عصمت دری : جرائم کا سدباب کیا ہے؟

اگرچہ دہلی میں ۱۶؍دسمبر کو ہونے والا اجتماعی آبروریزی اور زدوکوب کا واقعہ پہلا نہیں ہے جس کے نتیجہ میں متاثرہ لڑکی کی سنگاپور میں موت ہوگئی۔ اس سے قبل ۲۰۰۶ئ؁ میں دھننجئے سنگھ کو پھانسی دی گئی تھی وہ بھی ۱۶؍ سالہ لڑکی ہیتل پاریکھ کی عصمت دری اور قتل کا مرتکب تھا۔ نہ جانے اس نوعیت کے اور کتنے واقعات پیش آ چکے ہیں اور کتنے اُن میں سے درج بھی نہیں کرائے جا سکے۔ تازہ ترین خبروں میں کیرالہ میں ایک شخص کے ذریعہ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ۹؍سالہ پوتی کی عصمت دری کا واقعہ اور کرناٹک میں ایک لڑکے کا اپنی معشوقہ کے ساتھ دوستوں کے ذریعہ بدفعلی کرنا سامنے کی مثالیں ہیں۔ تاہم دہلی واقعہ کی دردناکی اپنی جگہ مسلم ہے اور چلتی بس میں اس طرح کا واقعہ رونما ہونا ایک سنگین اور بھیانک جرم ہے۔ میڈیا نے اس واقعہ کو جس طرح سنجیدگی سے لیا وہ یقینا خوش آئند ہے۔ اور اس پر خواتین کے خلاف جرائم کو لے کر عوام میں جو غم و غصہ تھا اس کا اُبل پڑنا بھی فطری اور عین متوقع ہے۔ جس کے نتیجہ میں حکومتِ ہند کا قانون میں تبدیلی پر آمادہ ہونا اور اس طرح کے معاملات میں سزائے موت کا فیصلہ لینے کاارادہ ظاہر کرنا ، علاوہ ازیں اس کیس کی عدالتی انکوائری کا بھی وعدہ کرنا پڑا۔
ایک بار پھر راجدھانی نے خود کو Rape Capitalثابت کیا ہے۔ اس کے باوجود جائزوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ سارا مُلک اس نوعیت کے جرائم کے لئے قتل کی سزا کو زیادہ سمجھتا ہے اور تقریباً ۷۵ فیصد عوام صرف عمر قید کی سزا کے حق میں پائے گئے ہیں۔ جبکہ اس سنگین جرم کی سزا قتل کے سوا کچھ اور ہو ہی نہیں سکتی۔ مہاراشٹرا اسمبلی کے ناگپور میں جاری اجلاس کے دوران پیش کئے گئے اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ تین سالوں میں ملک میں عصمت دری کے تقریباً ۴۷؍ہزار واقعات ریکارڈ کئے گئے ہیں جس کا مطلب ہے غیر ریکارڈ شدہ واقعات کی تعداد اس سے کئے گنا زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ کیونکہ شرم اور سماجی مسائل کی بنا پر خواتین اس نوعیت کے معاملات پر خاموشی اختیار کرنے کو ترجیح دیتی ہیںاور ہمارے ملک میں عصمت دری سب سے کم درج کرایا جانے والا جرم اس لئے بھی بن گیا ہے کہ اس کی وجہ سے عورت کا مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔ خیال رہے کہ گذشتہ سالوں میں ریکارڈ شدہ جرائم کی فہرست میں بہرحال وہ جرائم شامل نہیں جن کا تعلق گجرات فسادات کے دوران ہونے والی جنسی دہشت گردی سے ہے ،نہ ان میں دلت اور قبائلی عورتوں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتیاں شامل ہیں۔پولیس کی جانب سے FIRدرج کرانے پر اصرار بھی کیا جاتا ہے، مگر جرم کو ثابت کرنا اس لئے بھی کار دارد ہے کہ مغربی ممالک کی طرح ہمارے ہاں بھی قانون صرف جبری عصمت دری کو جرم تسلیم کرتا ہے۔ فریقین کی رضامندی کے ساتھ ہونے والے زنا کو یہاں جرم نہیں تسلیم کیا جاتا۔ لہذا اس نوعیت کے معاملات میں یہ ثابت کرنا کہ اس شرمناک فعل میں متاثرہ عورت کی مرضی شامل تھی یا نہیں، ایک مشکل ترین امر ہے۔ اور اس سلسلہ میں گواہی کا پیش کیا جانا بھی بے حد دشوار ہے۔ حالیہ دہلی کیس اور اس نوعیت کے علی الاعلان ہونے والے جرائم اس سے مستثنی ہیں۔ مگر عام صورتحال میں جرم کا ثابت ہونا امر محال ہے۔ اسی لئے مجرمین کو اپنے چھوٹ جانے کا یقین ہوتا ہے اور وہ ایسے جرائم کا ارتکاب مسلسل کرتے چلے جاتے ہیں۔ سزا کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ زنا بالجبرہی کو نہیں زنا بالرضا (آپس کی رضامندی سے شادی کے بغیر جنسی عمل)کو بھی یکساں نوعیت کا جرم قرار دیا جائے۔ ورنہ مجرمین کو کیفرِ کردار تک پہونچانا اسی طرح محال رہے گا۔ یہ بات یقینا دلچسپ اور حیرت انگیز ہے کہ اس معاملہ میں اب لوگ سعودی عرب میں نافذ سزاؤں اور طالبان کے ذریعہ دی جانے والی سزائوں کا حوالہ دینے پر مجبور ہوگئے۔
تاہم ہندوستانی عوام اس پوری اسلامی اسپرٹ کو سمجھنے سے قاصر ہیں جو سماج میں خواتین کی حرمت کو قائم کرنے کے لئے اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ دہلی واقعہ نے ملک کو دہلا کے رکھ دیا ہے۔ اور فوری مطالبہ سخت سزا کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔ لیکن اگر اس معاملہ کو فاسٹ ٹریک عدالت کے ذریعہ حل بھی کر لیا جائے اور فوری طور پر مجرمین کو سزائے موت بھی دے دی جائے تو اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام کے لئے یہ مستقل اور مکمل حل نہیں ہو سکتا۔ حیرت ہے کہ اس موقعہ پر مجرمین کے نفسیاتی تجزیہ توپیش کئے جارہے ہیں۔ ماہرین تبصرے فرما رہے ہیں کہ مجرمین نفسیاتی مریض نہیں ہوتے بلکہ فی الواقع اور بالارادہ جرم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ خواتین کی بے حرمتی جن کا مقصد ہوتا ہے اور وہ اپنی ہوس پوری کرنے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔ انہیں بڑی حد تک یقین ہوتا ہے کہ وہ قانون کی زد سے بچ نکلیں گے۔ لہذا ستر فیصد مجرمین اس جرم کا بار بار ارتکاب کرتے ہیں۔جس طرح شیر کو انسانی خون لگ جائے تو وہ آدم خور ہو جاتا ہے اسی طرح یہ مجرمین خواتین کی عصمت کے پیاسے ہو کر رہ جاتے ہیں۔ کچھ ماہرین نفسیات بتاتے ہیں کہ بچپن میں تشدد کا شکار ہونے والے بچے بڑے ہو کر مجرمانہ ذہنیت کا شکار ہو جاتے ہیںمگر زیادہ تر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ نفسیاتی مریض کبھی اس نوعیت کے جرائم میں ملوث نہیں ہوتے۔ چنانچہ ان جرائم کا کسی نفسیاتی پیچیدگی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ لہذا ان کے ساتھ کسی رعایت کا کوئی سوال ہی نہیں ہے۔ ممبئی کے ایک ماہر نفسیات ڈاکٹر ایچ کے شیٹی نے البتہ ایک عجیب و غریب منطق پیش کی ہے۔ ان کے مطابق جس طرح تغذیہ کی کمی کی وجہ سے بیماریاں پھیلتی ہیں اسی طرح جنسی ضرورت کی ـ’’ناکافی تسکین‘‘ بھی جرائم کا سبب بنتی ہے۔ ہمارے خیال میں ڈاکٹر شیٹی سے یہ سوال کیا جانا چاہیے کہ بسیار خوری سے جو بیماریاں پھیلتی ہیںاس کے متعلق وہ کیا توجیہہ پیش کریں گے؟ کیاڈاکٹر شیٹی کے مطابق جنسی ہیجان انگیزی میں اضافہ کرنے سے جرائم میں کمی آئے گی ؟۔۔۔ یا اضافہ ہوگا!
ہمیں حیرت ہے کہ اس موقع پر سخت سزائوں کا مطالبہ تو ہورہا ہے اور یقینا ہونا چاہیے۔ سارا ملک مجرمین کو کیفر کردار تک پہونچانے کا انتظار کررہا ہے اور اسے کرنا چاہیے۔ عورتوں کو خود حفاظتی کی تدابیر بتائی جارہی ہیں اور بتائی جانی چاہیے۔ ہمیں تو ممبئی کے قریب تھانہ کے بدنام زمانہ پولیس کمشنررگھو ونشی کا یہ مشورہ بھی برا نہیں لگاکہ خواتین اپنے پاس مرچ پائوڈر رکھیںاور مارشل آرٹس سیکھنے کی ترغیب دلانا بھی عین مناسب ہے۔ تاہم خود حفاظتی کی تدبیروں میں وہ مشورے شامل نہیں ہیںجو اس نوعیت کے جرائم کے سدباب کے لئے لازمی اور ناگزیر ہیں۔ اس سے قبل دہلی کے مولانا آزاد کالج کی طالبہ کی عصمت دری کے موقع پر بھی لال کرشن اڈوانی نے اسلامی سزائوںکا مطالبہ کر ڈالا تھا۔ اس سلسلہ میں آج بھی جن ملکوں کے حوالے دیے جارہے ہیںوہاں جرائم کو کنٹرول کرنے کے لئے صرف سزائوں کا نفاذ نہیں کیا جاتا بلکہ اسلام نے احتیاطی تدابیر کے طور پر جو اخلاقی تعلیمات و تربیت عام کی ہے اس کا تذکرہ کیوں نہیں کیا جاتا؟اس پر کسی کی نظر کیوں نہیںجاتی؟ کیوں وہ نظر انداز کردیتے ہیںکہ ان ملکوں کا معاشرہ جنس زدہ، ہوس زدہ یا عریانیت زدہ معاشرہ نہیں ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ دہلی کے مولانا آزاد والے واقعہ کے بعددہلی پولیس کمشنر نے جب خواتین کو مختصر لباس نہ پہننے اور رات کو تنہا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا تو خواتین چراغ پا ہوگئیں تھیں۔ صرف یہی نہیں کناڈا میں جنسی جرائم کے خلاف جب Slut walkکیا گیا تو دیگر کئی ملکوں کی راجدھانیوںکی طرح دہلی میں بھی ’’بے شرمی مورچہ‘‘ نکالا گیا اور اسی بات پر اصرار کیا گیا کہ خواتین خواہ کچھ بھی پہنیںاور ان کے لباس ستر پوشی کے بجائے ستر نمائی بلکہ شہوت کو بر انگیختہ کرنے کا کام کیوں نہ کریں، مردوں کو بہرحال ’’ان کی اجازت کے بغیر‘‘ ان کے ساتھ جنسی زیادتی نہیںکرنی چاہیے۔ اس طرح خواتین تو اپنے جسموںکی جس طرح چاہے نمائش کرتی پھریںبلکہ اپنے جسموں کو وہ عام تباہی کے ہتھیاروں (WMDs) کی طرح چاہیں تو استعمال کریں، لیکن ’مرد‘ ان کی مرضی کے بغیر ان سے جنسی تلذذ کا مرتکب نہ ہو۔ سوال یہ ہے کہ خواتین اگر مختصر ترین لباسوں میں، جنسی ہیجان انگیزی کی تصویر بنی، حواس باختہ اور آبروباختہ انداز میںخوشبوئیں بکھیرتی اور اپنے آپ کو جنسِ مخالف کو متاثر کرنے کا اشتہار بنی سڑکوں پر پھرتی رہیں، جن کے انداز و اطوار کا مقصد ہی جنسِ مخالف کو متاثر کرنے کے سوا کچھ نہ ہو، اپنی ہر ادا سے وہ دعوتِ گناہ دیتی رہیں۔۔۔۔زنا بالرضا کو جرم ہی نہ سمجھا جائے اور اس طرح سماج میں گناہ کے تصور ہی کو مسخ کردیا جائے، ’Rape‘ تو وہ صرف اس وقت کہلائے جب کہ خواتین کی مرضی کے خلاف ہو، فلموں کے ذریعہ خواتین کے جسموں کی گھنائونے انداز میں نمائش کا بازار گرم رہے، فلموں میں Bed ScenesاورRape Scenesکی بھرمار ہو، آئٹم نمبروں کے نام پر عورتوں کے جسم کو انتہائی غلیظ اور جنسی جنون میں مبتلا کر دینے والے انداز میں پیش کیا جائے، فلم انڈسٹری دولت بٹورنے کی دھن میںعورتوں کی عصمت فروشی کرتی رہے،تفریحی ٹیکس کے لالچ میںسنسر شپ ٹھپ پڑ جائے، سماج میں عصمت فروشی کا لائسنس عام ہو، بئیر باروںتفریح گاہوں، ہوٹلوں اور کلبوں میں بے حیائی نت نئے انداز میںفروغ حاصل کرتی رہے، نو راتری اور تھرٹی فرسٹ نائٹ جیسی راتیں نوجوان لڑکیوں کی عصمتوں کو ملیامیٹ کرنے والے تہوار بنے رہیں، شراب کا لائسنس، پینا اور پلانا عام رہے، خواتین کی بے حرمتی، بے عصمتی، آبرو باختگی تفریح کا لازمی جزو بن کے رہ جائے تو سماج اس قسم کے جرائم سے کس طرح پاک رہ سکتا ہے۔ دہلی سعودی عرب کی راجدھانی ریاض یا افغانستان کی راجدھانی کابل نہیں، لندن اور نیویارک کے نقشِ قدم پر ہے جہاں ہر منٹ میں کئی ریپ کیس ریکارڈ کئے جاتے ہیں۔ آبروباختہ اور عصمت فروش مجرمانہ ذہنیت رکھنے والی خواتین کی بدچلنی کا خمیازہ آج پورے سماج کو اٹھانا پڑرہا ہے، جو جنسی جرائم کے متعلق یہ سوالات سن کر بھڑک اٹھتی ہیںکہ کیا عورت نے مناسب لباس پہنا تھا، کیا وہ کسی مرد رشتہ دار کے ساتھ تھی،کہیں وہ رات میں تنہا تو نہیں تھی۔ جبکہ سوئٹزرلینڈ میں حال ہی میں منی اسکرٹ اور ہیجان انگیز ٹاپ پہننے پر یہ کہہ کر پابندی لگادی گئی ہے کہ اس سے جنسی جرائم کو فروغ حاصل ہوتا ہے اور مجرموں کا کام آسان ہو جاتا ہے۔ لندن کے اسکولوں میں لڑکیوں کے منی اسکرٹ پر یہ کہہ کر پابندی لگادی گئی ہے کہ اس سے تعلیم یکسوئی کے ساتھ حاصل نہیں کی جاسکتی۔ تو ہمارے ہی ملک میں لباس کے مسئلہ پر غور کیوں نہیں کیا جاتا؟
آپ کو یہ جان کر مزید حیرت ہوگی کہ عصمت دری پر مشتمل ویڈیوگیمز بھی اب مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔ جس میں خواتین کی آبروریزی کرکے پوائنٹس بنائے جاتے ہیں۔ کھیلنے والا پہلے ماں کی آبرو ریزی کرتا ہے۔ پھر اس کی نوجوان بیٹیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتا ہے۔ ماں کو زیر کرنے کے پوائنٹس لڑکیوں پر دست درازی سے زیادہ ہوتے ہیں۔ جس ملک میںتفریح کے نام پر اتنا سب کچھ ہو رہا ہو، وہاں جنسی جرائم کو کیسے روکا جا سکتا ہے۔ اگر صرف سزائیں ہی مسئلہ کا حل ہوتیں تو دھننجئے کو پھانسی چڑھانے کے بعدجرائم میں نمایاں کمی واقع ہوجانی چاہیے تھی۔ جبکہ جرائم کی رفتار میں بھیانک اضافہ ہورہا ہے۔ اسی لئے اسلام نے سب سے پہلے معاشرہ کی تطہیر اور مناسب تعلیم پر زور دیا ہے تاکہ خواتین کو صرف جنسی تسکین کا ذریعہ نہ سمجھتے ہوئے انہیں ماں، بہن اور بیٹی کے روپ میں عزت دی جائے۔ پھر جنسی جرائم کے تدارک کے لئے حجاب کو لازم قرار دیا ہے جو عورت کی عزت و حرمت کی بہترین علامت ہے۔ ساتھ ہی اسلامی اصولوں کے مطابق جنسی جذبات کو برانگیختہ کرنے والا لٹریچر، فلمیں، وہ تمام پیشے اور ذرائع جن میں عورت کی بے حرمتی ہوتی ہے ممنوع ہیں۔ اس کے بعد آخری تدبیر کے طور پر سخت سزائوں کا مرحلہ آتا ہے تاکہ ان تمام احتیاطی تدابیر کے باوجود بھی جو لوگ جرم کے مرتکب ہوں انہیں سخت ترین سزائیں دی جائیں۔ دیگر ساری احتیاطی کو بالائے طاق رکھ کر صرف سخت ترین سزا کا مطالبہ ایک واردات کے مجرم کو کیفرِ کردار تک تو پہونچا سکتا ہے، مشتعل عوام کے جذبات کی تسکین بھی کر سکتا ہے لیکن اس نوعیت کے سنگین جرائم کے دوبارہ ارتکاب کو روک نہیں سکتا۔ اگر ہم تدارک کو علاج سے بہتر سمجھتے ہیں تو جملہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں پوری سنجیدگی کا مظاہرہ ہونا چاہیے اور فی الفور اس کے لئے اقدامات کئے جانے چاہیے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *