حضرات! کچھ تو بولیے

گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران دو خبر ایسی آئیں کہ جن پر زبردست ردعمل کا اظہار ہونا چاہئے تھا۔ لیکن کم سے کم میری نظر سے کوئی ایک بیان بھی ایسا نہیں گزرا۔ کیا آپ کو یاد ہے کہ کانگریس کے جنرل سیکٹری دگ وجے سنگھ مسلمانوں کی محبت میں اتنے آگے بڑھ گئے تھے کہ موقع ہو یا نہ ہو وہ ہندو دہشت گردی اور زعفرانی دہشت گردی کولعن طعن کئے بغیر نہیں رہتے تھے؟ کبھی کبھی تو صرف سن کر ہی خود مسلمانوں کو تکلف ہونے لگتا تھا۔ تمام قرآئن و آثار کے باوجود خدا کا شکر ہے کہ مسلمانوں نے ہندو دہشت گردی کی اصطلاح استعمال نہیں کی۔ اس لیے کہ جس طرح وہ اپنے ہم وطنوں سے یہ چاہتے تھے کہ وہ مسلم یا اسلامی دہشت گردی کی بے بنیاد اصطلاح استعمال نہ کریں اسی طرح وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ ہندو دہشت گردی کی اصطلاح استعمال کرکے وہ اپنے انصاف پسند اور امن پسند ہم وطنوں کی اکثریت کی دل آزاری کا سبب بنیں۔ لیکن انہی دگ وجے سنگھ نے اب’ گرین ٹیر رازم‘ یعنی سبز دہشت گردی کا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔
دگ وجے سنگھ نے گزشتہ ۱۰ نومبر کو ہریانہ کے سورج کنڈ میں کانگریس کے سالانہ اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے زیر بحث موضوعات سے اچانک رخ پلٹا اور سبز دہشت گردی کے خطرہ سے نپٹنے کی اپیل کر ڈالی۔ انہوں نے صرف اسی دل آزار اصطلاح پر بس نہیں کیا بلکہ اس کی جاہلانہ تشریح بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ بنیاد پرست مسلم جماعتوں کی سر گرمیاں فکر مندی کا باعث ہیں اور ان سے نپٹا جانا چاہیے۔ ان کی اس احمقانہ گفتگو پر کسی اور نے بحث کو آگے نہیں بڑھایا لیکن کسی نے اس پر اعتراض بھی نہیں کیا۔ مجھے اس موقع پر ۹۰ء کی دہائی میں پنچ مڑھی میں ہونے والے اجلاس میں آنجہانی ارجن سنگھ کی وہ تقریر یاد آتی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اب کانگریس کو مسلمان مسلمان گانا چھوڑ دینا چاہئے اور اب اسے سیکولرزم کا تجربہ کرنا چاہے۔ وہاں فرق یہ تھا کہ کانگریس کے نوجوان لیڈر طارق انورنے اس پر اعتراض کیا تھا۔ تاہم سونیا گاندھی نہ وہاں کچھ بولی تھیں اور نہ یہاں کچھ بولیں۔ دگ وجے سنگھ نے یوپی اسمبلی کے الیکشن سے کافی پہلے ہندو دہشت گردی کا نغمہ گانا شروع کیا تھا اور مسلمانوں میں مقبول عام بننے کی کوشش کی تھی۔ انہیں اخبارات میں خوب جگہ ملی لیکن محض اس بنیاد پر مسلمانوں نے انہیں سر پر نہیں بٹھایا۔ انہوں نے بٹلہ ہاوس انکاؤنٹر پر بھی مسلمانوں کے موقف کی تائید کی لیکن الیکشن کی مہم کے دوران اچانک انہوں نے اپنا موقف بدل دیا ۔وہ ا عظم گڑھ کے شبلی کالج میں راہل گاندھی کے ساتھ ایک رات کے لیے ٹھہرے تھے۔ وہاں راہل گاندھی نے کالج کے مسلم طلبہ سے ملنے سے انکار کردیا اور جب دو چار سے ملے تو بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر پر مسلم نوجوانوں کی بات سنی ہی نہیں۔ جو لوگ شبلی کالج کے واقعہ کے بعد سے دگ وجے سنگھ کی سیاسی موشگافیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں وہ بتائیں گے کہ اسی دن سے دہشت گردی پر ان کا رخ مسلسل تبدیل ہو رہا ہے۔ انہوں نے محض پوپی کے الکشن میں مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ہند دہشت گردی کی اصطلاح پر ساز بجایا تھا۔ لیکن جب یوپی میں شرمناک شکست سے دو چار ہوگئے تو انہیں مسلم دہشت گردی نظر آنے لگی۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلم نوجوانوں پر سب سے پہلے انہی کی آبائی ریاست مدھیہ پردیس میں عتاب آیا۔ اتنے نوجوانوں کی زندگیاں بر باد کردی گئی ہیں کہ لوگ اب ان کاشمار بھی بھول گئے ہوں گے۔ انصاف پسند ہندو صحافیوں نے ایسے درجنوں نو جوانوں کے احوال پرتحقیقاتی رپورٹیں تیار کی ہیں۔ بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر بھی علماء کے اس دفد کے ساتھ سابق وزیر داخلہ شیوراج پاٹل کی تلخ کلامی کے بعد رونما ہوا تھا جو ان سے مدھیہ پردیس کے مسلم نوجوانوں پر مظالم کی شکایت کرنے گیا تھا۔ بہر حال اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا مسلمانوں اور ان کے زعما کو، دگ وجے سنگھ کی اس ہر زہ سرائی کا علم نہیں ہوا؟ آخر کیوں کسی ایک نے بھی اس پر ردعمل ظاہر نہیں کیا؟ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلم زعما بھی دگ وجے کی تائید کرتے ہیں اور انہوں نے یہ تسلیم کرلیا ہے کہ مسلم جماعتیں اسی طرح کی سر گرمیوں میں ملوث ہیں جن کی طرف دگ وجے نے صریح اشارہ کیا ہے؟ چھوٹے چھوٹے مسئلہ پر لمبے چوڑے بیان جاری کرنے والوں کی نظروں سے آخر اتنا بڑا مسئلہ کیسے چھوٹ گیا؟ کیا دگ وجے کی اس نئی دریافت کا یہ مطلب نہیں کہ ملک بھر میں مسلم نوجوانوں پر جو عتاب آیا ہوا ہے وہ جائز ہے؟ اگر دگ وجے کے ذہن میں’ مسلم دہشت گردی‘ کے وجود کا خناس موجود ہے تو آخر وہ کیسے بے گناہ مسلم نوجوانوں کی جلدی رہائی

کے حق میں ہوسکتے ہیں؟ اور کیا اس کا مطلب یہ نہ لیا جائے کہ کانگریس مسلم نوجوانوں کے معاملات پر سنجیدگی سے غور کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی؟ مسلم قائدین اور علماء کو اس پر غور کرنا چاہیے۔ کانگریس چیف سونیا گاندھی نے مہم ۲۰۱۴ کے لیے راہل گاندھی کی قیادت میں جو چھ رکنی ٹیم تشکیل دی ہے اس میں دگ وجے سنگھ کو کلیدی حیثیت دے کر ان کے خیال کی تائید کردی گئی ہے۔
دوسری خبر بہت اہم ہے۔ قارئین کو معلوم ہے کہ دہلی میں لال قلعہ کے نواح میں پہلی جد وجہد آزادی کی علامت اکبری مسجد کا معاملہ اب سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی بنچ کے سامنے ہے۔ اس معاملہ میں خواہ مخواہ ایک فریق بن جانے والے نام نہاد اوم سائیں نے درخواست داخل کرکے بنچ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے سماعت دوسری بنچ کو منتقل کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ چیف جسٹس کے دونوں ساتھی جج صاحبان نے اس درخواست کو بے ہودہ قرار دیتے ہوئے یکسر خارج کردیا۔ اوم سائیں نے اس پر عدالت میں شور و ہنگامہ کیا لیکن عدالت نے اسے باہر نکلو ا دیا۔ اس میں شک کی گنجائش ہی نہیں کہ چیف جسٹس کی قیادت والی اس بنچ پر وشوہندو پریشد کے اس شرپسند نے محض اس لیے عدم کا اظہار کیا کہ چیف جسٹس مسلمان ہیں۔ اس سے چندروز قبل چیف جسٹس کی ہی بنچ نے ایک نوجوان کو ضمانت دی تھی۔ اور اسوقت بھی یہ بات سینہ بہ سینہ سفر کر رہی تھی کہ ضمانت اس لئے ملی کہ چیف جسٹس مسلمان ہیں۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *