شام کے عوام کی بے مثال تحریکِ مزاحمت

اقبال نے کہا تھا:
اپنی ملت پہ قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی
لیکن سوال یہ ہے کہ قومِ رسول ہاشمی کی خصوصیات کیا ہیں؟ اس کا ایک جواب اقبال نے یہ دیا ہے کہ اہلِ مغرب اپنا تشخص نسل اور جغرافیہ سے متعین کرتے ہیں اور مسلمانوں کا تشخص کلمۂ طیبہ سے برآمد ہوتا ہے ۔ لیکن قوم رسول ہاشمی کی ایک اور بڑی بہت بڑی خصوصیت یہ ہے کہ مسلمان جس طرح خود کو از سرِ نو دریافت کرنے یا Re-Inventکرنے کی صلاحیت رکھتے ہیںاس کی مثال پوری انسانی تاریخ میں موجود نہیں۔ مثال کے طور پر کہا جاتا تھا کہ جہاد کا زمانہ گزر گیا ہے، مگر مسلمانوں نے افغانستان کی سرزمین میں جہاد اور مسلمانوں کے شوقِ شہادت کو اس طرح دریافت کیا کہ ان کی دریافت افغانستان میں دو سپر پاورز کی شکست بن گئی۔تجزیہ کیا جائے تو مسلمانوں کی یہ ایجاد ایٹم بم کی ایجاد سے ہزار گنا بڑی ہے۔ کہنے والے کہتے تھے کہ کشمیری لوگوں کے مزاج اور تاریخ میں مسلح جدوجہدہے ہی نہیں، اور وہ غلط نہیں کہتے تھے۔ لیکن اللہ تعالی کے احسان و کرم اور اسلام کی قوت نے اہلِ کشمیر کو سراپا مزاحمت بنا کر کھڑا کردیا۔ یہ خیال عام تھا کہ ساری دنیا بدل سکتی ہے مگر عالمِ عرب میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔ لیکن ــ’’بہارِ عرب‘‘ یا Arab Springنے تیونس اور مصرمیں ۲۳ اور ۳۰ سال سے مسلط دو آمروں کا تختہ الٹ دیا۔ لیکن تیونس اور مصر کا تغیر وہاں کی اسلامی تحریکوں کا مرہونِ منت تھا، تاہم شام کا معاملہ یہ تھا کہ شام میںسیاسی عمل تیونس اور مصر سے زیادہ محدود تھا اور وہاں حافظ الاسد اور بشار الاسد کی بعث پارٹی کے سوا کوئی قابلِ ذکر سیاسی قوت موجود نہ تھی، اور تھی بھی تو اس کا کوئی سیاسی اور مزاحمتی تشخص نہیں تھا۔ لیکن اس کے باوجود شام میں عالمِ عرب کی سب سے بڑی، سب سے طویل اور سب سے زیادہ بے مثال مزاحمتی تحریک منظم ہوئی۔ بشار الاسد نے اس تحریک کو کچلنے کے لئے جس بڑے پیمانے پر طاقت استعمال کی، اس کے اعتبار سے اس تحریک کی عمر کو دو چار ہفتے سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے تھا ، مگر اس تحریک کو برپا ہوئے اب ۱۹؍ماہ ہوگئے ہیں۔
بشار الاسد نے طاقت کے استعمال کی ابتدا پکڑ دھکڑ سے کی۔ پھر مظاہرین پر فائرنگ کے واقعات رو نما ہونے لگے۔ لیکن تحریک ختم ہونے کے بجائے پھیلنے لگی تو شام کے ریاستی اداروں نے معصوم بچوںکو ماؤں کی گودوں سے چھیننا اور خواتین کی عصمتوں کو تار تار کرنا شروع کردیا۔ یہاں تک کہ اب شام کی حکومت اپنے ہی شہریوں کے خلاف توپ خانہ، ٹینک اور جنگی جہاز استعمال کررہی ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق بشار الاسد کی حکومت نے کئی مقامات پر کلسٹر بم استعمال کئے ہیں۔ طاقت کے اس بہیمانہ استعمال کی وجہ سے ۱۹ ماہ میں ۳۰ ہزار شہری شہید ہوچکے ہیں۔ یہ اتنا بڑا جانی نقصان ہے کہ عربوں اور اسرائیل کے درمیان لڑی جانے والی دو جنگوں میں بھی نہیں ہوا تھا۔ مگر تحریک کا زور ٹوٹنے کے بجائے بڑھ رہا ہے۔بشار الاسد کے کئی اہم وفادار اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔ شامی فوج کے بہت سے فوجی اور اعلی اہلکار مزاحمت کرنے والوں سے مل گئے ہیں۔ شامی فوج نے اب تک کا سب سے بڑا قتلِ عام حما شہر کے نواح میں واقع ایک قصبے التریمسا میں کیا، جہاں ۱۲ جولائی ۲۰۱۲ئ؁ کو علی الصباح فوج نے قصبے کا محاصرہ کر لیا اور گھروں پر اندھادھند بمباری شروع کردی، تاہم شام کی فوج کا جوشِ انتقام بمباری سے ٹھنڈا نہ ہوا اور انہوں نے بشار الاسد کی ملیشیا شبیہا بمعنی بھوت کو قصبے کے لوگوں پر چھوڑ دیا۔ نتیجہ یہ کہ دیکھتے ہی دیکھتے ۲۳۰ سے زائد نہتے بوڑھوں، بچوں اور عورتوں کو قتل کر دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ اس درندگی اور اتنی قربانیوں کے باوجود شام کی تحریک مزاحمت ۱۹ ؍ماہ کس طرح جھیلنے میں کامیاب ہوئی؟ اس سوال کا ایک ہی جواب ہے : مسلمانوں کو اسلام ہی جدوجہد پر آمادہ کرتا ہے اور اسلام ہی انہیں جانی و مالی نقصان کو جذب کرنے کے قابل بناتا ہے۔ شام کے عوام کی بے مثال جدوجہد کو بھی اسلام ہی نے بے مثال بنایا ہے۔ شام کے عوام کی جدوجہد پر ایک ہی نعرے کا سایہ ہے:
’’الشعب یرید الخلافۃ من جدید‘‘
یعنی شام کے عوام خلافت کا دوبارہ قیام چاہتے ہیں، یہاں تک کہ شام کے بعض مقامات پر لوگوں نے خلافت کے ایسے سیاہ اور سفید پرچم بھی لہرائے جن پر کلمۂ طیبہ درج تھا۔ اسلامی تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے تو شام کی اہمیت غیر معمولی ہے اور اس کے حوالہ سے کئی احادیثِ مبارکہ موجود ہیں۔ مثلاً ایک حدیث میں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ہے:
’’بے شک شام کی سرزمین ایمان والوں کی جائے پناہ ہے۔‘‘
ایک اور حدیث شریف میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے:
’’جب امت فتنوں میں مبتلا ہوجائے گی تو اس وقت ایمان شام میں ہوگا۔‘‘
ایک حدیث شریف میں اللہ کے رسول ﷺ نے اعلان فرمایا:
’’شام کے لئے خوش خبری، شام کے لئے خوش خبری، شام کے لئے خوش خبری‘‘۔ صحابہؓ نے پوچھا: ایسا کس لئے ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد کیا: ’’ اللہ کے فرشتوں نے اپنے پر شام پر پھیلا رکھے ہیں۔‘‘
اس تناظر میں دیکھا جائے تو شام کے لوگوں کی بے مثال مزاحمت، قربانیوں اور استقامت کا مفہوم عیاں ہوکر سامنے آجاتا ہے۔ لیکن ان حقائق کے باوجود شام کی مزاحمتی تحریک ابھی تک خطرات میں گھری ہوئی ہے۔ اس کے کئی وجوہ ہیں۔
مسلم دنیا میں یہ خیال عام ہے کہ شام امریکی کیمپ کے دائرے سے باہر کھڑا ہو ملک ہے۔ (اسی لئے اس کی مخالفت ہو رہی ہے)۔ لیکن یہ تاثر سطحی ہے اور سطحی تجزیے کی بنیاد پر مرتب ہوا ہے۔ یہ حقیقت راز نہیں کہ شام کے صدر بشارالاسد نے عراق کے خلاف امریکہ کی جارحیت میںامریکہ کی مدد کی تھی۔ انہوں نے امریکہ کو عراق میں جاسوسی کے حوالے سے تعاون فراہم کیا تھا۔ یہ اطلاع بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ نائن الیون کے بعد شام کے جو مجاہدین گرفتار ہوئے تھے انہیں بشار الاسد کی حکومت کے حوالے کردیا گیا تھا اور بشار الاسد نے کہا تھا کہ ان کو جو بھی اطلاعات حاصل ہوں گی وہ امریکہ کو فراہم کی جائیں گی۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو بشار الاسد امریکہ کے ’’خفیہ اتحادی‘‘ ہیں یہی وجہ ہے کہ ۱۹ ماہ کی مزاحمتی تحریک اور ۳۰ ہزار شہادتوں کے باوجود امریکہ نے بشار الاسد کو گرنے نہیں دیا، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ بشار الاسد کے گرتے ہی اسلام پسند قوتیں شام پر غالب ہو جائیں گی۔ امریکہ کی خواہش اور کوشش ہے کہ اگر بشار الاسد کا زوال تقدیر بن جائے تو امریکہ کو شام میں بشار الاسد کا ’’متبادل‘‘ مہیا ہو جائے۔ اور جب تک بشار الاسد کا متبادل مہیا نہ ہو اس وقت تک بشارا لاسد ہی اقتدار میں رہیں۔ چونکہ امریکہ کو اب تک شام میں بشار کا متبادل فراہم نہیں ہو سکا اس لیے اس نے بشار الاسد کو اپنے ہی عوام کے قتلِ عام کا لائسنس دیا ہوا ہے۔ ایک جانب امریکہ کو پاکستان میں ایک ملالہ کی اتنی فکر ہے کہ اس نے زمین و آسمان ایک کردئے ہیں، اور دوسری جانب وہ بشار الاسد کو ۳۰ ہزار لاشوں پر رقص کرتادیکھ رہا ہے۔
سرد جنگ کے زمانے میں شام سوویت یونین کے کیمپ کا ایک حصہ تھا اور بشار الاسد کے والد حافظ الاسد خود کو سوشلسٹ کہتے تھے۔ یہ تعلق حافظ الاسد کے بعد بھی قائم رہا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ شام کے سلسلہ میں روس کی پالیسی امریکہ سے مختلف ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلامی قوتوں کا ابھار امریکہ کو جتنا ناپسند ہے روس کو بھی وہ اتنا ہی برا لگتا ہے۔ چنانچہ اس وقت شام کے سلسلہ میں امریکہ اور روس کے درمیان ایک قسم کا گٹھ جوڑ موجود ہے اور روس عملاً شام میں امریکہ کے مددگار کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کی ابتدا ۳۰ جون ۲۰۱۲ئ؁ کو اس وقت ہوگئی تھی جب جنیوا میں سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کا مشترکہ اجلاس ہوا۔ اجلاس میں سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کے علاوہ ترکی، عراق، قطر اورشام کے لئے عرب لیگ کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں اس امر پر اتفاقِ رائے کیا گیا کہ شام میں ایک ایسی حکومت تشکیل دی جائے جو موجودہ حکومت اور حزبِ اختلاف کے نمائندوں پر مشتمل ہو۔ سوال یہ ہے کہ جو حکومت اپنے ہی ۳۰ ہزار شہریوں کو سرِ عام قتل کر چکی ہواس کے تسلسل کو کسی بھی صورت میں برقرار رکھنے کا کیا جواز ہے؟ اس سلسلے میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ شام کی جس حزبِ اختلاف کا ذکر کیا گیا وہ بشار الاسد کی مزاحمت کرنے والی حزبِ اختلاف نہیں ہے بلکہ یہ امریکہ اور یوپ کی تیار کردہ حزب اختلاف ہے، اور اس وقت شام سے باہر موجود ہے۔ مذکورہ اجلاس سے قبل سینٹ پیٹرز برگ میں امریکہ کی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن اور روس کے وزیرِ خارجہ سر گئی مدوروف کے درمیان اس حوالہ سے ایک ملاقات ہو چکی تھی۔ امریکہ اور روس شام کے حوالہ سے کتنے قریب ہیں اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے روس کے بحری بیڑے نے شام کی مشہور بندرگاہ ٹارٹوس کا دورہ کیا۔ اس سلسلہ میں جب امریکہ کے ذمہ داروں سے سوال کیا گیا تو انہوں نے اس دورے کو ’’معمول کی کارروائی‘‘ قرار دیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ روس شام کے حوالہ سے یہ کردار کیوں ادا کر رہا ہے؟ اس سوال کا ایک جواب یہ ہے کہ شام میں اسلامی قوتوں کا اقتدار میں آنا امریکہ اور روس دونوں کے مفادات کے خلاف ہے۔ اس سوال کا دوسرا جواب یہ ہے کہ روس کو ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن اور میزائل ڈیفنس شیلڈ پراگرام کے حوالے سے امریکہ سے جو رعایتیں درکار تھیں، امریکہ روس کو وہ رعایتیں فراہم کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔
شام کے حوالہ سے کئی مسلم ملک بھی امریکہ کے ایجنٹ کا کردار ادا کررہے ہیں۔ مثال کے طور پر ترکی بشار الاسد کے قریبی دوست اور شام کے نائب صدر فاروق الشرح کو بشار الاسد کے ’’متبادل‘‘ کے طور پر ابھار رہا ہے اور یہ کہہ رہا ہے کہ وہ ایک ’’باضمیر‘‘ انسان ہیں۔ اردن شام میں ’’ریاض حجاب‘‘ کو بشار الاسد کی جگہ دلانے کے لئے کوشاں ہے۔ ایران بشار الاسد کی مدد کے لئے اپنے فوجی شام میں تعینات کر چکا ہے اور اسے ہرگز نظر نہیں آرہا ہے کہ بشار الاسد کی حکومت ۳۰ ہزار’’شہدائ‘‘ کی لاشوں پر کھڑی ہے۔ ایرانی ذہنیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حماس نے شام کی مزاحمتی تحریک کی مخالفت سے انکار کیا تو ایران نے حماس کی مالی امداد بند کردی، یعنی اس نے ۳۰ ہزار مسلمانوں کے قاتل بشار الاسد کو حماس پر ترجیح دی۔ سعودی عرب اور قطر شام میں اپنا ’’مال ‘‘لئے کھڑے ہیں، مگر وہ شام کے لوگوں کے ’’مددگار‘‘ نہیں بلکہ ان کے ’’خریدار‘‘ بن کر کھڑے ہوئے ہیں۔ یہ تقریباً وہی کردار ہے جو پاکستان کا حکمراں طبقہ افغانستان کے خلاف امریکہ کے لئے انجام دے رہا ہے۔ اس صورتِ حال کودیکھا جائے تو شام کے لوگوں کی بے مثال تحریک مزاحمت ابھی خطرات کے دائرے سے باہر نہیں ہوئی ہے۔ امریکہ اور اس کے تمام مددگاراس امر کے لئے کوشاں ہیں کہ عیدالاضحٰی کے موقع پر شام میں ’’جنگ بندیــ‘‘ ہو جائے اور پھر جس طرح امریکہ نے تیونس اور مصر میں پرانے غاصب حکمرانوں کی باقیات اور اسلامی تحریکوں کی ’’ سیاسی کھچڑی‘‘ پکائی ہے اور ان ملکوں میں لوگوں کی قربانیوں کو رائیگاں کرنے کی کوشش کی ہے اسی طرح شام میں بھی ’’ ظالم اور مظلوم‘‘کا فرق مٹادیا جائے گا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو شام کی تحریک مزاحمت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اخلاقی اور تاریخی حیثیت کا ادراک کرلے اور مزاحمتی عمل کو جاری رکھے۔ تحریکِ مزاحمت کی قربانیوں سے شام میں ایک نیا شام طلوع ہو رہا ہے۔ بشار الاسد کی بنیادیں ہل چکی ہیں۔ تجزیہ کیا جائے تو تحریک مزاحمت کی لئے یہ قربانیوں سے زیادہ قربانیوں پر استقامت کا مرحلہ ہے جس کے بعد نصرتِ الہی ان شاء اللہ شام کا مقدر ہوگی۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *