نندی کے بیان پر ہنگامہ ،رشدی کے نام پر خاموشی

جے پور میں آشیش نندی نے بیان دیا تو ہر طرف سے مذمت اور لعن طعن کا سلسلہ چل پڑا ۔ دوساسے ممبر پارلمینٹ کروڑی لال مینا نے دھرنا شروع کر دیا ۔یو پی سے بی ایس پی چیف مایا وتی نے آشیش نندی کی فوری گرفتاری کی مانگ کی ۔ کانگریس اور بی جے پی بھی مذمت میں پیچھے نہیں رہے ۔ آشیش نندی کی بات راجستھان کے جے پور سے نکل کر پورے ملک میں پھیل گئی ۔ نندی کوئی انجانا نام نہیں ہے ۔ وہ معروف زمانہ سیاسی اور سماجی مفکر ہیں ۔ انہوں نے بد عنوانی کی بات کرتے ہوئے نچلی اور درج فہرست ذات کے لوگوں کو بد عنوانی میں زیادہ ملوث قرار دیا ۔ بعد میں ہنگامہ کھڑا ہونے پر سیاسی لیڈروں والا رویہ اپناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں ٹھیک سے نہیں سمجھا گیا ۔وہ دراصل دلتوں اور پسماندہ طبقات کے حق میں بول رہے تھے ۔بہر حال ان کی باتیں قابل اعتراض تھیں ۔اظہارے رائے کی آزادی کے نام پر کسی کو کچھ بھی کہنے کی آزادی نہیں دی جاسکتی ۔ہر شخص کواپنی بات رکھنے کا حق ہے۔ اپنی صحیح یا غلط بات کو قائم کرنے کا بھی حق ہے ۔آئین نے ہمیں یہ حق دیا ہے ۔ آئین کی دفعہ (۱) 19کے تحت ہر ہندوستانی کو 7بنیادی حقوق دیے گئے تھے ۔ ۱۹۷۸ئ؁میں ایک ترمیمی بل لاکر ایک حق کو ختم کر دیا گیا ،لیکن 6حقوق آج بھی حاصل ہیں جن میں ایک آزادی رائے کا حق ہے ۔ہماری دقت یہ ہے کہ ہم اظہارے رائے کی آزادی کی بات کرتے ہیں لیکن شرطوں کو بھول جاتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ آزادی رائے سے امن وامان کی صورت حال بگڑنی نہیں چاہیے،لیکن ہم جمہوریت کا نام لے کر جوجی چاہتا ہے وہ کرتے ہیں ۔
جے پور کے ادبی میلے میں آشیش نندی نے بھی یہی کا م کیا ۔انہوں نے جو کچھ کہا وہ غلط کہا اس کی سزا انہیں ملے گی ۔ ہر جانب سے اس کی بھر پور مذمت ہو رہی ہے ۔نہ صرف دلت اور پسماندہ سماج اس کی مخالفت میں ہے بلکہ ملک کا دانشور طبقہ بھی نندی کے تبصرے کی مذمت کر رہا ہے ۔ہم خود بھی نندی کے اس بیان کے خلاف ہیں ۔ہمارا موقف یہ ہے کہ ان معاملات میں اعتدال سے کام لینا ہوگا۔ سماج کے کسی فرد کو حد سے زیادہ حساس ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ میڈیا کے ذریعے بات پہنچانے والوں کو بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔ہم صرف اظہارے رائے کی آزادی کا راگ الاپتے رہے اور ملک میں آگ بھڑکتی رہے ۔آشیش نندی کے بیان کے خلاف معروف صحافی آشوتوش نے آواز بلند کی ہے لیکن حیرت ہوتی ہے کہ یہی آشوتوش سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کے معاملے میں خاموش رہتے ہیں یا پھر اظہارے رائے کی آزادی کے طرفدار ہوتے ہیں ۔ معاملہ صرف آشوتوش کا نہیں بلکہ جملہ دانشور وں کا ہے جو اس بیماری میں مبتلا ہیں ۔یعنی جو لوگ سلمان رشدی یا تسلیمہ نسرین کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں وہ شدت پسند ہیں اور جمہوری اقدار کے دشمن ہیں اور جو لوگ آشیش نندی کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں وہ جمہوریت پسند لوگ ہیں وہ اعتدال پسند لوگ ہیں وہ دانشور ہیں ۔
ہمارا اعتراض اسی دوہرے معیار پر ہے ۔آزادی رائے کے نام پر جو حدیں پار کرے اس کی مخالفت ہونی چاہیے ۔کہاں تو آپ لند ن اور ڈھاکا سے لوگوں کو بلا کر ان کو عزت مآب کا خطاب دے رہے ہیں جو ایک سماج کے لئے زہر ہیں ،لیکن آپ انہیں اپنا رہے ہیں ،حالانکہ ہندوستان کی دھرتی پر ایک دو لوگ نہیں بلکہ سیکڑوں لوگ ایسے ہیں جو رشدی اور تسلیمہ نسرین سے بہتر ادب تخلیق کر رہے ہیں ۔ ہر زبان میں بہتر خواتین موجود ہیں جو تسلیمہ نسرین سے بہتر ادب تخلیق کر رہی ہیں ۔آپ سلمان رشدی اور تسلمیہ نسرین کو بلا تے ہیں اور ان کی قصیدہ خوانی کرتے ہیں اورکروڑوں ہندوستانیوں کے جذبات کو مجروح کرتے ہیں ۔
کالی داس ،غالب اور ٹیگور کے ملک میں ادب تخلیق کرنے والوں کا ایسا اکال پڑا ہے کہ آپ کو ڈھاکہ اور لندن سے امپورٹ کرنا پڑ رہا ہے ۔ہم کو سمجھنا ہو گا کہ کہیں لٹریچر فیسٹول انٹرنیشنل مارکیٹ کا کھیل تو نہیں ہے جو حکومت جلد از جلد ایف ڈی آئی لانا چاہتی ہو اس سے ہم کیسے یہ امید کر سکتے ہیں کہ وہ شعر وادب کے میدان میں بازار کی مداخلت کو روکنے کا کام کرے گی۔
ملک کے دانشوروں کو سوچنا ہوگا کہ۱۹۴۷ئ؁میں ہمیں انگریزوں کی سیاسی غلامی سے آزاد ی ملی تھی لیکن ذہنی غلامی کو ہم ابھی تک ڈھو تو نہیں رہے ہیں ۔ورنہ کیا وجہ ہے کہ نندی کے بیان پر ہنگامہ کرنے والوں نے رشدی کے نام پر چپی سادھ لی ہے ۔بیان نندی کا ہو یا رشدی کا ،اظہار رائے کی آزادی کے نام پر کسی کو بے لگام نہیں چھوڑا جا سکتا ہے مگر ہمارے حکمرانوں کی نیت بھی صاف نہیں لگتی ورنہ سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کو سر آنکھوں پر بٹھانے والے یہ انتظام ضرور کرتے کہ دنیا کا عظیم ترین مصور مقبول فدا حسین اپنے وطن میں ہی آخری سانس لیتا ۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *