سید آصف ابراہیم آئی بی کے سربراہ! آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ایک برہمنی کوششں؟

کیا یہ ممکن ہے کہ بیگن کے پودوں میں انگور کے خوشے اگ آئیں گے یا کڑوا کسیلا کریلا شہد جیسی مٹھاس دینے لگے،یا کوئی زہریلا کو برا بجائے ڈسنے کے آپ کی بلائیں لینے لگے ۔اگر ایسا کوئی واقعہ وقوع پذیر ہوتا ہے تو یقیناًایسے واقعات کا شمارمحیر العقول واقعات میں ہوگا۔ایسا ہی ایک واقعہ بلکہ کرشمہ گزشتہ دنوں رونما ہوا جس نے کرشموں پر اعتقاد رکھنے والوں کو بھی انگشت بدنداں کر دیا ۔وہ واقعہ تھا ہندوستان کی انٹلی جنس ایجنسی IBمیں ایک مسلم افسر سید آصف ابراہیم کا بحیثیت سربراہ تقرر ۔سید آصف ابراہیم کے بطور IBچیف منتخب ہونا ایسا معمولی واقعہ نہیں جسے آسانی سے نظر انداز کر دیا جائے بلکہ اس پردۂ زنگاری کی آڑ میں بہت کچھ پوشیدہ ہونے کے امکانات صاف نظر آتے ہیں ۔کچھ عرصہ پہلے انگریزی ہفت روز Tehelkaنے بھارت کی انٹلی جنس IBپر ایک طویل تحقیقی رپورٹ شائع کی تھی کہ IBجیسی انتہائی اہم اور حساس ایجنسی میں 99%افسران کا تعلق اعلیٰ ذات کے ہندوؤں (برہمن پڑھیے)سے ہے (جب کہ آبادی کے لحاظ سے ان کا تنا سب محض تین فیصد ہے )اور اقلیتی اقوام سے تعلق رکھنے والا کوئی افسر شاذ و نادر ہی نظر آتا ہے ۔اس کے بعد امریکہ میں کئی بر س رہائش پذیر ریسرچ اسکالر اور Khaki and Ethnic Violence in Indiaکے نامور مصنف اور مؤرخ مرحوم عمرخالدی نے اپنی کتاب میں تیستا سیتلواد کے انگریزی جریدے Communal Combatکے حوالے سے لکھا تھا کہ اس 125سالہ قدیم ایجنسی میں ایک غیر تحریری معاہدہ کے تحت مسلمانوں کے انتخاب سے دیدہ دانستہ گریز کیا جاتا رہا ہے۔عمر خالدی نے کتاب کی تدوین و ترتیب کے دوران اس وقت کے CBIڈائریکٹر آر-کے -راگھون سے بھی بذریعہ میل استفسار کیا تھا اور آر کے راگھون نے انہیں اطلاع دی تھی کہ IBاور RAWمیں کہیں کہیں مسلم افسران بہر حال موجود ہیں۔یہ وہی آر کے راگھون ہیں جنہوں گجرات قتل عام میں نریندر مودی کو کلین چیٹ دی تھی۔عمر خالدی نے انتہائی کوشش اور تگ و دو کے بعد ایسے دو افسران کا پتہ لگایا تھاجو IBمیں تھے ۔ایک جاوید گیلانی اور دوسرے سید آصف ابراہیم۔دلچسپ بات البتہ یہ ہے کہ دونوں ہی افسران کو بابری مسجد انہدام کے بعد IBمیں لیا گیا تھا ،مگر اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات جو آپ کو ورطۂ حیرت میں ڈال دے گی وہ یہ کہ چند سال پیشتر دو سگے برہمن بھائی ’ویدہ برادران‘بیک وقت IBاور آر ایس ایس کے سربراہ رہے ہیں اور پورے ملک میں کسی کویہ جرأت نہ ہو سکی کہ وہ ان دو بھائیوں سے پوچھ سکے کہ ہندوستان کی انتہائی حساس اور معتبر(؟) ایجنسی کے سربراہ کا سگا بھائی آر ایس ایس جیسی انتہائی فرقہ پرست تنظیم کا سربراہ کس طرح ہو سکتا ہے ؟ ابھی ایک سال قبل بنگلور کے ایک سبکدوش IBافسر آر این کلکرنی جو خیر سے خود بھی برہمن ہیں ،نے کرناٹک ہائی کورٹ میں ایک PIL(عرض داشت برائے مفاد عامہ)داخل کی تھی اور عدالت عالیہ سے سوال کیا تھا کہ IBکی دستوری حیثیت واضح کی جائے ۔کلکرنی کے مطابق IBکو انگریزوں کے زمانے میں ایک محدود مشن کے تحت قائم کیا گیا تھااور اس کے بعد آج تک وہ کسی بھی دستوری ادارے یہاں تک کہ پارلیمنٹ کو بھی براہ راست جواب دہ نہیں رہی ہے۔کلکرنی کی PILمیں جس کی خبر انگریزی روزنامہ ’ٹائمز آف انڈیا‘میں شائع ہوئی تھی حیرت انگیز سوال یہ کیا گیا تھا کہ ایک ایسی ایجنسی جو انگریزوں کے زمانے میں قائم کی گئی تھی اور آزادی کے بعد 1956میں دستور کے نفاذ کے بعد بھی بغیر کسی دستوری حیثیت کس طرح کام کرتی رہی ۔اسی پر بس نہیں ابھی چند دنوں قبل سپرم کورٹ کے معروف وکیل اور انا ہزارے ٹیم کے سرگرم رکن پرشانت بھوشن نے بھی سپرم کورٹ میں ایک عرض داشت برائے مفاد عامہ (PIL)داخل کر کے IBکی دستوری حیثیت پر سوال کھڑا کر دیا ہے ۔بھوشن کے مطابق دنیا کی تمام خفیہ اور انٹلی جنس ایجنسیاں بشمول امریکہ کی CIAاور اسرائیل کی موساد وغیرہ اپنے اپنے ملک کی پارلیمنٹ کو جواب دہ ہیں ۔صرف IBدنیا کی وہ واحد ایجنسی ہے جو کسی کو جواب دہ نہیں بلکہ جس کی ہر کارکردگی اور رپورٹ کو Gospel Truthکا درجہ حاصل ہے۔بھوشن نے محض IBہی نہیں بلکہ RAWکی دستوری حیثیت پر بھی سوال کھڑا کر دیا ہے ۔مگر سب سے زیادہ حیرت انگیز بلکہ خوف ناک وہ الزام ہے جو ایس ایم مشرف نے اپنی شہرہ آفاق کتاب Who Killed Karkareمیں IBپر عائد کیا ہے اور وہ یہ کہ انٹلی جنس کی آڑ میں IBہی حقیقی چہرہ ہے اور یہ کہ IBہی نے ہیمنت کرکرے کو راستے سے ہٹانے کے لیے ابھینو بھارت کی مدد سے 26/11جیسے ہولناک واقعہ کو اسٹیج کیا تھا

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *