نعت گوئی

کہنے والے کہتے ہیں کہ آج نعت کا دور ہے ، بھول جاتے ہیں کہ ہر دور ہی نعت کا دور رہا ہے کہ یہ صنف سخن ازل انوار بھی ہے اور ابدآثار بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ نعت، مخالفین اسلام کی لسانی گستاخیوں کے جواب کے لیے وجود میں آئی تھی۔ خود حضورﷺ کی مبارک رضا اس میں شامل تھی اور اس کے خال وخط اور اسلوب و اصول بھی زبان ِرسالتؐ ہی نے متعین فرمائے تھے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ دل آزارتحریریں بھی لکھی جاتی رہیں، وقت کے راجپال نئے نئے لبادوں میں سامنے بھی آتے رہیں اور عصر نو کے رشدی ہنود و یہود کی سر پرستی میں دندناتے بھی رہیں اور حب رسول ﷺ کے دعوے دار محض نعت گوئی میں مصروف رہیں۔ ایسی نعت گوئی قلم قلم اور حرف حرف منا فقت ہے کہ اس میں محبت کا ادعا،غیرت کی چنگاری سے محروم ہے۔
؎ محبت خوب ہے، غیرت مگر اس سے فزوں ترہے

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *