انوکھا بندھن

یرموک کے میدان پر سناٹا چھایا ہواتھا۔۔۔چاروں طرف لاشیں ہی لاشیں تھیں۔ زمین پر اتنا خون بہا تھا کہ پھسلن ہو گئی تھی اور اس خون میں جگہ جگہ کراہتے ہوئے زخمیوں کی آوازیںبڑی عجیب سی لگ رہی تھیں۔
ابھی ابھی ایرانی فوجوں اور اسلامی فوجوں میں لڑائی ختم ہوئی تھی۔ اسلام اور کفر کی یہ زبردست لڑائی تھی جس میں بالآخر اسلامی مجاہد فتح یاب ہوئے تھے ، لیکن اس فتح یابی کے لیے کتنے سروں کا نذرانہ پیش کرنا پڑا تھا۔
یرموک کے میدان میں کراہتے ہوئے ان زخمیوں میںمسلمان بھی تھے اور کافر بھی۔ کافروںکے منہ پر طرح طرح کی گالیاں تھیں، مگر مسلمان مرتے مرتے بھی اپنی زبان خدا اور رسولؐ کے نام سے تررکھنا چاہتے تھے۔
چاروں طرف اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ کی آوازیں کراہوں کی صورت میں زخمیوں کے منہ سے نکل رہیں تھیں— ٹوٹی ہوئی تلواروں اور بکھرے ہوئے نیزوں کے درمیان کراہتے ہوئے ان زخمیوں کی آوازیں ڈھلتی ہوئی شام کے پس منظر میں دل کو ایک عجیب سا احساس دے رہی تھیں۔
اس میدان میں ایک سایہ بے قراری کے ساتھ کسی کو ڈھونڈرہا تھا، پانی کا مشکیزہ اس کے کاندھوں پر تھا، یہ ابو جہم بن حذیفہ تھے جو اپنے چچا زاد بھائی کو ان زخمیوں کے درمیان تلاش کرتے پھر رہے تھے ۔ وہ اپنے چچا زاد بھائی کے ساتھ آخری سلوک کرنا چاہتے تھے۔ مرنے سے پہلے ان کے خشک حلق میں کم از کم دوبوند پانی ہی ٹپکا دیں۔
موت کے طویل سفر پرجانے سے پہلے دوبوند پانی کے زاد سفر سے زیادہ وہ ا پنے بھائی کو اور کیا دے سکتے تھے۔
’’کیسا خوش قسمت ہے میرا بھائی ۔‘ ‘ وہ سوچتے جا رہے تھے، جس نے زندگی میں اپنے لیے کچھ بھی اکٹھا نہ کیا سب کچھ خدا کی راہ میں قربان کر دیا اور آج اپنی سب سے قیمتی چیز اپنی جان بھی اپنے خدا کو پیش کردی، اسلام کی اس نعمت کے لیے میرے بھائی کو کتنی قربانیاں دیناپڑیں۔ سارے رشتے چھوڑ دینے پڑے، سارے عزیزوں سے منہ موڑ لینا پڑا سارے دوستوں سے جدا ہونا پڑا، اپنوں نے اسے دھتکار دیا، دوستوں نے اسے ٹھکرا دیا۔
ابو جہم سوچتے جارہے تھے، اور ان کی نظریں بے قراری کے ساتھ اپنے بھائی کو ڈھونڈ رہی تھیں اچانک انہوں نے دیکھا— چند ہی قدم کے فاصلے پر ان کے بھائی کراہ رہے تھے، ان کی آنکھیں بند ہوتی جارہی تھیں اوروہ گہری گہری سانسیں لے رہے تھے۔
’’بھیا۔۔۔۔۔۔۔بھیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے بھیا‘‘ ابو جہم نے انہیںزور زور سے آوازیں دے کر اپنی طرف متوجہ کیا۔ دھیرے دھیرے انہوں نے آنکھیں کھولیں اور ایک ہلکی سی مسکراہٹ ان کے ہونٹوں پر جھلک آئی، وہ دلآویز مسکراہٹ جو صرف ایک کامیاب مجاہد کے حصے میں آتی ہے۔
’’کیا ہے ابوجہم۔‘‘ ٹوٹتی ہوئی آواز میں انہو ںنے پوچھا اور ابو جہم نے اپنے کاندھے سے مشکیزہ اتار کر چند قطرے پانی ان کے سوکھے حلق میں ٹپکانے کی کوشش کی۔
لیکن ان کے بھائی نے انکار میں سرہلادیا۔ ابوجہم نے دیکھا وہ اشارے سے برابر میں پڑے ہوئے مجاہد کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ سوکھے حلق کی وجہ سے وہ بولنے سے قاصر تھے اور صرف آنکھوں سے اس کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔
ابو جہم نے دیکھا وہ ہشام بن ابی العاصؓ تھے زخموں سے چور چور خون میںبھیگے ہوئے، بھیاکی خواہش تھی کہ پہلے ہشام پانی پئیں۔ ابو جہم مشکیزہ لے کر ہشامؓ کی طرف بڑھ گئے ۔
’’ہشام ۔ہشام ہشام بن العاص ‘‘ انہوں نے دھیرے دھیرے پکارا۔ ہشام نے دھیرے سے آنکھیں کھول دیں، آنکھوں میں ایک خاموش سا سوال تھا۔
’’لیجئے پانی پی لیجئے۔‘‘ ابو جہم نے مشکیزے کی طرف اشارہ کیا۔ ہشام نے پانی پینے کے لیے منہ کھولناچاہا۔ تب ہی برابر سے ایک آہ کی آواز آئی۔
ہشام نے دھیرے سے سر موڑ کر دیکھا— ابو جہم نے بھی دیکھا ایک زخمی مجاہد دم توڑ رہے تھے۔ پیاس کے مارے ان کے ہونٹ بالکل خشک ہو چکے تھے۔ ہشام نے انکار میں سر ہلا کر زخمی مجاہد کی طرف اشارہ کر دیا۔
ابو جہم تیزی سے مجاہد کی طرف بڑھے، لیکن جب تک وہاں پہنچے وہ مجاہد ہمیشہ کے لیے چین کی نیند سو گئے تھے— ابوجہم پلٹ کر ہشامؓ کے پاس آئے، لیکن اب وہاں کیا تھا، انہوں نے ہشام کو ہلایا ، جھنجھوڑا پر ان کی روح تو ابدی سکون پا چکی تھی ۔تیزی سے وہ اپنے بھائی کی طرف بڑھ آئے۔
’’لیجئے بھیا۔ ہشام تو اللہ کو پیارے ہو گئے آپ پانی پی لیجئے‘‘ مگر بھائی نے کوئی جواب نہ دیا۔ ایک مسلسل خاموشی—
ابو جہم نے جھک کر دیکھا، کتنے اطمینان کے ساتھ وہ بھی ہمیشہ کے لیے سو چکے تھے۔
بکھری ہوئی لاشوں اور سامان جنگ کے درمیان تیزی سے واپس جاتے ہوئے ابوجہم سوچ رہے تھے۔
کون کہہ سکتا ہے اسلام لاکر یہ لوگ اپنے تمام دوستوں، عزیزوں اور رشتہ داروں سے محروم ہوگئے، اسلام نے تو انہیں پیار کا وہ رشتہ عطا کر دیا۔ جو انہیں اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تھا۔
گہرا اندھیرا یرموک کے میدان پرچھا گیا تھا اور اس اندھیرے میں ابو جہم کی آنکھوں پرجلتے ہوئے چراغ بڑے دلکش لگ رہے تھے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *