اخوان المسلمون پر عتاب کا تاریخی جائزہ

عالمِ اسلام میں سیاسی بیداری، پان اسلام ازم کی تحریک، سماجی، دینی اور تعلیمی اصلاحات کی پہلی تحریک جمال الدین افغانی اور ان کے شاگرد محمد عبدہ نے چلائی مصر پر فرانسیسی اثرات مسلط رہے اور ۱۸۸۲ئ؁ سے برطانوی سامراج مصر پر قبضہ کرکے اس کی دینی اور سیاسی اور ثقافتی حیثیت کو متغیر کرنے کے فکر میں لگا رہا۔ عُرابی تحریک اور نہضتہ یا بیداری کی تحریکیں چلتی رہیں لیکن وہ یا تو ناکام ہو گئیں یا ضعف کی وجہ سے بے اثر ہو گئیں۔ برطانیہ چونکہ بالفور منشور پر درپردہ عمل پیرا تھا لہذا ہر ایسی اسلامی تحریک پر اس کی نظر جمی رہی جواس راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتی تھی، اس میں اخوان سر فہرست تھے۔ اس لیے کہ فلسطین میں وہ جو ا نمردی کے ساتھ لڑے اور اپنے جوہر دکھائے۔
صلیبی سامراج( خواہ برطانیہ ہو یا فرانس و امریکہ ہو)یاپرولتاری سرخ سامراج(روس اور دیگر اشتراکی) دونوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ مسلمان صرف اسلام کے نام پر متحد ہو سکتے ہیں اور کتاب و سنت کے نام پر ہر قسم کی قربانی دے سکتے ہیں۔ اس لیے ان کی بین الاقوامی سیاسیات کا اہم ترین نقطہ یہی رہا کہ عالم اسلام میں کبھی کسی اسلامی تحریک کو فروغ پانے نہ دیا جائے اور ہرایسی تحریک کو خود وطنی قائدین کے ہاتھوں کچلوا دیا جائے۔
بر طانیہ نے اچھی طرح بھانپ لیا کہ اخوان نامی تحریک فلسطین میں اسرائیلی ریاست کے قیام میں سب سے بڑا روڑہ ثابت ہو گی۔ اس لیے روز اول سے ہی اس کے لچلنے کی اسکیم تیار کی اور آخر اس میں کامیاب رہا۔ اس اسکیم میں سفید و سر خ سامراج متفق رہے بلکہ ایک دوسرے کی مدد کرتے رہے۔ اس وقت اس کا سرسری جائزہ ہدیہ ناظرین ہے کیونکہ اس کے بغیر بین الاقوامی سیاسیات کی صلیبی ذہنیت آشکار نہیں ہو سکتی۔ نہ ہی فلسطین کی بحث مکمل ہو سکتی ہے۔
جمال الدین افغانی کی انقلابی تحریک کا اثر سارے عالم اسلام میں ہوا۔ یہ چنگاری کبھی نہیں بجھی اور اب شعلہ بدا ماں ہوتی نظر آرہی ہے۔ عام اسلام کی بد حالی کے پیش نظر امت اسلامیہ کی اصلاح اور کتاب و سنت کی طرف مسلمانوں کو واپس لانے کے لیے۱۹۲۸ ئ؁ میں مصر کے شہر اسکندریہ میں حسن البنا نے جو برطانوی سامراج کے دشمن تھے ، الاخوان المسلمون کی بنیاد رکھی اور چھ خدا ترسوں نے سب سے پہلے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور احیاء دین کے لیے جان و مال ہر قسم کی قربانی دینے کی قسم کھائی۔ برطانیہ نے اس کے تابناک مستقبل کو بھانپ لیا۔ راہ حق کی ابتدائی مشکلات شروع ہو گئیں جس کے نتیجہ میں اس کا صدر دفتر اسکندریہ سے قاہرہ منتقل کر دیا گیا۔ جہاں نوجوان فسق و فجور کا شکار تھے،تحریک کی برکت سے چشم زدن میں مسلم نوجوان اس کے گرد آنے لگے۔ ویران مسجدیں آباد ہو گئیں اور تعلیمی اداروں میں احیاء اسلام کی تحریک چل پڑی۔ دو عشروں میں تقریباً بیس لاکھ افراد اخوان سے منسلک ہوگئے اور دوہزار شاخیں قائم ہو گئیں۔ استعمار کے کان کھڑے ہو گئے اور رونگٹے کھڑے ہونے لگے۔
برطانیہ سے اخوان کی پہلی ٹکر 1940ئ؁ اور 1941ئ؁ میں ہوئی جب اخوان نے دوسری عالمگیر جنگ میں برطانوی افواج میں مصری نوجوانوں کے داخلہ کی مخالفت کی۔ عالمی جنگ کے ختم ہوتے ہی فسلطین کی جنگ چھڑ گئی جس میں اخوان نے جو کارنامے ادا کیے ان کی تفصیلات کا یہاں موقع نہیں۔ برطانوی سامراج اخوان کی طاقت کو دیکھ کر تڑپ اٹھا۔ اور شاہ فاروق کے ہاتھوں اخوان پر مظالم شروع کردیے۔ جماعت اخوان کے پریس ،مطبوعات، رسائل و مجلات اور نشر و اشاعت کے دفاتر بند کردیے گئے۔ مصری اخبارات کو ہدایت کردی گئی کہ اخوان کا ذکر کہیں نہ ہو۔ نحاس پاشا نے یہ پابندی ختم کی لیکن برطانوی سفارت خانہ کے دباؤ پر پھر مظالم شروع ہوئے۔ وزراء مثلاً احمد ماہر نقراشی اور صدقی کے دور میں مظالم جاری ر ہے۔ زوال فاروق کے بعد نیا دور آیا جس کی قیادت صدر ناصر کے ہاتھ آئی۔ یہ دور نہ صرف مظالم کے نقطۂ عروج کا دور تھا بلکہ الاخوان المسلمون کے خاتمہ کا بھی دور تھا۔ یہ اور بات ہے کہ اس کو ختم کرنے والے بھی اس شان سے ختم ہوئے کہ خود تو ڈوبے شرق اوسط کو بھی لے کے ڈوبے۔
سرخ استعمار اخوان کے منشور اللہ غایتنا والرسول زعیمنا والقران دستورنا (یعنی اللہ ہمارا مقصود، رسولؐ ہمارا قائد اور قرآن ہمارا دستور) ایک لمحہ کے لیے برداشت نہیں کر سکتا تھا۔کیونکہ یہ خود اس کے منشور کی نفی تھی۔ یہ منشور صلیبی استعمار کے لیے بھی قابل قبول نہ تھا۔ فاروق اور اس کے افسران سفیداستعمار کی خوشنودی اور صدر ناصر پرولتاری استعمار کی خوشنودی کے لیے اخوان کے خاتمہ پر تل گئے۔
دسمبر 1948ئ؁ میں اخوان کو غیرقانونی قرار دیاگیا اور چار ہزار اخوانی گرفتار کیے گئے۔ 12فروری 1949ء کو حسن البنا کو سازش کے ذریعہ شہید کر دیا گیا۔ دو سال کے مقدمہ کے بعد سپریم کورٹ نے اخوان کو دوبارہ بحال کردیا لیکن1954ئ؁ میں پھر اُسے غیر قانونی جماعت قرار دے دیاگیا، دس ہزار اخوان گرفتار کیے گئے۔ چھ چوٹی کے قائدین درد ناک عذاب کے ساتھ شہید کیے گئے۔ دس سال تک ملک میں مارشل لا کے نفاذ کی و جہ سے کسی کو لب کشائی کی اجازت نہ تھی۔ اس عشرے میں جو قیامت خیز مظالم اخوان پر ہوئے عینی شاہدوں کی زبانی سنتے ہی انسانی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
اخوان کے لئے ملازمتیں حرام کردی گئیں اور رزق کے تمام دروازے ان پر بند کردئیے گئے۔
۲۴؍مارچ ۱۹۶۴؁ء کو جب نیا دستور نافذ کیا گیا تو صدر نے ایسے اختیارات اپنے لئے مخصوص کرلئے کہ اب ہر مخالف کو ختم کردینے کا جواز موجود تھا۔ جون ۱۹۶۵ئ؁ میں صدر ناصر جب روس کے دورے پر گئے تو اخوان کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے اس پر رجعت پسندی اور دہشت پسندی کا الزام لگایا گیا بلکہ ماسکوکی تقریر میں اعلان کردیا گیا کہ ان خطرناک رجحانات کو عنقریب کچل دیا جائے گا۔ واپسی کے بعد ہی جولائی ۱۹۶۵ئ؁ سے اخوان کی گرفتاریاں شروع ہوگئیں۔ تیس ہزار اخوانی گرفتار ہوئے۔گرفتار شدگان کے خاندانوں پر مظالم کا عذاب ٹو ٹ پڑا۔ ڈیڑھ لاکھ متعلقین پر رزق کے دروازے بند کردیے گئے۔ بے سہارا خاندانوں، بیوہ اور یتیم اخوانی بچوں کی مالی اعانت کرنے والے تک گرفتار کئے گئے۔ان کی وکالت کی جرأت کسی میں نہ رہی۔ مقدمہ کی پیروی لے لئے باہر سے آنے والے وکیلوں تک کو اجازت نہ ملی۔ فرانس کے بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور ہیگ کے وکلاء نے قیدی اخوانیوں کے مقدمہ کی پیروی کی پیش کش کی، مراکش ا ور سوڈان کے وکلاء نے اپنی خدمات پیش کیں۔ سب مسترد کر دی گئیں۔ لندن کی ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جو رپورٹ پیش کی ہے اس میں اس قسم کے دل دوز۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *