اُم الشھداء مریم فرحت کی رحلت

مریم فرحت، ایک خاتون فلسطینی پار لیمانی رکن جو اپنے معروف لقب ’’امُّ الشّہداء ‘‘ کے نام سے پہچانی جاتی تھیں ۔ پچھلے ہفتے غزہ سٹی کے ایک اسپتال میں لمبی علالت کے بعد ۶۴ سال کی عمر میں انتقال کرگئیں۔
مریم فرحت پہلی بار اس وقت توجّہ کا مرکز بنیں جب ۲۰۰۲ ئ؁ میں ان کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں وہ اپنے ۱۹ سالہ جواں بیٹے ’’محمد‘‘کی شہادت سے ایک رات پہلے اس کا ہاتھ پکڑ کر خدا سے اس کی شہادت کی التجا کرتی ہیں ۔ اور کہتی ہیں کہ کاش میرے محمدکی طرح سو بیٹے ہوتے کہ میں سب کو خدا کی راہ میں قربان کر دیتی ۔
واضح رہے کہ مریم فرحت کے دو اور بیٹے اس سے پہلے اسرائیلی غاصبوں کے خلاف جہاد میں شہید ہو چکے ہیںجبکہ ایک اور بیٹا اسرائیلی زندان کا اسیر ہے ۔ جس پر ان کا کہنا یہ تھا کہ جہاد و شہادت ہر چیز سے اوپر ہے ۔ پھر چاہے وہ ماں کی مامتا ہی کیوں نہ ہو ۔
۲۰۰۵ ئ؁میں اسرائیل کے غزہ سے انخلاء کے بعد مریم فرحت اپنے خاندان کے ہمراہ اسی جگہ آئیں جہاں ان کے بیٹے محمد نے جا م شہادت نوش کیا تھا ۔ اور باڑھ کے تار کے اس ٹکڑے کو جوان کے بیٹے محمدنے غزہ میں داخل ہونے کے لئے کاٹا تھا تلاش کر لیا اور اپنے ہمراہ لاکر اپنے گھر کی باہری دیوار پر نشانی کے طور پر آویزاں کر دیا ۔
مریم فرحت کی تحریک تنظیم حماس سے گہری و جذباتی وابستگی تھی اور اسی بنا پر وہ تین بار اسرائیلی فضائی حملہ اور ایک بار زمینی حملہ کا نشانہ بنیں۔ لیکن ہر بار کوئی گزند بھی نہ پہنچی ان میں سے زمینی حملہ تو ان کے گھر کو نشانہ بنا کر کیا گیا تھا جس میں ’’عماد عقیل‘‘ نامی ایک مجاہد شہید بھی ہوئے۔
مریم فرحت یا ’’امُّ الشّہدائ‘‘ ۲۰۰۶ئ؁ کے الیکشن میں فلسطینی پارلیمنٹ کو منتخب ہونے والی چندفلسطینی خواتین میں سے ایک تھیں۔
پچھلے ہفتہ ہوئے امُّ الشّہداء کے انتقال کے بعد ان کے جنازے میںہزاروں لوگوں نے شرکت کی جن میں حماس کے مجاہدوں کے علاوہ فلسطینی وزیر اعظم اسماعیل ہانیہ بھی موجود تھے

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *