دھولیہ پولیس اہلکاروں نے فلمی انداز میں مسلمانوں کا خون بہایا

دھولیہ کا تشدد فرقہ وارانہ فسادنہیں بلکہ یکطرفہ پولیس ایکشن تھا جس میں پولیس نے مسلمانوں کو سیدھے گولیوں کا نشانہ بنایا ،ان کا سامان توڑ پھوڑ ڈالا،گھروں میں آگ لگا دی اور پولیس پر حملہ کی جھوٹی کہانی بنا کر بے قصور مہلوکین اور زخمیوں کو ہی فسادی قرار دے دیا ۔یہ بات آج انہد کے زیر اہتمام پریس کلب میں منعقد پریس کانفرنس کے دوران مقررین نے کہی۔
دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانندن نے میڈیا کو بتایا کہ جب وہ صورت حال کاجائزہ لینے موقع پر جا رہے تھے تو مہاراشٹر کے ایک اعلیٰ پولیس افسر نے ان سے کہا کہ پولیس کو مسلمانوں کے خلاف اس لیے کارروائی کرنی پڑی کیونکہ انہوں نے پولیس پر منصوبہ بند حملہ کیا تھا ،جس میں بہت سے پولیس اہلکار زخمی ہو گئے ۔اپوروانندن نے بتایا کہ جب انہوں نے سول اسپتال کا دورہ کیا اور حالات کا جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ وہاں ۱۵۹؍پولیس اہلکاروں کو لایا گیا لیکن ڈاکٹروں نے اپنے ریمارکس میں کسی بھی پولیس اہلکار کے کوئی سنگین چوٹ کی بات نہیں لکھی ہے ۔صرف ایک پولیس اہلکار کو سنگین چوٹ درج کی گئی جس کا انگھوٹا پھٹ گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کی یہ رپورٹ خود ہی پولیس کے دعوں کو جھوٹا ثابت کر رہی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ سول اسپتال میں ایک بھی مسلمان زخمی کو داخل نہیں کیا گیا اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ گزشتہ فسادکے دوران جب مسلمان زخمیوں کو یہاں داخل کیا گیا توہندوؤں نے حملہ کر دیا تھا ۔ اپوروانندن نے انہد کی رپورٹ کے حوالہ سے کہا کہ۴۴مسلمانوں کو پولیس کی گولیاں لگی ہیں ،جن میں 6ہلاک ہوئے ہیں ،پولیس نے ان تمام لوگوں کے جسم کے اوپر ی حصہ پر ہی گولیاں ماری ہیں ،جس کی اجازت نہیں ہے ۔اتنا ہی نہیں پولیس نے گلیوں کے اندر تک جاکر عورتوں تک کو گولیاں ماریں۔انہوں نے کہا کہ جس طرح مسلمانوں کے گھر جلائے گئے ہیں انہیں دیکھ کر اندازہ ہوجاتا ہے کہ وہ سب منصوبہ بند تھا ۔انہوں نے کہا کہ یہ فسادنہیں تھا بلکہ یکطرفہ پولیس ایکشن تھا۔
اس موقع پر شبنم ہاشمی نے میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ جس طرح سے مسلمانوں کے گھروں کو برباد کیا گیا وہ منصوبہ بند تھا ۔آپ کا سوال ہے کہ آخر ایسا کون کرے گا تو آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد دھولیہ اور اطراف میں کیمپ لگا کر اپنے والینٹروں کو اسلحہ اور لاٹھیاں چلانے کی ٹرینگ دیتی ہیں ،جو وقت پڑنے پر کہیں بھی فوری طور سے اس طرح کی کارروائی کر سکتے ہیں ۔شبنم ہاشمی نے کہا کہ آج آر ایس ایس ،وشو ہندو پریشد اور حکومت و اس کی پولیس میں کوئی فرق نہیںہے۔انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت پولیس کے برتاؤ پر غور کرے کیونکہ اب یہ صرف ایک جگہ نہیں بلکہ پورے ملک میں ہو رہا ہے اور پولیس ہر جگہ اقلیتوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔
دھولیہ سے آئیں معروف سماجی کار کن نازنین نے بتایا کہ پولیس کی وجہ سے ایک معمولی سے جھگڑے نے بڑے تشدد کی شکل اختیار کر لی ۔اگر پولیس نے بر وقت کارر وائی کی ہوتی تو یہ سب ہوتا ہی نہیں ۔نازنین نے بتایا کہ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے نہ تو آنسو گیس چھوڑی اور نہ ہی لاٹھی چارج کیابلکہ سیدھے لوگوں پر نشانہ سادھ کر گولیاں چلائیں۔انہوں نے بتایا کہ پولیس نے خواتین اور نابالغ بچوں تک کو نہیں بخشا اور مرنے والوں کی لاشیں تک نہیں اٹھانے دیں۔انہوں نے یہ بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے اس موقع پر فلمی انداز میں پستولوں کا تماشا بنایا اور ایک دوسرے کی جانب پستول اچھالا کہ’’ لے میں نے تو مار گرایا اب باقی گولیاں تو چلا لے‘‘ ۔انہوںنے کہا کہ انہد کی ٹیم کے دھولیہ سے واپس آجانے کے بعد انہیں ڈپٹی ایس پی مونیکا راؤ نے بلایا اور کہا کہ تم نے شبنم ہاشمی وغیرہ کو یہا ں کیوں بلایا تھا ،کیا تمہیں یہاں نہیں رہنا ؟نازنین نے سوال کیا کہ آخر ہم بھی یہاںکے شہری ہیں ہمارے ساتھ یہ ناانصافی اور تعصب کیوں؟۔پریس کانفرنس میں موجود متاثر نوجوان آصف علی ،کنور علی نے بتایا کہ اس کے بھائی عمران علی کو پولیس نے سینے پر گولیاں مار کر قتل کر دیا ۔ اس کی اسی ماہ ۱۹؍تاریخ کو منگنی ہونے والی تھی ۔پولیس فائرنگ میں ہلاک ہوئے رئیس پٹیل کے چچا آصف پٹیل نے بتایا کہ ان کا بھتیجہ بارہویں کلاس کا طالب علم تھا اور نابالغ تھا ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس نے ان کی ایف آئی آر درج نہیں کی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل۲۰۰۸ئ؁اور ۲۰۱۰ئ؁میں بھی یہاں اسی طرح کے واقعات رونما ہو چکے ہیں ،لیکن آج تک متاثرین کو نہ تو کوئی معاوضہ ملا اور نہ ہی انصاف ۔ فائرنگ میں ہلاک 24سالہ عاصم احمد کے والد نصیر محمدنے بتایا کہ ان کے بیٹے کو سیدھے گولی ماری گئی۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *