اللہ کی مار ہو، نریندر مودی پر!

پچھلے دنوں لندن سے یہ خبر آئی کہ وہاں کی ہندنژاد ایک مسلم تنظیم نے اپنے ایک اہم ممبر لورڈ آدم پٹیل کے خلاف وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا۔ کیونکہ ہندوستان آمد پر موصوف نہ صرف مودی سے ملے بلکہ انہوں نے لگے ہاتھوں مسلمانانِ گجرات کو بھی یہ مشورہ دے ڈالا کہ دس سال قبل جو کچھ ہوا اسے بھول جانا چاہیے اور انہیں یہ دیکھنا چاہیے کہ پچھلے دس سال میں کوئی فساد نہیں ہوا اور انہیں مستقبل کی طرف گامزن ہونا چاہیے۔
لورڈ آدم پٹیل نے گجرات آکر یہ بیان کیوں دیا اس کی وجہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں۔ یہ وہی پروپیگنڈہ ہے جو مودی حکومت اور دیگربھاجپائی موقعہ بموقعہ کرتے رہتے ہیںکہ مسلمانوں کو فسادات سے نجا ت مل گئی ہے، وہ بہت امن وسکون سے ہیں؛ ان کا سب کچھ محفوظ ہے اور وہ ترقی کررہے ہیں۔ اس سے پہلے علامہ طاہر القادری مودی کا یہ پروپیگنڈہ اس کے مہمان بن کر دہرا چکے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایک مدت گذر جانے کے بعد اس طرح کا مشورہ دے رہے ہیں۔
جبکہ کچھ لوگوں نے تو گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کے فوری بعد ہی مسلمانوں کو سب کچھ بھول کر آگے بڑھنے کا مشورہ دیا تھا۔ ان میں ایک بڑا نام ظفر سریش والا ( پارسولی اینڈ کمپنی)کا ہے۔ قتل عام کے کچھ عرصہ بعد ہی جب مودی لندن گئے تو مسلمانوں نے غیرت مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے اعزاز میں دئے گئے عشائیہ کا بائیکاٹ کیا۔ مگر سریش والا نے یہ کہتے ہوئے اس میں شرکت کی کہ جو کچھ ہوا اسے بھول جانا چاہیے اور گجرات میں ہمارا بہت پھیلا ہوا بزنس ہے۔
کمال کی بات تو یہ ہے کہ ان ’رہنماؤں‘ میں سے کسی نے یہ بتانے کی زحمت نہیں کی کہ آیا مودی نے ان سے ملاقات کے دوران مسلمانوں کے قتل عام پر کسی طرح کا اظہار ندامت و شرمندگی اور معافی کی خواہش کا اظہار کیا یا نہیں۔ بلکہ پوری ڈھٹائی سے اس نسل کشی Ethnic Cleansingکوایک گذری ہوئی بات بتاکر بھولنے پر اصرار کیا جارہا ہے۔ جبکہ جس لندن و کناڈا کے یہ کاسہ لیس ہیں وہاں یہودیوں کے مزعومہ ہولوکاسٹ کا انکار تو درکنار اس پر علمی سوالات ہی قابلِ تعزیر جرم ہے۔
ابھی حال ہی میں ’’مرحوم‘‘ سید شہاب الدین بھی ایک تجویز لے کر آگئے کہ اگر مودی معافی مانگ لیں تو ان کو مسلمان حمایت دینے کی سوچ سکتے ہیں۔ گویا مودی واقعی کوئی بہت ہی قابل اور ملک و قوم کی ترقی کے لئے ناگزیر ہیں۔ بس معافی مانگ کر خونِ ناحق کا دھبہ صاف کرلیں تاکہ مقبول عام ہو کر پردھان منتری بن جائیں۔
ماشاء اللہ یہ سبھی حضرات جہاں دیدہ اور کلمہ گو مسلمان ہیں۔ اگر وہ قرآن مجید کی طرف رجوع کرتے تو پاتے کہ:
فان تابوا و اقاموا الصلاۃ و آتوا الزکاۃ فخلوا سبیلھم(التوبہ: ۵ )
پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز کو قائم کریں اور زکوٰۃ دینے لگیں تو ان کا راستہ چھوڑ دو۔
یہاں ان کی راہ چھوڑنے کی دو شرائط بتلائی گئیں ہیں کہ وہ اپنے کرتوتوں سے تائب ہوں اور عملی مسلمان بن کر دکھائیں۔ یہ تو عام مشرکین کے لئے ہے ۔ جبکہ مودی جی تو شاید اس قبیل سے ہیں جن کے بارے میں اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا تھا کہ وہ غلافِ کعبہ میں بھی لپٹے ہوئے ملیں تو ان کووہیں قتل کردو۔
اسی طرح بعض اوقات توبہ مانگنے پر توبہ تو واقع ہو جاتی ہے مگر ثقاہت واقع نہیں ہوتی۔ مثلاً پاک دامن عورتوں پر جھوٹا الزام لگانے والوں کو اسی (80) کوڑے مارنے کی سزا تجویز کرتے ہوئے فرمایا:
ولا تقبلوا لھم شھادۃ ابدا(النور: ۴)
اور ان کی گواہی کبھی قبول مت کرنا۔
اسی طرح ایک بار توبہ قبول ہونے کے بعد دوبارہ اس کا ارتکاب پچھلی توبہ کو بھی زائل کر دیتا ہے۔
ثم عموا و صموا ثم تاب اللہ علیھم ثم عموا و صموا کثیر منھم (المائدۃ:۷۱)
پھر وہ اندھے بہرے ہوگئے، پھر اللہ نے انہیں معاف کردیا، پھر وہ اندھے بہرے بن گئے۔۔۔۔
بعض اوقات جرم کی شناعت کے باعث توبہ کے بعد بھی بغیر سزا کے مفر نہیں۔
چنانچہ بچھڑے کی عبادت کے بعد استغفار کے بعد بھی معافی اس وقت تک نہیں ملی جب تک اپنوں کے ذریعہ ہی اپنوں کا خون نہیں بہا لیا گیا۔ (البقرہ: ۵۴ )
مودی راج کا یہ پروپیگنڈہ خوب کام کرتا دکھائی دے رہا ہے کہ اب کوئی کرفیو نہیں لگتا۔ لیکن کیا لوگوں کو نظر نہیں آرہا کہ ہزاروں لوگ اب بھی اپنے گھروں سے دور کیمپوں میں مہاجرت و خانہ بدوشی کی زندگی گذار رہے ہیں۔ اب بھی آئے دن مسلمانوں کی اپنے گھروںاور زمینوں سے بے دخلی جاری ہے۔ انہیں اچھوتوں سے بھی بد تر درجے (ملیچھ) پر پہونچا دیا گیا ہے۔ کلیدی مناصب تو خواب میںبھی نہیں رہ گئے، سرکاری نوکری میں بھی بہت تیزی کے ساتھ تناسب کم ہوتا چلا جارہا ہے۔
نہ صرف گجرات بلکہ مودی جی نے دور دراز آندھرا اور پڑوسی مہاراشٹر و مدھیہ پردیش کے مسلمانوں پر بھی اپنی زور آزمائی کی ہے۔ کیا لوگ بھول گئے کہ اپنے ساتھی ہرین پانڈیا کے بہیمانہ قتل کی پردہ پوشی کے لئے حیدرآباد کے درجنوں نوجوانوں کو جھوٹے الزام میں پولیس ٹارچر کے بعد برسوں تک جیلوں میں سڑنے کے لئے چھوڑ دیا۔ بیمار و ضعیف مولانا نصیر الدین کو وائی ایس آر حکومت کے ساتھ خفیہ ساز باز کے ذریعہ حیدرآباد سے دھوکہ سے گرفتار کیا گیا۔ اور ان کی ظالمانہ گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے والے دوسرے بزرگ عالم مولانا عبد العلیم صاحب کے بڑھاپے کی لاٹھی شہید مجاہد سلیم کا خون ناحق بھی مودی کی پولیس نے کیا۔آندھرا پولیس نے دباؤ میں نامزد FIR تو درج کر لی مگر آج تک ملعون پولیس والے کو ، جو اب گجرات جیل میں ہے ، اس کوتادمِ تحریر حاضر عدالت نہیں کر سکی۔کیا انہیں ذکیہ جعفری کی دربدری، بلقیس بانو کی چیخیں، قطب الدین کی آہ و فغاں ، کچھ بھی یاد نہیں۔ کیا یہ لوگ صرف اپنے ہی زخموں کی ٹیسیں محسوس کر سکتے ہیں۔ کیا ملت کے جسد واحد کاتصور ختم ہو گیا ہے یا پھر یہ لوگ ملت سے وابستگی کا جوا اپنے سر سے اتار پھینک چکے ہیں۔
اب جبکہ ٹھوس زمینی حقائق کا سامنا ہوا اور مسلم دشمنی کی اڑائی ہوئی گرد بیٹھنے لگی اور خود اپنے ہم مذہبوں سے خطرہ محسوس ہوا تو سدبھاؤنا کی کوششیں شروع ہوئیںتاکہ مسلم ووٹ بٹورا جاسکے۔ لیکن ’سدبھاؤنا‘ میں بھی ’اصل بھاؤنا‘ چھلک پڑی۔ اپنے ایک شبھ چنتک ’پیرجی‘کے ہاتھوں اسلامی ٹوپی پہننے سے صریحاً انکار کردیا۔
قد بدت البغضاء من افواھھم و ما تخفی صدورھم اکبر (آل عمران: ۱۱۸ )
نفرت ان کے مونھ سے ٹپکی پڑ رہی ہے، اور جو کچھ ان کے سینوں میں (نفرت و حسد) موجزن ہے وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔
لوگوں کی کم ژرفی اور تنگ نظری کی اس سے بڑھ کر کیا علامت ہوسکتی ہے کہ چند مسلمانوں کو اچھی حالت میں دیکھ کر یا ان کی اپنی تگ ودو اور اللہ کی عنایت سے ان کو پھلتا پھولتا دیکھ کر وہ اس کا کریڈٹ نریندر مودی کو دینے لگ جائیں۔ حالانکہ مودی حکومت کے ذریعہ مسلمانوں کی خوش حالی کا یہ دعوی باطل اور دو وجوہات سے صریحاً قابلِ تردیدہے۔
حکومت قیدیوں کو کھانا کپڑا فراہم کرتی ہے اور مناسب رہائش کا انتظام کرتی ہے۔ مگر اس کی بنیاد پر نہ حکومت کسی بے قصور کو جیل میں ڈال سکتی ہے کہ ہم وہاں اسے کھانا کپڑا دیتے رہیں گے اور نہ کوئی نقاد یہ الزام لگا سکتا ہے کہ حکومت جیل میں مجرموں کی پرورش کررہی ہے۔ اسی طرح ہر حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے جان ومال کی نگراںو محافظ ہو اور ان کی فلاح کی کوششیں کرے۔ ان فرائض میں سے کسی ایک کی کمی بھی اسے نااہل قرار دے گی۔ مثلاً صرف جان کی حفاظت ہو اور مال لُٹ جائے یا ااس کے بر عکس تو وہ حکومت ناقص ہوگی۔ اور اگر تمام ذمہ داریاں ادا ہو تو اس پر شہریوں کی مونھ بھرائی کا الزام نہیں لگے گا۔اب اگر مودی حکومت نے مسلمانوں کا کچھ بھلا کیا بھی ہے تو وہ اس کی ذمہ داری تھی جس کے لئے مسلمان ٹیکس بھی بھرتا ہے اور ووٹ بھی دیتا ہے۔ اور دنیا کی کوئی حکومت بھی گجرات کے ۵ لاکھ مسلمانوں کو دفن کرنے کی جرأت نہیں کرے گی۔ بات صرف یہ ہے کہ ان کے حقوق باعزت طریقہ سے ادا ہوں۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ گجراتی مسلمان قدیم سے ہی کامیاب تاجر اور خوش حال اور فارغ البال رہا ہے۔ مغلیہ دور کے بعد بھی انگریزوں کے زمانے میں بمبئی کا پورا کاروبار ، مقامی و بین الاقوامی، سارا کا سارا مسلمانوں کے ہاتھ میں تھا۔ تحریک ترک موالات Non co-operation movementکے موقعہ پر جب گاندھی اور مولانا محمد علی جوہرؒ نے انگریزوںسے تمام روابط توڑ دینے کا اعلان کیا تو مسلمان تاجروں نے سارے کاروباری تعلقات انگریزوں سے توڑ لئے۔ یہی وہ وقت تھا جب مارواڑی ،مراٹھی اور گجراتی تاجر انگریزوں کے ساتھ مل کر اس کاروبار پر چھا گئے۔ اس کے باوجود مسلمان تاجروں نے اپنی محنت اور ایمانداری کے ذریعہ معیشت پر اپنی گرفت برقرار رکھی۔ اسی لئے گجرات میں بار بار منصوبہ بند فسادات اور کرفیو کا سلسلہ دراز رہا تاکہ مسلمانوں کی کمر توڑی جا سکے۔ اور مودی کی قیادت میںمسلمانوں کی جان کے عظیم ترین اتلاف کے ساتھ ان کے اموال پر بھی زبردست تباہی نازل ہوئی۔ مگر ہر بار گر کر اٹھنے والے مسلمان نے اللہ کی مدد اور اپنے دست و بازو سے پھر اٹھ کر دکھا دیا تو اب یہ کور چشم پوری بے شرمی سے اس کا کریڈٹ مودی کو دینا چاہتے ہیں۔
گجرات کا مسلمان خوف زدہ اور دہشت زدہ تو ہے مگر بے غیرت نہیں۔ جبھی تو مودی جی کو اپنے حالیہ سیاسی کھیل میں عرفان پٹھان جیسے شخص ہی کا ساتھ مل سکا جو اپنے کردار کے لحاظ سے اس قرآنی وعید کا مستحق ہے جو مشرکوں سے رشتۂ ازدواج میں بندھنا چاہتے ہیں:
ولا تنکحوا المشرکات حتی یؤمن۔۔۔اولئک یدعون الی النار (النسائ:۲۲۱ )
اورمشرک عورتوں سے نکاح مت کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں۔۔۔وہ تمہیں آگ کی طرف گھسیٹ رہے ہیں اور اللہ تمہیں جنت اور اپنی مغفرت کی طرف بلا رہا ہے۔
عرفان پٹھان جیسے لوگ نادانی میں اپنے دین و ایمان کا سستا سودا کر رہے ہیں ۔ لیکن وہ تو ایک کھلنڈرا، دنیادار، نا تجربہ کار اور دین سے ناواقف شخص ہے۔ مگر لورڈ آدم، ظفر سریش والا،

طاہر القادری یا سید شہاب الدین جیسے لوگوں کو کیا ہو گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زر پرستی اور دنیا پرستی نے انہیں بھی ایک دنیا دار چھوکرے کی سطح پر لا کھڑا کیا ہے۔
ایک صاحب میرا موقف سن کر فرمانے لگے کہ ہو سکتا ہے اللہ تعالی مودی کو ہدایت دے دے۔ میں نے کہا ، برخوردار! اللہ تعالی کی بھی کچھ سنتیں ہیں جس میں سے ایک یہ ہے کہ: واللہ لا یھدی القوم الظالمین۔ اللہ تعالی ظالموں کو ہدایت نہیں دیتے۔ اللہ تعالی کی بھی کچھ غیرتیں ہیں اور اسی کامظہر یہ آیت ہے: ان الذین فتنوا المؤمنین والمؤمنات ثم لم یتوبوافلھم عذاب جہنم ولھم عذاب الحریق (البروج) یقینا جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو مبتلائے مصیبت و عذاب کیا پھر اس سے توبہ نہیں کی ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لئے تپتی ہوئی آگ کا عذاب ہے۔
البتہ اگر مودی جی اپنے رب پر ایمان لے آئیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں تو ہمارے سینے ان کے سینے سے ملنے میںذرا تامل نہ کریں گے۔ان شاء اللہ ۔ مگر یہ دور کی کوڑی ہے۔
مودی ظالم ہے۔ اللہ کا دشمن ہے۔ اس کے رسول کا دشمن ہے اور مسلمانوں کا دشمن ہے۔ اور جو لوگ مودی کے دوست ہیں ان کا اللہ، اس کے رسولؐ، اسلام اور مسلمانوں سے کوئی واسطہ نہیں۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *