حضرت سلمان فارسی ؓ کا قبول اسلام

حضرت سلمان فارسی ؓ کے اسلام لانے کا واقعہ بہت لمبا اور طویل ہے جو خود حضرت سلمان فارسیؓ نے بیان کیا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو ایمان کی توفیق عطا فرمائی ۔امام ابو نعیم ؒ نے حلیۃ الاولیاء اور خطیب بغدادی نے تاریخ بغدادمیں جو ان کا واقعہ نقل کیا ہے، وہ کم ازکم بیس صفحات میں ہے ،بہت ہی عجیب اور سبق آموز ہے ۔
خلاصہ اس کا یہ ہے کہ یہ ایران کے ایک شہر رام ہرمز میں پیدا ہوئے ،ایران کے عام مذہب کے مطابق یہ اور ان کے والد بھی آتش پرست تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ آتش پرستی کو ئی صحیح بات نہیں معلوم ہوتی ،انہوں نے اپنے باپ سے کہا لیکن باپ کسی طرح بھی آتش پرستی چھوڑنے پر آمدہ نہ ہوا ،بالآخر تنگ آکر انہوں نے اپنے باپ کو چھوڑ ا اور شام چلے گئے اور یہ سوچ کر کہ نصرانی مذہب کم ازکم آتش پرستی سے بہتر ہے ایک نصرانی عالم کے پاس مقیم ہو گئے اور اس کی خدمت میں رہنے لگے ۔جب اس کا انتقال ہو گیا تو دوسرے عالم کے پاس چلے گئے ،دوسرے کے انتقال کے بعد تیسرے کے پاس اور تیسرے کے بعد چوتھے کے پاس چلے گئے۔ ان میں سے کسی نے ہمدردی کی ،کسی نے تکلیف پہنچائی ،ہر ایک عالم کی انہوں نے الگ الگ تفصیل بیان کی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو عمر بھی بڑی لمبی عطا فرمائی تھی ۔
بالآخر آٹھ دس آدمیوں سے منتقل ہونے کے بعد ایک نصرانی عالم کے پاس پہنچے جو ان سب سے بہتر تھا۔ حسن سلوک کے معاملے میں بھی اور دینی اعتبار سے بھی صحیح آدمی معلوم ہوتا تھا، یہاں تک کہ اس کے مرنے کا وقت آگیا تو حضرت سلمان فارسی ؓ نے ان سے کہا کہ اب آپ بھی رخصت ہونے والے ہیں تو بتائیں میں آپ کے بعد کہاں جاؤں ؟
اس نے کہا اب تمہیں کسی اور آدمی کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہے اس لئے کہ نبی آخر الزمانﷺ کی بعثت کا وقت قریب آگیا ہے اور مجھے اتنا پتہ ہے کہ وہ عرب کے ایسے علاقے میں ہوں گے جہاں نخلستان زیادہ ہیں ،میں تمہیں ان کی علامتیں بتا دیتا ہوں کہ وہ صدقہ نہیں کھائیں گے ، ہدیہ قبول کریں گے اور ان کے شانہ مبارک پر مہر نبوت ہوگی۔
یہ علامتیں تمہیں بتائی ہیں اگر وہ تمہیں مل گئے تو سمجھنا بڑی قسمت کی بات ہے ،پھر ان کے ساتھ زندگی گزارنا ۔یہ وصیت کر کے نصرانی عالم کا انتقا ل ہو گیا ۔
اب ان کا عرب جانے کا ارادہ ہوا، ایک قافلہ جا رہا تھا انہوں نے ان سے کہا کہ میں عرب جانا چاہتا ہوں ،انہوں نے شامل کر لیا ، راستے میں قافلے سے متعلق بھی بڑے قصے ہیں ۔انہوں نے غداری کر کے ان کو غلام بنا لیا اور ایک بازارمیں لے جا کر بیچ دیا ۔مدینہ منورہ پہنچ کر انہوں نے دیکھا کہ وہاں نخلستان بہت ہیں اور یہ ہے بھی عرب کا علاقہ ،اس لئے سمجھ گئے کہ یہی مطلوبہ جگہ ہے جس کی میرے استاد نے پیشین گوئی کی تھی شاید وہ یہی جگہ ہے اس لئے بڑے خوش ہوئے ،لیکن ساتھ ہی وہ یہودی بڑا اکڑ اور سخت تھا ،بڑی سخت خدمت لیتا تھا ، انہوں نے سوچا اب اسی طرح زندگی گزارنی ہے اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کوئی بندوبست کریں گے ،چنانچہ اس یہودی کی خدمت کرتے رہے ۔
آگے خود اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن اس یہودی کی خدمت کے دوران میں اس کے باغ میں تھا اس نے مجھ سے کہا کہ کھجوروں کے درخت پر چڑھ جاؤ اور کھجوریں توڑ و، میں درخت سے کھجوریں توڑ رہا تھا اور میرا آقا درخت کے نیچے بیٹھا تھا ،اتنے میں اس آقا کا کوئی چچا زاد بھائی آیا اور آکر کہنے لگا اللہ ان بنو قلبہ کے لوگوں کو ہلاک کرے ( بنو قلبہ انصار کے قبائل ہیں ) قبا میں ایک آدمی آیا جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اور سب اس کے گرد اکٹھے ہو رہے ہیں ۔
سلمان فارسیؓ فرماتے ہیں میں چونکہ پہلے سے انتظار میں تھا اس لیے میرے کان میں جب یہ آواز پڑی کہ لوگ ایک اسیے شخص کے گرد اکھٹے ہو رہے ہیں جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو یہ سنتے ہی میرے جسم پر کپکپی طاری ہو گئی اور مجھ سے رہا نہ گیا، میں درخت سے نیچے کود پڑا اور آقا سے اجازت چاہی کہ میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں ذرا کام ہے وہ چونکہ بڑا سخت تھا اس لئے کہا کہ تمہیں نہیں جانے دونگا ۔
کہتے ہیں میں نے اس کی بہت منت سماجت کی کہ مجھے تھوڑی دیر کی چھٹی دے دو لیکن اس نے کہا جب تک ساری کھجوریں نہیں اتار لو گے اس وقت تک نہیں جانے دونگا ۔چنانچہ وہ دن میں نے بڑی مشکل سے گزارا ۔کھجوریں کاٹ کر شام کو جب چھٹی کا وقت ہوا تو میں نے ان میں سے تھوڑی کھجوریں ہاتھ میں لے لیں اور قبا پہنچ گیا جہا ں کہ لوگ کہہ رہے تھے کہ حضور اقدس ﷺ وہاں ہوگے، دیکھا کہ حضور اقدسﷺ تشریف فرما ہیں اور آپ ﷺ کے آس پاس لوگ بیٹھے ہیں ۔میں جاکر خدمت میں پیش ہوا اور کہا آپ سب لوگ مسافر اور حاجت مند ہیں اس لئے میں آپ کی خدمت میں کچھ صدقہ لے کر آیا ہوں ، آنحضرت ﷺ نے فرمایا :ہم صدقہ نہیں کھاتے جو مستحق ہیں ان کو دینا ہو تو دے دو ۔اس طرح نصرانی عالم نے جو تین علامتیں بتلائی تھیں ان میں سے پہلی علامت ظاہر ہو گئی۔
پھر اٹھ کر(وا پس)آئے اور دوسری بار کچھ اور چیزے لے کر گئے اور کہا کہ یہ کچھ ہدیہ لے کر آیا ہوں، اگر آپ قبول فرمالیں ،آنحضرت ﷺ نے قبول فر مالیا ، دوسری علامت بھی ظاہر ہو گئی ۔
پھر تیسری بار حاضر ہوئے تو حضور ﷺ صحابہ کرام ؓ کے درمیان تشریف فرما تھے ،یہ سامنے بیٹھنے کے بجائے پیچھے بیٹھنے کے لئے آنے لگے ،مقصد یہ تھا کہ کسی طرح مہر نبوت کی زیارت ہو جائے۔ حضور ﷺ کو بذریعہ وحی علم ہو گیا کہ یہ اس فکر میں ہیں آنحضرت ﷺ نے اپنے شانہ مبارک سے چادر ہٹادی ، سلمان فارسی ؓ کی نظر مہر نبوت پر پڑی (بے ساختہ) اس کو بوسہ دیا اورآنسو سر کار دو عالم ﷺ کی مہر نبوت پر برس رہے تھے۔
عرصے سے اس انتظار میں تھے کہ کب نبی کریم ﷺ تشریف لائیں اور آپ ﷺ کی صحبت نصیب ہو ،جب منزل نظر آگئی تو آنسو ؤں کو روکنا ممکن نہ رہا ۔فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میں ایمان لے آیا اور آکر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں ایمان لے آیا ہوں لیکن ایک یہودی کا غلام ہوں اور زبردستی کی غلامی ہے کیونکہ غلامی کی حقیقت تو کوئی نہیں تھی۔
سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا تم اس یہودی سے مکاتبت کا معاملہ کر لو ،کچھ پیسے ادا کر کے آزاد ہو جاؤ ،چنانچہ یہ یہودی کے پاس گئے اور جا کر کہا کہ میرے ساتھ مکاتبت کر لو ،اس نے کہا ٹھیک ہے، لیکن بد ل کتابت تین سو اوقیہ چاندی ہے اور سو کھجور کے درخت لگاؤ ، جب وہ درخت جوان ہو جائیں اور ان پر پھل آجائے تو تم آزاد ہو ، انہوں نے آکر نبی کریم ﷺ سے عر ض کیا کہ اس نے ایسی بدل کتابت مقرر کر دی ہے کہ ساری عمر ادانہ کر سکوں ،کھجور کے سو درخت لگانے ہیں اور جب ان پر پھل آجائے اور کھجور کا پھل سب سے زیادہ دیر میںآتا ہے اور اوپر سے تین سو اوقیہ چاندی بھی ہے ۔
حضور اقدسﷺ نے صحابہؓ سے فرمایا سلمان کی مدد کرو ،جس کے پاس کھجور کے پودے ہوں ان کو دے دو ، لوگوں نے پودے دینے شروع کئے۔ حضور اقدسﷺ نے فرمایا سلمان ! کل اپنے باغ میں جمع ہوجانا ،میں آؤں گا ،وہاں درخت لگائیں گے۔
آنحضرت ﷺ تشریف لے گئے اور جو پودے اکٹھے کئے تھے وہ لگانے شروع کر دیئے اور حضرت سلمان فارسی ؓ سے کہا کہ تم رہنے دو، پورے سو پودے نبی کریم ﷺ نے اپنے دست مبارک سے لگا ئے اور لگانے کے بعد دعا فرمائی۔
حضرت سلمانؓ کو خیال ہوا کہ نبی کریم ﷺ نے اتنے سارے پودے لگائے ہیں ایک آدھ پودا میں بھی لگا دوں ،چنانچہ ان سو پودوں کے علاوہ ایک آدھ پودا حضرت سلمان ؓ نے بھی لگا دیا ،جو سو پودے نبی کریم ﷺنے لگائے تھے سال بھر میں وہ سو پودے پھل لے آئے اور جو حضرت سلمان ؓ نے لگائے تھے ان پر ابھی پھل کا نام و نشان تک نہیں تھا۔
نبی کریم ﷺ کے دست مبارک سے لگائے گئے درختوں کی نسل کے درخت ابھی کچھ عرصہ پہلے تک باقی تھے۔ان میں دو درخت وہ بھی باقی تھے جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ نبی کریمﷺ کے دست مبارک کے لگائے ہوئے ہیں جن کا واقعہ یہ ہے کہ ان دو درختوں کا پھل سارے مدینہ کے تمام باغات کے پھل سے مختلف تھا ۔
یہی وجہ ہے کہ ان درختوں کی کھجوریں بازار میں نہیں بکتی تھیں بلکہ کھجوروں کے مالک ان کو حفاظت سے رکھتے تھے اور خاص لوگوں کو ہدیہ میں دیا کرتے تھے۔ اہل مدینہ ان کی جتنے اہتمام سے حفاظت کرتے تھے اس سے یہ بات بہت قرین قیاس تھی کہ یہ بات صحیح ہے کہ یہ درخت انہی درختوں کی نسل سے ہیں ،یہ ’’نحلۃ النبیﷺ‘‘کہلاتے تھے،قبا سے کچھ فاصلہ پر یہ باغ تھے۔ اب سات آٹھ سال سے وہ درخت نہیں ہیں ۔
بہر حال حضورﷺ کے معجزے کے طور پر ان درختوں میں سال بھرمیں پھل آگیا تھا، یہ مرحلہ تو اس طرح طے ہو گیا۔
اس سارے عمل میں ڈیڑھ دوسال لگ گئے جس کی وجہ سے حضرت سلمان فارسیؓ غزوۂ بدر واحد میں شریک نہ ہو سکے کیونکہ آقا کی طرف سے اجازت نہیں تھی ،آزادی کے بعد پہلا غزوہ جس میں یہ شریک ہوئے غزوۂ احزاب تھا جس میں حضرت سلمان فارسی ؓ کے کہنے پر نبی کریم ﷺ نے خندق کھودی ، اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ اعزاز بھی بخشا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سلمان منا أھل البیت،سلمان ؓ ہم میں سے یعنی اہل بیت میں سے ہیں ۔
یہ نبی کریم ﷺکے وصال کے بعد بھی سالہا سال تک زندہ رہے ،حضرت فاروق اعظمؓ کے زمانہ میں ایران کی فتح میں ان کا بڑا ہاتھ رہا اور بالآخر مدائن کے گورنر بنے ،مدائن ایران کا دارالحکومت تھا۔
مدائن کے گورنر بننے کے باوجود معمولی کپڑوں میں عام لوگوں کی طرح پھرتے رہتے تھے ، یہاں تک کہ ایک مسافر آیا ،وہ سمجھا کہ یہ کوئی قلی ہے ، اس نے حضرت سلمانؓ سے کہا کہ یہ گٹھڑی اٹھاؤ گے ؟انہوں نے کہا ہاں اٹھاؤں گا ۔چنانچہ اٹھا کر سر پر رکھوالی اور کہا کہاں لے جانی ہے ؟اس نے کہا فلاں جگہ، اب وہ آگے آگے جا رہا ہے اور یہ گٹھڑی اٹھائے پیچھے پیچھے جارہے ہیں ،اچانک لوگوں نے دیکھا کہ امیر مدائن گٹھڑی اٹھائے جارہے ہیں تو اس شخص پر بہت ناراض ہوئے کہ یہ تو نے کیا حرکت کی ہے ؟ تمہیں پتا نہیں کہ یہ مدائن کے حاکم ہیں ؟
اس نے بڑی منت سماجت کی کہ خدا کے لئے اب آپ یہ گٹھڑی اتار دیجئے لیکن حضرت سلمان ؓ نے فرمایا کہ میں جس نیکی کا ارادہ کر چکا ہوں جب تک اس کو پورا نہیں کروں گا اس وقت تک نہیں اتاروں گا ،چنانچہ گٹھڑی کو اس کے گھر تک پہنچایا۔
حضرت سلمان فارسی ؓ کی وفات حضرت عثمان ؓکے عہد خلافت میں مدائن ہی میں ہوئی ،اور یہیں آپ کو دفن کیا گیا ،اور آپ کی قبر مبارک پر آج بھی یہ حدیث کندہ ہے کہ ـ:’’سلمان منا اھل البیت ‘‘ ۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *