قرآن اور سنت رسولﷺ

ایک صاحب تحریر فرماتے ہیں:
’’میں متواتر ضرورت حدیث کے سلسلہ میں آپ کے مضامین دیکھ چکا ہوں۔ میں نہ تو ان غالی مخالفین احادیث میں سے ہوں کہ کسی قول رسول ﷺ کو ٹھکرا دوں اور نہ کورانہ رویات کو تسلیم کرنے کے لیے تیارہوں۔ آپ سے ان دو اصولی مسائل کے بارے میں درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری اور میرے احباب کی تسلی فرمائیں:
(۱) آیا قرآن مجید نجات کے لیے کافی ہے یا نہیں؟ اگر کافی ہے تو تفصیلات نماز وغیرہ جو غیراز قرآن ہیں، کیوں فریضۂ اولین قراردی جائیں:
مزید قابل غور امریہ ہے کہ باقی ارکان اسلام (روزہ، زکوۃ، حج جو سال میں یا عمر بھر میں ایک دفعہ ادا کرنے ضروری ہیں) کی تفصیلات تو قرآن بیان کرتا ہے۔ لیکن نماز جو ایک دن میں پانچ دفعہ ادا کرنی ضروری ہے اس کی تفصیلات کیوں بیان نہیں کرتا؟
(۲) الف۔ مسلمانوں کی تباہی کا سبب کیا روایات نہیں ہیں؟
ب۔کوئی قوم جس کا شیرازہ منتشر ہوگیا ہو اور جس کے لیے مختلف آرڈر موجود ہوں اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک ایک آرڈر پر اصولی وحدت نہ ہوجائے۔ کیا روایات کو قبول کرتے ہوئے مسلم قوم کے لیے آپ ایک آرڈر کی توقع رکھ سکتے ہیں؟ میرا ایمان ہے کہ اس وقت مسلمان وحدت و یگانگت اور اتحادملّی ہی سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔
اصولاً اس وحدت کا حل آپ کیا تجویز کریں گے؟‘‘
آپ نے جو سوالات کیے ہیں وہ اتنے پیچیدہ نہیں ہیں کہ تھوڑے سے تامل سے خود آپ ہی ان کا جواب نہ پالیتے میرے ان مضامین میں بھی جن کا آپ نے حوالہ دیا ہے، ان میں سے بعض سوالات کا حل موجود ہے۔ تاہم جب آپ کو ان مسائل میں الجھن پیش آرہی ہے اور کچھ دوسرے لوگ بھی اس الجھن میں مبتلا ہیں تو ان کی تشفی کے لیے لیے مختصراً کچھ عرض کیا جاتا ہے:
(ا) قرآن حکیم’’ نجات‘‘ کے لیے نہیں بلکہ’’ہدایت‘‘ کے لیے کافی ہے۔ اس کا کام صحیح فکر اور صحیح عمل کی راہ بتانا ہے اور اس راہ نمائی میں وہ یقیناًکافی ہے۔ مگر نجات کے لیے صرف قرآن کا پڑھ لینا کافی نہیں ہے۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم خلوص نیت کے ساتھ اس کی بتائی ہوئی راہ پر چلیں اور وہی اعتقاد رکھیں جس کی تعلیم قرآن نے دی ہے، اور اسی قانون کے مطابق عمل کریں جس کے اصول قرآن نے مقررکیے ہیں۔
(۲) ہدایت کے لیے قرآن کے کافی ہونے کا مفہوم بھی عام طور پر غلط سمجھا جاتا ہے۔ کسی کتاب کے متعلق جب ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ کسی علم یا فن کی تعلیم کے لیے کافی ہے، تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اس فن کے جتنے گرہیں یا اس علم کے جتنے اہم مسائل ہیں، وہ سب اس کتاب میں آگئے ہیں۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ہر شخص جو اس کتاب کے الفاظ کو پڑھ سکتا ہو اس کے تمام مطالب پر حاوی ہو جائے گا، محض کتاب کے مطالعہ ہی سے اس کو اپنے فن میں اتنی مہارت بھی حاصل ہو جائے گی کہ وہ عملاً اس سے کام لے سکے ۔کتاب اپنی جگہ کتنی ہی کامل سہی لیکن اس کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ دوسری جانب خود طالب علم میں بھی ایک خاص استعداد موجود ہو اور ساتھ ہی ایک ماہرفن استاد بھی موجود ہو جو نہ صرف کتاب کے مطالب کی توضیح و تشریح کرے، بلکہ مظاہرہ(Experiment) اور مشق وتمرین(Exercise) کے ذریعہ سے فن کی وہ عملی تفصیلات بھی سکھا دے جو نہ تو کتاب میں پوری طرح بیان ہوسکتی ہیں اور نہ محض کتاب میں پڑھ لینے سے کوئی ان پر علم و فضل کے اعتبار سے حاوی ہوسکتا ہے۔ پس یہی حال قرآن مجید کا بھی ہے۔وہ اس لحاظ سے ہدایت کے لیے کافی ہے کہ اس میں وہ صحیح علم موجود ہے جس کی روشنی میں انسان صراط مستقیم پر چل سکتا ہے، اور اس میں وہ تمام اصول بیان کر دئیے گئے ہیں جس پر اللہ کا پسندیدہ دین قائم ہے۔ مگر اس علم سے فائدہ اٹھانے کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہے ایک یہ کہ طالب علم استفادہ کی خالص نیت رکھتا ہو اور ان مبادی سے واقف ہو جو قرآن کو سمجھنے کے لیے ضروری ہیں۔ دوسرے یہ کہ ایک ماہر فن استاد موجود ہو جو کتاب اللہ کے نکات سمجھائے آیات کا صحیح معنی و مفہوم بتائے، احکام پر خود عمل کرکے دکھائے اور قوانین کو عملی زندگی میں نافذ کرکے ان کا تفصیلی ضابطہ مقرر کر دے۔ پہلی چیز کا تعلق ہر شخص کی اپنی ذات سے ہے ۔ رہی دوسری چیز تو اس کا انتظام اللہ تعالیٰ نے خود فریایا ہے۔ کتاب کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کو اسی غرض سے بھیجا گیا تھا کہ آپ اس ماہرفن کی ضرورت کو پورا کریں۔آپ نے استاد کی حیثیت سے جو کچھ بتایا اور سکھایا ہے وہ بھی اسی طرح خدا کی طرف سے ہے جس طرح قرآن خدا کی طرف سے ہے۔ اس کو غیراز قرآن کہنا صحیح نہیں ہے۔ جو شخص اس کی ضرورت کا منکر ہے اور قرآن کو اس معنی میں کافی سمجھتا ہے کہ اس کو سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کے لیے نبی ﷺ کی علمی و عملی ہدایت کی حاجت نہیں ہے وہ دراصل یہ کہتا ہے کہ صرف قرآن کی تنزیل کافی تھی، خدانے نعوذ با اللہ یہ فعل عبث کیا کہ اس کے ساتھ رسول کو بھی مبعوث کیاہے۔
(۳)آپ پوچھتے ہیں کہ’’ تفصیلات نماز وغیرہ جو غیراز قرآن ہیں کیوں فریضہ اولین قرار دی جائیں؟‘‘ اس کا جواب یہ ہے کہ رسولﷺ کی بتائی ہوئی تفصیلات نماز و غیرہ کو غیراز قرآن کہنا ہی سرے سے غلط ہے۔ اگر کوئی ماہر فن طبیب فن طب کے کسی قاعدے کو عملی تجربہ کرکے شاگردوں کو سمجھائے تو آپ اسے’’خارج ازفن‘‘نہیں کہہ سکتے۔ اگر کوئی پر وفیسر اقلیدس کے کسی مسئلہ کو شکلیں کھینچ کر تشریح و تفصیل کے ساتھ سمجھائے تو آپ اسے غیراز اقلیدس نہیں کہہ سکتے۔ ہر علم وفن کی اصولی کتابوں میں صرف اصول اور مہمات مسائل بیان کر دیئے جاتے ہیں اور عملی تفصیلات استاد کے لیے چھوڑدی جاتی ہیں کیونکہ استاد عملی مظاہرے سے جس بات کو چند لمحوں میں بتا سکتا ہے اسی کو اگر الفاظ میں بیان کیا جائے تو صفحے کے صفحے سیاہ ہوجائیں اور پھر بھی شاگردوں کے لیے لفظی بیان کے مطابق ٹھیک ٹھیک عمل کرنا مشکل ہو جائے۔ پھر کتاب کے حسن کلام اور اس کے کمال ایجاز کاغارت ہو جانا مزید برآں۔ یہ حکیمانہ قاعدہ جس کو معمولی انسان تک اپنے علوم و فنون کی تعلیم میں ملحوظ رکھتے ہیں،آپ کی خواہش ہے کہ وہ سب سے بڑا حکیم جس نے قرآن نازل کیا ہے اس کو نظر انداز کر دیتا ۔آپ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں نماز کے اوقات کا نقشہ بناتا،ر کعتوں کی تفصیل دیتا، رکوع و سجود اور قیام و قعود کی صورتیں تفصیل کے ساتھ بیان کرتا بلکہ نماز کی رائج الوقت کتابوں کی طرح ہر صورت کی تصویر بھی مقابل کے صفحات پر بنا دیتا پھر تکبیر تحریمہ سے لے کر سلام تک جو کچھ نماز میں پڑھا جاتا ہے وہ بھی لکھتا اور اس کے بعد وہ مختلف جزئی مسائل تحریر کرتا جن کے معلوم کرنے کی ہر نمازی کو ضرورت ہوتی ہے۔ اس طرح قرآن کے ازکم دو تین پارے صرف نماز کے لیے مخصوص ہو جاتے ۔پھر اسی طور پر دو تین پارے روزہ ، حج اور زکوۃ کے تفصیلی مسائل پر بھی مشتمل ہوتے۔ اس کے ساتھ شریعت کے دوسرے معاملات بھی جو قریب قریب زندگی کے تمام شعبوں پر حاوی ہیں، جزئیات کی پوری تفصیل کے ساتھ درج کتاب کیے جاتے۔ اگر ایسا ہوتا تو بلاشبہ آپ کی یہ خواہش تو پوری ہو جاتی کہ شریعت کا کوئی مسئلہ’’غیر از قرآن نہ ہو‘‘ لیکن اس سے قرآن مجید کم از کم انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے برابرضخیم ہو جاتا اور وہ تمام فوائد باطل ہوجاتے جو اس کتاب کو محض ایک مختصر سی اصولی کتاب رکھنے سے حاصل ہوئے ہیں۔
(۴) یہ تو آپ کو بھی تسلیم ہے کہ قرآن حکیم میں نماز،روزہ اور دوسرے ارکان اسلام کی تفصیلات بیان نہیں کی گئی ہیں بلکہ صرف ان کی فرضیت پر زور دیا گیا ہے، ان کے قائم کرنے کی بار بار تاکید کی گئی ہے، اور کہیں کہیں ان کے ادا کرنے کے طریقوں کی طرف بھی اشارات کر دئیے گئے ہیں جو عملی تفصیلات پر کسی طرح بھی مشتمل نہیں کہے جا سکتے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان کی تفصیلات مقرر کرنے والا کون ہو؟ کیا یہ کام ہر شخص کے اختیار تمیزی پر چھوڑ دینا چاہیے تھا کہ جو جس طرح چاہے عمل کرے؟ اگر ایسا ہوتا تو دو مسلمانوں کی نمازیں بھی شاید ایک طریقے پر نہ ہوتیں اور نہ دوسرے ارکان اسلام کے عملی طریقوں میں مسلمانوں کے درمیان کسی قسم کی ہم آہنگی پائی جاتی آج آپ جس’’شیرازہ قومی‘‘ کے انتشار کا ماتم فرما رہے ہیں، وہ صرف چندآرڈروں کے اختلاف کی وجہ سے ہے۔ تاہم ہر آرڈر میں لاکھوں کروڑوں مسلمان مجتمع ہیں۔ لیکن اگر ہر شخص قرآن کے احکام کی عملی تفصیلات مقرر کرنے میں خود مختار ہوتا تو اسلام کے پیرؤوں میں سرے سے کوئی آرڈر ہی نہ ہوتا۔ ان مختلف افراد کو جس چیز نے ایک قوم بنا یا ہے وہ اعتقا دو عمل کی یک رنگی ویکسانی کے سوا اور کچھ نہیں ہے، اور یہ معلوم ہے نظام جماعت کو قائم کرنے میں اعتقاد کے اشتراک سے بڑھ کر عمل کا اشتراک کا ر گر ہوتا ہے۔ کیونکہ انسان حو اس کا بندہ ہے اور اس کے حواس کو محسوس صورتیں ہی متاثر کر سکتی ہیں، اور انہی صورتوں کی یکسانی ویک رنگی اس میں جمعیت کا احساس پیدا کرتی ہے۔ لہذا طریقا ہائے عمل کو افراد کے اختیار پر چھوڑ دینے کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا کہ محض اعتقاد کے اشتراک سے مسلمان کبھی ایک قوم نہ بن سکتے۔
پس جب یہ مسلّم ہے کہ وحدت قومی کے لیے اتحاد عمل نا گزیر ہے، اور یہ بھی مسلّم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں وہ تفصیلات نہیں دی ہیں جن سے یہ اتحاد حاصل ہو سکتا تھا، تو پھر آپ ہی بتائیے کہ رسول اکرم ﷺ کے سوا اور کس کو یہ حق پہنچتا تھا کہ قرآن کے مطابق عمل کرنے کے طریقے اور ضابطے مقرر کرتا؟ اس کے سوا اور کس طریقے پر امت جمع ہو سکتی تھی؟ ان کے سوا اور کون تھا جسے حاکم اعلیٰ تسلیم کرکے سب مسلمان اس کی تقلید پر متفق ہو جاتے؟ یہ آنحضرتؐ ہی کا فیض تعلیم تو ہے جس کی بدولت آج ساڑھے تیرہ سو برس سے تمام مسلمان ایک ہی ہیئت سے نماز پڑھتے ہیں، ایک ہی طریقے سے حج کرتے ہیں ، ایک ہی زمانہ میں ایک ہی طرح روزہ رکھتے ہیں۔فرق جو کچھ بھی ہے محض جزئیات کا ہے، اور وہ بھی اس بنا پر نہیں ہے کہ کوئی مسلمان خود اپنے آپ کو ان جزئیات کے مقرر کرنے کا حق دار سمجھتا ہو، بلکہ اس بنا پر ہے کہ ہر گروہ اپنے علم کے مطابق اسی جزئیہ کو آنحضرت ﷺ سے مسنون سمجھتا ہے جس پروہ عامل ہے۔ باقی رہی حضور نبی کریمﷺ کی امامت، اور آپ کی سنت کا واجب التقلید ہونا، تو گنتی کے چند افراد کے سوا تمام امت اس پر متفق ہے، اور اسی اتفاق پر مسلمانوں کی وحدت قومی کا انحصار ہے۔
(۵) آپ قرآن مجید میں ایک مرتبہ پھر غور سے ملا حظہ فرمائیے کہ اس میں روزہ، حج اور زکوۃ کی تفصیلات کہاں ہیں؟ زکوۃ کے متعلق تو یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ کن چیزوں پر کتنی زکوۃ دی جائے اور زکوۃ کا نصاب کیا ہے۔ حج اور روزہ کے جن احکام کو آپ تفصیلات سے تعبیر کر رہے ہیں،وہ نماز کے احکام سے بھی زیادہ مجمل ہیں۔آپ غور سے دیکھیں گے تو معلوم ہو جائے گا کہ قرآن مجید میں اول سے آخر تک اس قاعدہ کو ملحوظ رکھا گیا ہے کہ پورا زور بیان ایمانیات کی تعلیم ہی میں صرف کر دیا جائے، کیونکہ یہی دین کی بنیاد ہے ، رہے عبادات اور معاملات کے احکام، تو ان کے صرف اصول اور مہمات مسائل بیان کر دئیے جائیں اور تفصیلات کو رسول اللہﷺ پر چھوڑ دیا جائے۔
(۶) مسلمانوں کی تباہی کا اصل سبب روایات نہیں ہیں بلکہ نفسانیت اور عصبیت جاہلیہ، اور فروع کو اصول سے بڑھ کر اہمیت دینے کی حماقت اور کتاب اللہ و سنت رسول اللہ کو چھوڑ کر اپنے مزعومات میں حد سے زیادہ غلو کرنے کی عادت، اور نئے نئے طریقے ایجاد کرنے کا شوق ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو روایات کے اختلاف سے کوئی فتنہ پیدا نہیں ہو سکتا۔ روایات خواہ ضعیف ہوں یا قوی اور ان کے درمیان خواہ کتنا ہی اختلاف پایا جاتا ہو بہر حال ان سب کا مرجع رسول ﷺ کی ذات ہے اور ان مختلف روایتوں کو ماننے والے اس امرمیں بہر طور متفق ہیں کہ وہ سب آنحضرتؐ کو اپنا حاکم اور پیشوا مانتے ہیں۔ علاوہ ازیں روایت کے اختلاف سے صرف فروع میں اختلاف واقع ہوتا ہے۔ باقی رہے اصول دین تو دہ سب کے سب کتاب اللہ میں موجودہیں جو روایات سے بالا تر اور تمام مسلمانوں میں مشترک ہیں۔پس اگر مسلمان خلوص نیت کے ساتھ اس حقیقت کا ادر اک کرلیں کہ وہ سب کتاب اللہ کے ماننے والے اور رسول اللہ ﷺکا اتباع کرنے والے ہیںاور ان کے درمیان اصول دین مشترک ہیں، تو وہ جزئیات میں مختلف طریقوں پر قائم رہتے ہوئے بھی باہم متحد ہو سکتے ہیں۔لیکن اگر اس کا ادر اک نہ ہو تو روایات کا سارا دفترنذر آتش کر دینے سے بھی اختلاف دور نہیں ہو سکتا۔ انسان کے نفس میں شیطان موجود ہے جو قرآن کو بھی جنگ و جدل کا آلہ بنانے سے نہیں چوکتا۔
(۷)’’ ایک آرڈر‘‘ آپ کس معنی میں چاہتے ہیں؟ اگر آپ کا مقصد یہ ہے کہ فروع میں کوئی اختلاف نہ ہو تو جب تک انسان کی فطرت نہ بدل جائے یہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا ۔ بشری فطری کے ساتھ تو یہ بھی ممکن نہیں کہ صرف دو ہی آدمیوں کا نقطئہ نظر بالکلیہ ایک ہوجائے لہذا ایسا’’ایک آرڈر‘‘ تو کبھی قائم نہیں ہوسکتا جس میں کسی نوع کا اختلاف رائے اور اختلاف عمل سرے سے موجود ہی نہ ہو ہاں اگر آپ’’ ایک آرڈر‘‘ سے مراد ایسا آرڈر لیتے ہیں جو اصولوں کی وحدت پر مبنی ہو تو خدا کی کتاب اور اس کے رسولؐ نے ایسا ہی آرڈر قائم کیا تھا اور وہ ہر وقت ہو سکتا ہے بشرطیکہ مسلمان اصول اور فروع کا فرق سمجھ لیں اور دونوں کے مراتب میں امتیاز کرنا سیکھ جائیں۔
(’ترجمان القرآن‘ ،شعبان ۱۳۵۳ھ؁ مطابق نومبر ۱۹۳۴ئ؁)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *