قادیانیوں کا میڈیا مشن

عالمی میڈیا خاص طور سے ہندوستان کی انگریز ی اور ہندی میڈیا میں یہ تاثر برابر دیا جا رہا ہے کہ مسلمان اپنی اقلیت قادیانیوں کے ساتھ ظالمانہ اور وحشیانہ رویہ رکھتے ہیں کہیں کہیں ہونے والے ایسے واقعات کو سامنے لاکر قومی بالخصوص انگریزی میڈیا مسلمانوں پر خوب لعن و طعن کرتی ہے، ماہ جولائی ۲۰۰۸ کے شمارے میں تہلکہ میگزین نے حیدرآباد کی قادیانی بستی سمیت پوری دنیا میں قادیانیوں پر اقلیتوں کی اقلیت کے نام سے ایک اسپیشل اسٹوری میں قادیانیوں پر ہورہے مظالم پر تفصیلی روشنی ڈالی تھی، اسی طرح دہلی میں جب قادیانی سے جڑے ایک ادارہ نے قرآن کی نمائش تقریب منعقد کی تو مسلمانوں کے ذریعہ اس کے خلاف احتجاج کو انگریزی میڈیا نے الگ ہی طرح سے پینٹ کیا اور اس عمل کو گھناؤنا قرار دینے میں خود جیوری اور جج بن گئی، ابھی حال ہی میں امریکہ کی سکریٹری برائے خارجہ امور سے اپنی ملاقات میں قادیانیوں کے موجودہ خلیفہ مرزا مسرور نے ایک میمورنڈم پیش کر کے شکایت کی کہ مسلمان ان کا وجود ختم کر دینا چاہتے ہیں ،اس لیے وہ ان کی مدد کے لیے سامنے آئیں ،امریکہ نے یقین دہائی کرائی کہ وہ قادیانیوں کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے ،اس نے فوری طور سے پاکستان کو ہدایت دی کہ وہ اپنی اقلیت کی شکایتوںکا ازالہ کرے، یہ عجیب بات ہے کہ اس کے فوری بعد سی این این پر قادیانیوں کے خلیفہ نے انٹرویو میں مسلم ممالک کے سربراہوں کو خوب کوستے ہوئے اپنی مظلومیت کی تفصیلی داستان سنائی ۔قادیانیوں کے ذریعہ اس طرح کی بڑھتی سرگرمیوں کے مد نظر گزشتہ ماہ سعودی عرب میں علماء اور دانشوروں کی ایک میٹینگ میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا کہ قادیانی اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ یک جہتی کا برملا اظہار کرنے لگے ہیں اور یہ باور کرانے لگے ہیں کہ مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ (شاید وہ خود کو بڑا طبقہ مانتے ہوں) اسرائیل اور امریکہ سے دوستی کا خواہاں ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ فلسطین کے چند باریش مسلم نما چہرے بھی اسرائیل سے ہمدردی کا اظہار کر رہے ہیں ،جب کہ یہ سب کے سب قادیانی ہیں۔
قادیانیوں کے ایک مجلّے کے مطابق روزانہ یک سے زائد شخص ہندوستان کے میٹرو شہروں میں قادیانیت کی طرف مائل ہو رہے ہیں ۔خود دہلی میں قادیانی کبھی شہر کی صفائی تو کبھی پمفلٹ بانٹنے کے نام پر بھیڑ بھڑاک والے مقامات پر نظر آتے ہیں اور با ضابطہ ٹوپی، داڑھی رکھ کر مسلم علماء کی شکل میں رہتے ہیں ۔قادیانیوں کی سرکوبی کے لیے جو ادارے ہیں وہ زیادہ فعال نہیں ہیں ،اس جانب دہلی میں مختلف طبقات کے علماء کی زیادہ دلچسپی نظر نہیں آتی اور نہ ہی ان کی جانب سے کوئی شعبہ اس کے خلاف صف بند ہے ،ہاں دیوبند سے جڑا ہوا ادارہ مجلس احرار الاسلام لدھیانہ اور مولانا اسعد مدنی ؒ سابق صدر جمعیۃ علماء ہند کی توجہ سے دیوبند کے ذریعہ قائم شعبہ ختم نبوت کی کبھی کبھار سرگرمی نظر آتی ہے جس کی سرگرمیاں کافی محدود ہیں ۔میڈیا کے معاملے میں مسلم اداروں کی جد و جہد صفر کے برابر ہے ۔دہلی میں قرآن کی نمائش کے موقع پر انگریزی اور ہندی میڈیا کی منفی رپورٹنگ کے سامنے بے بسی نے اس حقیقت کو واشگاف کر دیا ہے ۔ ایسے واقعات کے سلسلے میں قومی میڈیا کی رپورٹنگ سے اصلی صورت حال پس منظر میں چلی جاتی ہے اور صرف یہ سامنے آتا ہے کہ مسلمانوں کا رویہ ظالمانہ ہے ،حالانکہ کوشش ہونی چاہیے کہ قومی میڈیا کے سامنے یہ بات موثر طریقے سے رکھی جائے کہ ان کے شیطانی ارادے کیا ہیں اور وہ آخر مسلمانوں میں اس قدر مطعون کیوں ہیں ۔اصل مسئلہ مسلم موقف سے کسی کے ہٹنے کا نہیں ہے بلکہ دجل و فریب کا ہے ۔عام طور سے انگریزی میڈیا میں سمجھا جاتا ہے کہ اگر کوئی آپ سے اختلاف کر تا ہے تو آپ اسے کیوں ختم کر دینا چاہتے ہیں ؟جب کہ معاملہ صرف اختلاف کا نہیں بلکہ اختلاف کے باوجود اپنا اصلی چہرہ چھپا کر اسلام کے لبادہ میں کفر کی تقسیم ہے۔قومی میڈیا کے سامنے اس کے علاوہ اس حقیقت کو بھی پیش کرنا چاہیے کہ قادیانیوں کی سرگرمیاں ملک و وطن کے لیے بھی نقصان دہ ہیں خود ملک کے معمار اولین جواہر لعل نہرو نے ایک بار قادیانیوں کو ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا،ایسا نہیں ہے کہ معمار قوم نے آئے گئے میں یہ بات کہہ دی ہو بلکہ اس کے پس منظر میں شواہد کے علاوہ قادیانی کا ماضی میں انگریزوں کے ساتھ بد نماکردار بھی تھا،خود مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ’شہادۃ القرآن ‘میں انگریزوں کی وفاداری پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ :’’۱۸۵۷ء میں جو کچھ فساد ہوا اس میں بجز جہلا اور بد چلن لوگوں کے اور کوئی شائشتہ اور نیک بخت مسلمان جو با علم اور باتمیز تھا ہر گز مفسدہ میں شامل نہیں ہوا بلکہ پنجاب میں بھی غریب مسلمانوں نے سرکار انگریزی کو اپنی طاقت سے زیادہ مدد دی چنانچہ ہمارے دادا صاحب مرحوم نے بھی با وصف کم استطاعی کے اپنے اخلاص اور جوش اور خیر خواہی سے پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر کے پچاس مضبوط اور لائق سپاہی بہم پہنچا کر سرکار میں بطور مدد کے نذر کیے اور اپنی غریبانہ حالت سے بڑھ کر خیر خواہی دکھلائی اور جو مسلمان صاحب دولت تھے انہوں نے تو بڑی خدمات نمایاں ادا کیں‘‘۔(حاشیۃ شہادۃالقرآن ،خزائن ص ۳۸۸،۳۸۹؍ج۶)۔
ماضی کے آئینے میں اگر حال کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ قادیانیوں نے فراڈ اور دھوکہ دہی کا ہر طرف بازار گرم کر رکھا ہے ،مسلمان اور اسلام کی شکل میں شعائر اسلام کا استعمال کر کے مسلمانوں کو مسلسل گمراہ کیا جارہا ہے ،اہل اسلام کا اصل اعترا ض بھی یہی ہے کہ قادیانیوں کو اسلام کے شعائر اور ٹائٹل کا استعمال ترک کر دینا چاہیے ،جب اس نے دین اسلام کو ترک کر دیا ہے اور دوسرے کو نبی مان کر اس نبی کا دین پھیلا رہا ہے تو اس کو اسلام کی خاص علامتوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی ،یہ تو ایک عالمی مذہب اور اس کے جڑے ہوئے اربوں لوگوں کا معاملہ ہے ورنہ تو چھوٹی چھوٹی کمپنیاں بھی اس کی اجازت نہیں دے سکتیں کہ ان کے ٹائٹل کا استعمال کر کے کوئی دو نمبر کا مال فروخت کرے ،اسی طرح دین قادیان کو ماننے والے کو شریعت محمدی کی آڑ میں دینی استحصال اور کفر کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ،یہ اسلام اور پیغمبر اسلام کی توہین و تذلیل ہے ۔یہ سوال اٹھانا بھی ضروری ہے کہ قادیانی اور مسلمانوں کے مرکزی پیرو کار ایک نہیں ہیں ۔قادیانی غلام احمد قادیانی کو اپنا مرکزی اور الہامی پیشوا مانتے ہیں جب کہ مسلمان متفقہ طور سے رسول اکرم ﷺ کو نبی آخر اور اپنا پیغمبر مانتے ہیں اور اس میں کسی قسم کی مصالحت روا نہیں رکھتے ۔
انگریزی میڈیا اور ڈاکٹر راجندر سچر جیسے با شعور شہری کو یہ قائل کرانا ضروری ہے کہ قادیانیت ایک عالمی فتنہ ہے جس کا مقصداسلام اور مذہب اسلام پر مسلسل وار کر کے اس کی اخلاقی اور مذہبی حیثیت کومنتشر اور اس کے ماننے والوں کو تشکیک میں مبتلا کرنا ہے ،دوسری طرف مذہب اسلام سے لوگوں کو برگشتہ کرنے اور پیغمبر اسلام کی عظمت اور عقیدت کو دلوں سے نکالنے کے لیے ان کے مقابل اور ہم پلہ بنا کر دوسرے شخص کوکھڑا کر کے اہانت رسول کرنے والوں کوراحت دینا بھی ہے ۔آج مرزائیوں کا سربراہ لندن میں رہ رہا ہے،کیا یہ خود شبہ پیدا کرنے والا نہیں ہے کہ کسی گروہ کی قیادت باہر ملک میں بیٹھا شخص کر رہا ہے ،نہ جانے وہاں سے کیا ہدایت جاری کرتا ہے اور اس کی کن گروہوں اور ملک دشمن عناصر سے ملاقات اور رشتہ قائم ہو؟
جس طرح اسرائیل سے قادیانیوں کے مراسم ہیں اس سے اس بات کو مزید تقویت ملتی ہے ،قومی میڈیا حالات کے ایک رخ کو سمجھ رہی ہے جب کہ اسے قادیان کی اس سچائی سے بھی واقف ہونا چاہیے کہ خود قصبہ قادیان میں اہل اسلام کی ایک خاصی تعداد آباد تھی جن کو نیست و نابود کر کے اس کی ساری جائدادوں پر قبضہ کر لیا۔قادیانی جتنے مظالم مسلمانوں پر اپنے علاقوں میں کرتے ہیں مسلمان اس کا ایک حصہ بھی ان پر نہیں کرتا ہے ،تاہم جس قدر بھی تشددہوتا ہے ہم اس کے خلاف ہیں اور مسلمانوں کا سنجیدہ طبقہ اسے پسند نہیں کرتا ہے۔بار بار آئین ہند میں مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کے حق کا مسئلہ سامنے لایا جاتا ہے ،مسلمان خود ہی یہ مطالبہ کرتے رہتے ہیں کہ ان کو آئین میں حاصل آزادی کے مطابق اپنے مذہب پر چلنے دیا جائے، یہاں معاملہ مذہب پر عمل کا نہیں ہے بلکہ دھوکہ اور فراڈ کا ہے ۔ اسلام جیسے پاکیزہ مذہب کی فوٹو کاپی کر کے اس کی آڑ میں گورکھ دھندہ اور زندیقیت کا معاملہ چار سو بیسی کے تحت آتا ہے ،اس لیے اس دفعہ کے تحت اس کے خلاف چالان کرنے کی ضرورت ہے ۔قومی میڈیا کو مسلمانوں کے درد اور ان کی تکلیف کا بھی احساس کرنا چاہیے اور فراڈ کے کاروبار پر قدغن لگانے کے لیے سچ کا ساتھ دینا چاہیے۔(جدید میل)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *