مومن کامل

حدثنا أبو الیمان قال :أخبرنا شعیب قال:حدثنا أبو الزناد ،عن الاعرج،عن أبی ہریرۃؓ عن النبیﷺ قال:(والذی نفسی بیدہ لا یؤمن أحدکم حتی أکون أحب الیہ من والدہ و ولدہ )
حدیث کی تشریح
رسول ﷺ کی محبت بھی جز وایمان ہے ۔اس میں یہ حدیث نقل کی کہ حدثناأبو الیمان الخ یہ بڑی مضبوط سندکی حدیث لے کر آئے ہیں ، اس میں سارے اونچے درجے کے محدثین ہیں ۔ابوالیمان ،حکم بن نافع اور شعیب بن ابی حمزہ جوہریؒکے مشہور شاگرد ہیں اور ان کے اوپر ابوالزناد عن الاعرج عن أبی ہریرہ یہ وہ طریق ہے جس کے بارے میں امام بخاری ؒکا مقولہ مشہور ہے :ابوہریرہؓ کی اسانید میں اصح الاسانید ہے،بلکہ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے تہذیب التہذیب میں امام بخاریؒ کی طرف یہ مقولہ منسوب کیا ہے کہ امام بخاری نے مطلقاًاس حدیث کو اصح قرار دیا ہے۔
وہ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت کرے ہیں کہ رسولﷺ نے فرمایا:
والذی نفسی بیدہ لا یؤمن أحدکم حتی أکون أحب الیہ من والدہ وولدہ۔
تم میں سے کوئی شخص مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد سے اور اولاد سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں ۔
اگلی حدیث جو انسؓ سے مروی ہے اس میں اضافہ ہے والناس أجمعین .والد سے ۔ولد سے اور تمام انسانوں سے جس میں انسان کی اپنی جان بھی شامل ہے ،والد اور ولد کا ذکر اس لیے کیا کہ والد اور ولد سے انسان کی محبت اپنی سی ہوتی ہے ۔اس واسطے اس کو مقدم کیا ہے۔اور اگلی حدیث میں اس کی وضاحت آگئی کہ والناس أجمعین،تمام انسانوں میں سے نبی کریم ﷺ سے محبت سب سے زیادہ ہو، اس کے بغیر آدمی مومن نہیں ہوسکتا۔
کون سی محبت مدار ایمان ہے؟
اس میں کلام ہوا ہے کہ رسول ﷺ کی جس محبت کو مدار ایمان قرار دیا گیا ہے اس محبت سے کون سی محبت مراد ہے؟
آیا محبت طبعی مراد ہے یا محبت عقلی؟
اور اشکال کی وجہ یہ ہے کہ اگر محبت طبعی مراد ہے تو وہ عام طور پر غیر اختیاری ہوتی ہے۔ایک کے ساتھ محبت زیادہ اور دوسرے کے ساتھ کچھ کم ہے تو یہ آدمی کے اختیار میں نہیں ہوتا ۔اس واسطے نبی کریم ﷺ نے خود اپنی ازواج مطہرات کے بارے میں فرمایا:
اللّھم ھذا قسمی فیما أملک فلا تلمنی فیما لا أملک۔
’’اے اللہ! جو کچھ میرے اختیار میں ہے اس کے اعتبار سے تو اپنی ازواج مطہرات کے درمیان عدل وانصاف کرتا ہوں ،لیکن جو چیز میرے اختیار سے باہر ہے اس میں آپ مجھے ملامت نہ فرمائیے گا‘‘۔
تو اس سے مراد محبت قلب ،میلان قلب ،جو انسان کے اختیار سے باہر ہے ،اگر محبت طبعی مراد لی جائے تو یہ غیر اختیاری چیز ہے اور غیر اختیاری چیز کا انسان مکلّف نہیں ۔
اور اگر عقلی محبت مراد لی جائے کہ طبعاً تو اس درجہ کی محبت نہ ہو ،لیکن عقلی طور پر انسان یہ سمجھتا ہو کہ نبی کریم ﷺ تمام دنیا میں سب سے زیادہ قابل محبت اور قابل تعظیم ہیں۔اس پر یہ اعتراض تو نہیں ہوتا کہ غیر اختیاری چیز ہے کیونکہ یہ اختیاری ہے۔
حضرت عمرؓ کی حدیث مشہور پر اشکال و جواب
کنا مع النبی ﷺ و ھو آخذ بید عمر بن الخطاب فقال لہ عمر(یا رسول اللہ، لأنت أحب الیّ من کل شئی الا من نفسی،) فقال النبیﷺ(لا والذی نفسی بیدہ حتی أکون أحب الیک من نفسک) فقال لہ عمر:(فانہ الآن واللہ لأنت أحب الیّ من نفسی۔فقال النبیﷺ الآن یا عمر)
مذکورہ حدیث پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ حضرت فاروق اعظم ؓنے نبی کریم ﷺ سے ذکر کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے آپ کے ساتھ ہر چیز سے زیادہ محبت ہے ،لیکن اپنی جان سے زیادہ نہیں ،اس پر حضور ﷺ نے فرمایا کہ تم اس وقت تک مومن نہیں ہوگے جب تک مجھ سے اپنی جان سے بھی زیادہ محبت نہ ہو اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ الآن ،اب اپنی جان سے بھی زیادہ محبت ہے ،تو پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ الآن ،اب تم نے ایمان کے اس تقاضے کو پورا کیا۔
اشکال
اشکال یہ ہوتا ہے کہ اگر محبت عقلی مراد ہے تو حضرت عمرؓ نے ابتداء میں کیسے نفی کی کہ مجھے اپنی جان سے زیادہ محبت نہیں ہے۔کیونکہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ حضرت عمرؓ کی عقلی محبت تو اپنی جان سے بھی زیادہ تھی اور یہ اعتقاد بدرجہ اتم موجود تھا کہ آپ ﷺ سب سے زیادہ قابل اطاعت ہیں اور ایسا یقینا نہیں ہو سکتا کہ انہوں نے محبت عقلی کی نفی کی ہو یقینا وہ محبت طبعی کی نفی کی تھی۔اس پر آپﷺ نے فرمایا کہ جب تک میں محبوب نہ ہوجاؤں اس وقت تک تم مومن نہیں ہوسکتے۔
توجیہات
اس اشکال کے جواب میں شرّاح حضرات نے مختلف توجیہات کی ہیں :
ایک توجیہ یہ ہے جو متعدد شرّاح نے بھی اختیار کی ہے اور حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒنے بھی اپنے مواعظ میں تفصیل کے ساتھ ذکر کی ہے ،وہ یہ ہے کہ محبت سے محبت عقلی مراد ہے،کیونکہ محبت طبعی انسان کے اختیار میں نہیں ہوتی ہے،اور حضرت فاروق اعظمؓ نے جو نفی کی تھی وہ محبت عقلی کی نہیں تھی بلکہ محبت طبعی کی تھی اور یہ سمجھتے ہوئے کہ تھی کہ اس حدیث میں جو محبت مطلوب ہے وہ محبت طبعی مجھے حاصل نہیں ہے اس درجہ کی جو مطلوب ہے ،اس واسطے یہ اشکال ہوا کہ مؤمن ہوا یا نہیں ؟
لیکن جب نبی کریم ﷺنے دوبارہ دہرایا یعنی جب تک مجھ سے اپنی جان سے بھی زیادہ محبت نہیں ہوگی اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتے تو اس وقت فاروق اعظم ؓ کو تنبہ ہوا کہ اس حدیث میں محبت طبعی مراد نہیں، بلکہ محبت عقلی مراد ہے،تو انہوں فرمایا کہ الآن ،اب بات سمجھ آگئی،کیونکہ محبت عقلی کا حصول مطلوب ہے اور الحمداللہ وہ مجھے حاصل ہے۔اس واسطے میرا اشکال حل ہو گیا،توآپﷺ نے فرمایا کہ الآن ،اب ٹھیک ہوگیا ،یہ وہ توجیہ ہے جو حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے بیان فرمائی اور متعدد شراح کے کلام سے بھی مؤید ہے ۔علامہ خطابیؒ،قاضی عیاض یہ سب حضرات یہی فرماتے ہیں۔
دوسری تو جیہ جو بعض حضرات نے بیان فرمائی وہ یہ ہے کہ محبت طبعی ہی مراد ہے ،اور اس پر یہ اشکال کہ یہ غیر اختیاری ہے تو یہ درست نہیں ۔اس واسطے کہ محبت طبعی کا وہ درجہ مراد ہے جو اپنے اختیار سے حاصل ہوتا ہے یعنی اس محبت کے اسباب پر غور کریں ،تو اسباب پر غور کرنے سے جو محبت پیدا ہوگی وہ محبت طبعی ہی ہوگی۔اور اس درجہ میں محبت طبعی کا حصول ہو جائے گا۔
اسباب محبت
کوئی انسان یہ سوچے کہ جب کسی سے محبت ہوتی ہے تو وہ کس بنا پر ہوتی ہے؟اس کے اسباب متعدد ہوتے ہیں ،کبھی کسی کے جمال سے محبت ہوتی ہے ،کبھی کسی کے کمال سے محبت ہوتی ہے کبھی کسی کے نوال(عطائ) سے ہوتی ہے۔یعنی تین اسباب جمال،کمال،اور نوال ۔نوال جس کے معنی ہیں احسان وعطا۔یہ تینوں اسباب نبی کریم ﷺ کے وجود مبارک میں بدرجہ اتم موجود ہیں ۔جمال بھی اعلی درجے کا ،کمال بھی اعلی درجے کا اور نوال بھی اعلی درجے کا ۔
جب آدمی یہ سوچے گا تو اس سوچنے کے نتیجے میں محبت پیدا ہوگی اور وہ محبت طبعی ہوگی اور جب آدمی ان اسباب کادوسروں سے موازنہ کرے گا کہ کیا آپ ﷺ کے علاوہ کسی اور میں اتنا جمال ہے ؟کیا آپ ﷺ کے علاوہ کسی اور میں اتنا نوال ہے ؟جب جواب نفی میں آئے گا تو پھر وہ محبت طبعی بھی جو اسباب سے پیدا ہوتی ہے سارے انسانوں کے مقابلے میں زیادہ ہوگی ۔
جوش و خروش حقیقی محبت کی دلیل نہیں
یہ سمجھ لینا چاہیے کہ محبت طبعی کا زیادہ ہونا اور چیز ہے اور جوش و خروش ہونا دوسری چیز ہے ۔ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کے ساتھ طبعی محبت زیادہ ہو ،لیکن جوش وخروش اتنا زیادہ نہ ہو ،اکثر و بیشتر ایسا ہوتا ہے کہ انسان کو اپنے باپ سے محبت زیادہ ہوتی ہے بہ نسبت بیوی کے لیکن بیوی میں اس کا جوش و خروش زیادہ نظر آتا ہے،باپ میں نظر نہیں آتا۔
بعض اوقات ماں باپ سے محبت زیادہ ہوتی ہے اور اولاد سے بھی اتنی ہی ہوتی ہے۔لیکن اولاد میں جوش و خروش زیادہ نظر آتا ہے ،اس کو چمٹا رہا ہے ،پیار کررہا ہے،گود میں لیے پھر رہا ہے ،لیکن باپ کو تو گود میں نہیں لے سکتا ،اس کو اس طرح چمٹاکر پیار نہیں کر سکتا۔اگر چہ فی نفسہ والدین سے محبت زیادہ ہے ،جس کی دلیل یہ ہے کہ اگر یہ اختیار مل جائے کہ یہ لو،یا وہ لو دونوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرنا ہوگا تو بعض اوقات انسان اپنے والد پر اولاد کو بھی ترجیح دیتا ہے ،لیکن والد کے ساتھ جوش و خروش کا اتنا اظہار نہیں ہوتا جتنا اولاد کے ساتھ ہوتا ہے ۔تویہ جوش و خروش غیر اختیاری ہوتا ہے اور یہ مطلوب نہیں۔
اور اس کا مامور بہ اس درجہ میں نہیں ہے کہ آدمی مومن نہ ہو ،لیکن وہ حبِّ طبعی جوناشی ہوتی ہے استحضارِ اسبابِ محبت سے اس حب طبعی کے اندر زیادتی و افضلیت مقصود ہے۔وہ محبت طبعی نبی کریم ﷺ سے زیادہ ہونی چاہیے۔
اگر اس پہلو سے دیکھا جائے تو آدمی کتنا ہی گیا گزرا ہو،فاجرہو اور گناہوں میں مبتلا ہو ،شرابی کبابی ہو ،لیکن جب سرور دو عالم ﷺ کے ناموس کا مسئلہ آجائے گا تووہ اپنی جان دے دیگا ، جس سے تاریخ اسلام بھری پڑی ہے ۔
ایک شاعر کی محبت طبعی اور ایمان کی چنگاری
ماضی قریب کا ایک مشہور اردو کا شاعر تھا عشقیہ نظمیں کہا کرتا تھا ،اللہ بچائے پینے پلانے کا بھی عادی تھا۔ دین سے کوئی خاص تعلق نہیں تھا ،شاعری بھی فاسقانہ تھی اور چونکہ مشہور ہو گیا تھا اس واسطے اس کو غرور بھی بہت تھا۔کسی کو اپنے آگے نہیں مانتا تھا ۔کسی بڑے شاعر ، ادیب اور صحافی کا نام لیا جاتا تو اس کے اوپر دو چار فقرے کس دیتا تھا۔
ایک جگہ یہ بیٹھا ہواتھا، پینے پلانے کا دور ہو رہا تھا اور ایک کمبخت دہریہ آیا اور اس نے سوچا کہ یہ بہت اچھا موقع ہے کہ یہ شخص شراب پی رہا ہے نشہ میں ہے تو اس سے کچھ کلمات کہلوائے جائیں ،جو اپنے مطلب دہریت ،الحاد اور بے دینی کے موافق ہوں ۔اس سے پوچھا کہ فلاں شاعر کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے۔ اس نے ایک فقرہ کہا کہ وہ تو بڑا بیو قوف ہے ۔پھر پوچھا کہ فلاں فلسفی کے بارے میں کیا خیال ہے ؟اس پر بھی دو چار جملے کس دئیے۔اسی سیاق میں اس کمبخت ،بدبخت نے یہ پوچھا کہ محمد ﷺ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟
جب اس نے یہ پوچھا تو وہ شراب پی رہا تھا اور ہاتھ میں پیالہ اور نشے میں تھا ،وہ اٹھا کر اس نے ایک طرف رکھا اور دوسرا گلاس اٹھا کر اس کے منھ پر مارا اور کہا کہ کمبخت تو مجھ سے میری زندگی کا آخری سہارا بھی چھیننا چاہتا ہے ۔یاد رکھ میں کتنا ہی گناہ گار سہی لیکن اس ذات گرامی کا غلام ہوں اور آپ کے بارے میںزبان سے کوئی کلمہ نکالنا تو کجا کوئی کلمہ آپ ﷺ کے بارے میں سن بھی نہیں سکتا ۔ لڑنے ،مرنے اور اس کی جان لینے کو تیار ہو گیا۔
دیکھنے میں بظاہر ایسا نہیں لگتا کہ دین اور مذہب سے کوئی ادنی تعلق ہوگا ،لیکن سر ور دو عالم ﷺ کے اسم گرامی آنے کے بعد ایک مسلمان جس کے اندر ایمان کی چنگاری ہے وہ کبھی بھی سر کار دو عالم ﷺ کی محبت میں پیچھے نہیں رہتا۔
یہ حب طبعی بعض اوقات ظاہر نہیں ہوتی ،لیکن وہ محبت طبعی جو اسباب محبت کے استحضار سے ناشی ہوتی ہے،وہ ہر مسلمان کے اندر موجود ہے ۔اس لیے یہ فرمایا جا رہا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوگا جب تک کہ اس حب طبعی کو اختیار نہ کرے،جو اسباب مُحبّ میں غور کرنے سے اور اس کے استحضار سے پیدا ہوتی ہے اور وہ حب طبعی ہی ہے ،لیکن اس کا راستہ استدلال اور اختیار میں ہے۔
لوگوں نے حب عقلی کی مثال یوں دی کہ جیسے ایک آدمی دوا پیتا ہے ،تو دوا بظاہر کڑوی لگ رہی ہے ،لیکن عقلاً سمجھتا ہے کہ میرے لیے یہ نافع ہے اس لیے وہ پیتا ہے ۔سرکار دو عالم ﷺ کی محبت کو اس دوا سے تشبیہ دینا یہ بات مناسب نہیں ،غلط ہے،گویا اصلاً تو پسند نہیں آرہی ہے،لیکن عقل سے سوچ کر اچھی لگ رہی ہے،اس لیے اس کو اختیار کیا۔یہ عنوان اچھا نہیں۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ حب طبعی ہی مراد ہے،(لیکن حب طبعی اس طرح ہے جس طرح میں عرض کیا )اور جب حب طبعی کی اسی طرح تشریح کی جائے جس کو حضرت حکیم الامت نے حب عقلی قرار دیا اس میں اور اس میں کچھ زیادہ فرق نہیں ۔اس لیے کہ یہ حب طبعی بھی استحضار اسباب محبت سے پیدا ہو رہی ہے، اور یہ طریقہ استدلالی ہوا۔
اور جو طریقہ استدلالی ہو اس کو آپ عقلی بھی کہہ سکتے ہیں۔وہ عقلی ہے سبب کے درجے میں اور اسباب پر غور کرنے کے درجے میں اور طبعی کے درجے میں عقلی استدلالی کے ذریعہ اس تک پہنچ رہے ہیں اس واسطے عقلی ہے،اور نتیجہ حب طبعی ہے ۔یہ چیز جب حاصل ہو جائے تو ایمان کامل ہو گیا۔
(مأخذ از انعام الباری ،جلد اول ،صفحہ ۳۸۳،مطبع :مکتبہ الحرا ئ،کراچی)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *