مسلمانوں کی حیثیت داعیانہ ہے نہ کہ۔۔۔۔؟

[بخدمت محترم ایڈیٹر صاحب
وحدت جدید نئی دہلی(سہ ماہی ر سالہ)
امید کہ بخیر ہوںگے۔ آپ کا موقد رسالہ وحدت جدید(سہ ماہی) ہمارے لیے بلکہ ہمارے یہاں تمام قارئین کے لیے ایمان کی تازگی حلاوب اور اضافے کا ذریعہ بن رہا ہے رسالہ کے اندر تمام مضامین اور خبروں کے تعلق سے جو تجربہ واقعی بے لاگ اور دو ٹوک ہے۔ اللہ اعالٰی آپ اور اس رسالہ سے منسلک سبھی افراد کو اچھی صحت دے اور مزید ایمانی فراست سے نوازے آمین۔ گزشتہ دنوں مورفہ ۱۲ ستمبر ۲۰۱۲ کو یہاں کلکتہ کے روزنامہ اخبار مشرق میں ابن حمید چایدانوی کا ایک مضمون نسلمانوں کی حیثیت داعیانہ ہے نہ کہ۔۔۔ پڑھنے کا اتفاقا ہوا۔ جس کو میں آپ کے موقد رسالہ وحدت جدید کے لیے بھیج رہاہوں۔ اگر یہ مضمون آپ کے رسالہ کے معیار اور فکر پر اترتی ہے تو جگہ عنایت فرمائیں۔ابن حمید چاپدانوی صاحب ان دنوں ادب و صحافت سے جوڑے ہوئے ہیں۔ اور ہم سب بھائیوں کو ہر طرح کی تعاون دے رہے ہیں۔ آپ کا مخلص
وکیل احمد صدیقی]

امت مسلمہ کی تمام ملتوں ، قوموں اور گروہوں میں ایک انفرادی شان و حیثیت ہے۔ اس سے قبل امتیازی حیثیت نبی اسرائیل کو حاصل تھی لیکن جب ان کے علماء قائدین علمی موشگافیوں سے کہیں زیادہ دنیا پرستی میں غرق ہوکر لوگوں کی صلاح و فلاح جیسی اہم ذمہ داری کو فراموش کر بیٹھے تو اللہ نے ان سے یہ حیثیت چھین لی اور نبی اسرائیل کو بلند و بالا منصب و مقام سے معزول کردیا۔ اس معزولی کی دوسری سب سے اہم وجہ یہ تھی کہ جب خالق کائنات نے ہادئی اعظم رسول اکرم حضرت محمدﷺ کو آخری رسول بناکر آپ کے بعد نبوت و رسالت کا سلسلہ ختم کرنے کا فصیلہ صادر فرما دیا تو نبی اسرائیل کی مذکورہ حیثیت ازخود ختم ہوگئی۔ظاہر سی بات ہے کہ نبی کریم حضرت ﷺ کی نبوت کسی ایک خطئہ ارض یا کسی خاص رنگ و نسل کے لیے، بلکہ عالمی کائناتی، ہر رنگ و نسل اور ہر عہد کے لیے ہے۔ آپ کی سیرت پاک کا مطالہ کرنے کے بعد یہ جان کر بے حد خوشی ہوتی ہے کہ اس مادی دنیا میں اللہ پاک نے آپ کو جس مقصد کے لیے مبعوت فرمایا تھا۔ بلا شبہ یہ آپ کی لگن،مستقل مزاجی کے لیے مبعوت فرمایا تھا۔ بلا شبہ یہ آپ کی لگن، مستقل مزاجی،صبر و تحمل، اولوالعزمی و بردہاری، انسانیت سے محبت و خیر خواہی، دانائی و حکمت اور موعظت کے علاوہ اللہ کی مدد و نصرت کی بدولت محض۲۳ سال کی قلیل مدت میں اس مقصد کو پورا کرکے دنیا والوں کے سامنے ایک روشن مشال قائم کردی۔ محترم شمس نوید عشمانی اپنی ایک طویل نعت پاک کے آخری بند میں اسی مقصد عظیم کی تکمیل کی جانب اپنے قارئین کو متوجہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
خدا کا دین سمجھا کر گئے وہ
جہاں میں نور پھیلا کر گئے وہ
انہیں جس کام کو بھیجا تھا رب نے
اسے پورا ہی فرما کر گئے وہ
خدایا کتنے پیارے تھے محمدؐ
ہم ان کے ہیں ہمارے تھے محمدؐ
اس مقصد کے حصول یا اس کار خیر کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے محسن انسانیت حضرت محمدﷺ اور آپ کے ساتھ پیارے صحابہ و صحابیات رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین کوکن کن مصائب و مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کیسے کسیے جاں گسل مرحلوں سے گزرنا پڑا۔ یہ سب دیکھ کر حیرت کی آپﷺ اور آپ کے جانباز و پا کباز صحابیات سے محبت و عقیدت میں اضافہ ہی ہوتا ہے کیونکہ ہم ہی کیا دنیا بھی جانتی ہے کہ جو قائدو رہنما جتنا عظیم ورفیع ہوتا ہے یا جس قدر اس کی قیادت و رہنمائی کا دائرہ وسیع ہوتا ہے، اسی سطح سے اس کی مخالفت و معاندت بھی ہوتی ہے۔ پس صدیاں گزرنے کے بعد اس پندرہویں صدی ہجری میں آپﷺ کی ذات کو ہدف بنا کر عقل و انسانیت کے دشمن اگر رسالت مآب حضرت محمدﷺ کی شان اقدس میں اہامھیت آمیزکتابیں مقالے لکھ گریا تصویر اور کارٹون بنا کر اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے مخلفت و معاندت کا مظاہرہ کرتے ہیں یو گویا لاشعوری طور پر ہی سہی ایسے لوگ نہ صرف حضور نبی کریمﷺ کی عظمت ورفعت کو تسلیم کرتے ہیں بلکہ آپ کی نبوت ورساتل کو زماں و مکاں کی قید سے آزاد بھی مانتے ہیں۔ آپﷺ کی نبوت کی یہی حقیقت بھی ہے مگر مزے کی بات تو یہ ہے کہ جس طرح اس ابدی وداٹمی حقیقت کے از خود اظہار کرنے کا انھیں احساس نہیں ہوتا بالکل اس طرح ابو جہل، ابو لہب، عتبہ اور شیبہ وغیرہ جیسے سردار ان باطل کی’’سنت‘‘ پر عمل پیرا موجوہ مخالفین و معاندین محسوس ہی نہیں کرپاتے اور عالمی پیمانے پر شب وروز اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف پر و پگنڈہ کے ذریعہ دراصل تشبیری مہم میں مصروف رہا کرتے ہیں۔ جس کاجی چاہے سیرت محمد یﷺ سے اپنی آنکھیں ڈھنڈی کرلے، اس کے اور اق شاہد ہیں کہ اسلام کی راہ میں روزے اٹکانے کے لئے کفارو مشرکین مکہ، محسن انسانیت ﷺ وسلم کی شان مبارک میں اسی طرح کی بھونڈی حرکتیں کیا کرتے اور مضحکہ خیز لفظی تصویریں بنایا کرتے تاکہ باہر سے آنے والے حاجیوں اور تاجروں کا قافلہ آپ سے نہ ملے۔ وہ اسی بات سے خائف و فکر مند رہتے کہ جو ملے گا وہ آپﷺ کی اصلی آسمانی تعلیم، پرا انداز گفتگو، دلنواز شخصیت اور حسن سلوک سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ کفار و مشرکین مکہ کے سرداروں کا خدشہ دانہ یشہ کچھ غلط بھی نہیں تھا مگر ان کی تمام کوششوں اور کارستانیوں کا اسلام کے حق میں جو نتیجہ کل بر آمد ہوا تھا وہی نتیجہ آج بھی ہماری آنکھوں کو لبھارہا ہے۔ یوں تو ساری دنیا میں قبولیت اسلام کی لہر جاری ہے بجکہ پورپ و امریکہ میں نہایت تیزی سے لوگ حلقہ بگوش اسلام ہو رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر اور بھی حیرت کے ساتھ مسرت حاصل ہوتی ہے کہ ان میں زیادہ تر لڑکیاں اور عورتیں ہی اسلام کے سائیہ عاطفت و عافیت میں پناہ لینے کے لیے سبقت کا مظاہرہ کر رہی ہیں حالانہ اہل مغرب اسلام میں خواتین کی مظلومیت اور ان کے ساتھ’’ وحشیانہ سلوک‘‘ کے عنوان سے افسانے گھڑنے، سنانے اور ڈھنڈورااسپٹنیے مگر مجھ کے آنسو بہانے میں اپنا زیادہ وقت اور سرمایہ Corporation Land کے توسط سے برباد کر رہے ہیں۔
یہی وہ اہم نکتہ ہے جو ہم مسلمانوں کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر ہماری آنکھیں کھولنے کی طرف متوجہ کر رہا ہے کہ سرداران باطل کی’’سنت‘‘ کو زندہ کرنے کی ان کے موجود مغربی مثبعین اور ان مقلدوں کے مشرقی ذہنی غلام جب اس قدر مال و متاع کی قربانی کے ساتھ جدوجہد اور جانفشانی میں مصروف ہیں تو پھر کیا ہم محمدﷺ رسول اللہ کا کلمہ پڑھنے والوں پر لازم نہیں ہے کہ نبی رحمت العالمین حضرت محمدﷺ سے عقیدت و محبت کا دم بھرنے والے پورے ایمانی جوش و جذبہ کے ساتھ انہیں اور نبی آخری الزماںﷺ کی سنت کو زندثابت کرنے کی مہم میں تن من دھن کی بازی لگا کر دنیا والوں کو بتادیں کہ ہمارے حیثیت کل بھی داعیانہ تھی، آج بھی ہے اور قیمت تک ہم مسلمانوں کی یہی حیشیت رہے گی، کیونکہ جس مقصد اور کام سے رب کائنات نے اپنے حبیب ﷺ کو دنیا میں بھیجا تھا اسے آپ نے پورا کرنے کے علاوہ ایک ٹولی بھی بنائی جس کا نام امت مسلمہ رکھا اور اس امت کو قرآن و سنت پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کے ساتھ اسلام کے ان ہی ماخذ قرآن و سنت کی اشاعت کا کام بھی سپرد فرمایا۔ اسی فریضہ کی انجام وہی یعنی معروف کی طرف لوگوں کو بلانے اور منکرات سے منع کرنے کے صلے میں اللہ تبارک و تعالی نے اس امت کے سرپر’’خیرامت‘‘ کا جگمگاتا ہوا تاج رکھا۔ اسی سچائی کا اظہار کرتے ہوئے امام محی الدین نودی(م:۶۷۶ ہجری) فرماتے ہیں: ’’اس امت سے مراد ایک داعی امت ہے یعنی آپﷺ کی رسالت ہے لیکر قیامت تک تمام اہل زمین کے لیے‘‘(مغرب اور اسلام میں کشمکش، صفہ ۱۶ مصنف خرم مراد)
ہم مسلمانوں کی دراصل یہی داعیانہ حیثیت ہے لیکن ایک سوچی سمجھی سازس کے تحت پہلے پہل امت مسلمہ کو اس راہ سے بھٹکانے اور مسلمانوں کی شبیہ باگاڑنے جیسی مذموم غرض سے رجعت پسند، قدامت پرست، کٹر پنتھی، دقیانوسی اور پھر بنیاد پرست کی حیشیت سے پیش کرنے کی پوری دنیا مہم چلائی گئی لیکن امن و انسانیت دشمن باطل پرستوں کی دال جب نہیں گلی تب تھک ہار کر۹ ۱۱ کاڈرامہ سٹییج کرکے اسامہ بن لادن کی تنظیم القاعدہ اور صدام حسین کے عراق میں عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا نہ صرف ہوا کھڑا کیا گیا بلکہ افغانستان کے بعد عراق میں فوجی مداخلت و جارحیت نیز دہشت گردانہ کارروائی کے ساتھ مسلمانوں کو خونخوار دہشت گرد کی حیشیت سے پیش کرنے کی زبردست پرو پگنڈہ مہم چھیڑی گئی جس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ بد قسمتی سے امریکہ و اسرائیل کے زیر اثر ہندستان جنت نشاں کو جہنم زار میں تبدیل کرنے کے بعض نمونے پیش کرنے کے علاوہ مسلمانان ہند کو ذہنی طور پر پرپسماندہ ہی نہیں بلکہ مفلوج بنانے کے لیے سچر کمیٹی کی رپورٹ کے آئینے میں دلتوں سے بھی بدتر مسلمانوں کی شکل پیش کرنے کا مہینوں نہیں بلکہ برسوں نہایت طمطراق سے اہتمام کیا جاتا رہا۔ بعض مسلم وغیر مسلم مخلص دانشور حضرات نے جب اس پہلو پر غور کیا کہ ایک طرف دلتوں سے بھی بدتر مسلمانوں کی حیشیت کی نمائش اور دوسری جانب مسلمانوں کے دہست گرد ہونے کا نہ صرف رات دن پروپگنڈہ بلکہ انکاؤنٹر میں مار گرانے، پولس کسٹدی میں بعض مسلم نوجوانوں کی ہلاکت اور پکڑ دھکڑ کالامتناہی سلسہ بھی جاری ہے تو ان تمام تکلیف وہ امورو حقائق سے کچھ کچھ باتیں سمجھ میں آنے لگیں کہ اصل معاملہ کیا ہے؟ واقعات و حالات کا تجزیہ کے بعد صالح فکر دانشورو مفکرین خاص طور سے دینی حلقہ میں نتیجہ ابھر کر سامنے آیا کہ دہشت گردی کے پورپگنڈہ کی طرح سچر کمیٹی کی رپورٹ کی اعلی پیمانے پر تشہیری مہم کا بھی اصل مقصد یہی ہے کہ مسلمانان ہند جو انڈونیشیا کے بعد پوری دنیا میں(آبادی کے اعتبار سے) دوسرا مقام رکھتے ہیں، اپنی اسی ذلت آمیز حیشیت کو قبول کرکے داعیانہ حیشیت کو نہ صرف فراموش کردیں بلکہ اس سے دستبردار بھی ہوجائیں۔ اگر ار باب اقتدار کا یہی مقصد نہیں ہوتا تو پھر سچر کمیٹی کی رپورٹ پر بر سراقتدار کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں نے جس قدر مگر مچھ کے آنسو بہائے اور اس کا خوب خوب ڈھنڈورا پیٹا، اگر واقعہ مسلمانوں کے حال زار پر افسوس ہوتا اور ان کے اندر خلوص و ہمدردی کا بھی جذبہ موجزن ہوتا تو سچر کمیٹی کے علاوہ رنگا ناتھ کمیشن کی سفارشات کو در خوراعتنا نہ سمجھے ہوئے سردخانے میں انہیں سڑنے گلنے کے لیے کیوں پھینک دیا گیا؟
حیرت اور افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے درمیان کچھ ملی شخصیتں اور تنظیمیں اس پروپگنڈہ اور نمائش سے متاثر ہوگئیں۔ نتیجتاً انھیں بہ آسانی بھرے پر چڑھا دیا گیا، لہذا وہ اپنا سارا ازور مسلمانوں کی جہالت اور معاشی پسماندگی کو دور کرنے کی مہم میں لگا کر تعلیمی بیداری اور معاشی استحکام کی صورت پیدا کرنے میں جٹ گئیں۔ واضح رہے کہ احساس کمتری میں مبتلا رکھنے کے لیے مسلمانوں کو’’جاہل‘‘ ہونے کا بھی بڑے زوروشور سے طعنہ دیا جاتا ہے۔ یہ بھی اغیار کی ایک سوچی سمجھی سازش ہی کا ایک حصہ ہے ورنہ مسلمانوں ان پڑھ یا کم پڑھا لکھا ہوسکتا ہے مگر خدا لگتی بات تویہی ہے کہ اسلام کا پیروکار اور قرآن کا حامل انسان جاہل ہر گز بھی نہیں ہوسکتا۔ آج اس سچائی کو تسلیم رلیا گیا ہے کہ تمام ترصحیح اور مفید علوم کا سر چشمہ قرآن ہے جھبی تو اسے شاہ کلیدKing of Key کہا جاتا ہے۔ یہ تسلیم کر لینے ہی کا نتیجہ ہے کہ حاشدین اپنے دل میں لگی آگ سے قرآن مقدس کو جلا کر کھسیانی بلی کھمبا نوچے جیسی حرکت کرتے پھر رہ ہیں۔ پسکڑوی سچائی تو یہی ہے کہ جس نے قرآن نہیں پڑھا دراصل وہی جاہل ہیں۔ یہاں یہ بات خوب یاد رہے کہ قرآن یا صاحب قرآن نے عصری علوم کے حصول سے منع نہیں فرمایا بلکہ دنیا کہ انسانیت کے حق میں مفید اور نافع علم و ہنر کے سیکھنے اور اسے فروغ دینے کو مستحسن قرار دیا ہے۔ اسی طرح جائز طریقے سے معاشی ترقی کے لیے کوشش کرنا بھی اسلام کے نزدیک ایک پسندیدہ کا م ہے جیسا کہ حکم ہے’’ اللہ کی زمین میں پھیل جاؤ اور اس کا فضل تلاش کرو‘‘البتہ مدعا صرف یہ ہے کہ اس کوشش کو مقصد زندگی نہ بننا چاہیے کیونکہ اگر یہ مقصودبن جائے تو ایک مسلمان کو اپنی حیثیت کو گم کرکے غیروں کی طرح خود غرض اور مادہ پرست بن جانے سے بھلا کون سی چیز روک سکتی ہے؟ جبکہ خیر امت(امت مسلمہ) کے ایک فرد ہونے کی وجہ سے داعیانہ حیثیت کے ساتھ دین کی سر بلندی کے سوا اس کی زندگی کا دوسرا کوئی اور مقصد ہو نہیں سکتا۔ ورنہ پھر دیکھ لیں تسلیمہ نسرین اور سلمان رشدی کا شمار تو جاہلوں میں نہیں بلکہ اعلی تعلیم یافتہ مصنفوں ودانشورں ہی میں کرنے کا اصرار کیا جاتا ہے اور اس کے پس پشت بھی یہی گھناؤنا مقصد ہوتا ہے اور اس کے پس پشت بھی یہی گھناؤنا مقصد ہوتا ہے کہ مسلمانوں شرم و ذلت میں مبتلا ہوکر کبھی بھولے سے بھی اپنی داعیانہ حیثیت کا اظہار نہ کریں۔ داعیانہ حیثیت کے بغیر مالی خوشحالی اور معاشی استحکام کے ذریعہ مسلمانوں کے عزت وقار حاصل کرنے کا معاملہ بھی کچھ سیا سی ہے۔ یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ مسلمانوں کی ذلت کی وجہ غربت ہرگز بھی نہیں ہوسکتی۔ ہندوستان کی تاریخ جدید پر نظر ڈالیں۔ دور آخر کے امرائ، سلاطین و نوابین دولت و امارت کے ہوتے ہوئے شان و شوکت، رعب ودبدبہ اور عظمت و سطوت اس طرح گنوا بیٹھے کہ آج اسی ہندوستان میں مسلمانوں کو دلتوں سے بھی بدتر ہونے کا طعنہ ،سننا پڑتا ہے۔
آفریں ہے چاندنی چوک نئی دہلی کی رہنے والی نو مسلمہ سونیا عشرت صاحبہ(سابقہ سونیا جین) پر جن کے قبول اسلام کی کہانی(جو آسنسول سے شائع ہونے والے سہ ماہی رسالہ ضدائے ملت اپریل۔ جون ۲۰۱۲ء میں شائع ہوئی ہے) بار بار یاد آرہی ہے۔ ایک نومسلمہ کے دینی شعور جذبہ ملا خط فرمائیں۔ محترمہ موصوفہ فرماتی ہیں:
اب تک اللہ کے فضل سے میری کوششوں کی بدولت میری ماں اور بھائی کے علاوہ تین اور لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے۔۔۔ تمام لوگوں( مسلمانوں) سے استدعا ہے کہ ہم میں سے ہر شخص واعی بنے اور دعوت کو جاری رکھے، اپنے بچوں کی اسلامی نج پرتربیت کرے تاکہ وہ اسلام کے داعی بن کر ابھریں‘‘ ان ہی مطوعہ تحریروں میں موصوفہ کی یہ دلی تڑپ بھی دکھائی دیتی ہے: میری بھی ایک بچی ہے جس کا نام ناز ہے۔ میں اسے اسلام کی اشاعت کے لیے تیار کررہی ہوں کیونکہ جب میں نے اسلام قبول کر لیا تو اب ایک بہت بڑی ذمہداری کو قبول کیا ہے اور اپنے اوپر اسلام کی تبلیغ کو فرض کر لیا ہے‘‘۔
دیکھا آپ نے، اسلام قبول کرنے والی ہماری دینی بہن نے جس ذمہداری اور فرض کا ذکر کیا ہے۔ دراصل اسی کی ادائیگی کی بنا پر مسلمانوں کو’’خیرامت‘‘ کے زریں خطاب سے نواز گیا ہے پس داعیانہ حیثیت کے سواہم مسلمانوں کی بھلا کوئی دوسری حیثیت بھی ہوسکتی ہے؟؟

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *