یوروپ اور اسلام

رسول اللہؐ کے مخالفین نے آپ کو زندگی میں اتنا ہی بدنام کیا جتنا کہ آپؐ کے وصال کے بعد۔ مکہ میں دشمنوں نے کہا کہ آپؐ ’’آسیب زدہ‘‘ ہیں یا آپ ؐ’’کاہن‘‘ ہیں یا کبھی کہا کہ آپؐ ’’شاعر‘‘ ہیں۔ ان لوگوں نے قرآن حکیم کو نعوذ باللہ ’’جعل سازی‘‘ یا ’’ساحری‘‘ سے تعبیر کیا۔ جس میں قدیم قصے لکھے ہوئے ہیں۔ اور یہ قصے ’’چرائے‘‘ گئے ہیں۔ قرآن حکیم میں بار بار ان الزامات کا ذکر کیا گیا ہے اور آپ ؐسے کہا گیا کہ آپؐ مایوس نہ ہوں اور یہ یقین دہانی بھی کی گئی کہ آپ ؐحقیقتاً اللہ کے رسول ہیں۔
ان الزامات کے علاوہ آپؐ کو قریش کے ہاتھوں جسمانی ایذا رسانی بھی برداشت کرنی پڑی۔ انھوں نے آپ ؐکے پیروؤں پر ایسے ظلم ڈھائے کہ آپ ؐنے مجبور ہوکر کئی مسلمانوں کو حبش کی ہجرت کرنے کا مشورہ دیا۔ آپ ؐنے بھی اپنے صحابہ ؓکے ساتھ مکہ سے ہجرت فرمائی اور مدینہ میں سکونت اختیار کی۔ ۶۳۰ء ؁میں مکہ پر آپ ؐکی فیصلہ کن فتح کے بعد ہی سر زمین ِ عرب میں اسلام کو عام قبولیت حاصل ہوئی۔ بعد ازاں دنیا کے دوسرے ملکوں میں اسلام کی اشاعت نے غیر مسلم لوگوں کے دلوں میں اسلام سے نفرت کو مزید ہوا دی۔ خصوصاً عیسائیوں کے دلوں میں نفرت کا یہ لاوا دہک اٹھا۔ کیوں کہ وہ پے بہ پے شکست کھا کر ایشیا اور افریقہ میں اپنے علاقے مسلمانوں کے حوالے کرنے پر مجبور ہوئے۔ مسلم فوجیں تقریباً قلب یوروپ تک پہنچ گئی تھیں۔ میک گل اور برکلے یونی ورسٹی کے پروفیسر ہائیکم جائیٹ (Hichem Djait)کا بیان ہے کہ:
’’صدیوں کی جدو جہد کے بعد نصاریٰ اسلام کو ایک غیر سنجیدہ اور پریشان کن تحریک سمجھنے لگے۔ اسلام کے خلاف نفرت کا یہ جذبہ اس لیے بھی شدید ہوتا کہ مسلمانوں نے وہی علاقے فتح کیے جو پہلے عیسائیوں کے قبضے میں تھے۔‘‘
مایوسی کی انتہا کو پہنچ کر عیسائی راہب حضرت محمد صلعم اور قرآن مجید کے خلاف گھٹیا قسم کی بدکلامی پر اتر آئے۔ صلیبی جنگوں کے بعد تو حالات مزید ابتر ہوگئے۔ عیسائی مصنفوں اور شاعروں نے بھی ان کی تقلید کی ۔قرون ِ وسطیٰ کی اسلام دشمن عیسائی تحریکوں نے مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز مہم شروع کردی۔ جو عیسائی تعصب کی بدترین اور افسوس ناک مثالیں ہیں۔ اٹلی کے دانشور فرانسیسکو گیرائیلی نے بہت ہی موزوں الفاظ میں اس تعصب کو بیان کیا ہے۔ لکھتے ہیں:
’’ہمیں کئی ایسی تحریریں ملتی ہیں جو تاریخی مواد کے اعتبار سے تو بے ربط دروغ گوئی کے مظہر ہیں لیکن نفرت آفرینی اور دشنام طرازی میں ایک دوسرے سے بے حد مطابقت رکھتی ہیں۔ قرون ِ وسطیٰ کے مورخوں، اولیا کے سوانح نگار، اعتذار پسند مصنفین اور انسائیکلو پیڈیا کے مرتبین کی تحریروں میں اسلام دشمنی کا رجحان ایک عام بات ہے۔ گیارہویں صدی میں نوجنٹ کا گوئبرٹ (Guibert of Nogent) ٹورز کا ہلڈ برٹ (Hildebert of Tours) بارہویں صدی میں قابل احترام پیسٹر اور تیرہویں صدی میں جیکس ڈی ویٹر (Jacques de vitary)مارٹی نس، یولونس، ہو وائس کے وئسنٹ اور جسیکولیس اور دارا جبن سے لے کر برونیٹو لاٹنی (Brunetto Latini)اور اس کے مقلدین، بلکہ ڈانٹے (Dante)اور اس کے تبصرہ نگاروں تک تمام لوگ اسلام دشمنی کی مہم میں پیش پیش رہے ہیں۔‘‘
ڈانٹے (Dante)کے ڈرامے طربیہ یزدانی (Divine Comedy) میں نعوذ باللہ ’’حضرت محمد صلعم کو آگ کے شعلوں میں جلتا ہوا دکھایا گیا ہے؟ وہاں بد جانور آپ کے جسم مبارک کو نوچ رہے ہیں۔ ’’پروفیسر گیرائیلی نے اس ڈرامے کو جہالت، ناواقفیت، تخیئلی بے ضابطگی اور مذہبی جنون کے زیر اثر تخلیق شدہ بیہودہ ادبی کاوش قرار دیا ہے۔ گیرائیلی کہتا ہے کہ ’’ڈانٹے نے گھاس پھوس کا جو بیج بویا تھا وہ اس کی زندگی کے ساتھ ختم نہیں ہوا بلکہ نفرت کے ایک پیڑ کی شکل اختیار کرگیا۔ جس کی شاخیں مشرق اور مغرب میں پھیل گئیں۔‘‘
یوروپ میں روشن خیالی کے دور کے آغاز کے بعد بھی اسلام سے متعلق عیسائی دانشوروں کے رویے میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ لوتھر نے حضرت محمدؐ اور پوپ کو ایک ہی خانے میں رکھا۔ اور دونوں کو ’’عیسیٰ مسیح کے دشمن‘‘ قرار دیا۔ دوسری طرف کیتھولک عقیدے کے حامل لوگوں نے مسلمانوں اور پروٹسٹنٹ فرقے کو ایک ہی سطح پر رکھا اور دونوں کو ملامت کا نشانہ بنایا۔
کبھی کبھار ساری دنیا میں پھیلے ہوئے کروڑوں مسلمانوں کے عقائد کو نیک نیتی سے سمجھنے کی کوشش کی گئی کیوں کہ ان کی طاقت میں دن بہ دن اضافہ ہورہا تھا۔لہٰذا ان کے ساتھ مفاہمت ضروری ہوگئی تھی۔
یوروپ کی زبانوں میں قرآن مجید کے ترجمے چھپنے شروع ہوئے۔ ان میں سیل (Sale) کا انگریزی اور ساوری(Savary) کا فرانیسی ترجمہ قابل ذکر ہیں۔ باؤلین ولیرز(BoulamVilliers) اور گوئٹے(Goethe) نے حضرت محمدﷺ اور ان کے مشن کو سمجھنے کی مخلصا نہ کوشش کی ہے۔ جس کی وجہ سے یوروپ میں اس سے متعلق ہمدردانہ جذبات پیدا کرنے میں مدد ملی ہے لیکن اس کے بعد بھی کئی لوگ اسلام دشمنی کے قدیم رویے پر بضد ہیں۔ ان میں والٹیئر(Voltare) نمایاں ہے۔ اس نے ۱۷۴۲ئ؁ میں اپنا ڈرامہ’’محمّت‘‘ (محمدؐ) لکھا۔ اس ڈرامے میں والٹیئر نے پیغمبر اسلام کی ایک بدنما تصویر پیش کی ہے۔ دشمنی اور تعصّب کی جڑیں اتنی گہری تھیں کہ یوروپ کے بہترین دماغ بھی ان کا شکار ہونے سے نہیں بچ سکے۔
یوروپ میں اسلام کی بگڑی ہوئی شکل کو درست کرنے کا کام کا رلائیل(Carlyle) نے انجام دیا۔ والٹیئر کے رسول اللہؐ پر مخاصمانہ حملے کے تقریباً سوبرس بعد۱۸۴۰ئ؁ میں کار لائیل نے اپنے ایک خطبے میں آنحضور صلعم کو تمام پیغمبروں میں ایک سردار کی حیثیت سے روشناس کرایا۔ اس نے اعلان کیا کہ:
’’محمّت(محمدؐ) کے متعلق ہمارا موجودہ خیال یہ ہے کہ وہ ایک سازشی اور خود ساختہ پیغمبر تھے(نعوذبااللہ) یا دروغ مجسّم تھے۔ اور ان کا مذہب غیر مستند اور احمقانہ عقائد کا مجموعہ ہے۔ لیکن موجودہ زمانے میں یہ نظریہ کسی ذی فہم شخص کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ ہمارے مخلصا نہ مذہبی جنون نے اس شخص کے اطراف جھوٹ و افترا کا جو جال بن دیا ہے وہ خود ہمارے لیے باعث ِ شرم ہے۔‘‘
قرآن مجید کو پڑھنا کارلائیل کے لیے ایک دشوار مرحلہ تھا لیکن قرآن حکیم کے بارے میں بھی وہ سوال کرتا ہے کہ:
’’کیا ہم یہ سمجھ لیں کہ یہ کتاب (قرآن) ایک قابل ِرحم روحانی شعبدہ بازی سے بھرپور تحریر ہے۔ کیا یہ کتاب جس کی ہدایات کی روشنی میں خدا کے لاکھوں بندے زندگی گزار رہے ہیں اور جس کے لیے وہ جان بھی قربان کرنے کے لیے تیار ہیں، ایسی تحریر پر مشتمل ہوسکتی ہے۔ میں شخصی طور پر اس مفروضے پر یقین نہیں کرسکتا۔ کوئی بھی شخص اس بات پر حیران ہوگا کہ اس دنیا کو کیا سمجھے جس میں ایسی شعبدہ بازی نہ صرف پنپتی رہی بلکہ مقبول بھی ہوئی۔‘‘
کارلائیل نے اسلام کے صحیح معنیٰ بھی بتائے۔ ’’اپنے آپ کو مکمل طور پر خدا کے سپرد کردینا۔‘‘ اس نے گوئٹے کا حوالہ بھی دیا جس نے کہا تھا کہ ’’اگر یہی اسلام ہے تو ہم سب اسلامی زندگی گزار رہے ہیں۔‘‘
اگر تعصب کی عینک اتار کر قرآن مجید کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت مزید واضح ہوجاتی ہے کیوں کہ اسلام ان تمام اصولوں کی تصدیق کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ذریعے دوسری قوموں تک پہنچائے۔ قرآن مجید اس ازلی سچائی کو دہراتا ہے کہ اللہ ایک ہے۔ اور مخلوق ِ خدا سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اللہ پر غیر متزلزل اور مکمل ایمان لائیں۔ اور نیک اعمال اختیار کریں۔ یہی دو اصول ہیں جن کو ماننا مسلمانوں پر لازم قرار دیا گیا ہے۔ یہی اسلام کی بنیاد ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدؐ اس کے بندے اور رسول ہیں۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *