اسلامی اصول اور خوبیوں سے فرانس کے لوگ انتہائی متاثر

پیرس۔۷ فروری (ایجنسیاں)نیو یارک ٹائمز نے فرانس میں اسلام کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان کے بارے میں اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ۲۵ سال کے دوران اس ملک میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد دو گنی ہو گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق فرانس کی وزارت داخلہ میں مذہبی امور کے انچارج اور سابق انٹلی جنس آفیسرنارڈ گوڈارڈ نے ملک میں اسلام کی مقبولیت میں تیزی سے اضافے کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا کہ اسلام کی طرف بڑھتا ہوا رجحان بہت زیادہ اہم اور حساس نوعیت کا ہے کیونکہ سال ۲۰۰۰ء سے اب تک اس رجحان میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔اس رپورٹ کے آخر میں روزنامہ ’نیو یا رک ٹائمز ‘نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلام مخالف اقدامات بھی فرانس میں اسلام کے تیزی سے پھیلاؤ کو روکنے میں ناکام ہو رہے ہیں ۔رپورٹ کے مطابق تبلیغ اسلام میں ائمہ جماعت اور اسلامی اداروں کے مثبت کردار کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔گوڈارڈ کے مطابق فرانس کی کل مسلم آبادی ۶ ملین میں ایک لاکھ افراد وہ ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا ہے ۔۱۹۸۶ء میں نو مسلم افراد کی تعداد تقریباً۵۰ ؍ہزار تھی ۔انہوں نے کہا کہ تبدیلی مذہب میں حیرت انگیز تبدیلی آئی ہے ۔ قبول اسلام کے رجحان میں اضافہ کے متعلق ماہر سماجیات سمیر الجار کا کہنا ہے کہ ماہ رمضان کا روزہ غیر مسلم بھی یہاں رکھتے ہیں انہیں جماعتی اتحاد اور یکسانیت کا افطار کاماحول بہت پسند ہے ۔جب کہ کچھ مسلم دانشوروں کا خیال ہے کہ اس رجحان میں اضافہ کا سب حکومتی ناانصافی ہے اور حکومت کے ذریعہ نقاب پر عائد پابندی بھی ایک اہم وجہ ہے ۔ماہرین کا خیال ہے کہ تبدیلی مذہب کر کے اسلام قبول کرنے والوں سے حکومت کو ایک چیلنج کا سامنا ہے جس کا رویہ مسلمانوں کے ساتھ متعصبانہ اور نفرت کرنے والا ہے ۔ پیرس کے درمیانی درجہ کے شہر سریٹیل کی صحابہ مسجد اسلام قبول کرنے والوں کے لیے مشہور ہے۔۲۰۰۸ء میں تعمیر اس عالیشان مسجد میں تقریباً ۱۵۰؍افراد سالانہ مذہب اسلام قبول کرتے ہیں ۔خبر کے مطابق نو مسلم افراد میں رومن کیتھولک افراد کی تعداد میں اضافہ ہو اہے گر چہ فرانس کی پولیس وہاں کے مسلمانوں کو دہشت گرد کہہ کر گرفتار کرتی رہتی ہے ۔ گزشتہ دنوں ۱۲؍مسلمانوں کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا جس میں ۳ نو مسلم ہیں ۔پولیس کے لیے یہاں کے جیل خانے بھی تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں جہاںکل قیدیوں میں سے ایک تہائی مسلم ہیں اور وہاں تبلیغ مذہب کا کام بڑے پیمانے پر کیا جا رہا ہے ۔تبدیلی مذہب کا ایک سبب شادی کرنا بھی ہے ،جو عام روایت میں شامل ہے ،اس کا ایک مقصد پڑوسی مسلم ممالک میں زندگی کی سہولتوں کا حصول بھی ہے ۔تبدیلی مذہب کے اسباب میں خاندانی شیرازہ کا بکھراؤ،والدین میں اتفاق اور اتحاد و محبت کا نہ ہونا بھی ایک سبب ہے جو اسلام قبول کرنے والوں کو ذہنی اور روحانی سکون فراہم کرتا ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ اسلام نے نہ صرف سماجی ضابطہ پیش کیا بلکہ انتہائی ذہنی پریشانی و انتشار کے لیے محفوظ پناہ گاہ بھی ثابت ہوا ہے۔مسٹر الجار نے کہا کہ اسلام ڈسپلن اور نہایت مضبوط و مستحکم سماجی و خاندانی ڈھانچوں کی تشکیل کرتا ہے اس لئے اس کی جانب لوگوں کی رغبت ہے ۔یہ موڈرنزم کو رد کرتا ہے ۔خاندانی اصول و ضوابط کی تشکیل کرتا ہے اور مرد و خواتین کے حدود بتاتا ہے اور فاصلوں کو برقرار رکھنا سکھاتاہے ۔مارسیلی مسجد کے پیش امام اور فروغ کونسل آف دی مسلم فیتھ کے مقامی صدر نے کہا کہ میں نے ۲۰۱۲ء میں ۳۰سرٹیفیکٹ مذہب اسلام اختیار کرنے والے نو مسلموںکے لیے جاری کئے ہیں۔ ڈرانسی کے پیش امام حسن چالگوی نے کہا کہ اس کابڑاسبب میرے خیال میں فرانس حکومت کا سیکولرزم ہے جس میں روحانیت کا وجود نہیں اور غیر مذہبی ہے اس لیے اس نے نئے رجحان کو فروغ دیا اور لوگ اسلام کے متعلق جاننا چاہتے ہیں۔ (بشکریہ صحافت)

دہشت گردی کے شبہے میں گرفتاریاں 60فیصد بڑھ گئیں
لندن۔۱۵دسمبر(پی ایس آئی)پولیس کی جانب سے دہشت گردی کے شبہے میں گرفتاریوں کی شرح میں ۶۰ فیصد سے زیادہ اضافہ ہو گیا ہے ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جون کو ختم ہونے والے ایک سال کے دوران مجموعی طور پر ۲۲۸ ؍افراد کودہشت گردی کے شبہے میں گرفتار کیا گیا جب کہ گزشتہ سال اسی مدت کے دوران صرف ۱۴۰؍افراد کو اس الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ہوم آفس کے مطابق ۱۱؍ستمبر ۲۰۰۱ء سے اب تک کم و بیش ۲ ہزار ۲۳۱ ؍ افراد کو دہشت گردی کے شبہے میں گرفتار کیا گیا ،اطلاعات کے مطابق گزشتہ ۱۲ ؍ماہ کے دوران دہشت گردی کے شبہے میں حراست میں لیے جانے والے افراد میں ۲۳ فیصد کو دہشت گردی کے ایکٹ مجریہ ۲۰۰۰ کی دفعہ۴۱ کے تحت گرفتار کیا گیا اس دفعہ کے تحت حراست میں لیے گئے افراد کو ۱۴ ؍دن تک زیر حراست رکھا جا سکتا ہے ،اس طرح گرفتار کئے گئے ۵۲؍افراد میں سے ۳ کو ۷ دن سے زیادہ کسی چارج کے بغیر حراست میں رکھا گیا ،جبکہ ۱۷ کا فیصلہ ۲ دن میں ہی کر دیا گیا ، مجموعی طور پر ۱۶ مشتبہ افراد جن کوچارج کیا گیا ۶ ؍یا اس سے زیادہ دن تک زیر حراست رہے ۔ایسوسی ایشن آف چیف پولیس آفیسرز کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق جن ۲۲۸؍افراد کو دہشت گردی کے شبہے میں گرفتار کیا گیا ان میں سے ۸۲؍کو چارج کیا گیا اور ۴۸ فیصد کو کسی الزام اور چارج کے بغیر رہا کر دیا گیا جبکہ ۳۷ ؍افراد کے خلاف متبادل کارروائی کی گئی ۔(جدید میل 16/12/12)
آزادی اظہار کے نام نہاد علم بردار وں کا حقیقی چہرہ
لندن ۲۹ جنوری :(ایجنسیاں)دنیا میں آزادی اظہار کے نام نہاد علم برداروں کا حقیقی چہرہ ایک مرتبہ پھر سامنے آگیا ہے اور آزادی اظہار کے نام پر دوسرے مذاہب کی مقدس شخصیات کی توہین کرنے والے یہود کو اپنے انتہا پسند وزیر اعظم کا کسی اخبار میں خاکہ یا کارٹون بھی گوارا نہیںہے۔اسرائیل کی پارلیمان کے اسپیکر برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز میں صہیونی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے کارٹون کی اشاعت پر برس پڑے ہیںحالانکہ اس کارٹون میں انتہا پسند یہود کے منتخب لیڈر کا حقیقی چہرہ ہی دکھانے کی کوشش کی گئی تھی۔اس کارٹون میں نیتین یاہو کو فلسطینیوں کے خون اور لاشوں کے ساتھ ایک دیوار بناتے ہوئے دکھایا گیا تھالیکن سینٹ کے اسپیکر ریون ریولین نے اپنے برطانوی ہم منصب جان برکو کو ایک خط لکھ بھیجا ہے اور اس میں کہا ہے کہ : ’’اسرائیل کے عوام کے لیے یہ ایک ایسا کارٹون ہے جو انسانی تاریخ کے تاریک دور کی سیاہ صحافت کی یاد دہانی کراتا ہے ‘‘۔مسٹر ریولین نے لکھا ہے کہ :’’ایک جمہوریت پسند ہونے کے ناطے میں سیاسی تنقید کا حامی ہوں لیکن گزشتہ روز لند ن میں اس کارٹون کی اشاعت سے آزادی تقریر کی تمام سرحدیں عبور کر لی گئی ہیں اور تعصب جائز تنقید پر حاوی ہو گیا ہے ‘‘۔انہوں نے برطانوی دار العوام کے اسپیکر کے نام لکھا ہے کہ :’’اگر اسرائیل میں کسی برطانوی کا اس طرح کا کارٹون چھپتا اور اس میں برطانوی لوگوں کے جذبات مجروح کیے جاتے اور اظہار رائے کی آزادی کی سرحد عبور کی جاتی تو آپ مجھے اس کی شکایت کرنے میں کسی تردد کا مظاہرہ نہ کرتے ‘‘۔اس اسرائیلی عہدے دار نے اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا ہے کہ برطانیہ میں آج کے جدید دور میں بھی اس طرح کے کارٹون شائع کیے جا رہے ہیں ۔ان کے خیال میں اس کارٹون سے غیر صحت مندانہ رجحانات کی عکاسی ہوتی ہے ۔لیکن بائیں بازو کے رجحانات کے حامل ایک اخبار ہارٹز کے لکھاری آنشیل فیفر نے اس کارٹون پر تنقید کی مذمت کر دی ہے اور لکھا ہے کہ یہ کارٹون کسی بھی طرح یہود مخالفت کے کسی معیار پر پورا نہیں اترتا زبردستی کی معافی برطانوی اخبار میں اس کارٹون کی اشاعت سے صرف ایک روز قبل ہی ایک رکن پارلیمان کو اپنے بلاگ میں اسرائیل پر تنقید کی پاداش میں معافی مانگنا پڑگئی تھی۔برطانیہ کے لبرل ڈیموکریٹ رکن پارلیمان ڈیوڈ وارڈ نے اپنے بلاگ میں یہودیوں کے فلسطینیوں پر مظالم کو نازی جرمن کے یہود پر ڈھائے گئے ہولوکاسٹ مظالم کے مشابہ قرار دیا تھا۔فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی مظالم کی مذمت میں یہ الفاظ سامنے آنے کے ساتھ ہی ڈیوڈ پر سوشل میڈیا کی سائٹس پر کڑی تنقید شروع کر دی گئی ۔اس پر انہیں ہفتے کے روز ایک معافی نامہ جاری کرنا پڑا ۔اس میں انہوں نے لکھا کہ :’’وہ یہود پر مجموعی طور پر کوئی حملہ نہیں کرنا چاہتے تھے اور نہ کسی خاص نسل یا عقیدے کے لوگوں کو وہ نشانہ بنانا چاہتے تھے‘‘۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *