محمد ﷺ اور اسلام پیغمبر، ایک ہیرو کی حیثیت سے

یورپ کے شمالی علاقوں سویڈن، ڈنمارک اور ناروے وغیرہ میں (جنھیں ہم سیکنڈے نیوین ممالک کہتے ہیں) جب جہالت، ناشائستگی، بت پرستی و شرک اور لامذہبیت کا دور دورہ تھا اور انسان بے سمت و بے لگام زندگی بسر کر رہے تھے، عرب ممالک میں اسی دور میں مذہب کی روشنی پھوٹ رہی تھی۔ اس سے میری مراد مسلمانوں کے پیغمبر برحق کی بعثت سے ہے۔ یورپ کی اس بے خدا تہذیب کے پس منظر میں دنیائے عرب میں ظہور اسلام کے زمانہ کے حالات پر نظر ڈالیں تو آپ کو ایک بہت بڑی تبدیلی و تغیر کا احساس ہوگا۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہ تھا بلکہ ایک نئے دور کا آغاز تھا جس نے بنی نوع انسان کے حالات و خیالات میں ایک انقلاب عظیم برپا کردیا تھا اور جس کی بدولت انسان، سوچ کی نئی رفعتوں سے روشناس ہوگیا تھا۔
اس انقلاب کو برپا کرنے والی شخصیت (حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) تھے جو ایک مذہبی ہیرو کی حیثیت سے ظہور پذیر ہوئے۔ ان کا یہ دعوی نہ تھا کہ وہ خدا ہیں اور نہ ہی ان کے پیروکاروں نے انہیں خدائی کا درجہ دیاتھا۔مذہبی ہیرو کو خدا ماننے کا زمانہ گذر چکا ہے، اب یہ دور کبھی واپس نہ آئے گا۔ تاریخی حالات اور واقعات نے انسانوں کو یہ سبق دے دیا ہے کہ کوئی انسان خواہ جتنی بھی ترقی کرلے، خدا نہیں بن سکتا۔
آج کی تقریر کے لئے ہم نے سرزمینِ عرب میں پیدا ہونے والی ایک عظیم شخصیت (حضرت) محمد (ﷺ) کا انتخاب اس لئے نہیں کیا کہ آپؐ افضل ترین پیغمبر مانے جاتے ہیں بلکہ اس لئے کیا ہے کہ ہم بطور غیر مسلم ان پر مکمل تنقید کر سکتے ہیں اور پوری آزادی سے اپنے خیال کا اظہار کر سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں ان کی اعلی صفات کا اعتراف کر لینے سے یہ خطرہ نہیں کہ ہم میں سے کوئی شخص دائرہ اسلام میں داخل ہوجائے گا۔ اس لیے میں آپ ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی وہ تمام صفات بیان کردینا چاہتا ہوں جو حق و انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ رکھ کر بیان کی جاسکتی ہیں۔ میں آپؐ کو نبیوں میں سے سچا ترین (Truest) قرار نہیں دیتا پھر بھی آپؐ کو پورے وثوق کے ساتھ سچا (True)نبی ضرور سمجھتا ہوں۔ ان کی کامیابی اور عظمت کا راز معلوم کرنے کے لیے ہمیں تعصبات سے پاک ہوکر کھلے ذہن کے ساتھ غور کرنا پڑے گا۔
حضرت محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی تعلیمات کیا تھیں اور ان میں اس دنیا کا کیا تصور پیش کیا گیا تھا؟ ان کی تعلیمات کا صحیح جائزہ اس وقت لیا جاسکتا ہے جب ہم انھیں ایک سچا انسان گردانتے ہوں لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ نظریہ جڑ پکڑ چکا ہے کہ ’’اسلام اور اس کا پیغمبر سحرو فسوں تھے‘‘ (نعوذ باللہ) ہمیں اپنے اس طرز فکر اور اس فرسودہ خیالی سے نجات حاصل کرنا ہوگی۔ ہم لوگوں نے محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے بارے میں جو جھوٹ اور افترا پھیلا رکھا ہے وہ ہمارے لیے حد درجہ باعث ننگ بن رہا ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ انجیل کے عالم اور ممتاز مستشرق ایڈورڈ پوکاک (Edward Pococke)نے ڈچ مستشرق گروٹیئس (Grotius) سے جب پوچھا کہ آپ کے پاس اس الزام کا کیا ثبوت ہے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے ایک کبوتر سدھا رکھا تھا جو ان کے کان میں سے مٹر کے دانے اٹھا اٹھا کر کھاتا رہتا تھا اور اس کبوتر کو فرشتہ قرار دیا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ ’’اس وقت وحی آ رہی ہے‘‘ گرو ٹیئس نے تسلیم کیا کہ اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ وقت آگیا ہے کہ ہم اس قسم کے لغو اور بے سروپا الزامات سے اجتناب کریں۔
بارہ سو سال سے ’اٹھارہ کروڑ انسان‘ اس دین اسلام کو اپنے سینوں سے لگائے ہوئے ہیں، یہ اٹھارہ کروڑ نفوس بھی ہماری طرح اولاد آدم ہیں۔ فی زمانہ حضرت محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے ماننے والوں کی تعداد دنیا کے سب ادیان پر ایمان رکھنے والوں سے زیادہ ہے۔ (کارلائل کے زمانہ میں ممکن ہے کہ مسلمانوں کی تعداد اٹھارہ کروڑ ہی ہو مگر مسلمہ اور مصدقہ ریکارڈ کے مطابق دنیا بھر کے مسلمانوں کی تعداد ۱۹۹۶ء کے دوران ایک ارب ۱۰؍ کروڑ سے زائد تھی— مترجم) ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ انسانوں کی اتنی کثیر تعداد روحانی دیوالیہ پن کی شکار ہے جنھیں مرتے دم تک اپنے اس دیوالیہ پن کا احساس نہیں ہوتا۔
آپ کہتے ہیں کہ اس مذہب کی عمارت جھوٹ پر کھڑی کی گئی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ جھوٹا آدمی اینٹوں کی معمولی سی عمارت بھی تیار نہیں کر سکتا چہ جائیکہ وہ ایک مذہب کا بانی ہو اور جس نے ایک تہذیب کی بنیاد رکھی ہو۔
اگر ہم حضرت محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو— سازشی اور حریص (نعوذ باللہ) قرار دیں اور ان کی تعلیمات کو بھی بے بصیرتی اور نادانی قرار دیں تو یہ ہماری سخت حماقت اور جہالت ہوگی۔ انھوں نے جو سادہ اور غیر مرصع پیغام دیا وہ برحق تھا۔ وہ پردہ غیب (Unknown Deep)سے ابھرنے والی، حیران کن آواز تھی۔ ان کا نہ کوئی قول جھوٹ نکلا او رنہ کوئی فعل غلط ثابت ہوا۔ ان کی کوئی گفتگو نہ بے معنی تھی اور نہ ان جیسی کوئی مثال پہلے موجود تھی۔ وہ زندگی کا ایک روشن جلوہ تھا جو سینہ فطرت سے اس لیے ظہور پذیر ہوا کہ دنیا کو منور کر ڈالے کیونکہ اس کائنات کا خالق، اس کے ذریعہ دنیا کو اندھیروں سے نجات دلانا چاہتا تھا۔ وہ جو پیغام سرمدی لے کر آئے تھے اس کی اہمیت و عظمت اپنی جگہ قائم ہے۔ اسے پہنچانے والوں کی لغزشیں اور کوتاہیاں اس حقیقت کو نہیں جھٹلا سکتیں۔ حضرت محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر ایسا کوئی الزام ثابت نہیں کیا جاسکا۔
نبیؐ کے منہ سے جو بات نکلتی ہے، ہمارا ضمیر گواہی دیتا ہے کہ وہ غیر معمولی بات ہے۔ اس جیسے الفاظ کسی عام انسان کی زبان سے نکل ہی نہیں سکتے۔ وہ ’’محرم راز درون خانہ‘‘ ہوتا ہے۔ اس کی زندگی کا مقصد و مدعا، اس کے ہر لفظ اور ہر حرکت سے منعکس ہوتا ہے۔ سنی سنائی باتوں سے وہ قطعاً بیگانہ ہوتا ہے۔ اس کا دل سچائیوں کا امین اور حقائق کی روشنیوں سے منور ہوتا ہے۔ اس کی باتیں الہامی ہوتی ہیں۔ ۔۔ یہ چرب زبان نہیں بلکہ کم سخن ہوتے ہیں۔ لیکن جب بولنے پر آتے ہیں تو فصاحت و بلاغت کے دریا بہا دیتے ہیں۔ یہ بے حد مخلص، سچے اور سنجیدہ ہوتے ہیں۔
ہمیں ایک اور بات بھی ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ آپؐ نے مروجہ معنوں میں کسی مدرسہ یا مکتب میں تعلیم نہیں پائی تھی، آپؐ کو ایسی کوئی سہولت یا موقع میسر نہ آیا تھا۔ چنانچہ یہ بات درست لگتی ہے آپؐ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔ ریگستانی زندگی کے مشاہدات اور ذاتی تجربات ہی آپؐ کی تعلیم کا کل سرمایہ تھے۔ غور کیجیے تو یہ امر نہایت حیرت انگیز ہے آپؐ کتابی علم سے بالکل ناآشنا تھے۔ آپؐ کا ذریعہ معلومات آنکھوں سے کیا ہوا مشاہدہ تھا یا اس دور افتادہ ریگستان میں پہنچنے والی خبریں تھیں۔ علم و حکمت کے جو ذخائر اس دور میں موجود تھے ان تک آپؐ کی رسائی نہ تھی۔ انبیاء (علیہم السلام) کی جو تعلیمات دنیا کے مختلف خطوں میں کسی نہ کسی شکل میں موجود تھیں وہ آپؐ تک نہیں پہنچ سکتی تھیں۔
کہا جاتا ہے کہ آپؐ میں ابتداء ہی سے غور و فکر کی عادت تھی۔ احباب اور ہم عمر نوجوان آپؐ کو ’’الامین‘‘ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ آپؐ کا ہر قول و فعل صداقت اور دیانت کا مظہر ہوتا تھا۔ آپؐ کی ہر بات پر مغز اور پر معنی ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آپؐ کم سخن تھے اور بلا ضرورت کوئی بات نہ کرتے تھے۔ آپؐ کی گفتگو میں تدبر اور حکمت کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔ آپ ہمیشہ نفس ِ مضمون پر یوں اظہار خیال کرتے کہ سننے والوں کو ہمہ تن گوش ہونا پڑتا تھا۔ لوگ ساری عمر آپؐ کو سنجیدہ، شفیق، راست باز اور راست گفتار سمجھتے رہے آپؐ متین فکر، متواضع، ملنسار اور خوش طبع تھے۔ آپؐ کے چہرہ مبارک پر ہر وقت مسکراہٹ بکھری رہتی تھی۔ بعض لوگوں کے چہروں پر تصنع اور ریاکاری کی جو مسکراہٹ موجود ہوتی ہے، آپؐ ایسے تصنع سے کوسوں دور تھے۔ آپؐ صاحب جمال تھے۔ آپؐ کے حسین چہرے سے ذہانت، ذکاوت اور دیانت کا رنگ جھلکتا تھا۔ آپؐ کا رنگ گندمی تھا اور آنکھیں سیاہ اور چمکدار تھیں۔ مجھے تو آپؐ کی پیشانی کی وہ رگ بھی بہت پیاری لگتی ہے جو غصے کی حالت میں پھول کر سیاہی مائل ہوجاتی تھی۔ یہ بنو ہاشم کا ایک امتیازی نشان تھا جو آپؐ کی پیشانی پر نمایاں طور پر موجود تھا۔
۔۔۔میں ایسی قیاس آرائیوں کو کبھی نہیں مان سکتا۔ ہرگز نہیں یہ سیاہ چشم، پاک طینت اور صاف باطن انسان جو مادر صحرا کی آغوش میں پلا تھا، جذبۂ ہوس اور شہرت طلبی میں مبتلا نہیں ہوسکتا تھا۔ اس شخصیت میں کچھ اور ہی خیالات موجزن تھے۔ یہ شخصیت اس قسم کی ہلکی باتوں سے بالاتر تھی اور مجسم خلوص اور صداقت تھی۔ ایسی شخصیت، خلوص اور سچائی کے بغیر رہ ہی نہیں سکتی تھی۔ اس کا خمیر ہی اخلاص کے بطن سے اٹھایا گیا تھا۔
دنیا کے دیگر لوگ جب اوہام اور تخیلات میں بری طرح مبتلا ہوچکے تھے اور اپنے اوہام کو دوسروں سے منوانے کے لیے جنگ و جدل میں مصروف تھے یہ ہستی ان اوہام سے کوسوں دور تھی۔ آپؐ اپنی روح اور حقائق کی بنا پر سب سے الگ تھلگ تھے۔ راز ہستی، آپؐ پر روز روشن کی طرح عیاں ہوچکا تھا، آپؐ کا وجود وہم و گماں سے ماورا اور صفات ایزدی کا پر تو تھا۔ اس پر خلوص انسان کی ندا ہاتف غیب کی آواز تھی جسے لوگ انتہائی توجہ اور انہماک کے ساتھ سنتے تھے اور انھیں سننا بھی چاہیے تھا کیونکہ اس کے مقابلے میں دنیا کی ہر چیز ہیچ تھی اور آج بھی ہیچ ہے۔
ہزاروں خیالات اور سوالات آپؐ کے دل میں پیدا ہوتے رہتے، وہ سفر میں ہوتے یا حضر میں، یہ سوالات آپؐ سے جواب مانگتے رہتے کہ ’’میں کون ہوں اور یہ وسیع و ناپیدا کنار کائنات جس میں میں سانس لے رہاہوں کیا چیز ہے؟ موت اور زندگی کا راز کیا ہے؟ اور میرا عمل اور یقین کیسا ہونا چاہیے؟‘‘ کوہِ حرا کی بلندی اور کوہِ سینا کی ہیبت ناک چٹانیں، ریگستانی تنہائی اور خاموشی، نیلے ستاروں سے مزین یہ آسمان اور سوالوں کا کیا جواب دے سکتے تھے؟ بالآخر ان کی اپنی پاکیزہ روح نے ان کا جواب بذریعہ وحی حاصل کیا۔ یہ ایسے سوالات ہیں جو ہمیں بھی خود سے پوچھنے چاہئیں اور ان کا جواب تلاش کرنا چاہیے۔ اس امی شخصؐ کے خیال میں یہ سوالات اتنے اہم تھے کہ وہ انھیں ہر چیز سے زیادہ اہم گردانتا تھا۔ جبکہ یونانی علوم کے پیچیدہ مباحث، ان کے رنگا رنگ فرقوں کا استدلال، یہودیوں کی قدیم، مبہم اور پر اسرار روایات اور عربوں کی احمقانہ صنم پرستی، ان میں سے کسی میں انھیں ان مسائل کا جواب نہیں ملتا تھا۔
ہیرو کی پہلی خصوصیت جو تمام خصوصیات سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ اشیا کی ظاہری صورت کو دیکھ کر ان کی اصل حقیقت تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ رسم و رواج اور مقبول روایات اچھی بھی ہوسکتی ہیں اور بری بھی۔ اگر یہ روایات حقیقت کی مظہر نہ ہوں تو یہ محض بت پرستی ہوتی ہیں۔ لکڑی کے ایک ٹکڑے کو خدا مان لیا جائے تو ایک حقیقت پسند شخص اسے مضحکہ خیز اور قابل نفریں حرکت ہی سمجھے گا۔ سونے کی ملمع کاری سے مزین اصنام جن کی قریش ِ مکہ پرستش کرتے تھے اس بلند و بالا ہستی کے نزدیک کس کام کے تھے؟ ساری دنیا انھیں پوجتی رہے ہمارے اس ہیرو کو اس سے کیا غرض تھی؟ اس ہستی کے سامنے تو حقیقت کبریٰ (Great Reality)روز ِ روشن کی طرح واضح اور صاف تھی۔ ا نھیں اس حقیقت کبریٰ کا اعلان کرنا تھا۔ اور اس اعلان کے لیے یہی موقع مناسب تھا۔ اس کا اعلان نہ کرنا بے بسی کے ساتھ موت کو قبول کرنے کے مترادف تھا (غالباً ’’فاضل مقرر کی‘‘ اس سے مراد اعلان ِنبوت کرنے سے ہے —مترجم)
جہاں تک اس الزام کا تعلق ہے کہ ان افعال کا محرک، کوئی دنیاوی لالچ تھی ہرگز قرین قیاس نہیں ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سارے عالم عرب میں وہ کونسی چیز تھی جو آپؐ کو مطمئن کرسکتی تھی؟ کیا یونان کے ہر کولیس (ہرقل روم) یا خسرو ایران کا تاج؟ یا ساری دنیا کے بادشاہوں کے تاج انھیں اپنے اس اعلان حق سے باز رکھ سکتے تھے؟ یہ ان کے کس کام کے تھے؟ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی ترغیبات ان کے پیش نظر تھیں ہی نہیں۔ جنت کی نعمتیں اور دوزخ کے ہولناک عذاب کے سوا کوئی چیز ان کے لیے قابل توجہ نہ تھی۔ دنیا بھر کے تاج و تخت کی چند روزہ بہار ان کے لیے کیا معنی رکھتی تھی؟ کیا شیخ ِ مکہ یا شاہِ عرب بن کر عصائے شاہی ہاتھ میں لینے سے انھیں اخروی نجات زیادہ یقینی نظر آسکتی تھی؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ لہٰذا اس ناقص اور بعید از قیاس خیال کو ہمیں ذہن سے جھٹک دینا ہوگا کہ اس عظیم شخصیت نے جو کچھ کیا کسی لالچ کے تحت کیا ہوگا یا اس میںمکر و فن کا کوئی عنصر شامل تھا۔ اس قسم کی یا وہ گوئی حقیقت سے کوئی لگاؤ نہیں کھاتی۔
زور شمشیر والا اعتراض میری رائے میں وقعت نہیں رکھتا۔ میرے نزدیک اس دنیا میں ہر شخص کو جدو جہد کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ وہ ہر چند تبلیغ کرے، بحث میں الجھے، زبان استعمال کرے یا تلوار لیکن بالآخر وہ کسی ایسی چیز پر غالب نہ آسکے گا جو مغلوب ہونے کی مستحق نہ ہو۔ جو چیز اس سے بہتر ہے وہ اسے ہرگز مغلوب نہیں کرسکے گا۔ تاہم جو چیز اس سے کم تر ہے اس پر وہ ضرور قابو پا لے گا۔ اس عظیم کشمکش اور مبارزت عظمیٰ میں فیصلہ کن کردار خود قدرت ادا کرتی ہے۔ جو کبھی غلطی نہیں کرتی۔ اور بالآخر وہی چیز فتحمند ہوگی جو فطرت سے سب سے زیادہ مطابقت رکھتی ہے۔ اسے ہم صادق ترین (Truest)اکائی قرار دے سکتے ہیں۔
حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور ان کی کامیابیوں پر غور کرتے ہوئے آپ کو فطرت کی کارفرمائیوں کو ذہن نشین رکھنا چاہیے۔ یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ فطرت میں گہرائی، حکمت و انصاف، تحمل اور صداقت کے تمام عناصر موجود ہوتے ہیں۔ جن کی بنا پر فطرت کبھی نا انصافی نہیں کرتی۔ آپ زمین کے آغوش میں گندم کے دانے بودیں، ساتھ کچھ بھوسہ اور کوڑا کرکٹ بھی اس میں شامل کردیں لیکن مادر گیتی صرف گندم ہی اگائے گی۔ کوڑا کرکٹ بھی’ زمین‘ کسی استعمال میں لے آئے گی، اس کے وجود کو تبدیل کردے گی لیکن گندم اوپر ہی لہلہاتی نظر آئے گی۔ اصل چیز محفوظ رہے گی۔ نقل مفقود ہوجائے گی۔
آج تک مجھے فرض شناسی اور عبودیت کی اس سے بہتر تعریف (Definition) معلوم نہیں ہوسکی۔ تمام نیکیاں، مقصد ِ تخلیق ِ کائنات کا ساتھ دینے میں مضمر ہیں۔ اسی سے انسان کو حقیقی کامیابی حاصل ہوتی ہے اور وہ صراط مستقیم پر رہتا ہے۔ عقیدہ تثلیث میں ذات اور صفات کی بحثیں خواہ کتنے ہی زور و شور سے جاری رہیں لیکن ان کا اگر کوئی مدعا و مطلب نہیں تو سب بے کار ہے۔ غور طلب امر یہ نہیں کہ ان نظریوں اور منطقی مسئلوں کو الفاظ کا جامہ صحیح پہنایا گیا ہے یا غلط، بلکہ یہ ہے کہ بنی آدم انھیں اپنے دل میں جگہ دینے کو تیار ہیں یا نہیں؟ اسلام نے ان تمام مہمل مذہبی قوتوں کو ملیا میٹ کر دیا ہے اور میری رائے میں اس کو اس کا حق حاصل تھا۔ وہ سراپا حقیقت تھا جو خاص سینہ فطرت سے از سر نو نمودار ہوا، عربوں کی بت پرستی اور شامیوں کے عقائدغرضیکہ ہر اس مذہب کو جو صداقت پر استوار نہ تھا، اس کے سامنے جھکنا پڑا۔ یہ مذاہب ایندھن کی لکڑی کی طرح شعلوں کی لپیٹ میں آگئے۔ اسلام کی آتش ِ صداقت نے انھیں جلاکر خاکستر کردیا۔
(حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی ذاتی زندگی کا جائزہ لیتے ہوئے ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ ان کا تئیس سالہ دور انتہائی کشمکش میں گزرا، قریش کے ساتھ جنگیں، اندرونی خلفشار اور سازشوں کے پھیلے ہوئے جال تھے۔ وہ چو مکھی لڑائی کی حالت میں تھے۔ حالات نے انھیں کبھی چین نہیں لینے دیا۔ جب کبھی انھوں نے کوئی فیصلہ کیا تو ان کو الہام محسوس ہوا جو جبرائیل ؑکے ذریعہ موصول ہوا، آپ کہتے ہیں کہ یہ سب فراڈ اور جعلسازی تھا۔ میں کہتا ہوں کہ ایسا بالکل نہیں۔ یہ آگ کی بھٹی کی طرح تپتا ہوا ذہن کسی جعل ساز کا ذہن نہ تھا۔ محمدؐ کی زندگی ایک بہت بڑی سچائی اور بہت بڑی حقیقت تھی۔ یہ کائنات پر محیط سچائی تھی، ہمارے جو لوگ اس پیغام کو نقالی، دھوکہ اور دوسری آسمانی کتابوں میں سے مضامین کی چوری قرار دیتے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں۔ انھوں نے حالات اور واقعات کا بالکل غلط اندازہ لگایا ہے۔
مجھے قرآن کی اس آیت نے بہت متاثر کیا جس میں انسانوں کے مابین محبت اور مودت کا ذکر آتا ہے۔ اگر یہ باہمی محبت پیدا نہ کی جاتی تو دنیا کا نقشہ کیا ہوتا؟ یہ آیت حقیقت کا ایسا انکشاف ہے جو انسانی ذہن میں دنیاوی ذرائع سے داخل نہیں ہوسکتا۔ قرآن میں ایسی شاعرانہ بلند خیالی اور ایسی تمثیلات پائی جاتی ہیں جو براہ راست خالق حقیقی کی جانب سے وارد شدہ محسوس ہوتی ہیں۔ یہ اشیا کے قلب تک پہنچتی ہیں۔ یہ تمام شواہد حضرت محمدؐ کی گہری بصیرت، غیر تربیت یافتہ (Untutored)ذہانت اور عاقبت اندیشانہ بصارت پر دلالت کرتے ہیں۔ جنھوں نے ان کے کلام میں بادشاہت ، مذہبی رہنمائی اور ہر میدان میں درجۂ کمال کے اوصاف پیدا کردیئے تھے۔
اہل اسلام کی ہوس پرستیوں کے متعلق آج تک بہت کچھ لکھا اور کہا جاچکا ہے۔ (اس سے مصنف کا اشارہ اسلام میں تعدد ِ ازدواج کی طرف ہے) جو اصلیت سے بہت زیادہ کہہ یا لکھ دیا گیا ہے۔ اسے اہل مغرب نے مبالغے کی حد تک اچھا لا ہے۔ ایسی باتیں جن سے ہمارے معاشرے کے لوگ بدکتے ہیں، محمدؐ کی پیدا کردہ نہیں تھیں بلکہ عربوں میں صدیوں سے رائج چلی آ رہی تھیں۔ پیغمبر اسلام نے ان عادات اور رسم و رواج کو مختلف سمتوں سے محدود کرنے کی کوشش کی ہے۔ محمدؐ کا دین آسان نہیں روزے، وضو، پانچ وقت کی روزانہ نماز کے اہتمام اور ادائیگی میں سخت اور پیچیدہ قواعد، شراب سے مکمل اجتناب وغیرہ۔ یہ نہ سمجھئے کہ اسلام ایک آسان دین ہونے کی وجہ سے لوگوں میں مقبول ہوگیا۔ کوئی بھی مذہب آسانیوں اور آسائشوں کے زینوں پر چڑھ کر ترقی نہیں کرتا۔ یہ کہنا انسانیت کی توہین ہے کہ کردار کی عظمت کے مظاہرے اور عہد آفریں کارنامے محض دنیاوی اور اخروی عیش و آرام کے لالچ میں آکر انجام دیئے جاتے ہیں۔ ادنیٰ سے ادنیٰ انسان میں بھی عالی ظرفی کا ایک معیار ہوتا ہے۔ کرائے کے سپاہی جو چند سکوں کی خاطر میدان جنگ میں لڑتے ہیں وہ بھی اپنی عزت نفس سے خالی نہیں ہوتے، ان سے اگر بہادری کا کوئی کارنامہ انجام پاجائے تو آپ(یہ نہیں) کہہ سکتے کہ اس سپاہی نے ایک شلنگ فی یوم کی خاطر جان دے دی۔ ابن آدم کا معیار ،کام و دہن کی لذت نہیں بلکہ خدا کے حضور سرخروئی ہے۔ آپ کسی ادنیٰ سے انسان کو یہ راستہ دکھا دیں آپ دیکھیں گے کہ اس کی معمولی شخصیت بھی شعلہ جوالا بن کر چمکنے لگے گی۔ سختیاں برداشت کرنا نفس کا نہیں بلکہ دل کا معاملہ ہے۔
(حضرت) محمدؐ کے متعلق آپ کچھ بھی کہیں لیکن آپ یہ بات قطعاً نہیں کہہ سکتے کہ وہ نفسانی خواہشات رکھتے تھے۔ اگر کوئی محض ایسا کہتا ہے تو وہ سخت غلطی پر ہے ۔ آپ نفسانی خواہشات کہتے ہیں، میں کہتا ہوں کہ دنیاوی خواہشات نام کی کوئی چیز ان میں نہیں پائی جاتی تھی۔ ان کے گھر کا ماحول نہایت سادہ تھا، کھانے میں جو کی روٹی اور صرف پانی تھا۔ بعض اوقات مہینوں ان کے چولہے میں آگ تک نہیں جلتی تھی۔ مسلمانوں کو بجا طور پر فخر ہے کہ ان کے پیغمبرؐ اپنے جوتے گانٹھ لیا کرتے اور کپڑوں کو خود پیوند لگا لیتے تھے۔ اگر محمدؐ کا کردار بلند نہ ہوتا تو ان کی قوم ان کو اس طرح دل و جان سے نہ چاہتی۔ تئیس سال قوم سے ان کا واسطہ رہا۔ اس دوران فاقہ مستی اور مار پیٹ سے لے کر شدید جنگوں تک کی نوبت آئی۔ ان کی قوم نے قریب سے ان کا مشاہدہ کیا۔ کوئی بات چھپی ہوئی نہ تھی۔ محمدؐ انہی میں رہتے تھے اور انہی کے سامنے روز مرہ کے کاروبار، جوتے گانٹھنے سے لے کر سیاست دانی اور جنگ و جدال تک، ہر رنگ میں لوگوں نے ان کو دیکھا۔ کسی شہنشاہ کی اتنی عزت نہیں ہوئی جتنی گدڑی میں لپٹے ہوئے اس عظیم ہستی کو حاصل تھی۔ ان کا تئیس سالہ دور نبوت ایک ’’ہیرو‘‘ کی تمام صفات اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
(حضرت) محمدؐ کی جانب سے حرمت ِ شراب کا اقدام مجھے بیحد پسند ہے وہ ایک پسماندہ صحرائی معاشرے کو اپنے قدموں پر کھڑا کر رہے تھے۔ ان کی شخصیت ایک کھلی کتاب تھی۔ غرور نام کی کوئی چیز ان میں نہ تھی۔ لیکن عاجزی اور فروتنی بھی نہ تھی۔ پیوند لگے کپڑوں میں وہ ایران اور روم کے بادشاہوں کو دو ٹوک الفاظ میں مخاطب کرکے انھیں ان کے فرائض بتاتے ہیں۔ قبائلی ماحول میں زندگی اور موت کی کشمکش کے دوران انھیں سخت اقدامات بھی کرنا پڑے لیکن یہاں بھی انسانی ہمدردی اور بلند اخلاقی نمایاں نظر آتی ہے۔ محمدؐ نہ تو اپنے سخت اقدامات پر شرمندہ ہیں اور نہ اپنی نوازشات اور عفو و درگزر پر نازاں۔ ان کے ہر اقدام کی اپنی ایک اہمیت ہے۔
اس ارض خاکی پر انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ (حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سوال کا جواب ایسے طریقے سے دیا ہے کہ اس پر ہمارے بعض مسیحی علما کو شرم آجانی چاہیے۔ انھوں نے بینتھم (Bentham)اور ولیم پیلے (William Paley) کی طرح نیکی اور بدی، نفع و نقصان کے تصورات کی جمع و تفریق کا حساب نہیں لگایا۔ انھوں نے یہ اعلان کیا ہے کہ نیکی ہر حالت میں کرنے کا کام ہے اور بدی سے، بہر صورت اجتناب کرنے کی ضرورت ہے۔ نیکی دائمی زندگی کا پیغام ہے۔ اور بدی دائمی موت اور برے انجام کا۔ ان دونوں میں محض اچھے اور برے کا فرق نہیں بلکہ جنت اور دوزخ کا فرق ہے۔ تم انھیں ناپ نہیں سکتے۔ کیونکہ ان میں کوئی مشترک پیمانہ نہیں۔ ایک، انسان کے حق میں ابدی حیات ہے اور دوسری دوامی موت ہے۔ بینتھم کا نظریہ افادیت (Utilitarianism) یعنی نفع و نقصان کو نیکی کا معیار قر ار دینا، بہ الفاظ دیگر خدا کی اس وسیع کائنات کو آلہ بے جان بنا دینا اور انسان کی علوی روح (Infinite Celestial Soul)کو خس و خاشاک اور خوشی و غمی کا پیمانہ بنا دینا، ہے۔
اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ انسان اور اس کے انجام کا غلط تر اور فروتر نظریہ کس نے پیش کیا؟ انسان اور کائنات کے تصور میں ٹھوکر کس نے کھائی؟ محمدؐ نے یا ان لوگوں نے؟ ’’میں کہوں گا کہ ٹھوکر ان لوگوں نے کھائی ہے، محمدؐ نے نہیں۔‘‘
آپ کسی رات قاہرہ (مصر) کی کسی سڑک پر نکل جایئے، جب چوکیدار اندھیرے میں کسی کو پکارتا ہے تو اسے جواب ملتا ہے ’’لا الہ الا اللہ واللہ اکبر۔‘‘ یہ الفاظ آپ کی روح اور جسم میں سرایت کرجائیں گے۔اسلام کے پرجوش مبلغین، آج بھی ملایا سے پپوا نیوگنی کے سیاہ فاموں اور بت پرست وحشی قبائلی علاقوں تک اسلام کا یہی حیات بخش پیغام پھیلانے میں مصروف نظر آتے ہیں اور دیگر مذاہب پر غلبہ پا رہے ہیں جو ان سے ہرگز بہتر نہیں۔
عرب قوم کے لیے اسلام، اندھیروں سے اجالے کی طرف پیش قدمی کا پیغام تھا، اسی نے اہل عرب کو اصلی زندگی عطا کی۔ یہ غریب چرواہوں کی قوم تھی، جو مدت ِ مدید سے صحراؤں میں آوارہ گردی کر رہی تھی، گمنام تھی جسے کوئی پوچھنے والا اور جس پر کوئی توجہ دینے والا نہ تھا، ایک عظیم پیغمبر ان کے پاس ایک ایسا پیغام لے کر آیا جو ان کی فہم سے مطابقت رکھتا تھا۔ اس پر ایمان لانے کے بعد گمنامی کی گہرائیوں میں ڈوبے ہوئے انسان، یک دم دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گئے۔ یہ چھوٹی قوم دنیا بھر کی بڑی قوم میں ڈھل گئی۔ ایک صدی کے اندر اندر عرب، ایک طرف غرناطہ اور دوسری جانب دہلی تک دستک دینے لگے۔ دنیا پر ان کی شجاعت و ذہانت کی دھاک بیٹھ گئی۔ عرب سے نکلنے والی روشنی نے پورے عالم کو منور کردیا جو ایک حیات بخش پیغام عقیدے اور عمل کا نام ہے۔ عرب قوم، (حضرت) محمدؐ اور ایک صدی کا عرصہ، کیا یہ آسمان سے نازل ہونے والی ایک چنگاری نہ تھی؟ کہ جس نے سیاہ اور مہیب ریت کے ڈھیر پر گر کر اسے دھماکہ خیز بارود بنا دیا اور جو دہلی سے غرناطہ تک کے آسمان کو منور کرگیا۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے کہ عظیم انسان ہمیشہ ایک برق ِ آسمانی ہوتا ہے۔ جونیابھر کے دیگر انسانوں کو اپنی آمد کے منتظر پاتا ہے۔ اور وہ انھیں اپنے ساتھ ملا کر ایک شعلہ جوالا بن جاتا ہے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *