اور اللہ کا دشمن مارا گیا……!

کعب بن اشرف یہودی قوم کا وہ شخص تھا جسے اسلام اور اہل اسلام سے نہایت سخت عداوت اور جلن تھی۔یہ نبی کریمﷺکو اذیتیں پہنچایا کرتا اور آپؐ کے خلاف جنگ کی کھلم کھلا دعوت دیتا پھر تا تھا۔ کعب بن اشرف بڑا مالدار اور سرمایہ دار تھا ۔با اثربار سوخ ایک معروف شاعر تھا ۔عرب میں اس کے حسن وجمال کا شہرہ تھا ۔اس کا قلعہ مدینے میں بنو نظیر کی آبادی کے پیچھے تھا۔
جنگ بدر میں مسلمانوں کو فتح اور سرداران قریش کے قتل سے وہ جل بھن گیا تھا ۔اللہ کا یہ دشمن رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کی ہجو اور دشمنان اسلام کی مدح سرائی پر اتر آیا اور انہیں مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے لگا ۔اسے سرداران قریش کے قتل کا اتنا غم ہوا کہ وہ مکہ پہنچا اور مطلب بن ابی وراعہ سہمی کا مہمان ہوا ۔اس نے وہاں مشرکین کی غیرت بھڑکانے ،ان کی آتش انتقام تیز کرنے اور نبی کریم ﷺکے خلاف آمادہ ٔ جنگ کرنے کے لیے اشعار کہہ کہہ کر ان سرداران قریش کا نوحہ و ماتم شروع کر دیا ،جنہیں میدان بدر میں قتل کئے جانے کے بعد کنویں میں پھینک دیا گیا تھا۔
کعب بن اشرف مکہ میں مشرکین کو بھڑکا کر جب مدینہ آیا تو صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی عورتوں کے بارے میں واہیات اشعار کہنے شروع کئے اور زبان درازی و بد گوئی کے ذریعے سخت اذیت پہنچائی یہی حالات تھے جن سے تنگ آکر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کون ہے جو کعب بن اشرف سے نمٹے؟جواب میں محمد بن مسلمہ ؓ ،عبادہ بن بشرؓ ،ابو نائلہؓ ،حارث بن اوسؓ اور ابو عبس بن جبرؓ نے اپنی خدمات پیش کیں۔اس مختصر سی کمپنی کے کمانڈر محمد بن مسلمہ تھے ۔کعب بن اشرف بہت ہی با اثر آدمی تھا ظاہر ہے اس کوقتل کرنا اتنا آسان نہیں تھا حالات ایسے تھے کہ یہودیوں کی طرف سے عہد و پیمان توڑے جا رہے تھے ان کی مجلسوں میں اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے کی سازشیں رچی جا رہی تھیں ۔کعب بن اشرف کو مارنے کے لیے بڑی حکمت کی ضرورت تھی۔چنانچہ محمد بن مسلمہ ؓنے اللہ کے رسول ﷺ سے کہا آپ ﷺ مجھے جھوٹ کہنے کی اجازت دیجیے ۔آپﷺ نے فرمایا کہہ سکتے ہو ۔محمد بن مسلمہؓ نے ایک ترکیب سوچی اور کعب بن اشرف کے پاس گئے اور اس طرح کہا :اے کعب! اس شخص نے یعنی نبی کریم ﷺ نے ہم سے صدقہ طلب کیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس نے ہمیں مشقت میں ڈال رکھا ہے ۔کعب بن اشرف تو اللہ اور اس کے رسول کا دشمن تھا ہی فوراً بولا:واللہ تم لوگ اور بھی اکتا جاؤ گے ۔محمد بن مسلمہ نے کہا:اب جبکہ ہم اس کے پیرو کار بن چکے ہیں تو مناسب نہیں معلوم ہوتا کہ اس کا ساتھ چھوڑ دیں جب تک نہ دیکھ لیں اس کا انجام کیا ہوتا ہے ۔
اس گفتگو کے بعد محمد بن مسلمہ نے کعب بن اشرف سے قربت بڑھانے کے لئے یہ ترکیب کی کہ اس سے غلہ اپنے ہتھیار رہن رکھ کر لے لیا۔تاکہ تجارت کے ذریعے اعتماد بڑھ جائے۔
دوسرے صحابیؓ نے بھی اسی طرح اقدام کیا وہ بھی کعب بن اشرف کے پاس گئے کچھ دیر ادھر اُدھرکے اشعار سنتے سناتے رہے پھر بولے بھئی ابن اشرف میں ایک ضرورت سے آیا ہوں لیکن اسے آپ ذرا صیغۂ راز میں رکھو گے ۔کعب نے کہا ٹھیک ہے میں ایسا ہی کروں گا ابو نائلہ نے کہا:(واضح ہو کہ ابو نائلہ کا نام سلکان بن سلامہ تھا اور جو کعب بن اشرف کے رضائی بھائی تھے)اس شخص یعنی رسولﷺ کی آمد تو ہمارے لئے آزمائش بن گئی سارا عرب ہمارا دشمن ہو گیا ہے سب نے ہمیں ایک کمان سے مارا ہے ہماری راہیں بند ہو گئی ہیں ۔اہل و عیال برباد ہو رہے ہیں ۔جانوں پر بن آئی ہے ہم ہمارے بال بچے مشقتوں سے چور چور ہیں ۔اس کے بعد انہوں نے کچھ اسی ڈھنگ کی گفتگو کی جیسی محمد بن مسلمہ نے کی تھی دوران گفتگو ابو نائلہ نے بھی یہ کہا کہ میرے کچھ رفقاء ہیں جن کے خیالات بھی بالکل میرے ہی جیسے ہیں انہیں بھی آپ کے پاس لانا چا ہتا ہوں آپ ان کے ہاتھ بھی کچھ بیچیں اور ان پر احسان کریں ۔
محمد بن مسلمہ اور ابونائلہ اپنی اپنی گفتگو کے ذریعے اپنے مقصد میں کا میاب رہے کیوں کہ اس گفتگو کے بعد ہتھیار اور رفقاء ان دونوں کی آمد پر کعب بن اشرف چونک نہیں سکتا تھا۔
اس ابتدائی مرحلے کو مکمل کر لینے کے بعد ۱۴؍ربیع الاول ۳ھ؁ کی چاند نی رات کو یہ مختصر دستہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جمع ہوا آپؐ نے بقیع غرقد تک ان کی مشایعت فرمائی پھر فرمایا جاؤ بسم اللہ……اے اللہ ان کی مدد فرما۔پھر آپؐ اپنے گھر پلٹ کر آئے اور نماز اور مناجات میں مشغول ہوگئے۔
ادھر یہ دستہ کعب بن اشرف کے قلعے میں پہنچا تو ابو نائلہ نے قدرے زور سے آواز دی،آواز سن کر وہ ان کے پاس آنے کے لئے اٹھا تو اس کی بیوی نے جو ابھی نئی نویلی دلہن تھی کہا اس وقت کہاں جا رہے ہو؟ میں ایسی آواز سن رہی ہوں جس سے گویا خون ٹپک رہا ہے۔
کعب نے کہا یہ تو میرا بھائی محمد بن مسلمہ اور میرا دودھ بھائی کا ساتھی ابو نائلہ ہے ۔کریم آدمی کو اگر نیزے کی مار کی طرف بلا یا جائے تو اس پکار پر بھی وہ جاتا ہے ۔اس کے بعد وہ باہر آ گیا خوشبو سے بسا ہوا تھا اور سر سے خوشبو کی لہر یں پھوٹ رہی تھیں ۔ابو نائلہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا جب وہ آ جائے تو میں اس کے بال پکڑ سونگھوں گا جب تم دیکھنا کہ میں نے اس کا سر پکڑ کر اسے قابو میں کر لیا تو اس پر پل پڑنا اور اسے مارڈالنا ۔چنانچہ جب کعب آیا تو کچھ دیر باتیں ہوتی رہیں پھر ابو نائلہ نے کہا :ابن اشرف! کیوں نہ شب عجوز تک چلیں ذرا آج کچھ دیر باتیں کی جائیں اس نے کہا تم لوگ چاہوتو چلو۔اس پر سب لوگ چل پڑے ابو نائلہ نے کہا آج جیسی عمدہ خوشبو تو میں نے کبھی دیکھی نہیں یہ سن کر کعب بن اشرف کا سینہ فخر سے تن گیا کہنے لگا میرے پاس عرب کی سب سے زیادہ خوشبو والی عورت ہے ابو نائلہ نے کہا اجازت ہو تو ذرا آپ کا سر سونگھوں ؟ وہ بولا ہاں ہاں ،ابو نائلہ نے اس کے سر میں اپنا ہاتھا ڈالا پھر خود بھی سونگھا اور ساتھیوں کو بھی سونگھا یا کچھ دیر چلے تو ابو نائلہ نے کہا: بھئی ایک بار اور ۔کعب نے کہا ہاں ہاں ،ابو نائلہ نے پھر وہی حرکت کی یہاں تک کہ وہ مطمئن ہو گیا اس کے بعد کچھ دیر اور چلے تو ابو نائلہ نے کہا بھئی ایک بار اور اس نے کہا ٹھیک ہے ۔اب کی بار ابو نائلہ نے اس کے سر میں ہاتھ ڈال کر ذرا اچھی طرح پکڑلیا تو بولے:لے لو اللہ کے اس دشمن کو اتنی دیر میں اس پر کئی تلواریں پڑی لیکن کچھ کام نہ دیں سکیں ۔یہ دیکھ کر محمد بن مسلمہ نے جھٹ اپنی کدال نکالی اور اس کے پیڑ وپر لگا کر چڑھ بیٹھے کدال آرپار ہو گئی اور اللہ کا یہ دشمن وہیں ڈھیر ہو گیا ۔حملے کے دوران اس نے اتنی زبردست چیخ لگائی تھی کہ گردو پیش میں ہلچل مچ گئی اور کوئی ایسا قلعہ باقی نہ بچا تھا جس پر آگ روشن نہ کی گئی ہو (لیکن ہوا کچھ نہیں) صحابہ کرامؓ کا دستہ کارروائی پوری کرنے کے بعد اپنی منزل کی طرف چلا جب بقیع غرقد پہنچے تو زور کا نعرہ لگایا، رسولﷺکو بھی نعرہ سنائی دیا آپ سمجھ گئے کہ ان لوگوں نے اسے مار ڈالا چنانچہ آپؐ نے بھی اللہ اکبر کہا پھر جب یہ لوگ آپؐ کی خدمت میں پہنچے تو آپ نے فرمایا ’’یہ چہرے کا میاب رہے‘‘ان لوگوں نے کہا ’’یا رسول للہﷺ آپ کا چہرہ بھی‘‘اور اس کے ساتھ ہی اس طاغوت کا سر آپؐ کے سامنے رکھ دیا ۔آپؐ نے اس کے قتل پر اللہ کی حمد وثنا کی اور حارث کے زخم پر لعاب دہن لگا دیا جس سے وہ شفایاب ہو گئے اور آئندہ کبھی تکلیف نہ ہوئی واضح ہو کہ حارث بن اوس ؓ کو بعض اپنے ساتھیوںکی تلوار کی نوک لگ گئی تھی جس سے وہ زخمی ہوگئے تھے اور ان کے جسم سے خون بہہ رہا تھا۔
ادھر یہود کو جب اپنے طاغوت کعب بن اشرف کے قتل کا علم ہوا تو ان کے ہٹ دھرم اور ضدی دلوں میں رعب کی لہریں دوڑ گئی۔ان کی سمجھ میں آگیا کہ رسول اللہ ﷺ جب یہ محسوس کر لیں گے کہ امن وامان کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں ،ہنگامے اور اضطراب بپا کرنے والوں اور عہد وپیمان کا احترام نہ کرنے والوں پر نصیحت کار گر نہیں ہو رہی ہے تو آپ طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہ کریں گے۔اس لئے انہوں نے اپنے اس طاغوت کے قتل پر چوں نہ کیا ایک دم یہ دم سادھے رہے ایفائے عہد کا مظاہرہ کیا اور ہمت ہار بیٹھے یعنی سانپ تیزی کے ساتھ اپنے بلوں میں جا گھسے۔
اس طرح ایک مدت تک کے لئے رسول اللہﷺ بیرون مدینہ پیش آنے والے متوقع خطرات کا سامنا کرنے کے لئے فارغ ہو گئے اور مسلمان بہت سے اندرونی متاعب کے بار گراں سے سبکدوش ہو گئے جن کا اندیشہ انہیں محسوس ہو رہا تھا اور جن کی بُو وقتاًفوقتاًوہ سونگھتے رہتے تھے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *