غازی عبد الرشید شہیدؒ

جمعرات 23دسمبر 1926ء کو دلّی کے ایک خوشنو یس قاضی عبدالرشید ؒنے غیرت اسلامی کے جذبے سے سرشار ہو کر فتنۂ ارتداد (شدھی) کے بانی اور بار گاہ رسالت ﷺکے شاتم سوامی شردھانند کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا اور اس سعادت عظمیٰ کے صلے میں پھانسی کے تختے پر حیات ابدی حاصل کی تھی ۔
ہماری نئی نسلیں اب اس غریب کاتب کو بھولتی جا رہی ہیں جس نے شاہ بطحاؐ کی ناموس پر قربان ہو کر اپنے ایمان کامل کا ثبوت دیا تھا ۔
شردھانند ،جالندھر (مشرقی پنجاب ) کا رہنے ولا تھا ۔اصلی نام لالہ منشی رام تھا ۔ آریہ سماج کا بہت پر جوش و باعمل کارکن تھا ۔دیا نند اینگلو وہدک کالج لاہور کے انتظامی معاملات میں پرنسپل ہنس راج سے اختلاف ہوا تو ڈی اے وی کالج کے مقابلہ میں ہر دوار کے قریب موضع کانگڑی میں ایک گروکل قائم کر ڈالا، جسے آج شمالی ہند میں آریہ سماج کے ایک اہم تعلیمی و تبلیغی مرکز کی حیثیت حاصل ہے ۔
شردھانند نے عرصہ سے دلی میں سکونت اختیار کر رکھی تھی اور یہیں سے اس نے شدھی کی آگ بھڑکانے کے لیے اردو میں روزنامہ ’’تیج‘‘ اور اس کے بیٹے نے ہندی میں روزنامہ ’’ارجن ‘‘ جاری کیا۔
لمبا قد تھا ،گندمی رنگ ،داڑھی مونچھ صاف ،سرمنڈا ہوا ، بڑی بڑی آنکھیں ،آواز بہت بلند سادھوؤں کا رنگین لباس، قتل کے وقت عمر پینسٹھ (65)سال کے لگ بھگ ہوگی ۔میرے سامنے شردھانند کی زندگی کے تین روپ ہیں ۔پہلا روپ میں نے خود نہیں دیکھا ۔سنا اور خبار میں پڑھا ہے ۔دوسرے دو روپ اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں ۔
پہلا روپ’’قوم پروری‘‘کا روپ ہے۔1919؁ء میں جب آل انڈیا کانگریس کا سالانہ اجلاس پنڈت موتی لال نہرو کی زیر صدارت امرتسر میں منعقد ہوا تو شردھانند مجلس استقبالیہ کا چیئر مین تھا۔ اس نے اپنے خطبۂ صدارت میں ترکوں کے مصائب سے گہری ہمدردی ظاہر کی تھی اور خلافت کی بحالی کے لیے ہندو مسلم اتحاد پر زور دیا تھا ۔مولانا محمد علی اور مولانا شوکت علی چھندواڑہ(سی -پی)جیل سے رہا ہوکر جب کانگریس کے اجلاس میں شریک ہونے کے لیے سیدھے امرتسر پہنچے تو اس منظر کو دیکھنے والے بہت لوگ زندہ ہیں کہ مجلس استقبالیہ کے صدر شردھانند بڑی بے تابی سے کانگریسی پنڈال میں دوڑ کر علی برادران سے بغل گیر ہوئے تھے اور اسے ہندو مسلم اتحاد کا ناقابل شکست مظاہرہ بتایا تھا ۔
شردھا نند کا جو دوسرا روپ میں نے اپنی آنکھو ں سے دیکھا ،وہ غالباً1922ء کا ابتدائی حصہ تھا ۔مولانا محمد علی کے اخبار ’’ہمدرد‘‘ میں اعلان ہوا ۔شہر میں پوسٹر لگائے گئے کہ جامع مسجد میں نماز جمعہ کے بعد ’’شری سوامی شردھانند جی مہاراج ‘‘ہندو مسلم اتحاد کے موضوع پر مسلمانوں سے خطاب فرمائیں گے۔
دلی کی جامع مسجد …..دنیائے اسلام کی ایک حسین ترین و مقبول ترین عبادت گاہ …..میں ایک ہندو سنیاسی کی تقریر….بات تو انوکھی سی تھی۔ مگر وہ زمانہ تحریک خلافت کے شباب کا تھا ۔اگرچہ ہندوؤں کے دلوں میں اس وقت بھی مسلمانوں کے خلاف بغض و نفرت کی چنگاریاں دبی ہوئی تھیں ۔مگر صاف دل مسلمانوں کو اپنے ’’ہندو بھائیوں ‘‘کے خلوص پر بہت اعتماد تھا ۔جامع مسجد میں یوں تو ہر جمعہ کو بالعموم نو دس ہزار مسلمان شریک نماز ہوتے ہیں لیکن آج کے جمعہ کا پوچھنا ہی کیا ۔جمعۃ الوداع کا ہلکا سا نقشہ نگاہوں کے سامنے آگیا۔عظیم الشان صحن کے علاوہ صحنچیاں،بر جیاں اور چھتیں لوگوں سے پٹی پڑی تھیں ۔تینوں بڑے دروازوں کے باہر بھی لوگوں کے ٹھٹ لگے تھے۔
نماز ختم ہوتے ہی مولانا محمد علی نے شردھانند کی آمد کا اعلان کیا ۔تھوڑی دیر بعد پر جوش نعروں اور خلافتی رضا کاروں کے جلومیں شردھا نند عالم اسلام کی اس مایہ ناز مسجد میں داخل ہوا۔
مسجد کے پیش طاق یا درمیانی در کے سنگ ، سنگ باسی کا شاندار مکبر سلطنت مغلیہ کے آخری دور کی صناعی کا بہت دلکش نمونہ ہے ۔مولانا محمد علی کے ساتھ شردھا نند اس بلند و بالا مکبر پر برا جمان ہوا ۔ مولانا کی مختصر تعارفی تقریر کے بعد اس مکبر سے جہاں ہمیشہ تکبیر کی آوازیں گونجتی تھیں ،تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ہندو سادھو کی آواز تقریر بن کر گونجی ۔میں اس وقت حوض کے آخری مشرقی کنارے پر تھا ۔شردھا نند کی تقریر اصول و غایت کے اعتبار سے جیسی کچھ بھی ہو لیکن منافقت کا شاہکار ضرور تھی ۔شردھانند نے دل کا بھید چھپانے میں کمال کر دیا ۔اس کے ہر لفظ سے مترشح ہوتا تھا کہ اسے مسلمانوں سے بے پناہ محبت ہے اور وہ ہندو مسلم اتحاد کو آزادی کی کنجی سمجھتا ہے ۔یہ بات کسی کے وہم وگمان میں نہ آسکتی تھی کہ ہندو مسلم اتحاد کا یہی پر چارک سادھو صرف چند ماہ بعد اسلام اور مسلمان کا سب سے بڑا دشمن بن کر میدان میں آئے گا اور ہندوستان سے مسلمانوں کا نام و نشان مٹانے کے لیے شدھی اور سنگھٹن جیسی خطرناک تحریکیں جاری کرے گا ۔
شردھانند کا جو تیسرا روپ میرے سامنے آیا وہ بہت ہی اشتعال انگیز ،گھناؤنا اور قابل نفرت تھا۔ غالباً1923 ء کے آغاز میں اس کو دفعہ 124الف کے تحت قید سخت کی سزا ہوئی تھی لیکن وہ معافی مانگ کر جیل سے رہا ہوگیا اور اس نے انگریز حکام کو خوش کرنے اور کچھ متعصب ہندوؤ ں کے جذبۂ اسلام دشمنی کو تسکین دینے کے لیے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تحریروں اور تقریروں کا لامتناہی سلسلہ شروع کر دیا ۔شردھا نند نے جیل سے رہا ہونے کے بعد روز نامہ’’تیج ‘‘ کے ایک مضمون میں اسلام پر جو پہلا حملہ کیا تھا ،اس کے نجس الفاظ مجھے اب تک یا د ہیں ۔
تحریک ترک موالات دم توڑ رہی تھی ۔چنانچہ بڑے بڑے ہندو لیڈروں کے عملی اشتراک، آشیر باد اور بھاری سرمائے سے مسلمانوں کے خلاف شدھی اور سنگٹھن کی تحریکیں شروع کی گئیں ۔شدھی کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو جو ہندوؤں کے بیان کے مطابق ہندو نسل سے تعلق رکھتے ہیں ،اسلام سے منحرف کرکے دوبارہ ہندو بنا لیا جائے اور سنگٹھن کا مقصد یہ تھا کہ ہندوستان سے مسلمانوں کا وجود ختم کرنے کے لیے نہ صرف مختلف مکاتب فکر کے ہندوؤں بلکہ سکھوں اور بودھوں کو بھی عظیم تر ہندو قومیت کے نام پر متحد کیا جائے اور جارحانہ حملوں کے لیے فوجی لائنوں پر مسلح دستے مرتب کیے جائیں ۔
یو پی کے بعض اضلاع میں کئی لاکھ کم تعلیم یا فتہ مسلمان راجپوت آباد تھے جنہیں ملکانہ کے لقب سے یا دکیا جاتا تھا ۔شدھی کا پہلا سخت حملہ انہی علاقوں پر ہوا ۔ملکانہ راجپو توں کو دین اسلام سے منحرف کرنے کے لئے لالچ اور تشدد کے سارے حربے استعمال کیے گئے ۔تھوڑے بہت غریب راجپو توں کا ایمان روپیہ کی طاقت سے خریدا گیا اور جو لوگ اسلام کا دامن چھوڑنے کو تیار نہ ہوئے ،ان کے گھروں کو لوٹا اور جلا یا گیا اور ان کے ناموس پر حملے کیے گئے ۔۔
شدھی کے خطرناک فتنے کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام قابل ذکر علماء و مشائخ اور اکابر و مشاہیر نے جس اتحاد اور عزم و استقلال کا مظاہرہ کیا ،اسے اسلامی ہند کی تاریخ ہمیشہ فخر سے یاد رکھے گی ۔شدھی اور سنگٹھن کا معاملہ اگر سنجیدہ مباحث اور علمی دلائل تک محدود رہتا تب بھی غنیمت تھا ،لیکن شردھا نند اور اس کے آریہ سماجی بھکتوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف غلیظ گالیوں ،بہتان تراشیوں اور انتہائی اشتعال انگیز یوں کو اپنا مستقل شعار بنا لیا۔ روز نامہ ’’تیج ‘‘دہلی میں شردھا نند کے قلم سے اسلام اور مسلمانوں کو گالیاں دی جاتی تھیں اور قرآن مجید کی آیتوں کا مذا ق فحش الفاظ میں اڑایا جاتا تھا ۔ہندی اخبار ’’ارجن ‘‘میں ہندوؤں کو مشتعل کرنے کے لیے عہدِسابق کے مسلم سلاطین کے فرضی مظالم کی کہا نیاں بہت بڑھا چڑھا کر شائع کی جاتی تھیں اور کوئی دن ایسانہ گزرتا تھا جب ہندو عورتوں کے اغوا اور مسلمانوں کے ہاتھوں ان کے بے عزت کیے جانے کے دوچار جھوٹے قصے درج نہ کئے جاتے ہوں ۔ایک آریہ سماجی نے قرآن مجید کا جواب لکھنا شروع کیا ۔شردھا نند کی آشیر واد سے ایک اخبار ’’گرو گھنٹال‘‘جاری کیا گیا تھا جس کا مقصد مسلمانوں اور ان کے مقدس رہنماؤں کو (جن میں اولیاء کرام بھی شامل تھے) انتہائی شرمناک الفاظ میں گالیاں دینا تھا ۔
شردھا نند کے ایک چیلے نے ’’جڑپٹ‘‘کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں حضور سرکار دو عالم ﷺ اور دیگر انبیاء کرام ،خاص کر حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑ ،حضرت لوط ؑ ،حضرت ایوب، ؑ حضرت اسحاق ؑ کی شان میںاس قدر سخت گستاخیاں با لکل عریاں الفاظ میں کی گئی تھیںکہ اس خباثت کا تصور بھی مشکل ہے۔ ’’جڑپٹ‘‘میرے دفتر ’’ریاست ‘‘میں ریویو کے لیے آئی تھی اور دل پر پتھر رکھ کر اسے ایک نظر دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا۔
شردھانند کا کلیجہ اس قدر سخت اشتعال انگیزیوں پر بھی ٹھنڈا نہ ہو ااور اس نے خاندان مغلیہ کی بے گناہ شہزادیوں کے خلاف فحش ڈرامے لکھنے کی تحریک سارے ملک میں شروع کردی ۔چنانچہ اس نوعیت کے کئی ڈرامے اردو ہندی میں لکھے گئے ۔شہزادی زینت آرا بیگم کے متعلق ایک ڈرامہ اخبار ’’ریاست‘‘میں میری نظر سے گزرا ہے جس میں اس پاک دامن شہزادی کو انتہائی بد چلن عورت کے روپ میں پیش کیا گیا تھا ۔بعد میں جب آریہ سماجیوں نے اس ناپاک ڈرامے کو سٹیج پر پیش کرنے کی کوشش کی تو کئی شہروں میں ہنگامے بھی ہوئے ۔
مسلمانوں کے سینے میں بھی دل تھا ۔وہ غلامانِ بارگاہِ رسالت کی شان اقدس و اعلیٰ میں شرمناک گستاخیاں، انبیاء کرام پر پرخباثت جملے ،قرآن کریم کی آیتوںکامذاق اور بے گناہ مغل شہزادیوں کے خلاف فحش ڈرامے ،جو سب کچھ شردھانند کی قیادت میں شردھانند کے اشارے سے ہو رہا تھا ،کب تک برداشت کرتے ۔ ضبط و صبر کی آخر حد ہوتی ہے جس سے آگے بڑھنے کا نام بے غیرتی ہے ۔
قاضی عبد الرشید مرحوم پیشہ کے لحاظ سے خوش نویس تھے ۔لمبا قد، چھریر ا جسم ،گندمی رنگ ،لمبا چہرہ،کرتا پاجامہ،ترکی ٹوپی ،یہ ان کی عام پوشاک تھی ۔شردھا نند کے زمانۂ قتل کے قریب اخبار ’’ریاست‘‘ میں فرائض کتابت انجام دیتے تھے ۔دفتر کوچہ بلاقی بیگم دہلی میں تھا ۔گلی میں دروازہ اور سپلینڈ روڈ کے سامنے بر آمدہ ۔قید علائق سے آزاد ہونے کے باعث میں ’’ریاست ‘‘کے دفتر ہی میں دن رات رہتا تھا ۔قاضی صاحب کی نشست میری میز کے قریب تھی ۔دفتر میں آریہ سماجیوں کے جو اخبارات و رسائل اور دیگر پمفلٹ اور ڈرامے وغیرہ تبادلہ ور یویوکی غرض سے دفتر میں آتے رہتے تھے ،وہ بہت غور و سنجیدگی سے پڑھتے رہتے تھے ۔نماز کے بہت پابند تھے۔ دفتر کے اوقات میں ظہر وعصر کی نمازیں ہمیشہ دریبہ کی مسجد میں جماعت سے ادا کرتے تھے اور آریہ سماجیوں کی نجس و ناپاک حرکتوں سے ان کے جذبات بے انتہا مجروح ہو چکے تھے ۔
واقعۂ قتل سے چار دن پیشتر قاضی عبدالرشید مرحوم بہت گم سم رہتے تھے ۔کام میں دل نہ لگتا تھا ۔جب تک جی چاہتا کتابت کرتے اور جب چاہتے تو برآمدے میں بچھے ہوئے کھرے پلنگ پر پڑے رہتے تھے ۔ ’’ریاست‘‘ کے پروپرائٹر سردار دیوان سنگھ ان دنوں نابھہ کے معزول آنجہانی مہاراجہ پردھن سنگھ کے کسی سیاسی و ذاتی کام سے دو ہفتوں کے لیے شملہ گئے ہوئے تھے ،دفتر کے انتظامات درست رکھنے اور اخبار کو بر وقت نکالنے کی ساری ذمہ داری میرے اور سردار گجن سنگھ منیجر کے ذمے تھی ۔قاضی عبدالرشید مرحوم کو میں نے ان کی بے جہتی پر ایک دو مرتبہ ٹوکا لیکن کوئی اثر نہ ہوا ۔
جمعرات (23 دسمبر )کو اخبار کی آخری کا پی پریس بھجنے کے لیے جوڑی جارہی تھی ۔دفتر کا وقت نو بجے مقرر تھا ۔دن کے ساڑھے گیارہ بج رہے تھے اور منشی قاضی عبدالرشید کا پتہ نہ تھا ۔چند اشتہاروں کے چربے اور مسودے انہی کے پاس تھے ۔قاضی صاحب کے اس قدردیر سے آنے پر ہیڈ کاتب منشی نظیر حسین میرٹھی نے اعتراض کیا تو جھلا کر جواب دیا ۔’’چولہے میں گئی تمہاری کاپی ‘‘یہ کہہ کر کام کرنے کے بجائے بر آمدے میں پلنگ پر لیٹ رہے ۔میں نے اعتراض کیا ۔کچھ جواب نہ دیا ۔میں نے سردار گجن سنگھ مینجر سے شکایت کی ۔ان کے اصرار پر برہم ہوگئے ۔بولے ’’مجھے نوکری کی پروا نہیں ،لکھ دوا پنے سردار کو، میں کام نہیں کرتا ۔’’یہ کہہ کر پلنگ سے اٹھے ،قلمدان بغل میں دبایا اور چل دیئے ۔چار پانچ بجے سہ پہر کے درمیان دریبہ کے ہندو علاقے میں سنسنی بے چینی سی محسوس ہوئی سامنے سڑک پر ایک دو زخمی بھی گزرے ۔اس زمانے میں خبر رسانی کے ذرائع بہت محدود تھے۔ شہر میں ٹیلی فون تک کم تعداد میں تھے ۔ ساڑھے پانچ چھ بجے شام کے درمیان روزنامہ ’’تیج ‘‘کا ضمیمہ شائع ہوا جس میں شردھا نند کے قتل کی تفصیلات کے ساتھ قاضی عبدالرشید کی تصویر بھی تھی ،کہ ہتھکڑیاں پہنے پولیس کی حراست میں کھڑے تھے اور جسم پر چادر ہے ۔تفصیلات سے معلوم ہوا کہ قاضی مرحوم اسی چادر میں پستول چھپا کر شردھانند کے دفتر گئے تھے اور اسے گولی کا نشانہ بنا دیا تھا ۔
قاضی صاحب نے عدالت میں اقبال جرم کیا ۔15مارچ1926؁ء کو سیشن کورٹ سے پھانسی کی سزا کا حکم سنایا گیا۔سیف الدین کچلو نے سیشن کورٹ میں کسی معاضہ کے بغیر پیروی کرنے کے علاوہ لاہور ہائیکورٹ میں اپیل بھی دائر کی مگر مسترد ہوگئی اور جولائی 1927ء کے آخری ہفتے یا اگست کے اوائل میں غازی عبدالرشید نے دلی سنٹرل جیل میں پھانسی کے تختے پر جام شہادت نوش کیا ۔
پھانسی کے دن سنٹرل جیل کے سامنے مسلمانوں کا بے پناہ ہجوم تھا ۔ہزاروں برقع پوش عورتوں کے علاوہ بہت سے بچے بھی غیرت اسلامی کے جذبے سے مخمور ہوکر گھروں سے باہر نکل پڑے تھے ۔ لاش کو جیل کے اندر ہی غسل وکفن دیا گیا اور حکام نے جیل کے احاطے ہی میں دفن کرنے کا ارادہ کیا تھا لیکن عمائد شہر کے شدید اصرار پر شہید عبدالرشید کے وارثوں کو اس شرط پر لاش دینے کا فیصلہ کیا گیا کہ جنازہ کا جلوس نہیں نکالا جائے گا اور اسے جیل کے سامنے والے قبرستان میں نذر لحد کر دیا جائے گا ،لیکن جیل کا پھاٹک کھلتے ہی جب عاشق رسول کا جنازہ باہر نکلا تو مسلمانوں کا زبردست ہجوم اللہ اکبر اور یا رسول اللہ کے نعرے لگاتاہوا دیوانہ وار ٹوٹ پڑا۔جنازے کو حکام سے چھین لیا اور سامنے قبرستان لے جانے کے بجائے جامع مسجد روانہ ہو گیا ۔
نعرۂ تکبیر کی معجز نما اثر انگیز ی کا یہ کرشمہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ خونی دروازے کے سامنے مسلح پولیس کے کئی سو آدمیوں نے صف بندی کرکے راستہ روک دیا تھا ۔جابجا گورا فوج کے جوان متعین تھے لیکن مسلمانوں کا ہجوم عاشق رسول عبدالرشید کے جنازے کو لیکر خونی دروازے کے سامنے پہنچا اور اللہ اکبر کا نعرہ لگایا تو اللہ تعالیٰ جاننے والا ہے کہ پولیس کے مسلح جوانوں کی صف کائی کی طرح پھٹ گئی ۔گورا فوج کے جوان سنگینیں تانے کھڑے رہے اور جنازے کا جلوس اس صفائی سے آگے بڑھا کہ جیسے صابن سے تار نکلتا ہے ۔مسلح پولیس نے کئی بار راستہ روکنے کی کوشش کی مگر ناکام رہی ۔ناموس رسول پر جان دینے والے عبدالرشید کی نماز جنازہ جامع مسجد میں پچاس ساٹھ ہزار مسلمانوں نے پڑھی ( اس وقت دلی کی پوری آبادی تین لاکھ کے قریب تھی ) نماز کے بعد شہر کے ممتاز مسلمانوں کی رائے تھی کہ لاش کو جیل کے سامنے والے قبرستان میں پہنچادیا جائے جہاں قبر پہلے سے تیار تھی اور شہدا کے ورثاء متعلقہ حکام سے لاش کی واپسی کا مطالبہ کر رہے تھے لیکن غازی انوارالحسن مرحوم ( جو پہلے کانگریسی تھے ،بعد میں انہوں نے دلی میں مسلم لیگ کے ایک با اثر رہنما کی حیثیت سے شہرت حاصل کی۔ افسوس ہے کہ چند سال بیشتر ان کا انتقال لاہور میں ہوگیا ) کی قیادت میں پر جوش طبقے نے جنازے کو حضرت خواجہ باقی باللہ نقشبندی کی درگاہ مبارک میں دفن کرنے کا فیصلہ کیا جو جامع مسجد سے کم وبیش تین میل دور ہے ۔دلی کے مستقل کوتوال شہر دیوی دیال نے ان دنوں رخصت لے رکھی تھی ۔شیخ نذیر الحق قائم مقامی کے فرائض انجام دے رہے تھے ۔کئی گھنٹوں کی مسلسل جدوجہد کے بعد مسلح پولیس نے گورا فوج کی مدد سے جنازے پر نماز مغرب سے پیشتر قطب روڈ کے پل پر اس وقت قبضہ کیا جبکہ مسلمان حضور خواجہ باقی باللہ کی درگاہ مبارک کے قریب پہنچ چکے تھے ۔جنازہ،قبر ستان میں مرحوم کے ورثاء کے حوالے کیا گیا ۔عاشق رسول عبدالرشید ؒ کو ان کی ابدی خوابگاہ کی نذر کر دیا گیا ۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *