طاہر القادری کبھی مودی کے مہمان رہ چکے ہیں

بہت کم لوگوں کو یہ معلوم ہوگا کہ طاہر القادری ہندو مذہبی کتابوں کے جید عالموں میں شمار ہوتے ہیں ۔گیتا کے ہر اشلوک پر انہیں دسترس حاصل ہے۔گزشتہ سال فروری میں وہ گجرات کے خصوصی دور ے پر آئے تھے جہاں انہوں نے گیتا کا درس دیا تھا۔انتہائی قادر الکلام اس مذہبی رہنما نے پاکستان کی سیاست کو نیا موڑ دے دیا ہے ۔کناڈا سے اچانک پاکستان آکر طاہر القادری کا وزیر آعظم راجہ پرویز اشرف کو اقتدار چھوڑنے کا الٹی میٹم دینا اسی سیاست کا کرشمہ ہے ۔ مزے کی بات ہے کہ ایک سیکولر امیج رکھنے والے قادری جب گجرات کے دور ے پر آئے تو وہ مودی حکومت کی فرقہ پرستی کو بھول گئے ۔ان کے دور اقتدار میں جس طرح مسلمانوں کا قتل عام ہوا ،ان کے گھر جلائے گئے اور شیطینت کا جو مظاہرہ ہوا اس کا زخم آج بھی ہندوستان میں مسلمانوں کے دلوں میں باقی ہے ۔لیکن مولانا جب گجرات آئے تو مودی حکومت نے انہیں سرکاری مہمان بنایا ۔مودی نے ان کی زبردست پذیرا ئی کی ،ان کے پروگرام میں مودی حکومت کے وزرا بھی شامل ہوئے ،ٹی وی پر ان کے دو گھنٹے کا پروگرام نشر کیا گیا ، جہاں انہوں نے قرآن کے احکامات کے ساتھ گیتا کے بارے میں بھی ذکر کیا ۔انہوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کو تلقین کرتے ہوئے کہا ۲۰۰۲ئ؁کے فساد کے بعد گجرات میں کوئی فساد نہیں ہوا ،مسلمانوں کو ۲۰۰۲ئ؁کے بعد کے بارے میں سوچنا چاہیے ۔ہندوستانی مسلمانوں کو گجرات کا درد بھولنے کی تلقین کرنے والے اور مودی کے مہمان خصوصی بننے والے مولانا طاہر القادری آج پاکستان میں جمہوریت کی صدا لگا رہے ہیں ،مگر کیا اس جمہوری صدا میں سیاست کی بازی گری شامل نہیں ہے ۔ایسے وقت تحریک چلانا اور حکومت سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کرنا جب حکومت کی میعاد پوری ہونے میں کچھ مہینے ہی رہ گئے ہیں کیا معنی رکھتا ہے ۔مودی کے یہ مداح پاکستا ن کے اناہزارے کی سیاست کہیں ہندوستانی اناہزارے کی طرح پھر محدودنہ ہو جائے۔ا

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *