بنگلہ دیش : دیواستبداد،جمہوری قبا میں

بنگلہ دیش ایک آزاد اور خود مختار مسلم ملک ہے ،جو ۱۹۷۱ئ؁ تک مشرقی پاکستان کے نام سے جانا جاتا تھا ۔۱۹۷۱ء کی مشرقی پاکستان کی جنگ ایک ملک کی داخلی کشمکش تھی اس لیے اسے جنگ آزادی کا نام دینا درست نہیں ہے بلکہ اسے علیحدگی پسندی کی ایک کامیاب کوشش کہنا چاہیے۔اس وقت کے مغربی پاکستان کے حکمرانوں پرگو یہ الزام عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے ہی ملک کے دوسرے حصے کو انصاف نہ دے سکے اور اس کا استحصال کرتے رہے ۔مگر یہ کہنا درست نہیں کہ غلطیاں یک طرفہ تھیں ،ایک حصہ میں اگر مسٹر ذوالفقار علی بھٹو آپے سے باہر تھے اور ڈھاکہ میں منتخب نیشنل اسمبلی کا اجلاس بلانے کے نہ صرف مخالف تھے بلکہ اس میں شریک ہونے والے کو ٹانگیں توڑنے کی دھمکی دے رہے تھے ؛تو دوسری طرف شیخ مجیب الرحمن اور مولانا بھاشانی جیسے لیڈر بھی پوری طرح جارحانہ انداز دکھا رہے تھے اور کسی ایسے متبادل کے لیے تیار نہیں تھے جو دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔ سچائی یہ ہے کہ استعماری ملکوں کی سازش سے پاکستان کے دونوں حصوں کو تقسیم کر دیا گیا۔اور اس کے بین الاقوامی حدود اور قوانین کو اسی طرح پامال کیا گیا جس طرح مسلم دنیا کو سیاسی استحکام سے محروم کرنے کے لیے جگہ جگہ کیا جاتا ہے ۔انڈونیشیا سے مشرقی تیمور کی علیحدگی اور سوڈان کی تقسیم اس کے تازہ شواہد ہیں ۔افغانستان ،عراق اور مسلم افریقی ممالک میں بھی ظلم و بربریت کا یہ شیطانی رقص تا ہنوز جاری ہے۔اقوام متحدہ کے واسطے سے دوہرے معیار کا استعمال نہایت ڈھٹائی کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔اسرائیل نام کی غاصب صہیونی انتظامیہ آئے دن اس کے فیصلے کی خلاف ورزی کرتی رہتی ہے لیکن اس کے خلاف ایک بھی موثر قدم نہیں اٹھایا گیا ،دوسری طرف ایران پر پابندیا ں روز افزوں ہیں ۔شام کو آپس میں لڑتے رہنے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے یہ سب کچھ اسی لیے کیا جا رہا ہے کہ مسلم دنیا اس سیاسی بھٹی میں جل کر خود ہی راکھ ہو جائے جو عالمی استعمار کے ہاتھوں تیار کی گئی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بنگلہ دیش کے قیام میں بھارت کا رول ایک ایسی حقیقت ہے جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا جانتی ہے کہ پاکستانی فوج نے ڈھاکہ میں ہتھیار بھارتی فوجی جنرل کے سامنے ڈالے تھے،اگر چہ بنگلہ دیش کی جلا وطن سرکار پہلے ہی کلکتہ کے کسی ہوٹل میں قائم ہو چکی تھی ،اس کے چند سال بعد بنگلہ دیش کے ہیرو شیخ مجیب الرحمن کے قتل کاسانحہ عمل میں آیا جو اندرونی خلفشار کا مظہر تھا۔ ایک بڑی تعداد بنگلہ دیش سرکار کی پابندیوں سے غیر مطمئن بلکہ نالاں تھی اگر چہ ان حالات کو ان کے اور ان کے اہل خاندان کے قتل کے لیے وجہ جواز نہیں بنایا جا سکتا ،مگر ان حالات کو نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چالیس سال گزرنے کے بعد بھی قتل کے کسی معاملہ کا کھلی عدالت میں فیصلہ نہ ہونا، نہ ہی اس طویل عرصہ میں مظلوم بہاری ،بنگلہ دیشیوں کو انصاف ملنا جنہیںنہ پاکستان قبول کرنے کے لیے تیار ہے نہ بنگلہ دیش ۔ان معاملات میںبنگلہ دیش حکومت کا یہ رویہ تو کسی طرح معقول اور مبنی بر انصاف نہیں ٹھہرایا جا سکتا ۔آخر یہ کہاں کا انصاف اور کیسی آزادی ہے جو مظلوموں کی داد رسی اور دستگیری اور عدل و انصاف کے معروف تقاضوں سے پوری طرح عاری نظر آتی ہے۔ جنگی جرائم کی تفتیش کے نام پر جو ٹریبونل حسینہ واجد کی سرپرستی میں کام کر رہا ہے اس کا کردار نہ صرف مشکوک ہے بلکہ علانیہ طور پر غیر منصفانہ ہے ۔اس کے خلاف وہ لوگ بھی آواز اٹھا رہے ہیں جو جماعت اسلامی بنگلہ دیش اور دوسرے اسلام پسند عناصر کے دوست نہیں ہیں ۔خود ٹریبونل کے جج کا مستعفی ہونا اس کے یک طرفہ فیصلوںکے خلاف ایک دلیل کا درجہ رکھتا ہے ۔ملزمین کو اپنی صفائی کے حق سے محروم رکھنا اور اس وقت کے ملک کے شہریوں کی دفاعی کا رروائیوں کو بغاوت قرار دینا کسی طرح بھی حق بجانب نہیں سمجھا جا سکتا ۔اگر اس الٹی منطق کو قبول کر لیا جائے تو بنگلہ دیش سمیت بر صغیر کے دوسرے ملکوں کے ان فوجیوں کو کیا کہا جائے گا جنہوں نے برطانوی حکومت کا وفادار بن کر معمولی تنخواہوں کے بدلے ’سرفروشی‘ کے کارنامے انجام دیے تھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے ملک کے ان سیاستدانوںکا رویہ بھی ناقابل فہم ہے جو مسلم ملکوںمیں اسلامی تحریکات کے نفوذ اور اسلامی قوانین کے نفاذ پر چراغ پا ہو جاتے ہیں۔ کیا اس بات کی تائید کی جا سکتی ہے کہ پڑوسی ملک یہ طے کرے کہ بھارت میں فلاں پارٹی کو برسر اقتدار آنا چاہیے اگر چہ اس کو ہندوستان کے عوام کی تائید حاصل نہ ہو ؟کیا یہ درست ہے کہ منتخب شدہ حکومت کا تختہ پلٹ دیا جائے اور کٹھ پتلی حکمرانوں کی تائید کی جائے جو عوام کی پسند اور شہریوں کے بنیادی حقوق کو ناقابل التفات قرار دیتے ہوں!یہ حد درجہ افسوس کی بات ہے کہ ہمارا میڈیا بھی بنگلہ دیش کے حالات کا غلط منظر نامہ پیش کر رہا ہے ۔بنگلہ دیش کے عوام شیخ حسینہ کی یک طرفہ پالیسیوں کے خلاف احتجاج کر تے ہیں مگر برسات کے اندھے کی طرح اسے مخصوص نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔عالم اسلام میں بیداری کی حالیہ لہر کو جہادی طاقتوں کے تسلط سے تعبیر کیا جاتا ہے اگر چہ یہ سب کچھ جمہوری طریقہ اور عوام کی تائید سے ہو رہا ہے۔اس کے باوجود اسے دنیا کے لیے خطرہ باور کرانا دن کی روشنی میں سورج کے وجود سے انکار کرنا نہیں تو اور کیا ہے ۔جہاں بھی اسلامی بیداری نظر آئے اس کی مخالفت کو اپنے اوپر بلا وجہ فرض کی طرح عائد کر لینا کہاں کی معقولیت ہے ۔ہم جو حق بھی دنیا کے دوسرے ملکوں کو دینا چاہتے ہیں کم از کم وہ حقوق مسلمان ملکوں کو بھی ملنا چاہیے،بصورت دیگر پڑوسی کی دیوار گرانے کا رویہ غیر معقول ہی نہیں غیر مفید بھی ہو سکتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی عوامی لیگ کی حکومت ہو یا خالدہ ضیا کی؛ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی بر سر اقتدار آئے یا جماعت اسلامی بنگلہ دیش کو عروج حاصل ہو؛ہمارے لیے اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ وہ ہمارے ملک کی سلامتی اور آزادی کا احترام کرتی ہے یا نہیں۔اسی طرح ہمارے لیے بھی اس کی پابندی ضروری ہے کہ پڑوسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے خود کو دور رکھیں ۔پڑوسی ملک کو تنگ کرنا چانکیہ پالیسی کا تقاضہ ہو یا انگریزوں کی لڑاؤ اور حکومت کرو کا تقاضہ ہو بہر حال اسے درست نہیں کہاجا سکتا ۔ہندوستان کو بر صغیر میں جو امتیازی حیثیت حاصل ہے اس کوبر قرار رکھنے کے لیے اسے پولیس مین بننے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ایک بڑے بھائی کا کردار ادا کرنا ہوگا ۔بنگلہ دیش کے قیام میں بھارت کا جو کردار بھی رہا ہے وہ تاریخ کا حصہ ہے ،یہ صحیح نہیں ہے کہ ماضی میں اٹھائے گئے قدم کو مستقبل کے لیے بھی ضروری سمجھا جائے۔ آنجہانی جے پرکاش نارائن جیسے سیاسی لیڈر وں نے اس وقت جو سرگرمیاں انجام دیں اور مکتی باہنی کے لباس میںبھارت نے عسکری قوت کا جو کردار ادا کیا اس پر بھی غور کرنا چاہیے کہ اس حد تک جانا اصولی طور پر غلط تھا یا صحیح اور بھارت سرکار کی یہ شبیہ عالمی ضمیر کے لیے قابل قبول ہے یا نہیں ؟ان اقدامات کی تائید میں امریکہ وروس کی عالمی استعمار کی پالیسیوں کو اپنی تائید میں پیش کرنا عذرِ گناہ بدتر از گناہ کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جمہوری لباس میں حسینہ واجد کی استبدادی پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے ہمیں اطمینان ہونا چاہیے کہ اپنے سیاسی حریفوں کو خوف میںمبتلا کرنے والے حکمرانوں کی عمر زیادہ دراز نہیں ہوتی ۔مصر میں حسنی مبارک اور لیبیا میں معمر قذافی جیسے آمروں کا حشر سامنے رکھتے ہوئے حسینہ واجد کو توجہ دلانے کے لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ عوام کی مخلصانہ تائیدکے حصول کے بجائے استبدادی طور طریقوںکو اپنانے کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رہنما ؤں کے خلاف جو اقدامات عمل میں لائے جا رہے ہیں وہ ظالمانہ ہونے کے ساتھ احمقانہ بھی ہیں لہذا بنگلہ دیش کی سرکار کے لیے بھی یہی بہتر ہے کہ اس انتہاپسندانہ رویہ کو ترک کرکے اپوزیشن کے ساتھ انصاف اور عدل سے کام لے ۔کسی بھی دلیل سے اسے حزب اختلاف کے شہری اور جمہوری حقوق کو پامال کرنے کا جواز حاصل نہیں ہو سکتا ۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *