غا زی عبد القیوم شہید

’’اسیں گلاں ای کردے رہے تے ترکھا نا ں دامنڈا بازی لے گیا‘‘
ہم یہاں بیٹھے باتیں ہی بناتے رہے اور ایک بڑھئی کا بیٹا بازی مار لے گیا۔
یہ ہے مفکروںکے صدر نشین علامہ اقبال ؒکا خراج تحسین ،ضرب حیدری اور رسم شبیری تازہ کرنے والے عاشق جانباز غازی علیم الدین شہید کی خدمت میں ۔
ایسے ہی تاثرا ت کا اظہار انہوں نے غازی عبدالقیوم شہید کے بارے میں کیا تھا ،جب ،مسلمانوں کے ایک وفد نے علامہ اقبال کی خدمت میں حاضر ہوکر درخواست کی کہ غازی عبدالقیوم شہیدکی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کے لیے وائسرائے ہند سے سفارش کی جائے تو پہلے وہ گہری سوچ میں ڈوب گئے ،پھر عجیب تیوروں کے ساتھ پوچھا ’’کیوں ،کیا عبدالقیوم کمزور پڑ گیا ہے ؟‘‘ جواب ملا :’’نہیں ‘‘۔
پھر آپ نے تفسیر خودی ان الفاظ میں بیان فرمائی:
نظر اللہ پہ رکھتا ہے مسلمان غیور
موت کیا شے ہے فقط عالم معنی کا سفر
ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ
قدر وقیمت میں ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر
آہ !اے مرد مسلماں تجھے کیا یاد نہیں
حرف لا تدع مع اللہ الٰھا آخر
غازی عبدالقیوم خان ایک بوڑھے چچا ،ایک ضعیف ماں اور ایک بیوہ بہن کی روزی کا کفیل اور ان کے علاوہ ایک نئی نویلی دلہن کی آرزوؤں اور تمناؤں کا امین تھا ۔وقوعہ سے ہفتہ عشرہ قبل ہی اس کی شادی ہوئی تھی ۔وہ صرف ناظرہ قرآن پڑھا ہوا تھا ۔اللہ اور رسول ؐ کے علاوہ کچھ نہ جانتا تھا ۔بدرو حنین کے واقعات سنے ہوئے تھے۔
اس مرد مجاہد اور عاشق رسول کی داستان شجاعت مجھے سید محمد اسلم ایم اے (آکسن ) بارایٹ لاء نے سنائی تھی ،جنہوں نے غازی کے پاک عمل کی حمایت اپنے زور قلم اور زور بیان سے کی ……اور مقدمہ لڑا۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب شردھانند کی شدھی تحریک زوروں پر تھی ،اور بد زبان اور گستاخ ہندو ذات رسالت مآب ؐ پر رکیک حملے کر رہے تھے۔1933ء کے اوائل میں آریہ سماج حیدرآباد (سندھ) کے سیکر ٹری نتھورام نے ایک کتابچہ بعنوان ’’ہسٹری آف اسلام ‘‘شائع کیا ۔یہ پمفلٹ ’’رنگیلا رسول ‘‘اور اس جیسی دیگر کتابوں سے ماخوذ مواد پر مشتمل تھا ۔اور ان میں ناموس رسالت پر اسی انداز میں حملے کیے گئے تھے جیسا کہ گذشتہ گیارہ سال سے آریہ سماجی کر رہے تھے۔اس وقت سندھ صوبہ بمبئی میںشامل تھا۔گوصوبہ بمبئی ہندو اکثریت کا صوبہ تھا ۔لیکن سندھ کے تمام اضلاع میں مسلمانوں کی اکثریت تھی ۔مسلمان اکثریت میں ہونے کے باوجود ملازمت ،تجارت ،تعلیم اور اقتصادی شعبوں میں ہندوؤں سے پیچھے تھے۔تاہم وہ اپنے مذہب پر کسی حملے کو برداشت کرنے کے روادار نہ تھے ۔
چنانچہ جو نہی نتھو رام کا ناپاک کتابچہ بازار میں آیا ،عبد المجید سندھی ،حاتم علوی اور دوسرے مسلمان لیڈر اٹھ کھڑے ہوئے ۔نتھورام کے خلاف استغاثہ دائر کیا گیا ۔حیدر آباد کی عدالت نے کتابچہ ضبط کر لیا اور ملزم کو ایک سال قید سخت اور جرمانے کی سزا دی یعنی وہی کھیل کھیلا گیا جو راج پال کے مقدمے میں مسلمانوں نے دیکھا تھا ۔
نتھو رام نے عدالت (ان دنوں جو ڈیشل مشنری کہلاتی تھی ) میں اپیل کردی ۔ضمانت پر وہ پہلے ہی رہا ہو چکا تھا ۔مارچ 1934ء میں اپیل کی سماعت شروع ہوئی ۔ہندو اور مسلمان بھاری تعداد میں کاروائی سننے آئے جن میں ،میں بھی شامل تھا ۔نتھو رام اپنے ساتھیوں کے ہمراہ خوش گپیاں کرتا ہوا آیا اور عدالت میں ڈائس کے قریب پڑے ہوئے ایک بنچ پر بیٹھ گیا ۔
تھوڑی ہی دیر گذری تھی کہ ایک مسلم نوجوان عدالت کے کمرے میں داخل ہوا ،معذرت کرتے ہوئے نتھورام کو تھوڑا سا سرکایا اور پھر اس کے بالکل قریب بیٹھ گیا ۔پونے بارہ بجے کا عمل تھا اور پندرہ منٹ بعد نتھو رام کی اپیل کی سماعت شروع ہونے والی تھی ۔میں پہنچا تو بارہ بجنے میں چھ سات منٹ باقی تھے۔عدالت کے بر آمدے میں ،میں ایک د وست سے باتیں کرنے لگا ۔اچانک عدالت کے کمرے سے تیز تیز آوازیں آنے لگیں جیسے کوئی نعرے لگا رہا ہو۔ساتھ ہی بہت سے آدمی باہر کو بھاگے ۔میں لپک کر کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا کہ نتھو رام کی آنتیں نکلی پڑی ہیں اور وہ زمین پر پڑا موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہے ۔اس کی گدی سے خون کا فوارہ ابل رہا ہے ۔قریب ہی ایک مسلمان نو جوان ہاتھ میں ایک بڑا سا خون آلود خنجر لیے کھڑا نظر آیا ۔انگریز ججوں میں سے ایک جس کا نام اوسا لون تھا ،ڈائس سے اترا ۔مسلم نوجوان پر قہر آلود نگاہ ڈالی اور تحکمانہ انداز میں بولا ’’تونے اس کو مارڈالا‘‘؟۔
’’ہاں …اور کیا کرتا ؟‘‘ نوجوان نے بڑی بے باقی سے جواب دیا اور پھر کمرے میں آویزاں جارج پنجم کی تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’’اگر یہ تمہارے بادشاہ کو گالی دیتا تو تم کیا کرتے ؟تم میں غیرت ہوتی تو کیا قتل نہ کر ڈالتے ؟‘‘پھر انتہائی حقارت سے نتھو رام کی لاش کی طرف انگلی اٹھاتے ہوئے بولا ۔’’اس خنزیر کے بچے نے میرے آقا اور شہنشا ہوں کے شہنشاہ رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی اور اس کی سزا یہی تھی‘‘۔ پھر بڑے اطمینان کے ساتھ اپنی نشست پر بیٹھ گیا ۔
اسی اثناء میں ایک انسپکٹر ریوالور تانے کمرۂ عدالت میں داخل ہوا ۔آنکھیں چار ہوتے ہی غازی نے چھری پھینک دی ،کھڑا ہو گیا اور بڑی جو شیلی آواز میں کہا ۔’’ڈریئے نہیں ریوالور ہو لسٹر میں رکھ لیں ۔مجھے جو کچھ کرنا تھا ،الحمد اللہ کر چکا ہوں ‘‘۔
سب انسپکٹر نے ریوالور والا ہاتھ نیچے کر لیا ۔آگے بڑھ کر غازی کی کلائی پکڑ لی ۔ساتھ وا لے کا نسٹبل نے فوراً ہتھکڑی پہنادی ۔میرا دل جو نتھورام کی گندی کتاب سے مجروح ہو چکا تھا ،اس منظر کو دیکھ کر باغ باغ ہو گیا۔ غازی نے اپنا فرض ادا کر دیا تھا ۔میں نے اپنا فرض ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔
میں نے غازی کے چچا کو تلاش کیا اور انہیں پیشکش کی کہ میں اس مقدمے کی پیروی مفت کروں گا۔ انہوں نے شکر آمیز الفاظ کے ساتھ میری پیشکش قبو ل کرلی ۔دوسرے روز میں غازی کے قانونی مشیر کی حیثیت سے ان سے ملاقات کرنے جیل گیا ۔
اس سے پہلے بھی میں نے جیل میں قتل کے ملزموں سے ضابطے کی ملاقاتیں کی تھیں اور ان کی صورتیں مجھے یاد ہیں ۔مگر جو اطمینان اور سکون غازی عبدالقیوم کے چہرے سے ہویدا تھا ،وہ کسی اور چہرے پر نظر نہ آیا۔ جب میں نے بتا یا کہ میں آپ کا مقدمہ لڑو ں گا ،تو مرد مجاہد پکا راٹھا !’’آپ جو چاہیں کریں مگر مجھ سے انکار قتل نہ کرائیں ۔اس سے میرے جذبۂ جہاد کو ٹھیس پہنچے گی ‘‘۔
میں نے نوجوان غازی کو تشفی دی اور کہا ۔بے شک آپ اقرار کریں اور میں اس اقبال کے ذریعے ا نشاء اللہ آپ کو پھانسی سے اتار لوں گا ۔مگر میری اس تشفی پر انہوں نے خوشی کا اظہار نہ کیا ۔میں نے دوچار باتیں اور کیں اور ایک کاغذ پر دستخط کراکے لوٹ آیا ۔
ہندو پیرو کاری کی بوالعجبی ملاحظہ ہو کہ اینگلو انڈین قانون کا ضابطہ اپنی مخصوص اور روائتی چال کی بجائے اتنی تیزی سے حرکت میں آیا کہ مہینوں کا کام گھنٹوں میں طے ہونے لگا ۔پہلی رپورٹ کے بعد تفتیش چالان وغیرہ سب کچھ دو دن میں ہو گیا اور مقدمہ قتل عمد سماعت کے لیے ابتدائی عدالت میں پہنچ گیا ۔ دو تین روز بعد مقدمہ سیشن جج کراچی کی عدالت میں آگیا ۔مقدمے کی اہمیت کے پیش نظر عدالت نے اسے ’’جیوری ٹرائل ‘‘ قرار دیا۔ جیوری 9افراد پر مشتمل تھی جن میں چھ انگریز ،ایک پارسی اور دو عیسائی تھے ۔یہ سب کے سب اچھی شہرت ،معقول سوجھ بوجھ کے مالک اور باعزت شہری تھے ۔
قتل کے عام مقدموںکے بر عکس اس مقدمے کا کام بہت سیدھا سادا اور مختصر تھا ۔صفائی کا تو کوئی گواہ تھا ہی نہیں ،سارا دارو مدار قانونی بحث پر تھا ۔ ثبوت میں اوّل تو خود عدالت عالیہ کے دو انگریز جج تھے ۔دوسرے غازی عبدالقیوم نے اپنے اقبالی بیان میں تسلیم کر لیا تھا کہ’’ میں نے جونا مارکیٹ کی مسجد میں پیش امام کی زبانی نتھو رام کے فحش پمفلٹ کے مندرجات سنے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ کل اس کی اپیل کی سماعت کے لیے عدالت میں پیشی ہو رہی ہے ۔چنانچہ اگلے روز میں نے اپنا کا رو بار چھوڑا،بازار سے ایک خنجر خریدا ،اسے تیز کرایا اور سماعت سے پہلے ہی عدالت میں پہنچ گیا ۔ایک نامعلوم شخص کے ذریعے نتھورام کو شناخت کیا اور پھر اس کے قریب ہی جاکر بیٹھا ۔
میں نے اسے کنکھیوں سے دیکھا ۔یکا یک میرے سینے میں غیظ وغضب کا طوفان امنڈ آیا ۔میں آپے سے باہر ہو کر اپنی نشست سے اٹھا ۔ شلوار کے نیفے میں چھپا یا ہوا خنجر نکالا اور چشم زدن میں نتھو رام کے پیٹ میں گھونپ دیا ۔اس کی آنتیں نکل آئیں اور وہ منھ کے بل گر پڑا ۔دوسرا وار اس کی گدی پر کیا اور یہ ضرب پہلی سے زیادی کا ری ثابت ہوئی ،خون کا فوارہ پھوٹ نکلا اور چند ہی منٹ میں اس کا قصہ تمام ہو گیا ‘‘۔
اس اقبالی بیان کی تائید میں ضابطے کے بیانات ہوئے اور استغاثے کے چشم دید گواہ (عدالت عالیہ کے دو جج ) پیش ہوئے ۔جہاں تک واقعاتی پہلو کا تعلق تھا ،بچا ؤ کی کوئی گنجائش نہ تھی ۔بس جذبے اور ارادے والی بات رہ جاتی تھی۔مگر غازی موصوف کے اقبالی بیان سے صاف ظاہر تھا کہ اس نے یہ اقدام ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچ کر کیا تھا ۔اس میں فوری عمل کا کوئی ہاتھ نہ تھا ۔تاہم میں نے کیس کو تقریباًانہی خطوط پر کیا اور قانون سے زیادہ نفسیات انسانی اور تاریخ سے بحث کی ۔جیوری اور جج کے سامنے میں نے جو بحث کی ،وہ شاید برطانوی ہند میں اپنی نوعیت کی واحد اور منفرد بحث تھی۔
عدالت نے بحث سننے کے بعد اسی دن فیصلے کی تاریخ کا اعلان کردیا۔مقررہ تاریخ پر دفتری اوقات شروع ہونے سے پہلے ہی ہندو اور مسلمانوں کے ہجوم عدالت کے باہر جمع ہو گئے۔کراچی کے علاوہ حیدر آباد ، ٹھٹھہ ،نواب شاہ، بہاولپور اور پنجاب تک سے لوگ کشاں کشاں آئے تھے۔نظم ونقس کے لیے پولیس کی بھاری تعداد موجود تھی۔مشہور ہندو لیڈر ،وکیل اور صحافی آئے ہوئے تھے۔مسلم اکابرین میں سے متعدد اصحاب تشریف لائے تھے۔
ہندو مسلمان سب امید وبیم میں تھے ۔البتہ جن مسلم اصحاب کو خفیہ ذرائع سے یہ معلوم ہو گیا تھا کہ جیوری کی اکثریت سزائے موت کے بجائے حبس دوام کے حق میں ہے ،وہ اسی کو غنیمت جان کر قدرے مطمئن تھے۔ میں وکیلوں کی صف میں ایک کرسی پر بیٹھا یہ سب نقشہ دیکھ رہا تھا ۔اضطراب اور بے چینی کی کیفیت طاری تھی۔اچانک ڈائس پر جج نمودار ہوا ۔میرادل دھک دھک کرنے لگا ۔
میں نے قبل ازیں قتل کے کئی مقدمات کی پیروی کی تھی جن میں سے بعض کو پھانسی ہوئی ،بعض رہا ہو گئے مگر دل کی یہ کیفیت پہلے کبھی نہ تھی ۔تقریباً دو منٹ موت کی سی خاموشی طاری رہی ۔پھر جج کے اشارے پر پیش کار نے چپراسی سے کہا کہ ملزم حاضر کیا جائے ۔غازی بیڑیاں پہنے سر اٹھائے سنگین بردار محافظوں کے حلقے میں عدالت کے کٹہرے میں آکھڑا ہوا ۔پھر ایک مہیب سناٹا چھا گیا ۔جج نے ایک فائل الٹ پلٹ کر دیکھی اور ریڈر سے کچھ سر گوشی کی۔اس نے ایک کاغذکی طرف اشارہ کیا ۔جج نے وہی کاغذ اٹھایا اور دھیمی آواز میں پڑھا کر سنایا :
’’غازی عبدالقیوم خان تمہیں موت کی سزا دی جاتی ہے ‘‘
غازی عبدالقیوم کے منہ سے ذرا تھرائی ہوئی آواز میں بے ساختہ نکلا،الحمد اللہ۔پھر کچھ سنبھلا اور تن کر کھڑا ہو گیا ۔دیکھنے والوں کو یوں محسوس ہوا جیسے اس کا قد ایک فٹ اونچا ہو گیا ہو۔ آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک ابھرآئی جس میں بے پایاں مسرت ملی ہوئی تھی ۔ اس کے لب ہلے ،حاضرین نے سنا وہ کہہ رہا تھا:
’’جج صاحب میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے اس سزا کا مستحق سمجھا ۔یہ ایک جان کیا چیز ہے میرے پاس لاکھ جانے ہوتیں تو وہ بھی ایک ایک کرکے اسی طرح نبی ﷺ کے نام پر قربان کر دیتا ۔’’اللہ اکبر‘‘۔
یہ نعرہ مستانہ اس زور سے گونجا کہ اس کی گونج کمرہ عدالت ،گیلری ،بر آمدے اور باہر والوں نے بھی سنی۔ وہ سمجھے کہ عبدالقیوم بری ہوگیا ۔بیرسٹر صاحب رک گئے۔ہاں بیر سٹر صاحب پھر کیا ہوا؟میں نے پوچھا۔
آگے المیہ بڑی ہی دردناک اور سنگین ہے ۔عبدالقیوم تو حکم سن کر اللہ کا شکرادا کرتے ہوئے جیل چلا گیا اور مجھے حکومت نے پروفیشنل مس کنڈکٹ کا نوٹس دے دیا جس میں حدود قانون سے متجاوز ہو کر بحث کرنے کا الزام تھا ۔میں نے دوسری عدالت میں اس الزام کو غلط اور بے بنیاد ثابت کر کے پہلی عدالت کی جہالت پر مہر ثبت کی ۔
چند روز بعد میں نے اپنے تین رفیقوں حاجی عبدالخالق صاحب ،مولوی ثناء اللہ صاحب اور مولانا عبد العزیز پر مشتمل وفد اپنے استاد علامہ اقبال کی خدمت میں بھیجا کہ سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرانے کے لیے وائسرائے تک سفارش پہنچائیں ۔
مرحوم نے جو جواب دیا اس کا ذکر شروع میں کر چکا ہوں ۔میں نے ایک طرف یہ وفد علامہ اقبال کے پاس روانہ کیا۔دوسری طرف گورنر بمبئی کے نام رحم کی عرض داشت بھیج دی ۔اس کا جواب ملادرخواست زیر غور ہے۔ آپ کو نتیجے سے آگاہ کر دیا جائے گا ۔
گورنر بمبئی کا جواب ملے تیسرا روز تھا کہ صبح کے وقت میں نے اپنے دفتر میں سنا کی رات غازی عبدالقیوم کو پھانسی دے دی گئی ۔میں مولانا عبد العزیز کو لے کر جیل پہنچا تو پرائیویٹ ذریعے سے پتہ چلا کہ’’ صبح اذان کے وقت غازی کے لواحقین کو ان کی جائے قیام پر جگا کر بتا یا گیا کہ عبد القیوم کو پھانسی دے دی گئی ہے۔لاش کو پولیس سرکاری گاڑی میں رکھ کر میوہ شاہ قبرستان میں لے گئی ہے ۔جنازہ تیار ہے ۔منہ دیکھنا ہے تو جلد چلو‘‘۔
ہم لوگ جیل سے قبرستان پہنچے تو معلوم ہوا کہ میت قبر میں اتاری جا چکی تھی کہ مسلمانوں کا جم غفیر وہاں پہنچ گیا اور اس نے مٹی ڈالنے نہ دی ایک جوشیلا قومی کارکن قلندر خاں قبر میں کود گیا اور میت کو لحد میں سے نکالا، چارپائی ،کفن وغیرہ کا بندوبست پہلے سے ہو چکا تھا فوراً لاش کو کفنایا اور جنازہ لے کر روانہ ہو گئے۔
یہ خبر آگ کی طرح پورے شہر میں پھیل گئی ،کراچی مسلم اکثریت کا شہر تھااور صبح کے وقت دیکھتے ہی دیکھتے دفعہ ۱۴۴ کے نفاذ کے باوجود دس بارہ ہزار مسلمان جمع ہو گئے۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے فوراً فوج طلب کر لی۔ہم اس عرصہ میںراستہ کاٹ کر چاکیواڑہ کے قریب ایک تنگ گلی سے گزر کر جنازے کے قریب پہنچ گئے ۔بے پناہ ہجوم تھا ۔کندھا دینے والوں میں قلندر خاں خاصا نمایاں نظر آتا تھا۔اچانک ہجوم کا ریلا آیا اور پھر برابر والی پتلی گلی سے’’ تڑ تڑ ‘‘کی آواز گونجی ۔نظر اٹھاکر آگے کا جائزہ لیا تو قلند رخاں کے بدن سے خون کا فوارہ اچھلتے دیکھا ۔اس کے باوجود وہ لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ جنازے کو کندھا دئے جا رہاتھا۔چند منٹ بعد وہ زخموں سے نڈھال ہو کر گر پڑا ۔نہتے اور پر امن جلوس پر گوروں نے بے تحاشا فائر نگ کی۔سینکڑوں مسلمان شہیداور ہزاروں مجروح ہوگئے ۔اندھا دھند فائرنگ کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ مکانوں اور جھونپڑیوں میں بیٹھے بچے ،بوڑھے اور عورتیں بھی اس کا نشانہ بن گئیں۔حالات قدرے پر سکون ہوئے تو میں مولانا عبدالخالق ،مولانا عبدالعزیز اور حاتم علوی زخمیوں کی عیادت کے لیے سول ہسپتال گئے ۔ہسپتال کے ارد گرد پولیس کی بھاری تعداد اور کچھ فوج بھی موجود تھی۔
ہم کسی نہ کسی طرح شہیدوں اور زخمیوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ۔جہاں تک میری یادداشت کاتعلق ہے میں نے ۱۰۶ لاشیں گنیں اور بعد میں ان کی تعداد ایک سو بیس ہو گئی ۔سول ہسپتال میں کہرام مچا تھا ۔لاشیں علیحدہ کی جارہیں تھیں ۔تڑپتے ،سسکتے اور چیختے ہوئے زخمی الگ۔بڑی تعداد ایسے زخمیوں کی تھی جن کے ہاتھ پاؤں کی ہڈیوں کے ٹکڑے اڑ گئے تھے۔حادثہ اتنا مہیب تھا کہ بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ملتے۔پھر صبح کے وقت جب جوانوں ، عورتوں ،بچوں اور بوڑھوں کے ہاتھ پاؤں سے بھری ہوئی ایک وین سول ہسپتال سے نکلی تو بے اختیار میری چیخ نکل گئی ۔بلکہ کئی دن تک حواس بجا نہ ہوئے۔خواب و خو ر حرام ہوگیا۔بے شمار لاشیں ان کے وارثوں نے پولیس میں رپٹ دئے بغیر چپکے سے دفن کر دیں۔
اتفاق سے ان دنوں دہلی میں مرکزی اسمبلی کا اجلاس ہو رہا تھا،ہم نے وائسرائے کے نام ایک تار دیا۔ ساتھ ہی ایک قاصد بذریعہ ریل قائد اعظم کے پاس روانہ کیا ،کراچی میں ہم نے مسلم ریلیف کمیٹی قائم کی جس کی امداد کے لیے دہلی اور لاہور دونوں نے چندے دئے ۔ادھر قائد اعظم نے اسمبلی میں آواز بلند کی پھر توہماری آواز برٹش پارلیمنٹ کے ایوانوں میں بھی گونجی۔سرونسٹن چرچل تک نے اظہار تاسف کیا۔
شمع رسالت کے پروانے کی ایمان پرور داستان ختم ہو چکی تھی ۔میں جب بیرسٹر صاحب کے یہاں سے رخصت ہو اتومیرے ہاتھ میں ایک تاریخی دستاویز تھی جس کانام’’عبدالقیوم ‘‘تھا۔یہ ایک پمفلٹ تھا جو بیرسٹر صاحب نے مجھے دیا تھا۔
خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را

رحم کی اپیل اورعلامہ اقبال کا جواب
غازی عبد القیوم کے لیے سزائے موت بحال رہی ۔پر جوش اور مضطرب مسلمانوں کے لیے یہ وقت بڑی آزمائش کاتھا۔بالآخر فروری ۱۹۳۶ء میں کراچی کے مسلمانوں نے ایک وفد حکیم الامت علامہ اقبال کی خدمت میں لاہور بھیجنے کا فیصلہ کیا ۔یہ وفد جس میں مولوی ثناء اللہ ،عبد الخالق اور حاجی عبدالعزیز شامل تھے،لاہور پہنچا اور میکلوڈ روڈ والی کوٹھی میں علامہ اقبال کی خدمت میں حاضر ہو کر اس مقدمے کی روداد تفصیل کے ساتھ سنائی ۔اس کے بعدعرض کیا:کہ آپ وائسرائے سے ملاقات کریں ۔اپنے اثر ورسوخ کو کام میں لائیں اور انہیں اس پر آمادہ کریں کہ غازی عبد القیوم کی سزائے موت عمر قید میں بدل دی جائے ۔وفد نے اصرار کے ساتھ کہا کہ آپ نے سعی و توجہ کی تو پوری توقع ہے کہ غازی عبد القیوم کی جانب سے رحم کی اپیل حکومت ہندضرور منظور کر لے گی۔
علامہ وفد کی یہ گفتگو سن کر دس بارہ منٹ تک خاموش رہے اور گہری سوچ میں ڈوب گئے ۔وفد کے ارکان منتظر اور مضطرب تھے کہ دیکھیے علامہ کیا فرماتے ہیں ۔توقع یہی تھی کہ جواب اثبات میں ملے گا کہ ایک عاشق رسول کا معاملہ دوسرے عاشق رسول کے سامنے پیش ہے ۔اس سکوت کوپھر علامہ اقبال ہی کی آواز نے توڑا۔ انہوں نے فرمایا :’’کیا عبد القیوم کمزور پڑ گیا ہے ؟‘‘ارکان وفد نے کہا ،نہیں اس نے تو ہر عدالت میں اپنے اقدام کا اقبال اور اعتراف کیا ہے ۔اس نے نہ تو بیان تبدیل کیا اور نہ لاگ لپیٹ اور ایچ پیچ کی کوئی بات کہی ۔وہ تو کھلے خزانے اعتراف کرتا ہے کہ میں نے شہادت خریدی ہے۔مجھے پھانسی کے پھندے سے بچانے کی کوشش مت کرو۔
وفد کی اس گفتگو کو سن کر علامہ کا چہرہ تمتما گیا ۔انہوں نے برہمی کے لہجے میں فرمایا:’’جب وہ کہہ رہا ہے کہ میں نے شہادت خرید ی ہے تو میں ا س کے اجر و ثواب کی راہ میں کیسے حائل ہو سکتا ہوں ؟کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ایسے مسلمان کے لیے وائسرائے کی خوشامد کروں ،جو زندہ رہا تو غازی ہے اور مر گیا تو شہید ہے‘‘۔
علامہ کے لہجے میں اس قدر تیزی تھی کہ وفد کے ارکان اس سلسلے میں پھر کچھ اور کہنے کی جرأت نہ کر سکے۔وفد کراچی واپس ہو گیا۔غازی عبد القیوم کو جس دن پھانسی دی گئی ،کراچی کی تاریخ میں وہ دن مسلمانوں کے جو ش خروش کا یادگار دن تھا ۔دلوں میں یہ جذبہ موجزن تھا کہ کاش یہ شہادت ہمیں میسر آتی۔
لاہور میں غازی علم الدین اور کراچی میں غازی عبدالقیوم کے ان واقعات کا علامہ اقبال نے بہت زیادہ اثر قبول کیا تھا اور اپنے اس قلبی تاثر کو تین شعروں میں بیان فرمادیا ۔یہ اشعار ’’لاہور اور کراچی ‘‘کے عنوان سے ’’ضرب کلیم‘‘ میںشائع ہو چکے ہیں مگر غازی عبدالقیوم کے لیے رحم کی درخواست کے اس واقعہ کی روشنی میں ان اشعار کا مفہوم کچھ اور زیادہ ابھرتا ہے ۔
نظر اللہ پہ رکھتا ہے مسلمانِ غیور
موت کیا شے ہے ؟فقط عالم معنی کا سفر
ان شہیدوں کی دیت اہل کلیساسے نہ مانگ
قدرو قیمت میں ہے خوں جن کاحرم سے بڑھ کر
آہ ! اے مرد مسلماں تجھے کیا یاد نہیں
حرف لا تدع مع اللہ الھا اخر
لاکھوںکی تعداد میں مسلمانوں نے وقت جنازہ جلوس نکالے ۔لاکھوں نے ان کے نماز جنازہ میں شرکت کی ،ناموس رسالت ﷺ پر اپنی جان نچھاور کرنے والے اس شہید کو بڑی عزت و تکریم کے ساتھ میوہ شاہ کے علاقہ قبرستان میں ایک خاص چار دیواری کے اندر دفن کیا گیا۔
ہر گز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق
ثبت است بر جریدۂ عالم دوام ما

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *