غازی زاہد حسین

سال ۱۹۶۱ئ؁ میں ایک عیسائی مبلغ پادری سیموئیل نے مغلپورہ ورکشاپ میں دوران ِ تبلیغ آنحضور ﷺ کی شان میں کچھ نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ زاہد حسین اور اس کے ساتھیوں نے سیموئیل کو سختی سے منع کیا کہ وہ اپنی ہرزہ سرائی بند کرے، لیکن وہ شیطان اپنی شرارت سے باز نہ آیا، جس پر زاہد حسین نے مشتعل ہوکر اس گستاخ کا سر پھاڑ دیا، جس کے نتیجہ میں وہ بدبخت ہلاک ہوگیا۔ زاہد حسین نے عدالت کے روبرو اعتراف قتل کرلیا، جس پر اس کو اشتعال انگیزی کی بنا پر صرف جرمانہ کی سزا دی گئی۔ اس کے خلاف ہائی کورٹ میں نگرانی دائر کی گئی جو خارج ہوئی۔ اس مقدمہ کی پیروی ڈاکٹر جاوید اقبال ریٹائرڈ جج سپریم کورٹ نے کی جو اس وقت پیشہ قانون سے وابستہ تھے اور ان کی معاونت برادر عزیز میاں شیر عالم نے کی تھی۔
سال ۱۹۶۴ئ؁ میں اس غازی زاہد حسین کو جب یہ معلوم ہوا کہ لاہور کی ایک عیسائی مشنری کی مشہور دکان پاکستان بائبل سوسائٹی انار کلی میں ایک رسوائے زمانہ کتاب ’’اثمار ِ شیریں‘‘ فروخت ہورہی ہے، جس میں رسول کریم ﷺ کے بارے میں توہین آمیز مواد موجود ہے۔ اس پر یہ مرد غازی ایک بار پھر تڑپ اٹھا اور اپنے معتمد ساتھی الطاف حسین شاہ کے ساتھ مل کر اس نے بائبل سوسائٹی کی اس دکان میں، جہاں یہ کتاب فروخت ہو رہی تھی، آگ لگا دی اور اس کے منیجر ہیکٹر گوہر مسیح پر الطاف حسین شاہ نے پستول سے قاتلانہ حملہ کردیا لیکن وہ بال بال بچ گیا۔ عدالت کے سامنے جب یہ مقدمہ پیش ہوا تو ان دونوں نے بلا پس و پیش اقبال جرم کیا، جس پر علاقہ مجسٹریٹ نے دونوں کو تین تین سال سزائے قید سنائی اور ایڈیشنل جج لاہور نے اس سزا کو بحال رکھا۔ اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں نگرانی دائر ہوئی۔ زاہد حسین کے عزیزوں کو جو اس مقدمے کی پیروی کر رہے تھے، خواب میں بشارت ہوئی کہ میاں شیر عالم ایڈو و کیٹ کو ملزمان کی جانب سے وکیل مقرر کریں۔ چنانچہ ان کی جانب سے میاں شیر عالم اور استغاثے کی جانب سے مسٹر جرمی ریٹائرڈ پبلک پر اسیکیوٹرپیش ہوئے۔ مقدمہ جب جسٹس شیخ شوکت علی کے سامنے پیش ہوا، تو فاضل جج نے مسٹر جرمی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’’اگرچہ کہ وہ خود ایک گنہگار مسلمان اور مذہبی رواداری کی حمایت میں ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں، لیکن اس کتاب میں پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں جو قابل اعتراض باتیں منسوب کی گئی ہیں، وہ ان کے لیے بھی ناقابل برداشت ہیں، جنھیں پڑھ کر ان کا خون بھی کھول رہا ہے۔‘‘ اس لیے انھوں نے ملزم کو مزید قید میں رکھنے سے انکار کردیا اور حکومت کو ہدایت کی کہ وہ اس کتاب کو فوری طور پر ضبط کرلے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *