ایک تاریخی دستاویز

پریس کونسل آف انڈیانے فیض آباد ضلع کے اکتوبر ۲۰۱۲ میں ہونے والے فرقہ وارانہ ہنگامہ کے بارے میں تحقیقات کے لیے صحافی شتیلا سنگھ پر مشتمل جو کمیشن مقرر کیا تھا اس کی رپورٹ ایسی ہے جو ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت اختیار کرے گی اور مستقبل میں مثال کے طور پر اس کی انصاف پسندی اور غیر جانب داری کے حوالے دیے جاتے رہیں گے ۔اردو اخبارات میں اس ہنگامہ کے بارے میں جو خبریں شائع ہوئی تھیں وہ پوری طرح درست ثابت ہوئیں ۔یہی نہیں کمیشن نے اپنی رپورٹ میں بعض بڑی پریشان کن باتیں بتائیں ہیں مثلاً یوپی کے ڈائریکٹر جنرل پولیس اے سی شرما کا یہ بیان کہ جب فساد پھوٹ پڑا تو انہوں نے فیض آباد کے کپتان پولیس رام یادو کو حکم دیا کہ وہ بلوائی ہجوم پر ربر کی گولیوں سے فائرنگ کریں اور آنسو گیس کے گولے استعمال کریں لیکن یادو نے اس کو نظر انداز کیا اور سیل فون کوسوئچ آف کر لیا۔اس سے زیادہ حکم عدولی کی کیا کوئی اور مثال ہو سکتی ہے۔رپورٹ یوپی حکومت کو اس سفارش کے ساتھ بھیجی گئی ہے کہ وہ اس بلوے کے بارے میں جانچ کے لیے عدالتی کمیشن مقرر کرے۔رپورٹ میں فیض آباد پولیس اسٹیشن کے اسپیشل ہاؤس افسر بھلن یادو کا یہ بیان بھی شامل کیا گیا ہے کہ فیض آباد کے اس تشدد میں کوئی سازش کار فرما تھی ۔۱۹۹۲ئ؁ میں بابری مسجد کے انہدام کے وقت اس ضلع میں کوئی فساد نہیں ہوا تھا۔کمیشن کے سامنے اپنے بیان میں بھلن یادو نے بتایا کہ درگا پوجا کے جلوس میں شامل لوگ شراب کے نشہ میں دھت تھے اور جو کچھ بھی ہوا اس کے لیے اصل ذمہ داری درگا پوجا کمیٹی کے عہدیداروں کی تھی جو جلوس میں آگے آگے چل رہے تھے۔
کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ ریاستی ایڈمنسٹریشن کے افسروں کی سیکولر اصولوں سے وابستگی میں ابتری پیدا ہوئی ہے ۔کمیشن کی سفارش ہے کہ ریاستی حکومت ایک عدالتی کمیشن مقرر کرے جو مقررہ مدت کے اندر نوکر شاہی اور پولیس میں فرقہ وارانہ رجحان پر مبنی رپورٹ پیش کرے ۔
شتیلا سنگھ کمیشن نے نام لے کر بتایا ہے کہ فساد کی سازش ردولی کے بی جے پی ممبر اسمبلی رام چندر یادو اور سابق ایم ایل اے للو سنگھ نے کی تھی ۔فساد کے لیے ذمہ دار افسروں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ دیپک اگروال ،ایڈیشنل ڈسٹریکٹ مجسٹریٹ (سٹی) شری کانت مشرا ،اے ڈی ایم امت کمار ،ڈپٹی کلیکٹر گیان پرکاش سریواستو ،ایس ڈی ایم ملکی پور کنچن رام اور سٹی مجسٹریٹ تلک دھاری سنگھ یادو۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لڑکی سے چھیڑ چھاڑ کی افواہ بے بنیاد تھی۔ فساد کرانے کے مقصد سے چھیڑ چھاڑ کی افواہ پھیلائی گئی ۔ فساد کے فوراً بعد کرفیو نافذ کرنے میں دانستہ طور پر تاخیر کی گئی اور اس میں انتظامیہ کے افسران کی تفریق آمیز ذہنیت کا ر فرما تھی ۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے کرفیو کے نفاذ کے سلسلے میں کمیشن کے سامنے جو بیان دیا تھا اس میں کہا گیا تھا کہ میری اولین ترجیح تھی کہ سڑک پر پھنس جانے والی درگا پوجا کی سیکڑوں مورتیاں سپرد آب کئے جانے کے لیے نکل جائیں ۔رپورٹ میں عنایت نگر کے تھانہ انچارج رام سروپ کمل اور پورا قلندر تھانہ کے انچارج چندر بھان یادو کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ان دونوں کا اہم عہدوں پر تقرر نہ ہونا چاہیے ۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فرقہ وارانہ تشدد سے قبل دیو کالی مندر سے جو مورتیاں چوری ہوئی تھیں اس کے بعد سے بلوے کا ماحول تیار کیا جا رہا تھا ۔ گورکھپور کے ممبرپارلیمنٹ یوگی آدتیہ ناتھ نے مورتی چوری کے لیے مسلمانوں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے فیض آباد جا کر بڑی اشتعال انگیز تقریر کی تھی ۔بعد میں جب مورتی چورپکڑے گئے تو وہ سب ہندو تھے۔اس اشتعال انگیز تقریر کا ریکارڈ اس وقت بھی درگا پوجا کے جلوس کے دوران بجایا جاتا رہا حالانکہ اس وقت مورتیاں بر آمد ہو گئی تھیں اور پتہ چل گیا تھا کہ مسلمانوں نے چوری نہیں کی تھی۔یوگی آدتیہ ناتھ کے علاوہ فیض آباد پہنچنے والے رام ولاس ویدانتی ،للن سنگھ اور رام چند یادو کی اشتعال انگیز تقریریں بھی ہوئیں تھیں۔ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔
۲۴ اکتوبر کو فساد شروع ہونے کے دو گھنٹہ کے اندر ایک سود کانیں جلائی گئیں جن میں ۹۵ مسلمانوں کی تھیں ۔بلوائیوں نے فائر بریگیڈ کو موقع پر پہنچنے سے روکا ۔بلوہ کسی ایک علاقہ تک محدود نہیں رہا تھا بلکہ اس نے پچاس کلو میٹر کے رقبہ کا احاطہ کر لیا تھا ،شتیلا سنگھ کو تحقیقات کے لیے پریس کونسل کے چیئر مین جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے نامزد کیا تھا اور اول الذکر نے جس بے لاگ انداز میں رپورٹ دی وہ اپنی مثال آپ ہے ۔فیض آباد کے فساد میں ہونے والی زیادتیوں کی طرف تیستا سیتلواڈ نے جسٹس کاٹجو کو متوجہ کیا تھا۔فساد کے دوران فیض آباد میں صحافی منظر مہدی کے دفتر پر بھی حملہ کیا گیا تھا اور اسے نقصان پہنچایا گیا تھا۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *