اخوان المسلمون پر عتاب کا تاریخی جائزہ

عالمِ اسلام میں سیاسی بیداری، پان اسلام ازم کی تحریک، سماجی، دینی اور تعلیمی اصلاحات کی پہلی تحریک جمال الدین افغانی اور ان کے شاگرد محمد عبدہ نے چلائی۔ مصر پر فرانسیسی اثرات مسلط رہے اور ۱۸۸۲ئ؁ سے برطانوی سامراج مصر پر قبضہ کرکے اس کے دینی اور سیاسی اور ثقافتی حیثیت کو متغیر کرنے کی فکر میں لگا رہا۔ عُرابی تحریک اور نہضۃ یا بیداری کی تحریکیں چلتی رہیں لیکن وہ یا تو ناکام ہو گئیں یا ضعف کی وجہ سے بے اثر ہو گئیں۔ برطانیہ چونکہ بالفور منشور پر درپردہ عمل پیرا تھا لہٰذا ہر ایسی اسلامی تحریک پر اس کی نظر جمی رہی جو اس راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتی تھی، اس میں اخوان سر فہرست تھے۔ اس لئے کہ فلسطین میں وہ جوانمردی کے ساتھ لڑے اور اپنے جوہر دکھائے۔
صلیبی سامراج ہو (خواہ برطانیہ ہو یا فرانس و امریکہ) یا پرولتاری سرخ سامراج (روس اور دیگر اشتراکی) دونوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ مسلمان صرف اسلام کے نام پر متحد ہو سکتے ہیں اور کتاب و سنت کے نام پر ہر قسم کی قربانی دے سکتے ہیں۔ اس لئے ان کی بین الاقوامی سیاست کا اہم ترین نقطہ یہی رہا کہ عالم اسلام میں کبھی کسی اسلامی تحریک کافروغ نہ ہونے دیا جائے اور ہر ایسی تحریک کو خود وطنی قائدین کے ہاتھوںکچلوا دیا جائے۔
برطانیہ نے اچھی طرح بھانپ لیا کہ اخوان نامی تحریک فلسطین میں اسرائیلی ریاست کے قیام میں سب سے بڑا روڑہ ثابت ہوگی۔ اس لئے روز اول سے ہی اس کے کچلنے کی اسکیم تیار کی اور آخر اس میں کامیاب رہا۔ اس اسکیم میں سفید و سرخ سامراج متفق رہے بلکہ ایک دوسرے کی مدد کرتے رہے۔ اس وقت یہ سرسری جائزہ ہدیۂ ناظرین ہے کیونکہ اس کے بغیر بین الاقوامی سیاسیات کی صلیبی ذہنیت آشکار نہیں ہو سکتی۔ نہ ہی فلسطین کی بحث مکمل ہو سکتی ہے۔
جمال الدین افغانی کی انقلابی تحریک کا اثر سارے عالم اسلام میں ہوا۔ یہ چنگاری کبھی نہیں بجھی اور اب شعلہ بداماں ہوتی نظر آرہی ہے۔ عالم اسلام کی بد حالی کے پیش نظر امت اسلامیہ کی اصلاح اور کتاب و سنت کی طرف مسلمانوں کو واپس لانے کے لئے ۱۹۲۸ئ؁ میں مصر کے شہر اسکندریہ میں حسن البنا نے جو برطانوی سامراج کے دشمن تھے، الاخوان المسلمون کی بنیاد رکھی اور چھ خداترسوں نے سب سے پہلے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور احیاء دین کے لئے جان و مال ہر قسم کی قربانی دینے کی قسم کھائی۔ برطانیہ نے اس کے تابناک مستقبل کو بھانپ لیا۔ راہ حق کی ابتدائی مشکلات شروع ہوگئیں جس کے نتیجہ میں اس کا صدر دفتر اسکندریہ سے قاہرہ منتقل کردیا گیا۔ جہاں نوجوان فسق و فجور کا شکار تھے، تحریک کی برکت سے چشم زدن میں مسلم نوجوان اس کے گرد آنے لگے۔ ویران مسجدیں آباد ہوگئیں اور تعلیمی اداروں میں احیاء اسلام کی تحریک چل پڑی۔ دو عشروں میں تقریباًبیس لاکھ افراد اخوان سے منسلک ہوگئے اور دو ہزار شاخیں قائم ہوگئیں۔ استعمار کے کان کھڑے ہوئے اور رونگٹے کھڑے ہونے لگے۔ برطانیہ سے اخوان کی پہلی ٹکر ۴۱ــ۔۱۹۴۰ئ؁ میں ہوئی جب اخوان نے دوسری عالم گیر جنگ میں برطانوی افواج میں مصری نوجوانوں کے داخلہ کی مخالفت کی۔ عالمی جنگ کے ختم ہوتے ہی فلسطین کی جنگ چھڑ گئی جس میں اخوان نے جو کارنامے انجام دیے اس کی تفصیلات کا یہاں موقعہ نہیں۔ برطانوی سامراج اخوان کی طاقت کو دیکھ کر تڑپ اٹھا۔ اور شاہ فاروق کے ہاتھوں اخوان پر مظالم شروع کردیے۔ جماعت اخوان کے پریس مطبوعات، رسائل و مجلات اور نشرو اشاعت کے دفاتر بند کردیے گئے۔ مصری اخبارات کو ہدایت کر دی گئی کہ اخوان کا ذکر کہیں نہ ہو۔ نحاس پاشا نے یہ پابندی ختم کی لیکن برطانوی سفارت خانہ کے دباؤ پر پھر مظالم شروع ہوئے۔ وزراء مثلاً احمد ماہر نقراشی اور صدقی کے دور میں مظالم جاری رہے۔ زوال فاروق کے بعدنیا دور آیا جس کی قیادت صدر ناصر کے ہاتھ آئی۔ یہ دور نہ صرف مظالم کے نقطۂ عروج کا دور تھا بلکہ الاخوان المسلمون کے خاتمے کا بھی دور تھا۔ یہ اور بات ہے کہ اس کو ختم کرنے والے بھی اس شان سے ختم ہوئے کہ خود تو ڈوبے شرقِ اوسط کو بھی لے کے ڈوبے۔
سرخ استعمار اخوان کے منشور اللہ غایتنا و الرسول زعیمنا و القرآن دستورنا (یعنی اللہ ہمارا مقصود، رسولؐ ہمارے قائد اور قرآن ہمارا دستور) ایک لمحہ کے لئے برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ کیونکہ یہ خود اس کے منشور کی نفی تھی۔ یہ منشور صلیبی استعمار کے لئے بھی قابل قبول نہ تھا۔ فاروق اور اس کے افسران سفید استعمار کی خوشنودی اور صدر ناصر پرولتاری استعمار کی خوشنودی کے لئے اخوان کے خاتمہ پر تُل گئے۔
دسمبر ۱۹۴۸ئ؁ میں اخوان کو غیر قانونی قرار دیا گیا اور چار ہزار اخوانی گرفتار کئے گئے۔ ۱۲؍فروری ۱۹۴۹ئ؁ کو حسن البنائؒ کو شہید کر دیا گیا۔ دو سال کے مقدمہ کے بعدسپریم کورٹ نے اخوان کو دوبارہ بحال کردیا لیکن ۱۹۵۴ئ؁ میں پھر اسے غیر قانونی جماعت قرار دے دیا گیا، دس ہزار اخوان گرفتار کئے گئے۔ چھ چوٹی کے قائدین دردناک عذاب کے ساتھ شہید کئے گئے۔ دس سال تک ملک میں مارشل لاء کے نفاذ کی وجہ سے کسی کو لب کشائی کی اجازت نہیں تھی۔ اس عشرہ میں جو قیامت خیز مظالم اخوان پر ہوئے عینی شاہدین کی زبانی سنتے ہی انسانی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اخوان کے لئے ملازمتیں حرام کردی گئیں اور رزق کے تمام دروازے ان پر بند کر دئے گئے۔
۲۴؍مارچ ۱۹۶۴ئ؁ کو جب نیا دستور نافذ کیا گیا تو صدر نے ایسے اختیارات اپنے لئے مخصوص کر لئے کہ اب ہر مخالف کو ختم کردینے کا جواز موجود تھا۔ جون ۱۹۶۵ئ؁ میں صدر ناصر جب روس کے دورے پر گئے تو اخوان کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے اس پر رجعت پسندی اور دہشت پسندی کا الزام لگایا بلکہ ماسکو کی تقریر میں اعلان کردیا گیا کہ ان خطرناک رجحانات کو کچل دیا جائے گا۔ واپسی کے بعد ہی جولائی ۱۹۶۵ئ؁ سے اخوان کی گرفتاریاں شروع ہو گئیں۔ تیس ہزار اخوانی گرفتار ہوئے۔ گرفتار شدگان کے خاندان پر مظالم کا عذاب ٹوٹ پڑا۔ ڈیڑھ لاکھ متعلقین پر رزق کے دروازے بند کردئے گئے۔ بے سہارا خاندانوں، بیوائوں، اور یتیم اخوانی بچوں کی مالی اعانت کرنے والے تک گرفتار کئے گئے۔ ان کی وکالت کی جرأت کسی میں نہ رہی۔ مقدمہ کی پیروی کے لئے باہر سے آنے والے وکیلوں تک کو اجازت نہ ملی۔ فرانس کے بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور ہیگ کے وکلاء نے قیدی اخوانیوں کے مقدمہ کی پیروی کی پیش کش کی، مراکش اور سوڈان کے وزراء نے اپنی خدمات پیش کیں ؛ سب مسترد کردی گئیں۔ لندن کی ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جورپورٹ پیش کی ہے اس میں اس قسم کے دلدوز واقعات مذکور ہیں۔ سید حسن البنا کے داماد سعید رمضان نے مغربی جرمنی ہفتہ عالم (Welt Woche) (شمارہ 168مورخہ ۲۵؍فروری ۱۹۶۶ئ؁) کے ایک نمائندے کو بیان دیتے ہوئے بتایا کہ یہ سب کچھ روس میں صدر ناصر کے اعلان کے بعد ہوا اور جبر و تعذیب کے ذریعہ اخوان سے اقبال جرم کرانے میں سعی کی گئی۔ موصوف نے بتایا کہ اخوان کا جرم صرف اتنا تھا کہ وہ بے دینی کے خلاف خدا پرستوں کے اتحاد کے داعی تھے۔ مسلمان اگر کبھی متحد ہو سکتا ہے تو وہ صرف اسلام کے نام پر متحد ہو سکتا ہے۔ حسن البنا کی شہادت کے بعد مصر کی عدالت عالیہ کے سابق قانونی مشیرحسن الہضیبی اخوان کے مرشد عام مقرر ہوئے۔ یہ بھی گرفتار ہوئے اور انہیں دس سال کی سزا قید با مشقت دی گئی۔ موصوف کی اہلیہ، صاحب زادی خالدہ اور بہنوئی بھی جیل میں عتاب کا شکار ہوئے۔ ڈیلی ٹیلی گراف (مورخہ ۱۱؍اکتوبر ۱۹۶۵ئ؁) کے مطابق بیس ہزار اخوانی گرفتار ہوئے۔ شدتِ مظالم کی وجہ سے بہت سے جاںبحق ہوگئے۔ سید قطب کے بھائی محمد قطب تعذیب کی تاب نہ لا کر جاں بحق ہوئے۔ یہی حال ان کی بہن امینہ قطب کا ہوا۔ سید قطب کی دوسری بہن حمیدہ قطب کو دس سال کی سزا ملی اور ایک دوسری معروف خاتون زینب الغزالی کو عمر قید کی سزا دی گئی۔ سات چوٹی کے شہداء میں علی عنقاوی، محمد یوسف ہواش، عبد الفتاح اسماعیل، احمد عبد السمیع، صبری عزت اور مجدی متولی تھے۔
ساٹھ سالہ مفکر اسلام اور مفسرِ قرآن سید قطب ؒکی شہادت سے عالم اسلام ہل گیا۔ سارے عالم سے تار اور مراسلات کی بارش ہوئی اور رحم کی اپیل کی گئی لیکن قساوت قلبی پر اثر نہ ہوا۔ سید قطب کی قومی خدمات بھی کم نہ تھیں۔ دارالعلوم قاہرہ سے بی اے (۱۹۳۳ئ؁) کے بعد آپ ۱۹۵۲ئ؁ تک وزارت تعلیم میں خدمات انجام دیتے رہے اور وزارت کی طرف سے ہی ۱۹۴۹ئ؁ میں دو سالوں کے لئے امریکہ بھیجے گئے تاکہ نظام تعلیم میں تربیت حاصل کرسکیں۔ واپسی کے بعد ۱۹۵۳ئ؁ میں آپ نے اخوان کی رکنیت اختیار کر لی اور شعبۂ نشرواشاعت کے سکریٹری مقرر کئے گئے۔ ۱۹۵۴ئ؁ میں جب اخوانی رہنماؤں کو سزائے موت سنائی گئی تو انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ ۱۹۶۴ئ؁ میں رہائی ہوئی لیکن اگست ۱۹۶۵ئ؁ میں پھر گرفتار کرلئے گئے۔
سید قطب امریکہ جانے سے قبل زیادہ تر ادبی موضوعات پر لکھتے رہے اور امریکہ روانگی سے قبل آپ کی ۹ کتابیں طبع ہو چکی تھیں۔ واپسی کے بعد آپ نے اسلامی موضوعات پر قلم اٹھایا۔ اور جیل میں معروف تفسیر ’’فی ظلال القرآن‘‘ کی تکمیل کی۔ اسلام کے اجتماعی عدل (العدالۃ الاجتماعیۃ فی الاسلام) پر لکھا جس کا ترجمہ اکثر زبانوںمیں ہوا۔ اس میں مؤلف نے اسلامی نظریہ زندگی کی وضاحت کی اور سیاسی، معاشی اور معاشرتی عدل کے بارے میں اسلامی موقف کی تشریح فرمائی۔ آپ نے موجودہ تہذیبی بحران کو ختم کرنے کا حل پیش کیا، جو تیسرے بلاک کے وجود سے ہی ممکن تھا۔ مؤلف کے خیال میں انڈونیشیا اور پاکستان کے وجود سے تیسرے بلاک کے لئے حالات سازگار ہوگئے تھے۔ دیگر فکر انگیز تصانیف میں سرمایہ داری کے موضوع پر معرکۃ الاسلام و الراسمالیہ (اسلام اور سرمایہ داری کی کشمکش) مشاھدۃ القیامۃ فی القرآن (جس کے ذریعہ انسانی ذہن کو آخرت اور یوم حساب کی جانب متوجہ کیا) التصویر الفنی فی القرآن اور معالم فی الطریق (نشانِ راہ یا جادہ و منزل) وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ آخر الذکر میں مؤلف نے اسلامی تحریک کے مزاج، کارکنوں کے اوصاف اور اسلامی انقلاب برپا کرنے کے لئے طریق کار کی وضاحت کی ہے۔ سید قطب پر جو جرم عائد کیا گیا اس میں اس کتاب کا بھی حوالہ دیا گیا کیونکہ اس میں ملک میں انقلاب برپا کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔
اس جلیل القدر عالم اور مفکر اسلام کو آخر ۲۹؍اگست ۱۹۶۶ئ؁ کو سولی کے تختہ پر لٹکا یا گیا اور دنیا نے دیکھا کہ محض چند ماہ بعد ۸؍جون ۱۹۶۷ئ؁ کو عذابِ الہی بصورت اسرائیل شرق اوسط پر چھا گیا جو آج تک مسلط ہے۔ آج کی سائنسی دنیا ان خیالات کا مذاق اڑا سکتی ہے لیکن نوشتۂ دیوار کو پڑھنے والے ہی نوشتۂ تقدیر کو پہچان سکتے ہیں۔
سید قطب کی شہادت پر ایک شاعر نے لکھا ؎
سُرخ سُرخ اور تازہ تازہ ہے
یہ لہو ہے کہ سُرخ غازہ ہے
ہے دعاؤں کے قافلوں کا جلوس
دوشِ جبریل پرجنازہ ہے
اظہار ملیح آبادی نے ’’دار‘‘ کے زیر عنوان لکھا ؎
ملتی ہے عالموں کو اور اتنی بڑی سزا
دھبہ رہے گا عدل کے دامن پہ تا ابد
رہ رہ کے آرہی ہے صدا آج مصر سے
چوں حرف حق بلند شود دار می شود
ایک اور شاعر نے لکھا ؎
یہ شمع نور ہے رخشنداں جاوداں اس کی
تیرے لہو سے تو لَو اور بڑھ ہی جائے گی
بجھا رہے ہیں شہیدوں کے خون سے اس کو
پر اس طرح سے تو ضَو اور بڑھ ہی جائے گی
آباد شاہ پوری نے ’’الاخوان المسلمون‘‘ کے زیر عنوان جو نظم لکھی وہ ہدیہ ناظرین ہے۔ ؎
ساحل رودِ نیل ہے جن کے لہوسے لالہ زار
ان پہ ہو حق کی رحمتیں، ان پہ ہو فضلِ کردگار
جھول کے پھانسیوں پہ جو تجھ کو یہ دے گئے پیام
حق پہ بصد نشاط کر دولتِ زندگی نثار
قابلِ صد ہزار رشک جن کی حیات و موت ہے
وہ بھی یقیں سے تابدار، یہ بھی یقیں سے تابدار
جن کی نوائے نیم شب شور نُشُور بن گئی
جن کی نشیدِ صبح گاہ روح میں بھرگئی شرار
جن کی صداء الجہاد سن کے لرز اٹھا فرنگ
جن کی اذان سے چیخ اٹھے کفر ونفاق کے دیار
نورِ خدا سے مستنیر جن کی نگاہِ خود نگر
فیض نبیؐ سے جن کا قلب عظمتِ دیں کا رازدار
عالم جذب و شوق میں، عرصہ دارو گیر میں
جن کی خرد بھی آشکار جن کا جنوں بھی آشکار
گوہرِشاہوار ہے مرد شہید کی یہ بات
موت ہے انتہائِ زیست اس سے نہیں رہ فرار
قید میں ہو وصال دوست یا صف کارزار میں
ایسے نصیب پر فدا روح ورواں ہزار بار
سید قطب اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کے بعد جب استعمار کو یقین آگیا کہ فلسطین اور یروشلم کے تحفظ کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانے والی روحانی قوت ختم ہو چکی ہے جس نے ۱۹۴۸ئ؁ کی فلسطین جنگ میں سر دھڑ کی بازی لگائی تھی اور جو کچھ ۱۹۴۸ئ؁ میں بچا تھا انہیں جانبازوں کی سرفروشانہ قربانیوں کا نتیجہ تھا تو استعمار نے ایک طرف مصر کو تہدید کردی کہ وہ جنگ میں پہل ہرگز نہیں کرے گا۔ دوسری طرف اسرائیل کو شہہ دی کہ بازی جیتنے کا وقت آگیا ہے۔ ۱۹۴۸ئ؁ اور ۱۹۵۶ئ؁ میں جو علاقے اخوانی محنت سے بچ گئے تھے، اس پر تسلط کا موزوں ترین وقت آ پہونچا تھا۔ ۱۹۶۷ئ؁ کا المیہ اس شہہ کا نتیجہ تھا۔ دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ اخوان کو ختم کرنے والے خودتو ختم ہوگئے لیکن قوم و ملک کو اسرائیل کے ہاتھوں زیر کراکے تاریخ کے فقید المثال المیوں میں ایک المیہ چھوڑ گئے۔ دیسی حکمرانوں یا سیاست دانوں کی نگاہیں اس دور رس المیہ کی طرف نہیں پہونچ سکیں۔ وہ محض استعماری آقاؤں کے اشاروں پر ناچتے رہے۔ جب روزِ بد آپہونچا تو ان میں اس کی صلاحیت باقی نہ رہی کہ آقاؤں کے ساتھ آنکھیں ملا سکیں۔کیونکہ اخوان کو مٹانے کے لئے انہوں نے صحافت، ریڈیو، ٹی وی، رسائل و مجلات ان کے ایڈیٹربلکہ جامعہ ازہر اور اس کے مجلات تک کو استعمال کیا۔ جس کی صرف ایک مثال یہاں کافی ہوگی۔ وہ احمد حسن الزیات کی مثال ہے۔
ہفت روزہ عربی مجلہ ’’الرسالۃ‘‘ کے مدیر اعلیٰ احمد حسن الزیات کے فکری تضاد کی طرف اشارہ ضروری ہے تاکہ یہ اندازہ ہوسکے کہ آستانۂ اقتدار پر جھک کر انسان کس طرح اپنی شخصیت کو کھو دیتا ہے۔ ۱۹۵۲ئ؁ میں الزیات مصری عوام کو بشار ت دیتے رہے کہ اخوان کی میمون و مبارک تحریک پر خوشی کے شادیانے بجانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو موصوف اسلامی امیدوں کا قبلہ اور مصر کو امت عربیہ کی امنگوں کا قبلہ قرار دیتے رہے۔ الرسالہ کے شمارہ ۹۶۶ مؤرخہ ۷؍جنوری ۱۹۵۲ئ؁ کے اداریہ زیر عنوان الرسالہ اور الدعوۃ میں یہ اعلان بھی کر دیا کہ ان کے پرچہ کی سعادت و خوش نصیبی تھی کہ اس کی بیسویں سال گرہ کے موقعہ پر نشاۃ اسلامیہ کی تحریکیں ہر چہار طرف نظر آرہی تھیں۔ ان کا رسالہ خود انہیں تحریکات کا ترجمان تھا۔ الرسالہ کی سعادت اس سے زیادہ کیا ہوسکتی تھی کہ اسے اخوان المسلمون جیسی خالص اسلامی جماعت کے ظہور و عروج دور دیکھنا نصیب ہوا۔ صدہا سالوں سے اسلام کی جو روح مر گئی تھی، اخوان کے ہاتھوں زندہ ہوئی۔ اخوان انسان کو خدا کی طرف بلا رہے تھے اور مصریوں کو روح اسلامی کے احیاء کی دعوت دے رہے تھے۔ وہی اسلام جس نے کبھی بدوی زندگی کی کایا پلٹی تھی۔ مسخ شدہ معاشرہ میں اخوان کے ہاتھوں اسلام کا احیاء نوشتۂ تقدیر تھا۔ وہ بازاروں تک میں مساجد کی طاہر روح پھونکنا چاہتے تھے۔ جسم وروح جدا نہیں ہو سکتے۔دنیا سے دین کو جدا کرنا کفر ہے۔ اہل اخوان اخلاص کی مجسم تصویر تھے۔ ظہور اخوان دراصل روح محمدﷺ کا اعجاز تھا۔ یہ تحریک استعماری قوت کے لئے برقِ تپاں تھی۔
اخوان کی برق رفتارمقبولیت سے خود غرض لوگ گھبرا اٹھے۔ سیاسی رہنما اور حکمراں لرزنے لگے اور اسے دہشت پسند قرار دینا شروع کیاکیونکہ یہ ایک اسلامی حکومت اور اسلامی نظام حیات کی دعوت دے رہے تھے۔ ان شکوک و شبہات کا ازالہ کرتے ہوئے احمد حسن الزیات نے پھر اپنے پرچہ الرسالہ کے شمارہ ۹۷۸ مؤرخہ ۳۱؍مارچ ۱۹۵۲ئ؁ کے اداریہ میں لا تخافوا الاخوان لانہم یخافون اللہ (اخوان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں وہ تو خدا ترس لوگ ہیں) کے زیر عنوان لکھا کہ چونکہ اخوان کادستور قرآن ہے، ان کی حکومت شریعت اور نظامِ محبت پر مبنی ہے اور ان کی غایت انسانیت کاملہ کا حصول ہے لہذا ان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ اس دینی نظام میں ہر مذہب اور ہر فرقہ کے لوگ خوشی کی زندگی گذار سکیں گے۔ ان کی زبانوں پر ہمہ دم کلمہ الہی ہو تا ہے۔ سارے مصر کی اساس اخوانی نصب العین پر ہونے چاہیے۔ یعنی ایمان باللہ اور عمل صالح پر۔
۱۹۵۲ئ؁ سے ۱۹۶۳ئ؁ تک ایک عشرہ میں دنیا بدل گئی۔ ارباب اقتدار کے آستانہ پر شعوری زندگی ایسی بے بس ہوئی کہ کیا عالِم، کیا ادیب اور کیا شاعر! سب غیر مشروط طور پر اس آستانہ پر جھک پڑے۔ احمد حسن الزیات ازہر شریف کے مجلہ کے مدیر اعلی مقرر کردیے گئے۔
۱۹۵۲ئ؁ میں جماعت اخوان خداترس تھی، حزب اللہ تھی؛ ۱۹۶۳ئ؁ میں ایسی معتوب ہوئی کہ نہ صرف ظہورِ ناصری کو ظہورِ مہدی قرار دیا گیا بلکہ اخوان ملک کے لئے سب سے بڑا خطرہ بن گئے۔ ۱۹۶۶ئ؁ سے احمد حسن الزیات کے بھر پور حملے اخوان کے خلاف شروع ہوئے۔ حزب اللہ کو اب حزب الشیاطین اور استعماریوں کا ایجنٹ قرار دے دیا گیا۔ جس کا مذہب احیاء دین الہی نہیں بلکہ اکتساب ڈالر تھا۔ اخوان خوارج قرار دیے گئے۔ مجلہ الازہرمیں (خدایا! رحم کر اب دین مظلوم کیا بنے گا) کے زیر عنوان لکھا کہ تاریخ اسلام میں ویسے بہت سی ظالم جماعتیں ابھریںجنہوں نے اسلام کی معنی کو مسخ کیا۔ آیات قرآنی کی تجارت کی۔ دہشت پھیلائی۔ صلحاء کو قتل کیا۔ مثلاً خوارج۔ مصر میں ظہور اخوان اسی انتشار کی علامت ہے جو گذشتہ بارہ سالوں سے جاری ہے۔اخوان نے قرآن و سنت کی تعلیم ہی بدل ڈالی۔ بغاوت کو عدل کہنے لگے۔ عرب قوم کی لاج انہیں نہیں۔ وہ تو استعمار کے ایجنٹ بن گئے۔ آج ملک میں جو کچھ اخوان کررہے ہیں وہی خوارج کر رہے تھے۔ اسلام سے ان کا دور دور کا واسطہ نہیں۔ یہ امریکی ڈالر کی پوجا کرتے ہیں۔ دین خطرہ میں کا نعرہ لگاکراخوان اپنے متزلزل مقام کو بچانا چاہتے ہیں۔ یہ رجعت پسند ہیں، ہمیں قصور اور محلات سے نکال کر جھونپڑیوں میں لانا چاہتے ہیں۔ یہ مساوات اور اشتراکیت کے خلاف ہیں۔ ان کے خیال میں اشتراکیت کفر ہے۔ یہ عداوت کو واپس لانا چاہتے ہیں۔ یہ مسلمانوں کو دولت دین سے محروم کرنا چاہتے ہیںوغیرہ وغیرہ۔
احمد حسن الزیات نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ امام اکبر الشیخ حسن مامون سے اخوان کے خلاف فتوۂ کفر بھی صادر کروایا۔ مجلہ ازہر مؤرخہ ۵؍ستمبر ۱۹۶۵ئ؁ کے اداریہ میں یہ تحریر شائع ہوئی جس میں امام اکبر نے عوام کو ازہر شریف کی ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کی ہے۔ کیونکہ اسلام اور ازہر شریف یک جان دو قالب ہیں۔ اخوان سے ڈراتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ لوگ کفر کا ڈرامہ ایمان کے اسٹیج پر کھیلنا چاہتے ہیں۔ ان کی شکست و ریخت سے عوام بے زار تھے۔ آخر اللہ کی رحمت مصر پر نازل ہوئی (یعنی ظہور ناصر) کہ اس نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر جرائم کرنے والوں کا پردہ چاک کیا۔ اللہ نے اہل مصر کو غداروں سے باخبر کر دیا۔ ازہر اسلامی تعلیمات کو مسخ کرنے والوں کے خلاف خاموش نہیں رہ سکتا۔ اسلام میں جماعتی تنظیم کی بدعت، سرکشی اور بغاوت کی دعوت ہے۔ بُرا ہو ان افترا پردازوں اور دشمنان دین کا۔ اخوان اسلام میں دہشت پھیلا رہے ہیں۔ مفتی اعظم مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے مزید لکھتے ہیں کہ استعماری قوتیں اب مصر کی سرزمین پر نہیں ٹھہر سکتیں۔ اس لئے انہوں نے ملک کے اندر ہی ایسی جماعت (اخوان) پیدا کردی ہے جو تمہاری ترقی اور نشاۃ کو فنا کردے۔ اخوان باطل کا جال ہے۔ ازہر شریف کے کالجوں اور اداروں کو خدا سلامت رکھے یہ سب حسب منشاء الہی تبلیغ دین میں مصروف ہیں۔ چہ خوب ؎
یہ ہے عالموں کا ہمارے طریقہ
یہ ہے ہادیوں کا ہمارے سلیقہ
کیا وحدت محمدی اور دین محمدی کو فروتر ثابت کرنا اور وحدت ناصری کو برتر ثابت کرنا منشاء الہی تھا؟

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *