شہید بابری مسجد اور میڈیا

کیا آپ نے کبھی بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالا ہے؟ پھر آپ کیسے اس کیفیت کو محسوس کرسکتے ہیں جس سے پچھلے دنوں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر داخلہ ملک رحمن گزرے۔ بے چارے اپنے سابق ولاحق آقاؤں کے لباس میں اور انہیں کی زبان میں (اور شاید انہیںکے اشاروں پر) دست بستہ پڑوسی کے ہاں تشریف لائے تھے اور اپنے اقوال، افعال، انداز، اطوار بہر طور یہ باور کرانے میں لگے ہوئے تھے کہ ان کا ملک کسی بھی طرح کی دہشت گردی کو برداشت نہیں کرسکتا خواہ وہ اپنے ملک میںہو یا دیگر کسی ملک میں۔ خواہ اس کا ارتکاب انھوں نے کیا ہو یا غیروں نے۔ انہوں نے یہاں تک واضح کیا کہ خود ان کا ملک انہیں حالات سے گزر رہا ہے جس کا دکھڑا آپ روتے رہتے ہیں۔ اور اسی لیے ان کی خواہش ہے کہ مل جل کر ایسی اسٹریجی بنائیں کہ آئندہ ۲۶؍ ۱۱، سمجھوتہ ایکسپریس، بابری مسجد کا انہدام وغیرہ جیسے واقعات دوبارہ جنم نہ لے سکیں۔
بے چارے رحمن ملک تو یہ سوچ کر بولے تھے کہ وہ جمہوریت پسند، مساوات پر مبنی، عقلیت پسند لوگوں سے مخاطب ہیں۔ مگر انھیں کیا معلوم کہ سادگی میں انھوں نے اپنا ہاتھ (بلکہ اپنا منہ) کہاں ڈال دیا۔ بابری مسجد کا ذکر کرتے ہی ہمارا میڈیا ایک دم بھڑک اٹھا۔ اور وہ شور و ہنگامہ برپا کیا کہ خدا کی پناہ۔ الزام یہ تھا کہ رحمن ملک نے بابری مسجد کی برابری ۲۶؍۱۱ سے کیسے کردی۔ بے چارے کالے انگریز (یا امریکن) نے ہونٹوں کے زاویے بدل بدل کر صفائی دینی چاہی کہ میں نے کوئی موازنہ کیا ہی نہیں پھر کاہے کو اتنا شور۔
ہم بھی اس کی تائید کرتے ہیں کہ انھوں نے بابری مسجد کا موازنہ ۲۶؍۱۱ سے کیا ہی نہیں تھا۔ اور جس شخص نے بھی اس کو پڑھا یا سنا ہوگا وہ اسی نتیجہ پر پہونچے گا۔ پھر آخر میڈیا نے اسے اس طرح توڑ مروڑ کر شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کیوں کی؟ اس بات کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ جدید ہندوستان کے محرمات (Taboos) کا علم ہر ایک کو ہوسکے اور بول کر تولنے کے بجائے آدمی تول کر بولے۔
دراصل بابری مسجد کی شہادت جس کو پچھلی ۶؍ دسمبر کو عرصہ ۲۰؍ سال گزر گئے وہ ہندوستان کے ماتھے کا اتنا نمایاں مگر اسی قدر بد نما داغ ہے جسے شور و شغب اور دھاندلی سے چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس کا ذکر بھی میڈیا کے لیے سوہان روح ہے۔ ان کی دلی خواہش ہے کہ سارے لوگ اسے اس طرح بھول جائیں کہ کبھی کوئی بھولے سے بھی اس کا تذکرہ نہ کرے اور ان کی جمہوریت پسندی، انصاف نوازی، عدل گستری، اور برابری ومساوات کے پروپیگنڈہ میں کوئی رخنہ نہ پڑے۔ مگر سینۂ گیتی پر پڑے اتنے بڑے داغ کو تو اندھا بھی دیکھ سکتا ہے۔ اور اس کے تذکرہ سے روکا بھی نہیں جاسکتا۔ اس لیے براہ راست یہ کہنے کے بجائے کہ آپ نے بابری مسجد کا تذکرہ کیسے کردیا انھوں نے اس بات پر شور مچایا کہ آپ نے اس کا موازنہ26/11سے کیسے کردیا!
البتہ میڈیا کی اس بات سے ہم ضرور اتفاق کرتے ہیں کہ بابری مسجد اور 26/11کا موازنہ ہی کیا؟ دونوں ہی معاملات اپنی حساسیت، ملکی سا لمیت، ہمہ گیریت، جان و مال کے نقصان، کرنے والوں کے انجام، عدالتی کارروائی، شفافیت اور اپنوں اور غیروں کے کردار کے اعتبار سے بعد المشرقین رکھتے ہیں۔ ذیل میں ہم اس کاایک ہلکا سا خاکہ پیش کرتے ہیں تاکہ قارئین خود بہتر نتائج تک پہونچ سکیں۔
۱- جہاں تک ۲۶؍۱۱ کا تعلق ہے اس کی طوالت ایک ہفتہ بھی نہیں۔ یہ معاملہ صرف چند دن (تین دن) تک چلا اور ملک کے انتہائی محدود حصہ میں رہا۔
جبکہ بابری مسجد کا مسئلہ ۱۸۷۵ئ؁ سے شروع ہوکر آج تک جاری ہے اور آئندہ جانے کب تک اس کا سلسلہ دراز ہوگا۔ اور اس کی ہمہ گیریت کسی کی نگاہوں سے پوشیدہ نہیں۔
۲- ۲۶؍۱۱ کو انجام دینے والے سب کے سب غیر ملکی تھے۔ جو ظاہر ہے اس ملک کے دشمن تھے۔
جبکہ بابری مسجد کو شہید کرنے والے اسی دھرتی کے سپوت تھے۔ بلکہ اس بات پر ہی انھیں فخر تھا کہ وہ دھرتی پترہیں اور ہندوستان سے غلامی کی نشانی کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔
۳۔ ۲۶؍ ۱۱ کے پورے واقعہ میں چند سو بے گناہ مارے گئے۔ ان میں ایک وہ افسر بھی تھا جس نے ملک میں جاری دہشت گردانہ واقعات کے پیچھے ہندو تنظیموں کے ہاتھ کو ڈھونڈ نکالا تھا۔
جبکہ بابری مسجد کے قضیے میں اب تک بلا شہ لاکھوں لوگ شہید ہوچکے ہیں۔ اور آئندہ بھی مزید ہلاکتیں نہیں ہوں گی اس کی کوئی گارنٹی نہیں۔ بابری مسجد کی شہادت سے پہلے بھی شہادتیں ہوئیں۔ لیکن بابری مسجد کی شہادت کے بعد بمبئی، بھوپال، سورت وغیرہ جگہوں پر جو کچھ ہوا، ۲۶؍۱۱ اس کے آگے بہت بونا نظر آتا ہے۔
۴- ۲۶؍۱۱ کے دوران کوئی عصمت نہیںلٹی۔
جبکہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد نہ صرف ہزارہا عصمتیں لٹیں بلکہ ظالموں نے نسوانی اعضاء تک کاٹ ڈالے۔
۵- ۲۶؍۱۱ کو انجام دینے والے سب کے سب اپنے انجام کو پہونچے۔ آخری یاد گار اجمل عامر کساب بھی پر اسرار طریقے سے پھانسی پر چڑھادیا گیا۔
جبکہ بابری مسجد کے گنہ گاروں کو سزا تو دور کی بات ہے، الٹے ثواب کے حقدار قرار پائے۔ کوئی مکھیہ منتری بنا تو کوئی پردھان منتری۔ اسی کے طفیل اچھوت سیاسی پارٹی اہم اپوزیشن بن گئی۔ اعلی ترین عدالت نے اہم ترین ملزم کو ایک روزہ سزا دے کر انصاف کی آنکھوں میں دھول جھونکی۔
۶- ۲۶؍۱۱ نے پورے ملک کو متحد کردیا اور ہر شہری نے اس کی مذمت کی۔
جبکہ بابری مسجد کی شہادت نے ملک کو واضح طور سے دو ٹکڑوں میں تقسیم کردیا۔ ایک فاتح دوسرا مفتوح۔ آج بھی ۶؍دسمبر کو جنتر منتر پر کچھ لوگ یوم شہادت اور یوم مذمت مناتے ہیں تو ایک طبقہ وجے دیوس بھی مناتا نظر آتا ہے۔
۷- ۲۶؍۱۱ کے بعد ملک کے عدالتی نظام اور پولس نے بے مثال سرگرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوری چابک دستی سے شفافیت کے ساتھ معاملہ کو اس کے انجام تک پہونچا دیا۔
جبکہ بابری مسجد کے معاملہ میںپو را نظام ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہے۔ بلکہ قدم قدم پر انتظامیہ اور عدالتوں نے جانبداری اور فرقہ پرستی کا ثبوت دیا ہے۔ ۳۰؍ ستمبر کا الٰہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ نہ صرف یہ کہ انصاف کا منھ چڑھاتا ہے بلکہ اس نے ملک کی ۲۵؍ کروڑ آباد ی کے دلوں سے عدالت کے وقار کو کم کردیا۔ اور بڑی اکثریت یہ محسوس کرنے لگی کہ شاید اس ملک میں کمزور کے لیے انصاف نہیں ہے۔
۸- ۲۶؍۱۱ ایک دہشت گردانہ حملہ تھا جس کے پیچھے ہندوستان کو نقصان پہونچانے کی ذہنیت تھی۔ یہ حملہ کسی اور جگہ بھی ہوتا تو اس کی حساسیت پر کوئی فرق نہ پڑتا۔ ہندوستان کے کسی گائوںپر حملہ بھی ملک کی سا لمیت پر حملہ ہی متصور ہوتا۔
جبکہ بابری مسجد کی شہادت دراصل آنیڈ یا آف انڈیا پر ہی حملہ تھا۔ ہندوستان۔۔۔۔ ایک تکثیری سماج پر مشتمل ہندوستان۔۔۔۔۔ دراصل مغل بادشاہوں کی تعمیر تھی جن کا جد امجد بابرتھا۔ اس کے حکم سے بنائی گئی ایک یادگار کو بظلم و جور ڈھاکر دراصل اس فکر کا گلا گھونٹ دیا گیا کہ مختلف مذہب و تہذیب کے لوگ شانہ بشانہ آزادی سے جی سکتے ہیں۔اسے کوئی معمولی زخم نہ سمجھا جائے۔ اس کی ٹیسیں عالم بالا میں موجود مسلمانوں کی آنے والی نسلیں ابھی سے محسوس کر رہی ہیں۔ اور ہر گزرنے والا دن مسلمانان ِ ہند کے دل میں اپنے تحفظ کے تئیں خوف و دہشت میں مبتلا کرتا جارہا ہے۔ بابری مسجد کی بازیابی سے کم مسلمان کسی بات پر راضی نہیں ہوسکتا اور احساس محرومی کا ہر لمحہ تفریق کی دیوار کو دبیز ہی کرتا چلا جائے گا۔
اپنے امریکی آقاؤں کے اشارے پر ناچنے والے رحمن ملکوں سے ہمیں کوئی سروکار نہیں کہ ان کی لے کب بدل جائے کوئی نہیں جانتا۔ چنانچہ اس پورے دورے میں یہ داخلی شیر کشمیر پر ایک لفظ بھی نہ ادا کرسکا (جو کہ ہمارے ملک کے لیے ایک خوش آئند بات ہے) جبکہ پاکستانی حکمراں اس معاملہ میں بڑے چابک دست واقع ہوتے ہیں، اس لیے ہم ان کے تذکرے پر کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں۔ البتہ ہم یہ ضرور واضح کرنا چاہتے ہیں کہ کسی کی خاموشی اور برداشت سے غلط مطلب نکالنے کے بجائے صحیح جمہوری اسپرٹ کے تحت مظلوم کی آہ کو سننے کا حوصلہ پیدا کرنا چاہیے۔ و گرنہ پوری انسانی تاریخ ظالم و مظلوم کے ٹکراؤ کی ہی عکاس ہے خواہ مظلوم کتنا ہی کمزور کیوں نہ رہا ہو۔ بات صرف حوصلہ کی ہے اور وقت گزرنے پر اسے لوٹتے دیر نہیں لگتی۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *