قاضی حسین احمدؒ عمل پیہم کی تاب ناک مثال

انجینئر حافظ نوید احمد
قاضی حسین احمد ؒ کی رحلت سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورا عالم اسلام ایک مخلص اور درد مند رہنما سے محروم ہو گیا ہے۔ اللہ اُن کی دینی مساعی کو نہ صرف شرفِ قبولیت عطا فرمائے بلکہ اُن کے حق میں صدقۂ جاریہ بھی بنائے۔آمین!صدقہ ٔجاریہ اِس طرح کہ ہمیں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے انتہائی مایوس کن حالات میں بھی امید کی شمعیں روشن کرتے ہوئے دین کے لیے مسلسل اور انتھک محنت کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!
قاضی حسین احمد ؒکے محاسن بلاشبہ علامہ اقبال کے اِس شعر کا مصداق تھے کہ
یقیں محکم، عمل پیہم ،محبت فاتحِ عالم
جہادِ زندگانی میں یہ ہیں مردوں کی شمشیریں
قاضی حسین احمد ؒنے جماعت اسلامی کے سکریٹری کی ذمہ داری۱۹۷۸ء میں سنبھالی۔یہ وہ دور تھا جب پاکستان میں ایک فوجی انقلاب کے ذریعہ جنرل ضیاء الحق اقتدار پر قابض تھے۔قاضی صاحب آمریت کے سخت دشمن تھے لیکن دیگر دینی حلقوں کی طرح جماعت اسلامی کو بھی جنرل ضیاء الحق سے حسن ظن تھا کہ وہ اسلامی نظام کے نفاذ میں مخلص ہیں۔جماعت نے اِسی لیے ضیاء الحق کے ساتھ تعاون علی البر کی پالیسی اختیار کی۔قاضی صاحب اگرچہ ضیاء الحق سے کسی خیر کی توقع نہیں رکھتے تھے لیکن اْنہوں نے جماعتی نظم کی پابندی کا مثالی مظاہرہ کیا اور کسی بھی موقع پر اپنا اختلافِ رائے غیر متعلق فورم پر بیان نہ کیا۔
۱۹۷۹ء میں سویت یونین نے افغانستان پر حملہ کر دیا اوراِس برفانی ریچھ کے خلاف افغان عوام نے عظیم الشان جہاد شروع کر دیا۔قاضی صاحب نے اِس جہاد میں بڑا فعال کردار ادا کیا۔ان کے افغان جہادی رہنماؤں سے ذاتی مراسم تھے۔ وہ مسلسل ان کی مدد کرتے رہے،انہیں با ہم متحد ہونے کی تلقین کرتے رہے اور دشمنوں کی ساز شوں سے آگاہ بھی کرتے رہے۔
۱۹۸۷ء میں قاضی صاحب جماعت اسلامی کی امارت کے منصب پر فائز ہوئے۔موصوف نے ذمہ داری سنبھالتے ہی جماعت اسلامی کے کارکنوں خصوصََا نوجوانوں میںایک ولولۂ تازہ پیدا کر دیا۔کاروانِ دعوت و محبت کے ذریعہ پورے ملک میں ایک تحریکی ارتعاش پیدا کیااور جنرل ضیاء الحق کی آمریت کے خلاف خم ٹھوک کر میدان میں آگئے۔جنرل ضیاء الحق کے گیارہ سالہ دور آمریت کے بعد بد قسمتی سے پاکستان پر نام نہاد جمہوریت کے پردہ میںگیارہ سالہ دورِ بد عنوانی اور لوٹ مار کا راج ہو گیا۔اِس پورے عرصہ میں قاضی صاحب نام نہاد جمہوری حکمرانوں کی عیاشیوں کے پول کھولتے رہے اور انتخابات کے مایوس کن نتائج کے باوجود جماعت اسلامی کے کارکنوں میں جہد ِمسلسل کا جذبہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔
۱۹۸۹ء میں افغانستان میں سویت یونین کی شکست اور پھر اْس کے حصے بخرے ہونے کے بعد عالم اسلام کو ایک نئے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔امریکی دانشور ایک طرف تو’’End of History‘‘نامی کتاب لکھ کر اشتراکی نظام کی ناکامی کو امریکہ میں رائج سرمایہ دارانہ نظام کی حقانیت کاثبوت قراردے رہے تھے اور دوسری طرف ’’ Clash of Civilization‘‘نامی کتاب کے ذریعہ تہذیبوں کے درمیان جنگ کا شو شہ چھوڑ رہے تھے۔ اْن کے نزدیک مغربی تہذیب کے لیے اب حقیقی خطرہ اسلامی تہذیب ہے جس کی جڑیں پاکستان اور افغانستان میں انتہائی گہری ہیں۔اْنہوں نے اسلامی تہذیب کو اندر سے کھوکھلا کرنے کے لیے مسلمانوں کے درمیان مسلک کی بنیاد پرفرقہ وارانہ اور لسانی اختلافات کو ہوا دینی شروع کی۔ ایسے میں قاضی صاحب دشمن کی اِس سازش کا توڑ کرنے میں سر گرم ہو گئے۔اْنہوں نے مسلکی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تمام مسالک کی نمائندہ جماعتوں کو قریب لانے کی کوشش کی اور ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم پر تمام مسالک کے لوگوں کو متحد کرنے کا عظیم الشان کارنامہ سر انجام دیا۔بعد ازاں متحدہ مجلسِ عمل(MMA)کے نام سے خالص دینی جماعتوں کا ایسا اتحاد قائم کیا جس میں بریلوی،دیوبندی ،اہلحدیث اور اہل تشیع کی نمائندہ جماعتیں شامل تھیں۔۲۰۰۲ء کے انتخابات میں اِس اتحاد کو نمایاں کامیابی حاصل ہوئی۔البتہ چند افسوسناک تجربات کی وجہ سے یہ اتحاد قائم نہ رہ سکا جس کا قاضی صاحب کو شدید قلق رہا۔
۲۰۰۱ء میں امریکہ نے افغانستان پرسفاکانہ حملہ کیااور قاضی صاحب امریکی جارحیت کے خلاف سر گرم عمل ہو گئے۔افغانستان میں اللہ نے طالبان کی مدد کی اور امریکہ کو بد ترین شکست کا سامنا ہوا۔ امریکہ نے بدلہ لینے کے لیے ایک بار پھر پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات برپا کرنے کی سازش شروع کر دی۔قاضی صاحب نے ایک بار پھر تمام مسالک کی دینی جماعتوں کو ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم پر متحد کرنے میں کامیابی حاصل کی۔وہ اِس پلیٹ فارم سے مختلف کمیشنز بنا کر ملک میں مسلکی رواداری اور شریعت کے مطابق قانون سازی کے لیے ٹھوس اقدامات کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔اللہ کرے یہ کام ان کے بعد بھی صحیح خطوط پر جاری و ساری رہے۔آمین!
قاضی حسین احمدؒ صاحب انتہائی وجیہہ، با وقار اور جلالی خدوخال کے حامل تھے۔ اسلام دشمنوں کے خلاف ان کا یہ رعب و جلال اور دبدبہ پوری طرح سے ظاہر ہوتا تھا۔البتہ دینی قوتوں کے ساتھ ،خواہ وہ کسی مسلک کی ہوں، ان کے مزاج کی نرمی اور شفقت ان کے ہر ہر لفظ اور ہر ہر ادا سے جھلکتی تھی۔ان کے مخالفین بھی ان کی حق گوئی و بے باکی اور پاکیزہ کردار کا اعتراف کرتے تھے۔سوات میں ملالہ ڈرامہ کے فریب کا پردہ انہوں نے بالکل پہلے ہی دن ایسی فضامیں چاک کیا جس میںمیڈیا نے پورے ماحول کو ملالہ کی نام نہاد مظلومی سے مسحور کر رکھا تھا۔قاضی حسین احمدؒ جیسی ہر دلعزیز شخصیت قوموں کے لیے ایسا سرمایہ ہے جسے آسانی سے حاصل کرنا ناممکن ہے۔قاضی صاحب زندگی بھر جہدِ مسلسل اور عملِ پیہم کی مثال بنے رہے اور دل کے دو آپریشنوں اور دمہ کے تکلیف دہ مرض کی بھی پروا نہیں کی۔ مسلسل دین کے لیے محنت کرتے کرتے اچانک ان کی روح ۵ اور ۶ جنوری کی درمیانی رات خالقِ حقیقی کی طرف پرواز کر گئی۔اللہ ان کی قبر کو نور سے منور فرمائے اورانہیں جنت میں بلند مقامات پر سر فراز فرمائے۔اللہ ان کے لواحقین کو خدمتِ دینی کی تسلسل کے ساتھ توفیق عطا فرماکران کے لیے صدقۂ جاریہ بننے کی سعادت نصیب فرمائے۔آمین!(جسارت میگزین | January ,13, 2013)٭

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *