سرگزشت عاشقان رسولﷺ مرکز عشق و محبت

حضور ختمی مرتبتﷺ کی ذات گرامی سے عشق و محبت ہر مسلمان کی رگ و پے میں اس طرح سرایت کیے ہوئے ہے جس طرح شاخ گل کے ریشہ ریشہ میں باد نسیم صبح کا نم رچا اور بسا ہوتا ہے جو اسے زندگی اور ترو تازگی بخشتا ہے۔ یہی وہ نقطۂ پر کار عشق ہے جس کے گرد اس کی ساری کائنات گھومتی ہے۔ آپ سے والہانہ عقیدت ہی ایک مسلمان کا اصل سرمایہ حیات ہے۔ بلا شبہ فطری طور پر اسے اپنی جان و مال اپنے ماں باپ اور اولاد سے پیار ہوتا ہے لیکن ایک ہستی ایسی بھی ہے جو اسے ان سب سے محبوب تر ہے اور وہ ہستی ہے سرور کائنات جناب رسالت مآبﷺ، جن کے نام و ناموس پر سب کچھ قربان کر دینے کو وہ حاصل زندگی سمجھتا ہے۔ چنانچہ ظہور ختم المرسلینﷺ کے بعد سے آج تک کے واقعات اس آیت کتاب کی ترجمانی کرتے چلے آرہے ہیں‘ جس میں صاف صاف بتالایا گیا ہے:
النبی اولی بالمو منین من انفسھم
’’نبی تو اہل ایمان کے لیے ان کی ذات پر مقدم ہیں۔‘‘(الا جزاب:۶)
اس آیہ مبارکہ میں مزید تشریح خود اس حدیث رسول نے کردی :
لایؤمن احد کم حتی اکون احب الیہ من والدہ وو لدہ والناس اجمعین
’’تم میں سے کوئی شخص بھی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کے دل میں اپنے باپ ،بیٹے اور تمام انسانوں سے بڑھ کر میرے لئے محبت موجزن نہ ہو‘‘۔
میرے مشفق دیرینہ حفیظ جالندھری مرحوم نے اسی مضمون کو کچھ اس طرح زبان شعر میں بیان کیا ہے۔
محمد ہے متاعِ عالم ِایجاد سے پیارا
پدر، مادر،برادر، مال و جاں، اولاد سے پیارا
یہ عقیدہ محبت ہر دور میں ایک زندہ اور تابندہ حقیقت بن کر جریدہ عالم پرثبت ہوتا رہا ہے اور اس پر تاریخ کی کسی جرح سے نہ ٹوٹنے والی شہادت موجود ہے۔
عاشقان رسول ﷺ دور رسالت میں
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم شمع رسالت پر جس طرح پروانہ وار نثار ہوتے تھے، اس کی مثال اور نظیر سے تاریخ کے اور اق یکسر خالی نظر آتے ہیں، اسی لیے اس دور کو خیر القرون کہا گیا ہے۔
سوزِ صدیق
پیکر صدق و صفا حضرت ابو بکر صدیق ؓ کی ساری زندگی اسی عشق مصطفوی ﷺ سے سر شار نظر آتی ہے۔ شہادت گہہِ اُلفت میں قدم رکھتے ہی ہجوم بلا میں گھر گئے۔گفتار صدق مایہ آزاربن گیا۔ شہادت حق و رسالت پر کفار مکہ نے آپ کو نرغہ میں لے کر اس بری طرح زد و کوب کیا کہ آپ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ کافروں نے مردہ سمجھ کر وہیں چھوڑ دیا۔ قبلہ بنی تمیم کے اقربا کو جب اس کی خبر ملی تو وہ اس خستہ و نیم جان کو چادر میں لپیٹ کر گھر لے آئے۔ جب ذرا ہوش آیا اور آنکھ کھلی تو زبان پر سب سے پہلے آقا ہی کا نام آیا ۔پوچھا:’’رسول اللہﷺ کا کیا حال ہے؟‘‘ اپنی جان کی کوئی پرواہ نہ تھی، فکر تھی تو صرف محبوبﷺ کی سلامتی کی۔ خاندان والوں نے سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ رفاقت مصائب و آلام کا پیش خیمہ ہے، لیکن یہ جنون عشق کے انداز کہاں چھٹنے والے تھے! اس لیے اہل قبیلہ نے بھی قطع تعلق کر لیا۔ یہ سب کچھ منظور تھا لیکن فراق یار کسی صورت گوارانہ ہوسکا۔ اسی حالت میں حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچادیا گیا۔ زخم ہائے خونچکاں پر نظر پڑی تو خود آقاﷺ نے انہیں فرط محبت سے چوم لیا۔ سفر میں ،حضر میں، غرض کہ زندگی کے ہر ہر قدم پر ثانی اثنینؓ نے حق رفاقت ادا کیا۔ راہ حق میں جہاد کے موقع پر تمام اثاث البیت اور مال و متاع لا کر محبوبﷺ کے قدموں میں ڈھیر کردیا:
بولے حضورﷺ: چاہئے فکر عیال بھی
کہنے لگا وہ عشق و محبت کا رازدار
اے تجھ سے دیدہ مہ و انجم فروغ گیر
اے تیری ذات باعث تکوین روزگار
پروانے کو چراغ ہے بلبل کو پھول بس
صدیقؓ کے لیے ہے خدا کا رسول بس
حضرت ابو ہر یرہؓ سے روایت ہے کہ ایک دن جب حضور رسالت مآب ﷺ نے فرمایا کہ ابو بکرؓ سے زیادہ کسی اور کے جان و مال سے ہمیں فائدہ نہیں پہنچا۔ یہ سن کر حضرت ابوبکرؓ رونے لگے اور روتے ہوئے عرض کیا:’’یا رسول اللہ میری جان اور میرا مال آپؐ کے سوا اور کس کے لیے ہیں‘‘؟ یہ روایت مسند امام احمد بن حنبلؒ میں بالتفصیل آئی ہے۔
سفر ہجرت میں قدم قدم پر اندوہ ناک مصائب اور موت کا سامنا ہے لیکن رفاقت حبیب کے سامنے یہ مصائب کیا ہیں؟ یہ موت کیا چیز ہے؟ بیٹا اگر دشمنان رسول کے ساتھ ہے تو اس کی گردن اڑانے کے لیے صدیق ؓ کی تیغ بے نیام ہے۔ آقاﷺ نے ایک غلام زادے اسامہ بن زیدؓ کو قبل از وصال اسلامی فوج کا سپہ سالار مقرر فرمادیا تھا تو ابو بکرؓ سرباہ مملکت اسلام اس کی رکاب تھا مے پاپیادہ اسے رخصت کرنے جارہے ہیں۔ مصلحت وقت کے پیش نظر اکابر صحابہؓ، جن میں حضرت عمر فاروقؓ پیش پیش ہیں، نوجوان اسامہ کی بجائے کسی اور تجربہ کار سردار کو قائد ِلشکر بنانے کی تجویز پیش کرتے ہیں۔ اس پر غضب ناک ہوکر فرمایا: ابو قحافہ کے بیٹے کی کیا مجال کہ وہ آقاﷺ کے مقرر کردہ امیر کی بجائے کسی اور کو امارت سپرد کردے۔خدا کی قسم اگر جنگل کے بھیڑیے بھی مدینہ میں داخل ہوکر مجھے اٹھالے جائیں تب بھی میں وہ کام کرنے سے باز نہیں آؤں گا جسے اللہ کے رسول ﷺ نے کرنے کا حکم دیا ہے۔‘‘
عشق حیدر رضی اللہ عنہ:
ذات مرتضوی کمال عشق و مستی کی جیتی جاگتی تصویر ہے شب ہجرت بستررسولﷺ پر دشمنوں کی تلوار کے سایہ میں سوائے حیدر کرارؓ اور کون سوسکتا تھا! خیبر شکن قوت کا سرچشمہ عشق رسول ہاشمی ﷺ کے سوا اور کیا ہوسکتا تھا۔ ساری زندگی فقر وفاقہ اور نان جویں پر گزاردی۔بیت المال کا تمام مال و اسباب امت پر تقسیم کرتے رہے کہ یہی طریق رسول تھا۔
ابن ملجم کو خود ہی دعوت دی کہ اے دشمن خدا تونے اتنی دیر کیوں لگا دی اور جب اس ملعون کی تلوار آپ کے فرق مبارک کو کاٹتی چلی گئی توموت کا استقبال کرتے ہوئے پکارے اٹھے:’’رب کعبہ کی قسم! آج میں کامیاب ہوا۔‘‘ اور یہ کامیابی اس لیے تھی کہ شہادت وصال حبیبﷺ کا پیام بن کر نمودار ہوئی۔
شہیدِ اول
حارث ابن ابی ہالہؓ شیدائی رسول تھے۔ جب انہیں خبر ملی کہ کفار مکہ آقا ﷺ کے درپے آزار ہیں تو یہ جاں نثارمصطفیٰﷺ سینہ سپرہو کر تن تنہا دشمنوں کے مقابلہ پرنکل آیا اور مولائے کائنات ﷺ پرنثار ہو کر بار گاہ رسالت سے شہید اول کے خطاب سے سر فراز ہوئے۔
مقام خبیب اللہ رضی اللہ عنہ:
حضرت خبیبؓ کو قید و بند، بھوک اور پیاس کی اذیتوں نے عشق مصطفوی ﷺ کی لذتوں سے ہمکنار کیا۔ شہادت گہ الفت سے جب انہیں مقتل کی طرف لا یا گیا تو اس عزم و شوق سے سوئے دار چلے کہ حاصل ِعمر نثارِ رہِ یار کریں۔ مقتل میں ایک بار پھر دین محمدﷺ کو چھوڑنے پر جان بخشی کی ضمانت دی گئی لیکن ان عقل کے اندھوں کو کون سمجھاتا کہ یہاں آئے ہی اس لیے تھے کہ آقاﷺ پر اپنی متاع حیات نچھاور کریں۔ صاف انکار کردیا اور دیوانہ وار دار و ر سن کی طرف بڑھ کر جان حزیں آقاﷺ پر نثار کر دی۔ اس طرح اپنے خون سے داستان عشق رقم کرتے ہوئے ایمان کو درجۂ کمال تک پہنچا دیا۔ کیا ہی سچی بات کہی ہے مولانا ظفر علی خان نے۔
کٹ مروں جب تک نہ میں خواجہ یثرب کی حرمت پر
خدا شاہد ہے ،کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا
حضرت زیدرضی اللہ عنہ:
جناب زیدؓ بھی اسی سج دھج سے مقتل پہنچے۔ مشکیں کسی ہوئی تھیں۔ تختہ دار پر لا کر پوچھا گیا‘ کیا تمہیں منظور ہے کہ تمہارے بدلہ میں محمدﷺ کا سر قلم کیا جائے۔ اس پر اس عاشق صادقؓ نے جواب دیا:’’مجھے تو یہ بھی گوارا نہیں کہ میری جان کے بدلہ میں میرے آقا ﷺ کے تلوے میں ایک کانٹا بھی چبھ جائے۔‘‘ اس واقعہ کو مولانا ظفر علی خان نے نظم کے قالب میں ڈھالا ہے۔
پرستاران لات و نصر مشکیں زیدؓ کی کس کر
جب اس اسلام کے شیدا کو مقتل کی طرف لائے
قریش اپنے جلے دل کے پھپھولے پھوڑنے نکلے
گھروں سے رقص بسمل کا تماشا دیکھنے آئے
جبین زیدؓ پر اس وقت وہ رونق برستی تھی
کہ صبح اولیں کے نور کی بارش بھی شرمائے
یہ اطمینان خاطر دیکھ کر کفر اور جھلایا
دلوں کی تیرگی نے بدر کے داغ اور چمکائے
ابو سفیان پکارا کیا ہی اچھا ہو محمدﷺ کو
ترے بدلہ اگر جلود خاک و خوں میں تڑپائے
تڑپ اٹھتا ہوں جس دم وہ فقرے یاد آتے ہیں
بوقت ذبح جو اس مومن کامل نے دہرائے
مجھے ناز اپنی قسمت پر ہے کہ جب نام محمدﷺ پر
یہ سر کٹ جائے اور ان کا سر پا اس کو ٹھکرائے
یہ سب کچھ گوارا ہے پر یہ دیکھا جا نہیں سکتا
کہ ان کے پاؤں کے تلوے میں اک کاٹنا بھی چبھ جائے
پیغام سعدؓ:
غزوہ احد میں جب دشمنوں نے یہ افواہ اڑادی کہ (خاکم بدہن ) محمد ﷺ مارے گئے تو مسلمانوں پر سراسیمگی طاری ہوئی۔ حضرت انسؓبن مالک کے چچا حضرت ابن نضرؓ تک جب یہ خبر پہنچی تو وہ یہ کہتے ہوئے دشمن کی صفوں میں گھس گئے کہ آپ کے بعد ہم زندہ رہ کر کیا کریں گے اور اسی ّ(۸۰) سے زیادہ زخم کھا کر شہید ہوئے۔ پھر جب حضرت کعب ابن مالکؓ نے اعلان کیا کہ اللہ کے رسولﷺ زندہ اور سلامت ہیں تو مسلمان پروانہ وار آپ کے گرد جمع ہوگئے۔ حضرت طلحہؓ اور حضرت ابو دجانہؓ نے دشمنوں کے سارے وار اپنے جسم پر روکے ۔اسی انثا حضور ﷺ نے سعدؓ بن ربیع کے بارے میں دریافت فرمایا، جس پر ایک انصاریؓ ان کی تلاش میں نکلے۔زخمیوں اور شہیدوں کے درمیان ڈھونڈتے ہوئے جب ان کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ زندگی کی رمق ابھی ان میں باقی ہے۔ کہا:’’حضور ﷺ نے مجھے تمہاری خبر لانے کے لیے بھیجا ہے‘‘۔ اس عشق و محبت کے رازدار نے کہا: ’’اللہ کے رسولﷺ کی خدمت میں پس از سلام یہ عرض کرنا کہ سعد آپﷺ پر نثار ہوگیا کیونکہ اب صرف چند لمحوں کا مہمان ہوں۔حضورﷺ سے یہ عرض بھی کرنا کہ اللہ آپ کو پیغمبروں کے شایان شان اجر عطا کرے۔ ‘‘ اس کے بعد سعدؓ نے انصارؓ اور مہاجرینؓ کو یہ پیغام دیا: ’’اگر تمہارے جسم میں ذرا سی بھی جان ہو اور اللہ کے رسولﷺ کو کوئی گزند پہنچے تو اللہ کے حضور تمہارا کوئی عذر بھی قابل قبول نہ ہوگا۔‘‘ یہ کہتے کہتے اس عاشق صادق نے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کردی۔
بچہ ناز رفتہ باشد ز جہان نیاز مندے
کہ بوقت جاں سپردن بسرش رسیدہ باشی
تمنائے عشق:
صحابہ و صحابیات رسول ﷺ چاہے وہ بوڑھے ہوں یا جوان، عورتیں ہوں یا بچے سب کی یہی خواہش اور تمنا تھی کہ وہ اپنے آقا و مولا پر جان نثار کرنے میں کسی سے پیچھے نہ رہ جائیں۔ یہ شرف انبیائے کرام میں سے کسی اور نبی کو نصیب نہ ہوا کہ اس کے امتی اس کے لیے جی جان سے لڑمرنے کے تیار رہے ہوں۔ یوسف علیہ السلام کو خود برادر ان یوسف نے اندھے کنویں میں پھینک دیا تھا۔ حسن یوسف پر فریفتہ ہو کر زنان مصر نے صرف اپنی انگلیاں کاٹ لی تھیں لیکن یہاں تو ان کے اشارہ چشم پر سر کٹانے کے لیے ہر وابستۂ دامان ِرسالت سربکف نظر آئے گا۔
موسی علیہ السلام نے اپنی قوم بنی اسرائیل کو سرزمین کنعان میں داخل ہونے کا حکم دیا تو قوم نے کہا: اے موسیٰ! جاؤ تم اور تمہارا خدا(ان سے) قتال کے لیے۔ہم تو یہیں بیٹھے رہیں گے۔ ‘‘(المائدہ:۲۳)
فاذھب انت وربک فقاتلا انا ھھنا قاعدون
مسیح علیہ السلام کو جب صلیب کی طرف لے جایا جا رہا تھا تو ان کے سارے حواریوں نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا اور وہ بول اٹھے۔’’ایلی ایلی لما سبقتنی‘‘ لیکن یہاں تو بچہ بچہ اپنے نبی کی حرمت پر کٹ مرنے کے لیے بے قرار ہے۔
معاذ اور معوذ رضی اللہ عنہما:
معرکہ بدر میں معاذؓ اور معوذؓ دو کمسن نوجوان انصاری بچوں نے دشمن رسول ابو جہل کاصف اعداء میں گھس کر کام تمام کیا اور اس معر کہ کفرو دیں میں ان دونوں نے جس طرح دادِ شجاعت دی اور پھر معوذؓ اپنے آقا پر قربان ہوگیا، اس پر غالب کا یہ مصرعہ بے اختیار زبان پر آتا ہے۔
کون ہوتا ہے حریف مے مرد افگن عشق
عشق اویس رضی اللہ عنہ:
احترام اور عشق رسولﷺ کے یوں تواقعات بے شمار ہیں لیکن ہم یہاں صرف ایک واقعہ کے تذکرہ پر اکتفا کریں گے، جس سے یہ اندازہ ہوسکے گا کہ ان ذوات قدسیؓ کے دلوں میں آپ ﷺکا کیا مقام اور آپ ﷺکے لیے کتنا احترام تھا۔ یا ران نبیؓ تو اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے جس سے اندیشہ ہو کہ وہ طبع حضور ﷺ پر گراں گزرے اور ایسی بات آپﷺ کے وصال کے بعد بھی کسی سے سرزد ہو۔
ایک صحابی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ کھانا تناول فرمارے تھے۔ دسترخوان پر کدو کا سالن لایا گیا تو اس ذوق و شوق کے ساتھ کھانے لگے گویا خوان نعمت آسمان سے ان کے لیے اتارا گیا ہے۔ فرمانے لگے: ’’یہ میرے آقا ﷺکی محبوب غذا تھی۔‘‘ ان کا ایک صاحبزادہ جو پاس ہی بیٹھا کھانا رہا تھا‘ بے خیالی میں بول پڑا: ’’لیکن مجھے تو یہ پسند نہیں۔ ‘‘یہ سننا تھا کہ فوراً کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا۔ تلوار نکال لائے اور اسے جان سے مارنے کے لیے دوڑے۔ غصہ اس بات پر تھا کہ اسے ایسی بات کہنے کی جرأت کیسے ہوئی! افراد خاندان نے بیچ بچاؤ کرکے لڑکے کو بچالیا۔ لیکن باپ نے عمر بھر اس کی صورت نہیں دیکھی۔ وقت رحلت جب بیٹا شر مسار اور معافی کا خواستگار ہوکر سامنے آیا تو منہ پھیر لیا اور کہا ۔’’ایسی اولاد کی صورت دیکھ کر میں اپنے آقا کو کیا منہ دکھاؤں گا۔‘‘عشق کا یہ بھی ایک منفراد انداز ہے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *