نوجوان امت مسلمہ کا بڑا سرمایہ

یہ زیادہ پرانی بات نہیں۔ دس پندرہ سال پہلے بڑی آبادی کو ایک ’’بوجھ‘‘ سمجھا جاتا تھا، لیکن چین کی غیر معمولی اور بھارت کی اوسط درجے کی معاشی ترقی نے بوجھ کو ’’منڈی‘‘ بناکر ایک بڑی معاشی قوت میں ڈھال دیا۔ اس سے انسانوں کی کوتاہ نظری کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی آشکار ہوتی ہے کہ انسان نے معاشیات کو اپنا سب کچھ بنالیا ہے، ورنہ رابندرناتھ ٹیگور نے بہت پہلے کہا تھا کہ دنیا میں بچوں کی آمد اس امر کا اعلان ہے کہ اللہ تعالیٰ ابھی تک انسانوں سے مکمل طور پر ناخوش نہیں ہوا۔ لیکن ٹیگور کے اس خیال کی بازگشت عالمی سطح پر ایک بار بھی نہیں سنی گئی، حالانکہ ٹیگور کو ادب کا نوبل انعام بھی ملا ہوا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ٹیگور کی بات کا تعلق مذہبی فکر سے تھا، اور دنیا کے اربوں انسانوں کے نزدیک معاشی فکر کے مقابلے پر مذہبی فکر کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو امتِ مسلمہ کی آبادی امت کا بڑا سرمایہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کی موجودہ آبادی ایک ارب ۶۰؍کروڑ سے متجاوز ہے۔ یعنی امت ایک مذہبی، تہذیبی، تاریخی اور معاشی اکائی کے طور پر چین اور بھارت سے زیادہ آبادی رکھتی ہے۔ اس آبادی کی دوسری اہمیت یہ ہے کہ اس کی موجودگی عالمگیر اور ثقافتی، لسانی اور معاشی اعتبار سے متنوع ہے۔ لیکن اس آبادی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ مسلمانوں کی آبادی کا ۵۵سے ۶۰فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی آبادی ڈھائی سے تین فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے۔ آبادی میں اضافے کا یہ رجحان برقرار رہا تو مسلمانوں کی آبادی میں نوجوانوںکا موجودہ فیصد طویل عرصے تک برقرار رہے گا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو امتِ مسلمہ کی آبادی ایک بہت ہی بڑی سونے اور ہیروں کی کان ہے۔ اگرچہ یہ سونا ابھی خام حالت میں ہے اور یہ ہیرے ابھی تراشے نہیں گئے ہیں، لیکن ان چیزوں کی موجودگی میں صرف امتِ مسلمہ کے لیے نہیں پوری انسانیت کے لیے خیر کے بڑے امکانات موجود ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ معاشرے میں نوجوانوں کی اہمیت کیا ہے؟
نوجوانوں کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ وہ خواب دیکھ سکتے ہیں۔ یعنی وہ عینیت پسند یا Idealist ہوتے ہیں۔ خواب کو لوگ حقیقت کی ضد سمجھتے ہیں، لیکن خواب حقیقت سے بڑی حقیقت ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حقیقت صرف ’’موجود‘‘ ہے اور خواب ’’ممکن‘‘۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ حقیقت پسند جو کچھ بن گیا ہے صرف وہی کچھ ہے، لیکن خواب دیکھنے والا وہ کچھ بن سکتا ہے جس کا اس کے اندر امکان ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ نوجوان امکانات کی دنیا ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کو روحانی اور مادی دونوں اعتبار سے خواب دیکھنے والوں نے تبدیل کیا ہے۔ پیغمبروں کی تو بات ہی اور ہے، عام انسانوں کے دائرے میں تمام بڑی رومانی شخصیات خواب دیکھنے والی یا Idealist تھیں اور ہیں۔ دنیا کے تمام بڑے شاعر اور ادیب خواب دیکھنے والے تھے اور ہیں۔ دنیا کے تمام بڑے سائنس دان ’’موجود‘‘ سے زیادہ ’’ممکن‘‘ پر یقین رکھنے والے تھے اور ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو امتِ مسلمہ کے پاس ساٹھ ستّر کروڑ خواب دیکھنے والے ہیں۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ ان ساٹھ ستّر کروڑ خواب دیکھنے والوں کے ہاتھ میں توحید کا پرچم ہے۔ قرآن کا جھنڈا ہے۔ ان کے پاس رسالت کی شان ہے۔ تصورِ آخرت کا سرمایہ ہے۔ وہ اس خیال کے امین ہیں کہ ہم پر امتِ مسلمہ ہی کا نہیں پوری انسانیت کا حق ہے۔ چنانچہ یہ نوجوان ایک ایسے انقلاب کی بنیاد رکھ سکتے ہیں جو پوری انسانیت کی دنیا اور آخرت کو سنوار سکتا ہے، اور جس کی جڑیں اتنی گہری ہوسکتی ہیں کہ اس انقلاب کے ثمرات نسل در نسل منتقل ہوتے رہیں۔
نوجوانی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ نوجوان مکمل طور پر بنی ہوئی شے یا Finished Product نہیں ہوتے۔ آپ انہیں جو بنانا چاہیں وہ بن سکتے ہیں۔ انسان کی مشکل یہ ہے کہ اس کی شخصیت جب بن جاتی ہے تو وہ پھر اس شخصیت کا اسیر اور اس کا پجاری بن جاتا ہے۔ پھر وہ اس شخصیت کے سوا کچھ اور نہیں بن سکتا۔ لیکن نوجوان ہر اچھی چیز کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ وہ ہر اچھی پکار پر لبیک کہتے ہیں۔ وہ ہر اچھے مشورے کے لیے دیدہ و دل فرشِ راہ کیے ہوتے ہیں۔ ہماری دنیا کا المیہ یہ ہے کہ وہ خود کو جدید کہتی ہے اور جدت کو پسند کرتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اِس دنیا میں اربوں انسان ہزاروں خودساختہ گمراہیوں کے ’’غلام‘‘ ہیں۔ انہوں نے اپنے سیکڑوں انحرافات کو ’’عادت‘‘ بنالیا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اربوں انسانوں کی شخصیات انجماد یا Fixation کا شکار ہوگئی ہیں، اور وہ جو کچھ بن چکے ہیں اب اس کے سوا کچھ نہیں بن سکتے۔ ان اربوں انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے کھربوں امکانات سے نوازا ہے، مگر یہ امکانات ان کی شخصیتوں کے انجماد کی وجہ سے بروئے کار نہیں آسکتے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو مسلم دنیا میں ساٹھ ستّر کروڑ نوجوانوں کی موجودگی ایک بہت بڑی امکانی ’’انقلابیت‘‘ کی موجودگی ہے۔ امتِ مسلمہ اور پوری دنیا کے لیے اس انقلابیت کی موجودگی کا مفہوم عیاں ہے۔
ایک نئی دنیا کی تعمیر کے لیے بے پناہ انسانی توانائی کی ضرورت ہوتی ہے، اور یہ توانائی سب سے زیادہ نوجوان فراہم کرتے ہیں۔ توانائی کی فراوانی ایک جانب نوجوانوں کو زیادہ بار اٹھانے کے قابل بناتی ہے اور دوسری جانب اس سے نوجوانوں میں وہ شدتِ احساس پیدا ہوتی ہے جو نوجوانوں کو اپنے کام سے گہرے طور پر متعلق کردیتی ہے۔ گہرے تعلق کے بغیر دو سو میٹر کی دوڑ تو دوڑی جاسکتی ہے مگر میراتھن نہیں دوڑی جاسکتی۔ غور کیا جائے تو دنیا کی تبدیلی کا عمل میراتھن دوڑنے کی طرح ہے اور نوجوان اس میراتھن کے لیے سب سے زیادہ کفایت کرتے ہیں۔
نوجوانوں کو عام طور پر ’’جذباتی‘‘ کہا جاتا ہے، لیکن یہ نوجوانی کی ایک بہت سطحی تعریف ہے۔ دراصل نوجوان اس لیے ’’جذباتی‘‘ ہوتے ہیں کہ ان کے ’’مفادات‘‘ نہیں ہوتے، چنانچہ نوجوانوں کی ’’جذباتیت‘‘ ایک جانب خلوص کا بہتا ہوا دریا بن کر سامنے آتی ہے اور دوسری جانب انہیں بڑے ہدف کے لیے قربانی پر آسانی کے ساتھ آمادہ کرتی ہے۔ اسلام کے دائرے میں اللہ کی مدد یا نصرت تین چیزوں سے مشروط ہے۔
اللہ کی نصرت کی پہلی شرط یہ ہے کہ انسان صحیح نیت اور اخلاص کے ساتھ حق کی بالادستی کی جدوجہد کرے۔ اور نوجوانوں کے لیے نیت کو درست رکھنا اور خلوص کے ساتھ جدوجہد کرنا جتنا آسان ہے بڑی عمر کے لوگ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اللہ کی نصرت کے حصول کی دوسری شرط یہ ہے کہ انسان حق کی بالادستی کے لیے قربانیاں پیش کرے، اور یہ بات عرض کی جاچکی ہے کہ نوجوانوں کے لیے قربانی میں ایک کشش ہے، ایک جمال ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان جتنا ’’زندہ‘‘ ہوتا ہے اسے موت اتنی ہی ’’حسین‘‘ اور ’’بامعنی‘‘ لگتی ہے۔ اللہ کی نصرت کے حصول کی تیسری شرط یہ ہے کہ انسان قربانیوں پر استقامت کا مظاہرہ کرے، اور نوجوان قربانیوں کو جس طرح جذب کرسکتے ہیں اس طرح کوئی جذب نہیں کرسکتا۔
نوجوانی کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس عمر میں تبدیلی آسان مگر دیرپا ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نوجوانوں کا مزاج چونکہ چنانچہ والا نہیں ہوتا۔ وہ عام طور پر صرف اتنی ہی بحث و تمحیص کرتے ہیں جتنی قائل یا Convince ہونے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ نوجوان ایک بار قائل ہوجاتے ہیں تو پھر دنیا کی کوئی طاقت انہیں ان کے رستے سے نہیں ہٹا سکتی۔ چونکہ ان کی تبدیلی میں عام طور پر ان کے ’’مفادات‘‘ کا کردار نہیں ہوتا اس لیے وہ ایک بار جس دائرہ ٔ فکر میں داخل ہوجاتے ہیں ساری زندگی اس سے باہر نہیں نکلتے۔ ایک وقت تھا کہ مسلم دنیا میں نوجوان تین کیمپوں میں تقسیم تھے۔ ایک کیمپ سوشلسٹوں کا تھا، دوسرا کیمپ اسلام پسندوں کا تھا، اور تیسرے کیمپ میں وہ لوگ تھے جو خود کو مغرب کی سرمایہ دارانہ تہذیب کے ساتھ متعلق سمجھتے تھے۔ مگر سوشلزم فنا ہوچکا ہے اور اب مسلم دنیا میں سوشلزم کی حیثیت ’’ماضی کی یادگار‘‘ کے سوا کچھ نہیں۔ اہلِ مغرب نے عراق اور افغانستان میں جو کچھ کیا ہے اس نے مسلم دنیا میں مغرب کی اخلاقی بالادستی کے تصور کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہر جگہ اسلام مسلمانوں کی عظیم اکثریت کی ’’واحد پسند‘‘ بن کر ابھر رہا ہے۔ بعض لوگ مسلمانوں بالخصوص مسلم نوجوانوں کو ’’بے عمل‘‘ قرار دیتے ہیں۔ بلاشبہ مسلم نوجوانوں میں اسلام کے حوالے سے بے عملی عام ہے۔ لیکن مسلمانوں کی خاص بات یہ ہے کہ وہ ’’ناقص العمل‘‘ ہیں، ’’ناقص العقیدہ‘‘ نہیں ہیں۔ چونکہ مسلمانوں کے تمام عقائد، عبادات کا نظام اور اخلاقی تصور محفوظ ہیں اس لیے مسلمانوں کے عمل کا نقص دور کرنا بہت دشوار نہیں۔ جن لوگوں کے عقائد غلط یا خراب ہوتے ہیں انہیں بدلنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے کہ پہلے ان کے پرانے عقائد کا نقص ثابت کرنا پڑتا ہے، پھر انہیں نئے عقیدے کا قائل کرنا پڑتا ہے، اس کے بعد کہیں عمل کی باری آتی ہے۔ اس کام میں بسا اوقات برسوں لگ جاتے ہیں۔ لیکن جن لوگوں کے عقائد درست ہوتے ہیں انہیں چند ماہ میں ’’اچھا عمل کرنے والا‘‘ بنایا جاسکتا ہے۔ مسلمانوں بالخصوص مسلم نوجوانوں کے بارے میں ایک اچھی بات یہ ہے کہ ان میں جو برائیاں، خرابیاں اور انحرافات پائے جاتے ہیں وہ ’’ماحول کے جبر‘‘ کا نتیجہ ہیں۔ اللہ کے فضل و کرم سے مسلم نوجوانوں کی اکثریت ’’سلیم الفطرت‘‘ ہے۔ یعنی ان کی خرابیوں کا تعلق فطرت سے نہیں، ماحول سے ہے۔ ماحول کے بدلتے ہی مسلم نوجوان اِن شاء اللہ تیزی کے ساتھ منقلب ہوں گے اور مسلم دنیا کی عظمتِ رفتہ کی بازیافت میں مرکزی کردار ادا کریں گے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *