تحریکِ اسلامی ماضی ، حال اور مستقبل

بر صغیر میں اقبالؒ اور مولانا مودودیؒ کی پیدائش امت مسلمہ میں ایک نئے عہد کے ظہور کی علامت تھی۔ مگر اس دعوے کی دلیل کیا ہے؟
اقبالؒ اور مولانا مودودیؒ کو بڑی شخصیت کہا جاتا ہے، لیکن بڑے آدمی کی تعریف کیا ہے؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ بڑا آدمی وہ ہوتا ہے جس کا فہم بسااوقات پوری قوم کیا پوری امت کے فہم سے بڑھ جاتا ہے۔ اقبالؒ نے جب اپنی شاعری کا آغاز کیا تو امتِ مسلمہ یورپی طاقتوں کی غلام تھی اور یورپی طاقتوں کا تسلط کمزور ہونے کے بجائے قوی ہو رہا تھا۔ مغربی تہذیب کا سورج نصف النہار پر تھا اور مسلم دنیا میں مغرپی تہذیب کے غلبے سے سرمایہ دارانہ نظام مستحکم ہو رہا تھا۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے آغاز اور یورپی طاقتوں کے زوال میں ابھی بہت وقت تھا اور مسلم دنیا کے آزاد ہونے کا دور دور تک کوئی امکان نہ تھا۔ لیکن اس کے باوجود اقبالؒ پوری قوت اور سرشاری کے ساتھ کہہ رہے تھے:

اٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ
مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

اقبال کی مشہور نظم ’’مارچ ۱۹۰۷ئ؁‘‘ مسلم دنیا میں انقلاب برپا ہوتے دیکھ رہی تھی اور مغربی تہذیب کی موت کی پیشگوئی کررہی تھی۔ اقبال کہہ رہے تھے:

زمانہ آیا ہے بے حجابی کا ، عام دیدارِ یار ہوگا
سکوت تھا پردہ دار جس کا وہ راز اب آشکار ہوگا
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آبسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خارزار ہوگا
نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ دیا تھا
سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے ، وہ شیر پھر ہوشیار ہوگا
سفینۂ برگِ گل بنا لے گا قافلہ مورِ ناتواں کا
ہزار موجوں کی ہو کشاکش مگر یہ دریا کے پار ہوگا
دیارِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زرِ کم عیار ہوگا
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا

اقبالؒ کے ان شعروں پر غور کیا جائے تو اقبال وہ سوچ رہے تھے جو پوری امتِ مسلمہ سوچنے سے قاصر تھی۔ اقبالؒ وہ دیکھ رہے تھے جو پوری امت مسلمہ دیکھنے سے عاجز تھی۔ اقبالؒ اور مولانا مودودیؒ کا تعلق یہ ہے کہ مولانا نے اقبالؒ کی اجمال کو تفصیل فراہم کی۔ انہوں نے اقبال کے جذبے کو دلیل مہیا کی۔ انہوں نے اقبال کی فکر کو عمل میں ڈھالنے کے لئے جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ برپا کیں۔ لیکن اقبال اور مولانا کی پیدائش نئے عہد کے ظہور کی علامت کیوں تھی اور انہیں امت کے علمائ، تخلیق کاروں اور رہنماؤں پر کیوں فوقیت اور فضیلت حاصل ہے؟
مغربی تہذیب کے غلبے نے پوری امت بالخصوص برصغیر کی ملت اسلامیہ میں ردعمل کی تین صورتیں پیدا کیں۔ ردعمل کی پہلی صورت سر سید احمد خان تھے۔ سرسید مغربی تہذیب سے متاثر نہیں بلکہ مرعوب تھے اور ان کا خیال یہ تھا کہ (برصغیرکے) مسلمانوں کو پورے اخلاص اور تندہی سے مغربی تہذیب کی طالب علمانہ پیروی کرنی چاہیے۔ اکبرکی شاعری برصغیر کا عظیم سرمایہ ہے اور شاعری کی عالمی تاریخ میں کوئی دوسرا اکبر الہ آبادی موجود نہیں۔ مگر اکبر کی یہ شاعری اس شعور اور احساس کا حاصل تھی کہ اسلامی تہذیب برتر ہونے کے باوجود کم تر تہذیب سے شکست کھا گئی ہے۔ اکبر کی شخصیت اور شاعری اتنی بڑی تھی کہ خود اقبال ان سے بے پناہ متاثر تھے، مگر غیر معمولی مزاحمتی قوت کے باوجود اکبر بھی مسلمانوں کے مستقبل سے مایوس تھے۔ چنانچہ انہوں نے کہا ہے:

شعرِ اکبر کو سمجھ لو یادگارِ انقلاب
اس کو یہ معلوم ہے ٹلتی نہیں آئی ہوئی

اس دور میں طبقۂ علماء کا حال یہ تھا کہ اس نے اسلام کو انفرادی معاملہ تسلیم کر لیا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ اب سیاست وقیاست کے معاملات میں مغرب کا ہی سکہ چلے گا۔ اقبال اور مولانا مودودی کے ’’ظہور کا جواز‘‘ یہ ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کی ’’دفاعی حیثیت‘‘ کو اقدامی حیثیت میں ڈھال دیا۔ ’’ناامیدی‘‘ کو ’’امید‘‘سے بدل دیا۔ ’’اضمحلال‘‘ کو مزاحمتی رویّے میں ڈھال دیا۔ اور ’’شکست خوردہ نفسیات‘‘ کو ’’فاتحانہ نفسیات‘‘ میں تبدیل کرنے کی غیر معمولی کوشش کی۔
اس عہد میں طبقۂ علماء کی ناکامی یہ تھی کہ وہ یہ تو بتا رہے تھے کہ ’’حق‘‘ کیا ہے، مگر یہ نہیں بتا رہے تھے کہ عصر حاضر کا ’’باطل‘ ‘ کیا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ علماء کی فکر اُس دور میں ’’ادھورے پن‘‘ کا شکار ہوگئی تھی۔ اقبالؒ اور مولانا مودودیؒ کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حق کیا ہے، اور یہ بھی بتایا کہ باطل کیا ہے۔انہوں نے کمیونزم اور سرمایہ داری کی تنقید لکھی اور کروڑوں مسلمانوں کو مغرب سے مرعوب ہونے سے بچا لیا۔ اُس دور میں علماء کی ایک بڑی ناکامی یہ تھی کہ انہوں نے ’’مسلک‘‘ اور ’’مذہب‘‘ کو ’’دین‘ ‘ بنا لیا۔ کسی کے لئے دین کا مطلب ’’دیوبندیت‘‘ تھا، کسی کے لئے دین کا مفہوم ’’بریلویت‘‘ تھا۔ کوئی دین کو ’’اہلِ حدیث‘‘ کے دائرے میں محدود سمجھتا تھا۔ کسی کے لئے ’’ حنفیت‘‘ ہی سب کچھ تھی۔ کسی کے لئے اصل چیز ’’شافعیت‘‘ تھی۔ کوئی میدانِ فکر و عمل میں ’’مالکیت‘‘ کا پرچم لئے کھڑا تھا۔ کوئی ’’حنبلیت‘‘ کے گن گا رہا تھا۔ اقبال اور مولانا مودودی کا امت مسلمہ پر یہ احسان تھا کہ انہوں نے اسلام کی ’’آفاقیت‘‘، اس کی ’’عالمگیریت‘‘ اور اس کی ’’کلیت‘‘ کا شعور عام کیا اور مسلمانوں کو فرقوں، مسلکوں اور مکاتبِ فکر کی نفسیات سے بلند ہونا سکھایا۔ اس عہد میں علماء کی ایک بہت بڑی ناکامی یہ تھی کہ ان کا شعور مخصوص اصطلاحوں، زبان کی مخصوص ساخت اور اظہار کے مخصوص پیرایوں کا ’’اسیر‘‘ ہو گیا تھا۔ اقبال اور مولانا مودودی کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اسلامی تصورات کی معنویت کو زائل کیے بغیر اسے عہدِ حاضر کی ذہنی، نفسیاتی اور لسانی ساخت کے مطابق بیان کیا۔ اقبال اور مولانا مودودیؒ اگرچہ ’’افراد‘‘ تھے مگر وہ اپنے کام کی بنا پر تحریک اسلامی بن کر ابھرے اور انہوں نے اپنے ظہور کے تہذیبی اور تاریخی جواز کو ثابت کیا۔ اقبالؒ اور مولانا مودودیؒ جس وقت برصغیر میں اسلامی تحریک کا پرچم بلند کررہے تھے، اس زمانے میں عالمِ عرب میں سید قطبؒ اور حسن البناؒ کی فکر اور اخوان المسلمون کے نام سے عالمِ عرب کی تحریک منصہ شہود پر آرہی تھی۔ بیسویں صدی میں عالم اسلام میں غلبۂ اسلام کی جو جدوجہد ہوئی وہ اقبال، مولانا مودودی، سید قطب اور حسن البنا کے فکر و عمل کا حاصل ہے۔ لیکن کیا اسلامی تحریکوں کا کارنامہ اسی قدر ہے؟
اخوان المسلمون نے مصر سمیت عرب دنیا کے مختلف ملکوں میں دہائیوں پر پھیلی ہوئی شیطنت کو جھیلا ہے۔ اس کے ہزاروں کارکنوں کو شہید کیا گیا ہے، لاکھوں نے جیل کی صعوبتیں جھیلی ہیں، ہزاروں ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اخوان کو سیاسی میدان میں کھلے عام جلسے کرنے کی اجازت نہیں دی گئی لیکن اس کے باوجود اس نے غلبۂ اسلام کی جدوجہد ترک نہیں کی۔ جماعت اسلامی کو بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش میںکبھی ایسے حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑا، لیکن جماعت اسلامی کے مرکز پاکستان میں جماعت اسلامی کی سیاسی جدوجہد ’’تعداد کے کھیل‘‘ کے اعتبار سے ناکام جدوجہد ہے۔ لیکن جماعت اسلامی نے اپنی نظریاتی اور اخلاقی قوت کی بنیاد پر اس ناکامی کو جس طرح ’’جذب‘‘ کیا ہے ، اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔ جماعتِ اسلامی نمبروں کے کھیل میں جتنی ناکام ہوئی ہے دیگر سیاسی پارٹیاں اس کا عشر عشیر بھی ناکام ہوتیں تو کب کی صفحۂ ہستی سے مٹ چکی ہوتیں۔ لیکن جماعت اسلامی نے پے در پے انتخابی شکستوں کو جذب کرکے زندگی کا ثبوت دیا ہے اور آج وہ ایک بیدار اور متحرک تحریک ہے۔ لیکن بدقسمتی سے عالمِ اسلام میں اسلامی تحریکوں سے متاثرہ افراد اور خود بعض اسلامی تحریکوں نے حالیہ برسوں اور مہینوں میں جس طرزِ عمل کا مظاہرہ شروع کیا ہے اسے نرم سے نرم الفاظ میں ’’افسوس ناک‘‘ ہی کہا جا سکتا ہے۔
ترکی سیکولر آئین، سیکولر عدلیہ، سیکولر فوج اور سیکولر سیاست دانوں کا ملک ہے،چنانچہ وہاں نجم الدین اربکان کی پوشیدہ تحریک کو سمجھوتے کی نفسیات کے ساتھ ’’سمجھوتے کی سیاست‘‘ کرنی پڑی۔ لیکن نجم الدین اربکان کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے نہ کبھی سیکولرزم کو قبول کیا اور نہ اس کے لئے’’ جواز جوئی ‘‘ کی۔ اس کے برعکس وہ اپنے مختلف اقدامات کے ذریعے اپنے ’’اسلامسٹ‘‘ ہونے کے تاثر کو گہرا کرتے رہے۔ لیکن رجب طیب ایردوان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ نجم الدین اربکان سے ہزار گنا زیادہ ’’سیاسی طاقت‘‘ کے حامل ہیں مگر انہوں نے اس کے باوجود ترکی میں اسلام کی بالادستی کے لئے ایک انچ بھی پیش قدمی نہیں کی ہے۔ حالانکہ انہیں اقتدار میں آئے ہوئے اب ایک دہائی ہونے کو آرہی ہے۔ انہوں نے گذشتہ آٹھ برس میں ملک کے سیکولر آئین کو اسلام سے ہم آہنگ کرنے کے لئے زبانی جمع خرچ کی بھی زحمت نہیں کی۔ انہیں ملک کے سودی نظام پر ’’تشویش‘‘ تک نہیں ہے۔ ان کے ملک میں جسم فروشی کو قانونی تحفظ حاصل ہے اور رجب طیب ایردوان کے لئے یہ کوئی ’’مسئلہ‘‘ ہی نہیں ہے۔ یہاں تک کہ وہ کچھ عرصہ پہلے مصر گئے تھے تو انہوں نے ایک انٹرویو میں یہ تک کہہ دیا کہ اسلام اور سیکولرزم میں کوئی ’’تضاد‘‘ نہیں ہے۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے اب یہ بھی کہنا شروع کردیا ہے کہ ترکی اسلامی ممالک کے لئے ’’ماڈل ملک‘‘ ہے۔ جہاں تک رجب طیب ایردوان کے اسلام کا تعلق ہے تو انہوں نے اسلام کو اس بات تک محدود کر لیا ہے کہ وہ خود روزے نماز کے پابند ہیں اور ان کی شریک حیات سر پر اسکارف باندھتی ہیں(حالانکہ ٹانگیں وہ اپنی ننگی رکھنا ہی پسند کرتی ہیں۔ وج) یہی رجب طیب ایردوان جب تک اقتدار میں نہیں تھے تو انہوں نے اپنی ایک نظم میں مسجد کو اپنی بیرک، مسجد کے گنبد کو اپنا ہیلمٹ اور مسجد کے میناروں کو نیزے قرار دیا تھا۔ لیکن اقتدار نے ان کی اس ’’اسلامیت‘‘ کو ہڑپ کر لیا۔
مصر کے انتخابات میں اخوان المسلمون اور دیگر مذہبی جماعتوں کی غیر معمولی کامیابی امت مسلمہ کے لئے مسرت اور بے پناہ تقویت کا باعث تھی لیکن صدر مرسی اور ان کے رفقاء نے حالیہ دنوں میں جس طرزِ عمل کا مظاہرہ کیا ہے اس نے مصر میں ترکی کی صورت حال پیدا کردی ہے۔ صدر مرسی نے امریکہ اور اسرائیل کی خواہش کے عین مطابق بدنام زمانہ کیمپ ڈیوڈ سمجھوتے کی پاسداری کا اعلان کیا، اور مصر کی فوج نے صحرائے سینا میں ’’باغیوں‘‘ کے خلاف کارروائی تیز کر دی ہے۔ لیکن ’’باغیوںــ‘‘ کا حوالہ محض ایک دھوکا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ صحرائے سینا میں ایسی سرنگوں کو بند کیا جا رہا ہے جن کے ذریعے غزہ کے محصور فلسطینیوں کی مدد کی جاتی تھی۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ صحرائے سینا میں کی جانے والی کارروائی دراصل اسرائیل کے تحفظ کے لئے ہے اور یہ امریکہ کی ہدایات کے عین مطابق ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ امریکہ کے وزیر دفاع لیون پنیٹا نے اپنے حالیہ دورۂ مصر میں یہ بات الفاظ چبائے بغیر کہی تھی کہ امریکہ صحرائے سینا میں سیکورٹی کی صورتحال کے حوالے سے پریشان ہے اور ہم اس علاقے میں سیکورٹی کی صورتحال بہتر بنائیں گے خواہ ہمیں اس کے لئے کچھ بھی کیوں نہ کرنا پڑے۔ صدر مرسی کے ایک وزیر نے ایک بیان میں فرمایا ہے کہ ہم مصر کے ساحلوں اور تفریحی مقامات پر غیر ملکی سیاحوں کو عریانی اور فحاشی کے حوالے سے کسی پابندی کا شکار نہیں کرنا چاہتے کیونکہ سیاحت کے شعبے سے ملک کو مجموعی آمدنی کا دس فیصد فراہم ہوتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اخوان المسلمون کے نمائندوں کے ایک وفد نے حال ہی میں امریکہ کا دورہ کیا ہے۔ وفد کے ایک رکن سندوس عاصم نے واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے ’’انکشاف‘‘ کیا کہ ہم ’’جدت پسند‘‘ مسلم تصورات کے نمائندے ہیں اور ہماری ترجیحات زیادہ تر ’’اقتصادی‘‘ اور ’’سیاسی ‘‘ ہیں۔ صدر مرسی نے فوج میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی تھیں تو یہ خیال عام ہوا تھا کہ یہ تبدیلیاں صدر مرسی اور اخوان کی سیاسی قوت کا مظہر ہیں، لیکن امریکی اعلیٰ اہلکاروں کے بیانا ت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تبدیلیاں امریکہ کے مفادات اور ہدایات کے عین مطابق ہیں، اور ان تبدیلیوں کے ذریعہ صرف ’’چہرے‘‘ بدلے ہیں، ’’نظام ‘‘وہی ہے جس کی سب سے بڑی علامت مصر کا سابق صدر حسنی مبارک تھا۔
تیونس میں راشد الغنوشی کی ’’تحریکِ اسلامی‘‘ کی حکومت ہے، اور اس حکومت کی ’’اسلام پسندی‘‘ اس امر سے ظاہر ہے کہ اس نے اسلام اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے خلاف امریکہ میں بننے والی فلم کے خلاف لوگوں کو مظاہروں کی اجازت نہیں دی او ر ان پر سخت پابندی عائد کردی۔
مسلم دنیا میں تبدیلیوں کی لہر برپا ہوئی تھی تو ہم نے۔۔۔عرض کیا تھا کہ یہ تبدیلیاں امریکہ اور یورپ کے تجزیوں اور مفادات کے برعکس ہیں، لیکن امریکہ ابھی تک اس ’’انقلاب‘‘ کو ’’ Manage‘‘کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ بدقسمتی سے چند ہی ماہ میں امریکہ کی ’’Management‘‘ عیاں ہوکر سامنے آگئی ہے اور اس ’’Management‘‘ کا شکار اس بار ’’اسلامی تحریکیں ہیں۔ اس صورتِ حال سے جو حقائق عیاں ہو رہے ہیں ان میں سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تحریکوں کے لئے جو اقتدار کبھی ایک ’’ذریعہ ‘‘ تھا، اسلامی تحریکیں اسے ’’مقصد‘‘ بنانے کی طرف مائل ہیں۔ اسلامی تحریکوں کے طرزِ عمل سے دوسری بات یہ ظاہر ہورہی ہے کہ امریکہ پورے عالم اسلام کو ترکی کے ماڈل سے ہم آہنگ کرنے کے لئے متحرک ہو چکا ہے، چنانچہ اسلامی تحریکیں ’’انقلاب‘‘ کے بجائے ’’ اسٹیٹس کو‘‘ (Status quo)کی علامت بن کر سامنے آنا شروع ہوگئی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ صورت حال اس وقت رونما ہورہی ہے جب اسلامی تحریکوں کی پشت پر عرب دنیا میں رونما ہونے والے انقلابات کے نفسیاتی اثرات موجود ہیں۔ اسلامی تحریکوں کے طرز عمل سے یہ بھی محسوس ہورہا ہے کہ وہ خود کو مسلم دنیا کے لئے ’’ناگزیر‘‘ سمجھ رہی ہیں، حالانکہ وہ جانتی ہیں کہ وہ گزشتہ ساٹھ ستر سال میں زندہ رہی ہیں تو حق کی سربلندی کے لئے کوشاں ہونے کی بنیا د پر زندہ رہی ہیں۔ اسلامی تحریکیں حق کی سربلندی کے لئے کوشاں نہیں رہیں گی تو اللہ تعالی اپنے کام کے لئے کسی اور کو برپا کریں گے۔ اسلامی تحریکوں کو نہیں بھولنا چاہیے کہ اسلام کو ہماری ضرورت نہیں، ہمیں اسلام کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالی کے نزدیک اصل چیز صحیح نیت اور کامل اخلاص کے ساتھ جدوجہد ہے۔ مسلمان جب صحیح نیت اور اخلاص کے ساتھ جدوجہد کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کے لئے راستے کھولتے چلے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بدترین حالات کے باوجود اللہ تعالی نے اقبالؒ ، مولانا مودودیؒ اور سید قطبؒ کے لئے راستے کھولے اور ساٹھ ستر سال کے طویل سفر کے باوجود اخوان المسلمون اور جماعت اسلامی کو ’’ضائع‘ ‘ نہیں ہونے دیا۔ لیکن بدقسمتی سے بعض مسلم ملکوں میں اقتدار آتے ہی اسلامی تحریکیں خود کو ’’ضائع‘‘ کرنے کی طرف گامزن ہو چکی ہیں۔ اسلامی تحریکوں کے وابستگان اس صورت حال کا نوٹس نہیں لیں گے اور اس کا تدارک نہیں کریں گے تو خرابی بڑھتی چلی جائے گی اور اسلامی تحریکیں ریاستی نظام میں ’’جذب‘‘ ہو کر نمک کی کان کا حصہ بن جائیں گی۔
بقیہ بلا تبصرہ:
امام کعبہ کے پوتے نے درگاہ سلیم چشتی کی زیارت کی
نئی دہلی(انقلاب نیوز نیٹ ورک)سعودی عرب کی رائل فیملی سے وابستہ امام کعبہ بن باز عبداللہ کے پوتے فیصل سعد بن باز نے درگاہ حضرت شیخ سلیم چشتی علیہ الرحمہ فتح پور سیکری میں حاضری دی۔ اس موقعہ پر درگاہ سجادہ نشین پیر زادہ رئیس میاں چشتی نے ان کا روایتی انداز میں استقبال کیا۔ فیصل سعد بن باز درگاہ کی زیارت کے علاوہ بلند دروازہ، وہاں کی نقاشی اور خوبصورتی سے بہت متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ایسے مقامات سے یہاں کا ایک کلچر وابستہ ہے۔ انہوں نے درگاہ کے انتظامات کی بھی کھل کر تعریف کی اور اس کے لئے رئیس میاں چشتی کو مبارک باد دی۔ رئیس میاں چشتی نے بتایا کہ حضرت شیخ سلیم چشتی علیہ الرحمہ نے ایک لمبے عرصہ تک مکہ اور مدینہ منورہ میں امامت کی ہے۔ وہاں جاروب کشی بھی کی ہے اور مکہ مکرمہ کے اس وقت کے متولی حضرت شیخ سلیم چشتیؒ کے مرید بھی تھے۔ تاہم آپ کے شیخ پیر و مرشد شیخ ابرائیم عرب کا مزار بھی سعودی عرب میں ہی ہے۔ انہی سب تعلقات کی بنا پر آج فیصل سعد بن باز نے حضرت شیخ سلیم چشتی علیہ الرحمہ کی مزار کی زیارت کی ہے۔( جنوری ۲۰۱۳ئ؁)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *