے ہیں اور ان کے سوانح کے ضروری اجزاء ہمارے ہاتھ میں کیا ہیں؟ پیدائش، جوانی میں ہجرت، شادی اور نبوت کے واقعات معلوم ہیں۔ پھر چند لڑائیوں کے بعد بڑھاپے میں ایک سو بیس برس کی عمر میں ان سے ملاقات ہوتی ہے۔ ان واقعات کو جانے دیجئے۔ یہ تو شخصی حالات ہیں جو ہر شخص کی زندگی میں الگ الگ پیش آتے ہیں۔ انسان کو اپنی سوسائٹی کے عملی نمونہ کے لیے جن اجزاء کی ضرورت ہے وہ اخلاق و عادات اور زندگانی کے طور و طریق ہیں اور یہی اجزاء حضرت موسیٰؑ کی پیغمبرانہ سوانح عمری سے گم ہیں۔ ورنہ عام جزئی حالات یعنی اشخاص کے نام و نسب، مقامات کے پتے، مردم شماریاں اور قانونی قال و اقوال بہت کچھ تورات میں مذکور ہیں۔ مگر یہ معلومات خواہ جغرافیہ، کرانو لوجی، نسب ناموں اور قانون دانی کے لیے کسی قدر ضروری کیوں نہ ہوں مگر عملی حیثیت سے بالکل بیکار اور اجزائے سوانح کی کاملیت سے معرا ہیں۔
اسلام سے سب سے قریب العہد پیغمبر حضرت عیسیٰؑ ہیں جن کے پیرو آج یورپین مردم شماری کے مطابق تمام دوسرے مذاہب کے پیروؤں سے زیادہ ہیں۔ مگر یہ سن کر آپ کو حیرت ہوگی کہ اسی مذہب کے پیغمبر کی زندگی کے اجزاء تمام دوسرے مشہور مذاہب کے بانیوں اور پیغمبروں کے سوانح سے سب سے زیادہ کم معلوم ہیں۔ آج عیسائی یورپ کے تاریخی ذوق کا یہ حال ہے کہ وہ بابل و اسیریا، عرب و شام، مصر و افریقہ، ہندوستان و ترکستان کے ہزارہا برس کے واقعات کتابوں اور کتبوں کو پڑھ کر اور کھنڈروں، پہاڑوں اور زمین کے طبقوں کو کھود کر منظر عام پر لا رہا ہے اور دنیا کی تاریخ کے گمشدہ اوراق از سر نو ترتیب دے رہا ہے۔ مگر اس کا مسیحائی معجزہ جس چیز کو زندہ نہیں کرسکتا وہ خود حضرت عیسیٰؑ کی زندگی کے مدفون واقعات ہیں۔ پروفیسر رینان نے کیا کیا نہ کیا مگر حضرت عیسیٰؑ کے واقعات زندگی نہ ملنا تھے نہ مل سکے۔
انجیل کے بیان کے مطابق حضرت عیسیٰ کی زندگی ۳۳ برس کی تھی۔ موجودہ انجیلوں کی روایتیں اولاً تونا معتبر ہیں اور جو کچھ ہیں بھی وہ صرف ان کے آخری تین سالوں کی زندگی پر مشتمل ہیں۔ ہم کو ان کی تاریخی زندگی کے صرف یہ حصے معلوم ہیں۔ وہ پیدا ہوئے اور پیدائش کے بعد مصر لائے گئے۔ لڑکپن میں ایک دو معجزے دکھائے۔ اس کے بعد وہ غائب ہو جاتے ہیں اور پھر یک بیک تیس برس کی عمر میں بپتسمہ دیتے اور پہاڑیوں اور ردیاؤں کے کنارے ماہی گیروں کو وعظ کہتے نظر آتے ہیں چند شاگرد پیدا ہوتے ہیں۔ یہودیوں سے چند مناظرے ہوتے ہیں، یہودی ان کو پکڑوا دیتے ہیں‘ رومی گور نر کی عدالت میں مقدمہ پیش ہوتا ہے اور سولی دے دی جاتی ہے۔ تیسرے دن ان کی قبران کی لاش سے خالی نظر آتی ہے۔ تیس برس اور کم از کم پچیس برس کا زمانہ کہاں گزرا اور کیونکر گزرا؟ دنیا اس سے ناواقف ہے اور رہے گی۔ ان تین آخری برسوں کے واقعات میں بھی کیا ہے؟ چند معجزے اور مواعظ اور آخری سولی!
جامعیت: کسی سیرت کے عملی نمونہ بننے کے لئے تیسری ضروری شرط ’’جامعیت‘‘ہے۔ جامعیت سے مقصود یہ ہے کہ مختلف طبقات انسانی کو اپنی ہدایت اور روشنی کیلئے جن نمونوں کی ضرورت ہوتی ہے یا ہر فرد انسان کو اپنے مختلف تعلقات و روابط اور فرائض وواحببات کو ادا کرنے کیلئے جن مثالوں اور نمونوں کی حاجت ہوتی ہے وہ سب اس’’آئیڈیل زندگی ‘‘ کے آئینہ میں موجود ہوں ۔ اس نقطہ نگاہ سے کبھی دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ سوائے خاتم الا نبیاء علیہ السلام و الصلوۃ کے کوئی دوسری شخصیت اس معیار پر پوری نہیں اترتی۔ مذہب کیا چیز ہے؟ خدا اور بندوں اور باہم بندوں کے متعلق جو فرائض اور واجبات ہیں ان کو تسلیم کرنا اور ادا کرنا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بجالانے کا نام ہے۔ اس لئے ہر مذہب کے پیروؤں کا فرض ہے کہ وہ اپنے اپنے پیغمبروں اور بانیوں کی سیرتوں میں ان حقوق ‘فرائض اور واجبات کی تفصیلات تلاش کریں اور ان کے مطابق اپنی زندگی کواس قالب میں ڈھالنے کی کوشش کریں۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں حیثیتوں سے جب آپ تفصیلات ڈھونڈیں گے تووہ پیغمبر اسلا م ﷺکے سوا آپ کو کہیں نہیں ملیں گی۔
مذاہب ود قسم کے ہیں‘ ایک وہ جن میں یا تو خدا تسلیم ہی نہیں کیا گیا ہے جیسا کہ بودھ اورجین مذہب کے متعلق کہاجاتا ہے اس لئے ان مذہبوں میں تو خدا اس کی ذات و صفات اور دیگر حقوق الٰہی کاپتہ ہی نہیں اور اس لئے اس کے بانیوں میں محبت الٰہی، خلوص، توحید پرستی وغیرہ کی تلاش ہی بے کار ہے۔ دوسرے وہ مذاہب ہیں جنہوں نے خدا کو کسی نہ کسی رنگ میں تسلیم کیا ہے۔ ان مذہبوں کے پیغمبروں اور بانیوں کی زندگیوں میں بھی خدا طلبی کے واقعات مفقود ہیں۔ خدا تعالیٰ کے متعلق ہم کو کیا اعتقادات رکھنے چاہئیں اور ان کے کیا اعقتادات تھے اور ان اعقتادات پر ان کو کس حد تک عملاّ یقین تھا اس کی تفصیل سے ان کی سیرتیں خالی ہیں۔ پوری توراۃ کی پانچ کتابوں میں کوئی ایسا فقرہ نہیں جس سے یہ معلوم ہو کہ حضرت موسیٰ کے تعلقات قلبی اور طاعت و عبادت اور خدا پر توکل و یقین، خدا کی صفات کا ملہ والہیہ کی جلوہ گری ان کے قلب اقدس میں کہاں تک تھی۔ حالانکہ اگر موسوی مذہب ہمیشہ کیلئے اور آخری مذہب کے طور پر آیا ہو تا تو اس کے پیروؤں کا فرض تھا کہ وہ ان واقعات کو قید تحریر میں لاتے مگر خدا کی مصلحت یہ نہ تھی اس لئے ان کو اس کی توفیق نہ ملی۔
حضرت عیسیٰؑ کی زندگی کا آئینہ انجیل ہے۔ انجیل میں اس ایک مسئلہ کے علاوہ کہ خدا حضرت عیسیٰ کا باپ تھا، ہم کو یہ نہیں معلوم ہوتا کہ اس دنیاوی زندگی میں اس مقدس باپ اور بیٹے میں کیا تعلقات اور روابط تھے۔ بیٹے کے اقرار سے یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ باپ کوبیٹے سے بڑی محبت تھی۔ مگر یہ نہیں معلوم ہوتا کہ بیٹے کو باپ سے کس درجہ محبت تھی؟ وہ کہاں تک اپنے باپ کی اطاعت اور فرمابرداری میں مصروف تھا۔ وہ اس کے آگے شب وروز میں کبھی جھکتا بھی تھا اور ’’آج کی روٹی‘‘کے علاوہ کوئی اور چیز بھی اس نے کبھی اس سے مانگی؟ گرفتاری کی رات سے پہلے کوئی ایک رات بھی اس پر ایسی گزری جب وہ باپ کے حضور میں دعا مانگ رہا ہو۔ پھر ایسی سیرت سے ہم روحانی حیثیت سے کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟ اگر حضرت عیسیٰ کی سیرت میں خدا اور بندہ کے تعلقات واضح ہوتے تو ساڑھے تین سو برس کے بعد پہلے عیسائی بادشاہ کو نیس میں تین سو عیسائی علماء کی مجلس اس کے فیصلہ کے لئے فراہم کرنی نہ پڑتی اور وہ اب تک ایک نا قابل فہم راز نہ بنے رہتے۔
اب حقوق العباد کی حیثیت کولیجئے تو اس سے بھی حضرت خاتم النبینﷺ کے سوا تمام دیگر انبیاء علیہم السلام اور بانیان مذاہب کی سیرتیں خالی ہیں۔ بودھ نے اپنے تمام اہل و عیال اور خاندان کو چھوڑ کر جنگل کا راستہ لیا اور پھر کبھی اپنی پیاری بیوی سے، جس سے اس کو محبت تھی اور اپنے اکلوتے بیٹے سے کوئی تعلق نہ رکھا۔ دوستوں کے جھرمٹ سے علیحدہ ہوگیا۔ حکومت اور سلطنت کے بار گراں سے سبکدوشی حاصل کی اور نروان یا موت کے حصول کو انسانی زندگی کا آخری مقصد قرار دیا۔ ان حالات میں کیا کوئی انسان یہ سمجھ سکتا ہے کہ اس دنیا کے بسنے والوں کیلئے جن میں حکومت و رعیت، شاہ و گدا‘ آقا و نوکر‘باپ بیٹے‘ بھائی بہن اور دوست احباب کے تعلقات ہیں، بودھ کی سیرت کچھ کا آمد ہوسکتی ہے؟ کیا بودھ کی زندگی میں کوئی ایسی جامعیت ہے جو تارک الدنیا بھکشوؤں اور کارو باری انسانوں دونوں کیلئے قابل تقلید ہو ۔اسی لیے اس کی زندگی کبھی بھی اس کے ماننے والے کارو باریوں کیلئے قابل تقلید نہ بنی ۔ورنہ چین و جاپان‘ سیام و ایام‘تبت وبرما کی تمام سلطنتیں تجار تیں‘ صناعیان اور دیگر کارباری مشاغل فوراً بند ہوجاتے اور بجائے آباد شہروں کے صرف سنسان جنگلوں کا وجودرہ جاتا۔
حضرت موسیٰؑ کی زندگی کا ایک ہی پہلو نہایت واضح ہے اور وہ جنگ اور سپہ سالاری کا پہلو ہے۔ورنہ اس کے علاوہ ان کی سیرت کی پیروی کرنے والوں کیلئے دنیاوی حقوق، واجبات، فرائض اور ذمہ داریوں کا کوئی نمونہ موجود نہیں ہے۔ میاں بیوی،باپ بیٹے ،بھائی بھائی،دوست اجباب کے متعلق ان کا کیا طرز عمل تھا؟ صلح کے فرائض میں ان کا کیا دستور تھا؟ اپنے مال و دولت کو کن مفید کاموں میں انہوں نے لگایا؟بیماروں، یتیموں، مسافروں اور غریبوں کے ساتھ ان کا کیا برتاؤ تھا اور ان کے ماننے والے ان امور میں ان کی زندگی کی مثالوں سے کیونکر فائدہ اٹھائیں؟ حضرت موسیٰؑ بیوی رکھتے تھے، بچے رکھتے تھے، بھائی رکھتے تھے، دوسرے اعزہ اور متعلقین رکھتے تھے اور ہمارا اعتقاد ہے کہ ان کا پیغمبرا نہ طرز عمل یقیناً ہر حرف گیری سے پاک ہوگا مگر ان کی موجود سیرت کی کتابوں میں ہم کو یہ یہ ابواب نہیں ملتے جو ہمارے لئے قابل تقلید اور نمونہ ہوں۔
حضرت عیسیٰ کی ماں تھیں اور انجیل کے بیان کے مطابق ان کے بھائی بہن بھی تھے بلکہ مادی باپ تک بھی موجودہ تھا، مگر ان کی زندگی کے واقعات ان عزیزوں اور رشتہ داروں کے ساتھ ان کا تعلق، طرز عمل، سلوک اور برتاؤ نہیں ظاہر کرتے۔ حالانکہ دنیا ہمشہ انہی تعلقات سے آبادرہی ہے اور رہے گی۔ مذہب کا بڑا حصہ ان ہی کی متعلقہ ذمہ داریوں کے ادا کرنے کا نام ہے۔ علاوہ ازیں حضرت عیسیٰ نے محکومی کی زندگی بسر کی۔ اس لئے ان کی سیرت تمام حاکمانہ فرائض کی مثالوں سے خالی ہے۔ وہ متاہل نہ تھے۔ اس لئے ان دو جوڑیوں کیلئے جن کے درمیان تورات کے پہلے ہی باب نے ماں باپ سے زیادہ مضبوط رشتہ قائم کیا ہے، حضرت عیسیٰؑ کی زندگی تقلید کا کوئی سامان نہیں رکھتی اور چونکہ دنیا کی بیشتر آبادی متاہلانہ زندگی رکھتی ہے، اس لئے اس کے معنی یہ ہیں کہ دنیا کے بیشتر حصہ آبادی کیلئے ان کی سیرت نمونہ نہیں بن سکتی۔ جس نے گھر بار اہل وعیال،مال و دولت، صلح و جنگ، دوست ودشمن کے تعلقات سے کبھی واسطہ ہی نہ رکھا ہو وہ اس دنیا کیلئے، جو انہی تعلقات سے معمور ہے،کیونکر مثال ہو سکتا ہے۔ اگر آج دنیا یہ زندگی اختیار کرلے تو کل وہ سنسان قبرستان بن جائے، تمام ترقیاں دفعۃً رک جائیں اور عیسائی یورپ تو شاید ایک منٹ کیلئے بھی زندہ نہ رہے۔
عملیت:’’آئیڈیل لائف‘‘ کاسب سے آخری معیار’’عملیت‘‘ ہے۔ عملیت سے یہ مقصود ہے کہ شارع دین اور بانی مذہب جس تعلیم کو پیش کر رہا ہو خود اس کا ذاتی عمل اس کی مثال اور نمونہ ہو اور خود اس کے عمل نے اس کی تعلیم کو عملی یعنی قابل عمل ثابت کیا ہو۔ خوش کن سے خوش کن فلسفہ، دلچسپ سے دلچسپ نظریہ اور خوش آئند سے خوش آئند اقوال ہر شخص ہر وقت پیش کر سکتا ہے۔ انسانی سیرت کے بہتر اور کامل ہونے کی دلیل اس کے نیک اور معصوم اقوال خیالات اور اخلاقی و فلسفیانہ نظرئیے نہیں بلکہ اس کے اعمال اور کار نامے ہوتے ہیں۔ اگر یہ معیار قائم نہ کیا جائے تو اچھے اور برے کی تمیز اٹھ جائے اور دنیا صرف باتیں بنانے والوں کا مسکن رہ جائے۔ اب مجھے پوچھنے دیجئے کہ لاکھوں شار عین اور ہزاروں بانیانِ مذاہب ہیں سے کون اپنی عملی سیرت کو اس ترازو پر تلوانے کیلئے آگے بڑھ سکتا ہے؟
’’تو اپنے خدا وند سے اپنی ساری جان اور دل سے پیار کر، تو دشمن سے پیارکر، جو تیرے داہنے گال پر تھپڑمارے تو اس کے سامنے اپنا بایاں گال بھی پھیردے، جو تجھ کو ایک میل بے گار لے جائے تو اس کے ساتھ دو میل جا، جو تیرا کوٹ مانگے تو اس کو کرتہ بھی دے دے، تو اپنے تمام مال و اسباب کو خدا کی راہ میں دیدے، تو اپنے بھائی کو ستر دفعہ معاف کر، آسمان کی باد شاہت میں دولت مند کا داخل ہونا مشکل ہے۔‘‘
یہ اور اسی قسم کی بہت سی نصیحتیں نہایت دل خوش کن ہیں۔ مگر عمل سے ان کی تصدیق نہ ہو تو وہ سیرت کا ٹکڑا نہیں‘ بلکہ وہ صرف معصوم شیریں زبانیوں کا ایک مجموعہ ہیں۔ جس نے اپنے دشمن پر قابو نہ پایا ہو وہ عفو کی عملی مثال کیسے پیش کرسکتا ہے۔ جس کے پاس خود کچھ نہ ہو‘ وہ غریبوں اور مسکینوں اور یتیموں کی مدد کیو نکرکر سکتا ہے۔ جو عزیز و اقارب بیوی بچے نہ رکھتا ہو، وہ انہی تعلقات سے آباد دنیا کیلئے مثال کیونکر بن سکتا ہے ۔جس نے بیماروں کی تیمارداری اور عیادت نہ کی ہو، وہ اس کا وعظ کیونکر کہہ سکتا ہے۔ جس کوخود دو سروں کومعاف کرنے کا موقع نہ ملا ہواس کی زندگی ہم میں سے غضب ناک اور غصہ ور لوگوں کیلئے نمونہ کیسے بنے گی۔
غور فرمائیے نیکیاں دو قسم کی ہوتی ہی۔ ایک سلبی اور دو سری ایجابی مشلاً آپ پہاڑ کے ایک کھوہ میں جاکر عمر بھر کے لئے بیٹھ گئے تو صرف یہ کہنا صحیح ہوگا کہ بدیوں اور برائیوں سے آپ نے پر ہیز کیا۔ یعنی آپ نے کوئی کام ایسا نہیں کیا جو آپ کیلئے قابل اعتراض ہو۔ مگر یہ تو سلبی تعریف ہوئی۔ ایجابی پہلو آپ کا کیا ہے؟ آپ نے غریبوں کی مدد کی، محتاجوں کو کھانا کھلایا، کمزوروں کی حمایت کی،ظالموں کے مقابلہ میں حق گوئی سے کام لیا، گرتوں کو سنبھالا، گمراہوں کو راستہ دکھایا۔ عفو، کرم، سخا، مہمان نوازی، حق گوئی، رحم، حق کی نصرت کیلئے جوش،جدو جہد، مجاہدہ، ادائے فرض،ذمہ داریوں کی بجا آوری،غرض تمام وہ اخلاق جن کا تعلق عمل سے ہے، وہ صرف سلب فعل اور عدم عمل سے نیکیاں نہیں بن جائیں گے۔ ’’نیکیاں صرف سلبی پہلوہی نہیں رکھتیں، زیادہ تر ایجابی اور عملی پہلو پر ان کا مدار ہوتا ہے۔‘‘ اس تقریر سے ظاہر ہوگا کہ جس سیرت کاعملی حصہ سامنے نہ ہوا اس کو ’’آئیڈیل لائف‘‘ اور قابل تقلید زندگی کا خطاب نہیں دیا جاسکتا کہ انسان اس کی کس چیز کی نقل کرے گا؟ اور کس عمل سے سبق حاصل کرے گا؟ ہم کو تو صلح و جنگ، فقرو دولت، ازدواج و تجرد، تعلقات خداوندی و تعلقات عباد، حاکمیت ومحکومیت، سکون و غضب، جلوت و خلوت غرض زندگی کے ہر پہلو کے متعلق عملی مثال چاہئے۔ دنیا کا بیشتر بلکہ تمام تر حصہ انہی مشکلات اور تعلقات میں الجھا ہوا ہے۔ اس لئے لوگوں کو انہی مشکلات کے حل کرنے اور انہی تعلقات کو بوجہ احسن انجام دینے کیئے عملی مثالوں کی ضرورت ہے۔ قولی نہیں بلکہ عملی۔ لیکن یہ کہنا شاعری اور خطابت نہیں بلکہ تاریخی واقعہ ہے کہ اس معیار پر بھی سیرت محمدﷺ کے سوا کوئی دوسری سیرت پوری نہیں اتر سکتی۔
میں نے آج جو کچھ کہا ہے اس کو اچھی طرح سمجھ لیجئے۔میں یہ کہنا اور دکھانا چاہتا ہوں کہ آئیڈیل لائف اور نمونہ تقلید بننے کیلئے جو حیات انسانی منتخب کی جائے ضروری ہے کہ اس کی سیرت کے موجودہ نقشے میں یہ چار باتیں پائی جائیں۔ یعنی تاریخیت، جامعیت،کاملیت اور عملیت۔ میرا یہ مقصد نہیں کہ دیگر انبیاء علیہم السلام کی زندگیاں ان کے عہد اور زمانہ میں ان خصوصیات سے خالی تھیں۔ بلکہ مقصد یہ ہے کہ ان کی سیرتیں جو ان کے بعد عام انسانوں تک پہنچیں یا جو آج موجودہ ہیں،وہ ان خصوصیات سے خالی ہیں اور ایسا ہو نا مصلحت الہی کے مطا بق تھا تا کہ یہ ثا بت ہو سکے کہ وہ انبیا محد ود زمانہ اور متعین قو مو ں کیلے تھے ۔ اس لئے ان کی سیرتوں کو دو سری قوموں اور آئندہ زمانے تک محفوظ رہنے کی ضرورت نہ تھی ۔ صرف محمد رسول اللہﷺ تمام دنیا کی قوموں کیلئے اور قیا مت تک کے لیے نمو نہ عمل اور قابل تقلید بناکر بھیجے گئے تھے اس لئے آپ ﷺ کی سیرت کو ہر حیثیت سے مکمل،دا ئمی اور ہمیشہ کیلئے محفوظ رہنے کی ضرورت تھی اور یہی ختم نبوت کی سب سے بڑی عملی دلیل ہے۔ ماکان محمد ابااحدمن رجا لکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *