یورپ اور قانون توہین انبیاء علیہم السلام

پاپائے روم یا چرچ کے اقتدار میں آنے سے قبل یورپ میں رومن لا (Roman Law)کی عمل داری تھی چونکہ انجیل میں کوئی قانونی احکام موجود نہ تھے لیکن جب کلیسا نے اسٹیٹ پر غلبہ واقتدار حاصل کر لیا تو پوپ کے منہ سے نکلے ہوئے ہر حکم کو قانون کی بالادستی حاصل ہوگئی۔توراۃ کے برعکس انجیل صرف پندو نصائح کا مجموعہ تھا،اس لیے پورپ اور ایشیا میں جہاں جہاں عیسائی حکومتیں قائم ہوئیں ،وہاں کاروبار حکومت چلانے کے لیے اہل کلیسا کو رومی قانون اور یہو دیوں کے تالمودی قانون ہی پر انحصار کرنا پڑا۔
موسوی قانون کے تحت قبل مسیحؑ کے انبیاء کی اہانت اور توراۃ کی بے حرمتی کی سزا سنگسار مقرر تھی۔رومن امپائر کے شہنشاہ جسٹینین (Justinain)کا دور حکومت طلوع اسلام سے چند سال قبل 528تا565صدی عیسوی پر محیط ہے ۔رومن لاکی تدوین کا سہرا بھی اسی کے سر ہے اور اس کو عدل وانصاف کا مظہر بھی سمجھا جاتا ہے ۔اس نے جب دین مسیحی قبول کر لیا تو قانون موسوی کو منسوخ کر کے انبیائے بنی اسرائیل کی بجائے صرف یسوع مسیحؑ کی توہین اور انجیل کی تعلیمات سے انحراف کی سزا سزائے موت مقرر کی ۔اس کے دور سے قانون توہین مسیح ؑسارے پورپ کی سلطنتوں کا قانون بن گیا ۔روس اور اسکاٹ لینڈمیں اٹھارہویں صدی تک اس جرم کی سزا موت ہی دی جاتی رہی ہے ۔
روس میں بالشویک انقلاب کے بعد جب کمیونسٹ بر سر اقتدار آئے تو سب سے پہلے اس دین و مذہب کو سیاست سے کلیتاً خارج کر دیا ۔اس کے بعد یہاں سزائے موت برقرار رہی لیکن اہانت مسیحؑ کے جرم کی پاداش میں نہیں بلکہ مسیحؑ کی جگہ اشتراکی امپریلزم کے سربراہ نے لے لی ۔اسٹالن جورشین امپائر کا سربراہ بن بیٹھا تھا۔ اس کی اہانت تو بڑی بات تھی ،اس سے اختلاف رائے رکھنا بھی ممالک محروسہ روس کا سنگین جرم بن گیا ۔ایسے سرپھرے لوگوں کے یا تو سر کچل دیے جاتے تھے جس کی مثال لینن کے ساتھی ٹراٹسکی کی خوں چکا ںموت کی صورت میں موجود ہے ،جو اپنی جان بچانے کی خاطر روس سے بھاگ کر امریکہ میں پناہ گزیں تھا یا پھر ایسے مجرموں کو سائیبر یا کے بیگارکیمپوں میں موت کے حوالے کر دیا جاتا تھا۔ایسی اذیت ناک سزاؤں اور موت کی گرم بازاری نے زار روس کے دور سیاہ کی عقوبتوں کو بھی بھلا دیا۔
بر طانیہ میں بھی اگرچہ توہین مسیحؑ کی جسمانی سزا ئے موت موقوف کردی گئی تھی ،لیکن وہاں بھی اس جرم کی سزا کا قانون کامن لا کے علاوہ بلاس فیمی ایکٹ (Blasphemy Act)کی صورت میں تبدیل ہو گیا۔ مناسب ہوگا کہ یہاں بلاس فیمی کے معنی کے ساتھ اس کی تعریف کی بھی وضاحت کر دی جائے تاکہ اس کا صحیح مفہوم ذہن نشین ہو سکے۔
بلاس فیمی لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی اہانت کے ہیں ۔لاطینی اصطلاح میں خداوند خدا کے وجود اور دین مسیحؑ کی صداقت سے انکار یا نجات دہندۂ عالم یسوع مسیحؑ کی شان میں اہانت اور انجیل مقدس کی تحقیر اور تضحیک کو بلاس فیمو کہا جاتا ہے۔انگریزی زبان کی مستند قانونی لغت بلیکز لاڈکسنری (Black’s Law Dictionary)کی روسے بلاس فیمی ایسی تحریر یا تقریر ہے جو خدا یسوع مسیحؑ انجیل، یا دعائے عام کے خلاف ہو اور جس سے انسانی جذبات مجروح ہوں یا اس کے ذریعے قانون کے تحت قائم شدہ چرچ کے خلاف جذبات کو مشتعل کیا جائے اور اس سے بدکرداری کو فروغ حاصل ہو۔انسائیکلو پیڈیا آف بر ٹا نیکا میں بلاس فیمی کی تعریف ذرا کچھ مختلف ہے ،جس میں بتلا یا گیا ہے کہ مسیحی مذہب کی رو سے بلاس فیمی گناہ ہے اور علمائے اخلاقیات بھی ا س کی تائید کرتے ہیں ،جبکہ اسلام میں نہ صرف خدا کی شان میں بلکہ پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی بھی بلاس فیمی کی تعریف میں آتی ہے ۔ (انسائیکلو پیڈیا آف بر ٹانیکا،ج2،ص74)
برطانیہ میں توہین مسیحؑ(Blasphemy) کامن لاکے تحت قابل تعزیر جرم ہے، جبکہ بلاس فیمی ایکٹ میں مجرم کے لیے جسمانی موت کی بجائے شہری موت (Civil Death )کی سزا مقرر ہے جس کی رو سے حکومت ایسے مجرم کے سارے شہری حقوق سلب کرنے کی مجاز ہے ۔بلاس فیمی اگر تقریری ہو تو دو معتبر گواہوں کی شہادت لازمی ہوگی اور اگر تحریری ہو تو ایسی تحریر ثبوت جرم میں پیش کی جائے گی۔
معروف جج پولاک کے خیال میں بلاس فیمی ایکٹ کے تحت کسی شخص کو تادیبی موت (Civil death)کی سزا نہیں دی گئی مگر برطانیہ ہی کے ایک دوسرے ممتاز جج برام ویل نے صحیح طور پر پولاک کی تردید کی ہے ۔ہم برام ویل جج کی تائید میں ڈینس لی مون (Denis Lemon)ایڈیٹر نیوز (Gay News)کے ایک اہم مقدمہ کا حوالہ دیں گے۔لی مون پر 1978ء میں توہین مسیحؑ کے الزام میں برطانیہ کی عدالت میں کیس دائر ہوا ۔ایڈیٹر لی مون پر الزام یہ تھا کہ اس نے حضرت مسیحؑ پر ایک مزاحیہ نظم لکھی ہے ۔جس میں اس نے ان کو ہم جنس پر ستی کی طرف مائل دکھایا تھا۔اس مقدمہ کی اہم ترین بات یہ ہے کہ صفائی کے وکلاء نے ملزم کی طرف سے دفاع میں یہ نکتہ اٹھایا کہ ملزم نے بلاس فیمی کا ارتکاب ارادتاً(Wlfull)یا قصداً(Motive)نہیں کیا تھا۔یہ بات اس نے بطور تفریح کہی ہے جس سے اہانت یا توہین مقصود نہیں ۔یہ وہی عذر ہے جو گستاخان رسالت شروع سے کرتے چلے آئیں ہیں ۔جس کا ذکر کلام الٰہی میں آج سے چودہ سو سال سے قبل ہی کر دیا تھا اور انہیں یہ بھی جتلایا تھا کہ یہ عذر قابل قبول نہیں ہوگا۔
دیکھئے قرآن حکیم کا یہ ارشاد:
قل اباللہ و اٰیاتہ و رسولہ کنتم تستھزئونoلاتعتذروا قد کفر تم بعد ایمانکم(التوبہ:65)
’’تم اللہ کے ساتھ ۔اس کی آیات کے ساتھ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ استہزا(ہنسی مذاق)کرتے ہو ۔تمہارا کوئی عذر نہیں سنا جائے گا’ بلاشبہ تم نے ایمان کے بعد کفر کا ارتکاب کیا ہے‘۔‘‘
لی مون کے مقدمہ میں صفائی کے و کلاء کا تمام تر زور اسی نکتہ پر تھا کہ گے نیوز (Gay News) میں ملزم نے مسیحؑ کے بارے میں ایسی بات تفریحاً یا دل لگی کے طور پر کی ہے جس میں اس کی نیت یا ارادہ کا کوئی دخل نہیں ہے اور نہ ہی یہ بات بدنیتی سے کہی گئی ہے لیکن جیوری نے متفقہ طور پر قرآن مجید کے بیان کردہ فیصلہ کے مطابق ملزم کے عذر کو مسترد کر دیا اور یہ قرار دیا کہ بلاس فیمی یا توہین مسیحؑ کے کیس میں ’’نیت‘‘یا ’’ارادہ‘‘غیر متعلق ہیں کیونکہ جو بات جناب مسیحؑ کے بارے میں کہی گئی ہے اس کا براہ راست تعلق ایک واضح حقیقت(Facts)سے ہے جس کی وجہ سے پیروان مسیحؑ کے جذبات مشتعل ہوئے ہیں ۔ اس لیے کہ ہر وہ بات اور ہر وہ چیز جو خدا، یسوع مسیحؑ اور بائبل کی تضحیک ،استہزا،توہین اور تنقیص کا باعث ہو وہ بلاس فیمی یا قانون توہین مسیح کے تحت لائق تعزیر جرم ہے ۔اس لیے لی مون کو بلاس فیمی لا کے تحت جیوری نے سزاسنائی۔ فیصلہ میں مزید کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں قانون تو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ مذہب کا انکار کر دیا جائے وہ قابل گرفت جرم نہیں لیکن مذہب کے خلاف ناشائستہ اور اشتعال انگیز زبان استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔
اس طرح اہانت رسول ﷺ کے بارے میں قرآن مجید کی یہ وعید کی’ استہزا کرنے والوں کا کوئی عذر قبل قبول نہیں ہوگا‘بیسویں صدی میں خود منکرین ہی کے ذریعہ پوری کر کے دکھلا دی گئی۔فیصلہ کا اقتباس جو (Blassphemy and Bigotryٌ)کے عنوان سے برطانیہ کے کثیر الاشاعت روزنامہTHE LONDON TIMESمیں 27اگست 1988ء کو ڈیوڈ ہالو وائی (David Holloow Y)نے رپورٹ کیا ہے درج ذیل ہے:
BLASPHEMY AND BIGOTORY‘
“Sincerity” and an “atmosphere” of reverence are not a sufficient defence against blasphemy. The 1978 conviction of Denis Lemon, editor of “Gay News”, for publishing a poem suggesting that Jesus was a promiscuous homosxual established that the intention, or motive, of an artist is irrelevant. It is a question of fact: Is Christian religious feeling “outraged and insulted”?
The law is clear:”Every publication is said to be blasphemous which contains any contemtuous, reviling, scurrilous or ludicrous matter relating to God, Jesus Christ, or the Bible.” The law allows you to attack, subvert or deny the Chirstian rellgion, but not in a way that is “indecent” or “intemperate”.
راقم کے قیام انگلستان کے دوران یا اس کے بعد مندرجہ بالا فیصلہ کی کوئی تردید نظر سے نہیں گزری۔
امریکہ اور اس کی اکثرسیکولر ریاستوں میں قانون توہین مسیحؑ کو امریکی آئین کے بنیادی انسانی حقوق کے منافی قرار دیا گیا۔ اس سلسلہ میں امریکہ کی سپریم کورٹ نے بڑے دور رس فیصلے دیے ہیں جو ملک عزیز کے معروضی حالات میں نہایت اہم ہیں ۔یہاں ہم امریکی سپریم کورٹ کے ایک معرکۃ الاراء فیصلے سٹیٹ بنام موکس (State Vs.Mokas)سے ضروری اقتباس پیش کریں گے،جس میں آزادی مذہب اور آزادی پریس کے بنیادی حقوق سے بحث کرتے ہوئے فاضل عدالت عظمیٰ نے جو متفقہ فیصلہ دیا ہے ،اس کی تلخیص حسب ذیل ہے :
’’اگرچہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں چرچ اور اسٹیٹ ایک دوسرے سے علیحدہ ہیں اور ان میں باہمی کوئی ربط نہیں لیکن اسلام ،بدھ مت اور دیگر مذاہب کے مقابلہ میں پیروان مسیحؑ کی تعداد زیادہ ہے۔ حکومت کی زمام کار بھی ان کے ہاتھوں میں ہونے کی وجہ سے ہر شعبہ زندگی میں ان کا اثر ورسوخ ہے اور عیسائیت ریاست اور ملک کی غالب اکثریت کا مذہب ہے ‘‘۔فاضل عدالت نے اپنے بصیرت افروز فیصلہ میں تاریخ کے حوالے سے لکھا ہے :’’اور یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ دنیا میں تہذیب و تمدن کے آغاز ہی سے کسی ملک کے طرز حکومت کی تشکیل میں دین ومذہب کا نہایت اہم رول رہا ہے اور اس ملک کے استحکام اور بقا کا انحصار بڑی حد تک اس مذہب کے احترام اور تکریم سے وابستہ ہے جو وہاں کی غالب اکثریت کے دینی شعائر سے علیحدہ نہ ہونے والا لازمی حصہ ہے ‘‘۔
فاضل عدالت نے اس کی مزید توضیح کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’صدر امریکہ کی تقریب حلف وفاداری، اس کے علاوہ کانگریس اور مقننہ کی افتتاحی تقاریب اور عدالتوں کی کارروائی ِشہادت کا انجیل مقدس پر حلف کے آغاز سے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ مملکت کے تکون یعنی عدلیہ،مقننہ اور انتظامیہ کا بھی مذہب سے یک گونہ بالواسطہ تعلق ہے ۔اس لیے انہوں نے اپنے ریفرنس کا جواب دیتے ہوئے حتمی طور پر یہ قرار دیاہے کہ آزادیٔ مذہب اور آزادیٔ پریس کے آئینی تحفظات اور بنیادی حقوق ،توہین مسیحؑ کے قانون اور اس کی بابت قانون سازی کی راہ میں مزاحم نہیں ہیں ‘‘۔
یورپ کے قانون داں بلاس فیمی کے قانون کی توجیہ کچھ اس طرح کرتے ہیں کہ اس قانون کا محرک بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مذہب پر حملہ دراصل ریاست پر حملہ کے مترادف ہے ۔ان کی رائے میں اسی وجہ سے اکثر سیکولر ریاستوں میں بھی بلاس فیمی کو قابل تعزیر جرم بنایا گیا۔مقننین کی اس منطقی توجیہ اور امریکہ کی سپرم کورٹ کے ان ناقابل تردید دلائل کے بعد مزید دلیل کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
تاریخ کی یہ ایک معروضی حقیقت ہے کہ ماضی میں برطانیہ ،امریکہ ،روس اور یورپ کے کسی ملک میں بھی جب تک چرچ اور اسٹیٹ،دین اور ریاست ایک دوسرے سے علیحد نہیں ہوئے تھے،اس وقت تک ان سارے ملکوں میں چرچ کو مملکت پر برتری حاصل تھی اور وہاں یسوع مسیحؑ کی پرستش ہوتی رہی اور اس کے درپردہ کلیسا کو ملک کے سیاہ و سفید پر اقتدار کلی حاصل تھا،جس نے نشہ اقتدار میں بد مست ہوکر انسانیت پر لرزہ خیز مظالم کیے،جس کے خلاف بغاوت کے نتیجہ میں چرچ اور مملکت ،دین اور ریاست کی تفریق عمل میں آئی۔ اس لیے ان ملکوں نے سیکولر یعنی لادینی طرز حکومت کو اپنالیا۔اس کے باوجود ذوق پرستش ختم نہ ہوسکا۔اور اس نے ایک نئی صورت اختیار کر لی۔اب یسوع مسیحؑ کی بجائے ریاست کو فیٹش(Fetish)یعنی پوجمان شے بنالیا گیا اس لیے دنیا میں جہاں جہاں بھی سیکولر حکومتیں قائم ہوئیں ،وہاں ریاست کی مخالفت کو سنگین جرم؛ بغاوت اور غداری قرار دیا گیا۔ آج دنیا کے تمام ملکوں میں خواہ وہ سیکولر ہوں یا غیر سیکولر جرم بغاوت کا قانون موجود ہے ،جس کی سزا سزائے موت مقرر ہے ۔جو لوگ اس جرم کے الزام میں ماخوذ ہوں ،انہیں گولیوں سے اڑا دیا جاتا ہے یا پھر انہیں تختہ دار پر کھینچا جاتا ہے ۔امریکہ جیسے مذہب اور ترقی یافتہ ملکوں میں بھی انہیں گیس چیمبر ز،الیکٹرک چیئر میں بٹھا کر اذیت ناک طریقہ سے مار دیا جاتا رہا ہے اور جس ملک میں اس جرم کی سزا عمر قید ہے ،وہاں ایسے ملزموں کو عقوبت خانوں میں تڑپ تڑپ کر مرنے کے لیے بند کر دیا جاتا ہے،مگر اس قانون کے خلاف آج تک کسی نے لب کشائی نہیں کی ،تو پھر کیا ہمارے ہی مُلک میں ،جو اس محسن انسانیت ﷺ کی نسبت غلامی کی وجہ سے معرض وجود میں آیا اور جن کا نام نامی ہی اس ملک کے قیام اور بقا کا ضامن ہے ،اس کی عزت و ناموس پر حملہ کرنے والوں کے خلاف قانون توہین رسالت ،قابل اعتراض قانون ہے !قانون’ توہین رسالت‘ پر اعتراض در اصل دین و مذہب بلکہ خود اپنی عقل و دانش اور فہم و فراست سے یکسر انکار ہے ۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *