قیادت نامہ

[ یہ مقالہ اردو کے مشہور صحافی جناب عالم نقوی صاحب نے ایک جلسہ میں پڑھا تھا۔ اس کی افادیت کی طرف برادربزرگ جناب ابراہیم خلیل عابدی ؔ نے توجہ دلائی۔ بلکہ کمال توجہ سے ٹائپ شدہ مواد ای میل کیا۔ واقعہ یہ ہے کہ قحط الرجال کے اس دور میں اس طرح کے مضامین ایک مہمیز سے کم نہیں۔ ہم قارئین کی افادیت اور اس پر اظہارِ خیال کے دوگونہ مقاصد سے وحدت جدید میں اسے شائع کررہے ہیں]

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ و السلام علیٰ سیّد الانبیاء والمرسلین وعلیٰ آلہٖ و صحبہ اجمعین اما بعد فقد قال اللہ تعالیٰ فی کتابہ المبین اِنَّ اللہ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْامَا بِاَنْفُسِھِمْ ط وَقال اللہ تعالیٰ ذالِکَ بِاَنَّ اللہ لَمْ یکُ مُغَیّراً نِّعْمَۃً اَنْعَمَھاَ عَلیٰ قَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوامَا بِاَنفُسِھَمْ ہ صدق اللہ العظیم وصدق رسولہ الکریم۔ ربِّ اشْرَحْ لیِ صَدْرِی ہ وَیَسِّرْلیِٓ اَمْرِیْ ہ وَاحْلُلْ عُقْدَۃً مِّنْ لِّسانیِ ہ یَفْقَھُوْا قَوْلیِ ہ وَرَبِّ زِدْنیِ عِلْماً وَّرَبِّ ھَبْ لیِ حُکْمَاً وَّاَلْحِقْنیِ بِالصّٰلِحینَ ہ
’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ قوم خود اپنے آپ کو نہیں بدل دیتی ۔ اور جب اللہ کسی قوم کی شامت لانے کا فیصلہ کرلے تو پھر وہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی۔ نہ اللہ کے مقابلے میں ایسی قوم کا کوئی حامی و مدد گار ہو سکتا ہے‘‘(سورۂ رعد۔13)
’’یہ وہ جزا ہے جس کا سامان تمہارے اپنے ہاتھوں نے پیشگی مہیا کر رکھا تھا۔ ورنہ اللہ تو اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ یہ معاملہ ان کے ساتھ اسی طرح پیش آیا جس طرح آل فرعون اور ان سے پہلے کے دوسرے لوگوں کے ساتھ پیش آتا رہا ہے کہ انھوں نے اللہ کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑ لیا۔ اللہ قوت رکھتا ہے اور سخت سزادینے والا ہے۔ یہ اللہ کی اس سنّت کے مطابق ہے کہ وہ کسی نعمت کو جو اس نے کسی قوم کو عطا کی ہو ا س وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ قوم خود اپنے طرز عمل کو بدل نہیں دیتی اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے‘‘(الانفال آیات51تا53)
’’اللہ کا یہ طریقہ نہیں کہ ایمان لانے والوں کو اسی حالت میں رہنے دے کہ جس پر تم لوگ ہو(کہ مومن اور منافق سب خلط ملط ہیں) وہ نہ مانے گا جب تک کہ کھوٹے کو کھرے سے الگ نہ کردے‘‘(آل عمران 179) ’’اور کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہہ دینے پر کہ ہم ایمان لائے چھوڑ دیے جائیں گے اور انھیں آزمائش کی بھٹی میں تپایا نہ جائے گا۔ حالانکہ ان سے پہلے جو گزر چکے ہیں(یعنی جنھوں نے ایمان لانے کا دعویٰ کیا ہے)وہ ضرور تپائے گئے ہیں۔ اللہ یہ ضرور دیکھے گا کہ سچے کون ہیں اور جھوٹے کون؟‘‘(عنکبوت ایک تا4)’’اور کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں یونہی داخل کر دیے جاؤگے حالانکہ ابھی تو تمہارے اوپر وہ کیفیت گزری ہی نہیں جو تم سے پہلے ایمان لانے والوں پر گزرچکی ہے کہ ان پر سختیاں آئیں اور وہ ہلامارے گئے یہاں تک کہ رسول اور اس کے ساتھ اہل ایمان چیخ اٹھے کہ مَتٰی نَصْرُاللہ؟ اللہ کی مدد کب آئے گی؟‘‘(بقرہ آیت 214)
’’اور کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم سستے چھوڑ دیے جاؤگے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میںسے کون ایسے ہیں جنھوں نے جدو جہد کا حق ادا کیا اور اللہ اور اس کے رسول کے سوا کسی کو اپنا ولی اور سرپرست نہیں بنایا‘‘(توبہ آیت 16)
’’اور لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے مگر جب اللہ کی راہ میں انھیں ستایا گیاتو انسانوں کی ایذا سے ایسے ڈرے جیسا کہ صرف اللہ کے عذاب سے ڈرنا چاہیے۔ حالانکہ اگر تیرے رب کی طرف سے فتح نصیب ہوجائے تو یہی لوگ آکر کہیں گے کہ ہم تو تمہارے ہی ساتھ تھے۔ تو کیا اللہ دنیا والوں کے دلوں سے واقف نہیں ہے؟ اللہ تویہ ضرور دیکھے گا کہ تم میں سے ایمان دار کون ہیں اور منافق کون؟‘‘(عنکبوت آیات دس گیارہ)
’’ہم تو ضرور تم کو خطرات اور فاقوں اور جان و مال اور کمائی(آمدنی) کے نقصانات سے آزمائیں گے۔اور کامیابی کی بشارت دے دیجیئے اُن مُستقل مزاج لوگوں کو جنھوں نے ہر مصیبت کی آمد پر کہا کہ ہم تو اللہ ہی کے ہیں اور بالآخر اُسی کی طرف پلٹ کر جانا بھی ہے‘‘ ایسے لوگوں پر ان کے رب کی طرف سے مہربانیاں ہیں اور رحمت ہے اور یہی لوگ راہ راست پانے والے ہیں‘‘(بقرہ آیات 155تا 157)
’’اور اللہ چاہتا تو خود اُن سے (یعنی اللہ اور اس کے دین اور اس کے پیغمبروں کے دشمنوں سے) نمٹ لیتا مگر وہ تو چاہتا ہے کہ تم کو ایک دوسرے کے ذریعے سے آزمائے(سورہ محمد آیت 4)
میں نے سورہ انفال کی آیت 53اور سورہ رعد کی آیت 13کی تلاوت کا شرف حاصل کیا لیکن ترجمہ میں نے ان کے علاوہ دیگر متعلقہ آیات کا بھی آپ کے گوش گزار کیا جن میں بالترتیب سورہ آل عمران کی آیت 179،سورہ عنکبوت کی آیت ایک تا چار،سورہ بقرہ کی آیت 214سورہ توبہ کی آیت 16سورۂ عنکبوت کی آیات دس تا گیارہ،سورہ بقرہ کی آیات 155تا157، اور سورہ محمد کی آیت چار شامل ہیں۔ تاکہ صورت حال کی نزاکت پوری طرح واضح ہو جائے۔
اَسّی بیاسی برس قبل علامہ شبلی نعمانی نے ملت مرحومہ کا نقشہ ان لفظوں میں کھینچا تھا کہ ؎
ہمیں احساس تک ہوتا نہیں اپنی تباہی کا
کہ سب پیش نظر اسلاف کی وہ شوکت و شاں ہے
ہماری کلفتیں سب دور ہوجاتی ہیں یہ سن کر
کہ دنیا آج تک اسلاف کی ممنونِ احساں ہے
مزے لیتے ہیں پہروں تک کسی سے جب یہ سنتے ہیں
کہ یورپ دولتِ عباس کا اب تک ثنا خواں ہے
نہیں رہنے کو یاں گھر تک مگر چرچے یہ رہتے ہیں
کہ اب تک قصر حمراء قبلہ گاہ رَہ نَوَرْداں ہے
نظرآتے ہیں ہم کو عیب اپنے خوبیاں بن کر
ہم اپنے جہل کو بھی یہ سمجھتے ہیں کہ عرفاں ہے!
اور آج اکیسویں صدی کا شاعر محمد مجاہد سیّد ہماری قیادت کا مرثیہ یوں لکھ رہا ہے کہ ؎
ہماری ہر حقیقت کو فسانہ لکھ رہا ہے
عجب تاریخ ہے جس کو زمانہ لکھ رہا ہے
ہمارے شیر اب دشمن کے تلوے چاٹتے ہیں
وہ راتب کی طرح جو آب و دانہ لکھ رہا ہے
قصیدے لشکر اعدا کے گائے جارہے ہیں
ہمارے عہد کا شاعر ترانہ لکھ رہا ہے
میں اپنے ہاتھ کی شمشیر ہی سے معتبر تھا
وہ میری ہر قسم کو اب بہانہ لکھ رہاہے
اور ہمارے اور ہماری قیادت کے یہ مختلف مرثیے بھی مجاہد سیّد ہی کے ہیں کہ ؎
جو کبھی لشکر دشمن کی خبرلیتا تھا
آج وہ شہر سے خود اپنے پریشاں نکلا
وہ جس کے واسطے کھولے گئے دنیا کے دروازے
وہ اپنے حال سے ہو بے خبر، اچھا نہیں لگتا
فخر سپہر تیری خاک جس کے طُفَیل تھی کبھی
کون اُڑاکے لے گیا تیرا وہ رازِ کائنات؟
زہر نے کس کے بے اثر کر دیا تیرے باغ کو؟
کیا تجھے یاد ہے ابھی رونقِ کابل و ہرات؟
مرے بغداد و بصرہ لٹ چکے ہیں
بھٹکتے ہیں سپاہی خوار میرے
دستار سب کے سرپہ جورکھتے تھے ایسے لوگ
اس شہر بے وقار میں خود صرف ہوگئے
ہماری موجودہ قیادت بے فیض بے وقعت اور منتشر ہے۔ ملت کو بالعموم اس سے کوئی فیض نہیں پہنچتا۔ وہ صرف اپنی ذات اور اپنے اقربا کو فیض پہنچاتی رہتی ہے۔ وہ بھی دنیا میں ختم ہو جانے والافیض ،آخرت کا وہاں بھی کوئی تصور نہیں۔
حکمرانوں کے نزدیک یہ قیادت اس لیے بے وقعت ہے کہ ملت مسلمہ پر ان کا کوئی اثر نہیں۔ ملّت کو اپنے ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت اُن میں سر ے سے مفقود ہے۔ وہ صرف ’’بھیڑ‘‘اکٹھا کر سکتی ہے اور صرف بھیڑ ہی کو ساتھ لے کر چل سکتی ہے۔ لیکن آپ جانتے ہیں منضبطDeciplinedگروہ او رصف بستہ جماعت اور ان کے قائد و رہبر چیزے دیگر اند!
منتشر ہونے کا معاملہ تو بالکل صاف ہے ۔ مسلکوں فرقوں اور مختلف سیاسی پارٹیوں کی وفاداریوں میں بٹی ہوئی ملت کی قیادت بھی ویسی ہی ہے۔ ملّت اُمّت علم حکمت اور دین نہ مسلم عوام کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ نہ قائدین کی، اور اگرکہیںہے بھی تو آخری درجے میں محض برائے نام۔ عمل سے جس کا کوئی واسطہ نہیں۔
ان ہی بے فیض بے وقعت اور بے ضمیر قائدین میں سے کچھ کی گردنوں میں حکومتوں اور انتظامیہ کے قلادے پڑے ہوئے ہیں۔ لہٰذا ان کے عزائم اورمفادات کا محور ان کی اپنی ذات کے سوا اور کوئی نہیں ہوتا۔ مذہب اور مسلک کے نام پر قیادت کی دوکانیں چلانے والے لوگوں کا بھی دین اور دینی مفادات سے کوئی لینا دینا نہیں۔ دین ان کے لیے یا تو ایک دھوکے کی ٹٹّی ہوتا ہے یا پھر محض دنیا کمانے کا ایک وسیلہ۔
کچھ اردو اخبارات کے مطابق گزشتہ دنوں جناب کے رحمن خان نے کچھ مسلم لیڈروں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ اعتراف کیا کہ’’ملک میں آج مسلمانوں کی حالت زار کے لیے مسلم لیڈران ہی ذمہ دار ہیں جو اقتدار کے ایوان میں پہنچنے کے بعد اپنی اصل ذمہ داریوں کو بھول جاتے ہیں اور اپنے ذاتی مفادات کو عزیز رکھتے ہیں۔ صرف آج ہی نہیں گزشتہ ساٹھ پینسٹھ برسوں سے یہی ہورہا ہے۔‘‘ اس بیان کے ایک فقرے ’’ایوان اقتدار میں پہنچنے کے بعد‘‘سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا اشارہ صرف اُن مسلم سیاسی لیڈروں کی طرف ہے جو مختلف سیاسی پارٹیوں کے پلیٹ فارموں سے منتخب ہو کر یا نامزد ہوکر مختلف ایوان ہائے قانون ساز میں پہنچتے رہے ہیں اور اس کے بعد ملی مفادات کو فراموش کرکے انھوں نے صرف اپنا بھلا کیا ہے۔ یہ فقرہ نہ ہوتاتو جناب کے رحمان خان کا مذکورہ بیان پوری مسلم قیادت کو محیط ہوتا اور اس صورت میں بھی اتنا ہی صحیح ہوتا۔ لیکن جس مخصوص سیاق و سباق میں انہوں نے یہ ’’اعتراف حقیقت‘‘ فرمایا اس کا کوئی فائدہ برآمد ہونے والا نہیں۔ کیونکہ ایک کانگریسی لیڈر کی حیثیت سے اس بیان کا مقصد صر ف کانگریس کے مسلم ووٹ بینک کی مضبوطی کا اندازہ لگانا ہے۔ لہٰذا اس کا ایک مطلب یہ بھی نکلتا ہے کہ وہ خوداپنے آپ کو اور اپنے ساتھ کانگریس ہی کے دوسرے مسلم لیڈروں کو اپنے متذکرہ بالا بیان سے مُبَرّا سمجھتے ہیں۔ ! لہٰذا ان کا یہ ’اعتراف حق،ایک بے روح اور کھوکھلابیان ہے ۔ دوسرے لفظوں میں اس نام نہاد حق گوئی کی حیثیت مسلمانوں کے جذباتی استحصال سے زیادہ اور کچھ نہیں رہ جاتی
کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پوچھا’’دنیا کی ترتیب کب بگڑتی ہے؟‘‘آپؐ نے فرمایا’’انسان محبت کے لیے ہوتے ہیں اور چیزیں(اشیائ) استعمال کے لیے۔ لیکن لوگ انسانوں کو استعمال کرنا شروع کردیتے ہیں اور چیزوں سے محبت کرنے لگتے ہیں تو دنیا کی ترتیب میں بگاڑ آجاتا ہے۔‘‘
آج فی الواقع ہماری ترتیب بگڑ چکی ہے۔ ہم نے انسانوں کو ’’استعمال کرنا‘‘ شروع کردیا ہے جواب’’استحصال کرنے‘‘ کی حد تک پہنچ چکا ہے اور اشیاء (چیزوں ) سے ہم جنون کی حد تک محبت کرنے لگے ہیں۔ آج ہمارے قائدین کرام کھلم کھلا عوام کے جذبات بالخصوص دینی و ملی جذبات کا استعمال بلکہ استحصال کرتے ہیں۔ ممبئی سے حیدر آباد تک اور دہلی سے لکھنؤ تک ہمارے سیاسی اور مذہبی قائدین یہی کھیل کھیل رہے ہیں۔ ہمارے لیڈر عوام یعنی انسانوں کے بجائے کرسیوں، عہدوں، اقتدار، طاقت، دولت ، اسٹے ٹس اور وی آئی پی سیکوریٹی سے محبت کرنے لگے ہیں اور ان سب کے حصول کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ بقول علی شریعتی قائدین کی ساری بھاگ دوڑ خواستن اور داشتن کے لیے رہ گئی ہے۔ یعنی اقتدار اور دولت کی خواہش اور جب بلّی کے بھاگوں قوت و اَمارت کا چھیکا ٹوٹ جائے تو بہر قیمت اسے ہمیشہ کے لیے اپنے قبضے اور اپنے تصرف میں رکھنے کی کوشش۔ لیڈروں کی زندگی میں ان دو کے سوا اور کوئی تیسرا کام نہیں رہ گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب اتنی بڑی اور بنیادی چیزوں کی ترتیب بگڑجائے، استعمال کی جگہ محبت لے لے اور محبت و خیر خواہی کی جگہ استعمال واستحصال کو دے دی جائے تو قوم، ملک اور ملت کی ترتیب کیسے درست رہ سکتی ہے؟الغرض ہماری موجودہ قیادت کی اکثریت یعنی ان کی کم از کم 95فی صد تعداد قوتاًPotentiallyاور حقیقتاًActuallyبھی بے بصیرتVisionless ،بیدماغ Mindless ،ناتواں Impotent ،عاجز Incapacitated،بے اثرIneffectual،بے عصمتIntegrity Less، طُفَیلیParasiticاور ناقابل اعتمادUnfaithfulہو چکی ہیـ:
عشق اب ہم سے یہاں کار دگر چاہتا ہے
یعنی اب کارجنوں طشت میں سر چاہتا ہے!
لیکن سوال یہ ہے کہ اب کیا کیا جائے؟
ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے توبیٹھے نہیں رہ سکتے کہ بس، جو ہوتا ہے ہونے دیں اور زیادہ سے زیادہ یہ کریںکہ خود Detatchکرلیں لیکن ظاہر ہے کہ شترمرغ کا یہ رویہ ان مصیبتوں کو ٹال نہیں سکتا جو یا تو نازل ہو چکی ہیں یا بس آنے ہی والی ہیں۔ لیکن اس کے یہ معنی بھی نہیں کہ نااہل قیادت کے سوراخ سے خود کو باربار ڈسواتے رہنے کی تاریخ ہم پھر دہرائیں۔ کچھ تو حل نکالنا ہی ہوگا۔ سر اُٹھاکر جینے کا ہنر سیکھنا ہی ہوگا۔ ویسے بھی حکمت مومن کا گم شدہ خزانہ ہے جہاں سے ملے لے لینا چاہیے۔ ہمارا دین تو اللہ کا پسندیدہ دین ہے۔ ہماری کتاب قرآن حکیم تو حکمت اور دانائی سے پُر ہے اور اُس کی تعلیم خود اللہ کے نبیؐ نے دی ہے جو علم و حکمت کے شہر ہیں۔ توپھر ہم مایوس کیوں ہوں؟ مرض کی صحیح تشخیص ہو جائے تو علاج مشکل نہیں رہ جاتا۔ مانا کہ حالات نے ہمیں ایک اندھی سُرنگ میں ڈھکیل دیا ہے لیکن ہمارے اہل ہمت تھک کے بیٹھے تو نہیں۔ گھِسٹ گھسِٹ ہی کے سہی وہ آگے بڑھتے رہنے کی کوشش تو کر ہی رہے ہیں۔ اِسی لیے آج ہم کم از کم اس مقام پر تو ہیں جہاں سے سرنگ کے دوسرے سرے پر روشنی کا نقطہ ہمیں نظرآنے لگا ہے۔ اور چونکہ ہم رُکے نہیں ہیں اس لیے ہم مسلسل اِس نقطے کو برائے نام ہی سہی مزید روشن ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ بصیرت تو بڑی چیز ہے ۔سرنگ کے اُس پار کی روشنی تو ہم بہ چشمِ سر بھی دیکھ سکتے ہیں۔ یہ آج ہمارا یہاں سرجوڑ کر بیٹھنا اور اس موضوع پر گفتگو کرنا ہی اس کا ثبوت ہے کہ ہمارے سفر کی سمت درست ہے۔موجودہ حالت کو بدلنے کی فکر بھی ہے اور اس کے لیے جو بن پڑے کرتے رہنے کی کوشش بھی ۔ہم بے یقینی سے ایمان کی طرف، پژمردگی سے اُمید کی طرف،خود سپردگی سے خوداعتمادی کی طرف، انتشار سے یکجہتی کی طرف،سست رفتاری ہی سے سہی لیکن بڑھ تورہے ہیں!
البتہ یہ سوال پھر بھی برقرار ہے کہ صورت حال میں مزید بہتری کی خاطر قیادت سازی کے عمل کو مہمیز کرنے کے لیے عملی منہج کیا ہو؟ ایک ایسا طریقۂ کار جو صرف نظری طور پر Idealogically and theoreticallyہی جاذب نظر نہ ہو بلکہ عملی اعتبار سے بھی آسان اور لائق پیروی ہو۔
مَسنَد احمد(جلد پنجم) میں حضرت ابو امامہ باہلی ؓسے آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ایک قول مبارک مَروی ہے جس کا خلاصہ اس طرح کیا جا سکتا ہے کہ :
’’اُمت مسلمہ محمدیہ ایک روز زوال کا شکار ہوگی۔ او ریہ زوال اوپر سے آئے گایعنی اصلاً یہ قیادت کا لایا ہوا زوال ہوگا۔ اور اِس زوال کے نتیجے میں جتنے’’فسادات‘‘ رونما ہوں گے اُن سب کا منبع وہی قیادت ہوگی۔لیکن پھر اس کے بعد بالآخر ’اصلاح‘ کا دور شروع ہوگا۔ جو اظہار دین یا غلبۂ دین پر منتج ہوگا اور یہ اصلاح بھی اوپر سے آئے گی جو اصلاً قیادت کی لائی ہوئی ’’اصلاح‘‘ ہوگی۔ اور اس اصلاح سے دنیا میں بالعموم اورامت مسلمہ میں بالخصوص جتنے’’صالحات‘‘ ظہور پذیر ہوں گے ان سب کا منبع بھی وہی قیادت ہوگی۔‘‘؎
پس حجاب ہے اک شہسوار وادی نور
کسے خبر اِسی عہد زیاں میں ظاہر ہو !
جو بات ہم نے محسوس کی ہے وہ یقینی طورپر آپ حضرات میں سے کچھ لوگوں نے بھی ضرور محسوس کی ہوگی۔ تحریری طور پر ہمارے اس خیال کی تائید جنوری 2013میں شایع ہونے والی ایک ہم عصر مفکر کی کتاب سے بھی ہوئی ہے کہ گزشتہ دوڈھائی برسوں کے دوران عرب ممالک، بر عظیم ہند پاکستان، امریکہ او ریورپ سمیت کم و بیش پوری دنیا میں بیک وقت، کسی نہ کسی شکل میں ظلم و ناانصافی اور بدعنوانی (کرپشن) کے خلاف تحریکیں اور عوامی بیداری پیدا کرنے کی کوششیں شروع ہو چکی ہیں۔ بعض ملکوں میں بدعنوان آمرانہ اور عوام دشمن حکومتیں تبدیل ہوئی ہیں اور بعض میں جلد یابدیر تبدیل ہونے والی ہیں۔ ہند ستان میں الکٹرانک میڈیا کے بعض مخصوص حالیہ پروگرام بھی از حد چونکانے والے تھے جن میں سے کچھ اب بھی جاری ہیں۔مثلاً عامر خان کے ستیہ میو جیتے کے 13ایپی سوڈ،سونی چینل کا کرائم پٹرول دستک اور لائف OKچینل کا بھی دستک جیسا ایک پروگرام وغیرہ۔ اس طرح کے پروگرام ملک کی الکٹرانک میڈیاکی تاریخ میں کبھی ایسے پروگرام نہ بنے نہ ٹیلی کاسٹ ہوئے۔ ابھی کوئی نہیں کہہ سکتا کہ بدعنوانی سرمایہ پرستی، وال اسٹریٹ مخالف اور ظلم کے خلاف ہونے والی ان تحریکات کی اصل حقیقت کیا ہے وہ مخلصانہ ہیں یا ان کا مقصد بھی ماضی کی بعض تحریکوں کی طرح محض بھڑکے ہوئے جذبات کو نفسیاتی طورپر ٹھنڈا کرنے کی کوشش یعنی’کتھا رسس‘ ہے؟ اُن کے سرپرست اور حقیقی مددگار کون لوگ یاپسِ پردہ کون سے طاقت ور افراد اور ادارے ہیں؟ لیکن بقول شحضے اُن کا ایک پہلو یقینا قابل غور ہے کہ ان سبھی تحریکوں کا اصل زور’’اوپر کی اصلاح‘‘ پر اور ان کا اصل رُخ’’اوپر سے اصلاح‘‘ کی جانب ہے۔
بعض ٹی وی پروگرام ایسے بھی تھے بلکہ اب بھی جاری ہیں کہ جن میں نیچے کے لوگوں یعنی ظلم سے متاثر عوام کو جگانے ،جگائے رکھنے او رظلم کے خلاف سینہ سپر ہوجانے والے کمزور لوگوں کو دکھا کر اصلاح حال کی انفرادی کوششوں اور عوام کی قائدانہ صلاحیتوں کو مہمیز کرنے پر زور دیا جارہا ہے۔ یہ سب کچھ بذات خود غیر معمولی حیران کن اور چونکانے والا ہے۔ تاہم ایک بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ دنیا میں بدامنی سے امن اور ظلم سے انصاف کی طرف قدم بڑھانے کی مجاہدانہ کوشش بہر حال شروع ہو چکی ہے۔
باراں کہ در لطافت طبعش خلاف نیست
درباغ لالہ روید و در شورہ بوم خس
اقبالؒ نے قریب 72سال قبل یہ پیغام دیا تھا کہ ؎
پوچھا زمیں سے میں نے کہ ہے کس کا مال تو؟
بولی مجھے تو ہے فقط اس بات کا یقیں
مالک ہے یا مزارع شوریدہ حال ہے
جوزیر آسماں ہے وہ دھرتی کا مال ہے
انھوں نے 1932کی آل انڈیا مسلم کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اپنی تمام ترتوجہ خدمتِ خلق، اصلاح رسومات او رکسانوں کو زمینداروں کے پھندے سے نجات دلانے میں صرف کریں۔ آئیے شباب کی آگ کو ایمان کی آگ میں حل کر ڈالیں تاکہ ہم آنے والی نسلوں کے لیے ایک نئی دنیا تخلیق کرسکیں۔‘‘ اقبالؒ مدبِّرتھے انھوں نے گویا اَسّی اِکیاسی برس قبل اپنی نگاہ بصیرت سے اکیسویں صدی کی اس دوسری دہائی کے حالات کا مشاہدہ کر لیاتھا آج امریکہ کی وال اسٹریٹ مخالف تحریک اسپین ،فرانس اور یونان وغیرہ کی موجودہ تحریکیں جو سرمایہ دارانہ نظام اور ہر طرح کی ظلم اور انصافی کے خلاف ہیں، اور ظلم و استبداد کے اندھیروں میں اپنے امکان کی صرف ایک چھوٹی سی شمع جلانے کی کوشش ،سب وہ اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ ہم آج 2013میں جس جواب کی تلاش میں سرگرداں ہیں انھوں نے 1932ہی میں دے دیا تھا کہ ؎
تَدَبُّر کی فسوں کاری سے مُحکم ہو نہیں سکتا
جہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہے!
لہٰذا۔
قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلماں
اللہ کرے تجھ کو عطا جدت کردار
جو حرف قل العفو میں پوشیدہ ہے اب تک
اس دور میں شاید وہ حقیقت ہو نمودار
جاوید نامہ میں اقبالؒ نے کہا کہ ’’قرآن مسلمان سے کہتا ہے کہ جان ہتھیلی پر رکھ! تیری اپنی ضرورت سے زائد جو کچھ تیرے پاس ہے اسے فی سبیل اللہ خرچ کر دے۔‘‘
اپنی فارسی نظم ’’پس چہ باید کرد اے اقوام شرق‘ میں حکیم امت نے پکارا کہ ’’میں نے پیررومی سے کئی نکات سیکھے ہیں۔ میں نے ان کے الفاظ کی روح کو اپنا لیا ہے۔ اگر تو مال کو دین کے لیے رکھتا ہے توحضور اکرمؐ کا ارشاد ہے کہ اچھے طریقے سے کمایا ہوا مال کیا خوب ہے اور اگر تیری نظر اس حکمت پر نہیں تو پھر تو غلام ہے اور تیرا مال ہی تیرا آقا ہے۔ دولت سے بے نیاز لوگ ہی اُمّتوں کے کام سنوارتے ہیں۔ اور سیم و زر کے غلام دولت مند لوگ ہی قوموں میں فساد کا باعث بنتے ہیں ۔ ایسے دولت مند لوگ انقلاب کے ہنگاموں سے ڈرتے ہیں۔ ایسے آقا اپنے مزدور غلام کی روٹی اور غریب کی بیٹی کی آبرو توچھین سکتے ہیں، غریبی دور نہیں کرسکتے۔ نہ وہ انصاف کر سکتے ہیں۔ مبارک ہے وہ دولت مند جو درویش کی مانند زندگی بسر کرے اور جو دولت مندی کے باوجود اللہ کو نہ بھولے۔ یہ دنیا مال و دولت ،رشتہ داریاں، سب بت ہیں جو وہم وگمان نے تراش رکھے ہیں۔ مستقل اور پائدار حقیقت صرف لاالہ الااللہ ہے ؎
یہ مال و دولت دنیا یہ رشتہ و پیوند
بُتانِ وہم و گماں لاالہ الا اللہ
وال اسٹریٹ مخالف تحریک کھڑی ہونے اور ہندوستان میں کئی لاکھ غریب اور مقروض کسانوں کے مجبور ہو کر خود کشی کرلینے سے 75سال قبل اقبالؒ نے کہا تھا کہ ’’سرمایہ داری انسان کی خودی کو ہلاک کر دیتی ہے۔ سرمایہ دار، سماج کی ترقی اور نشو ونما میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ اُن کے دل میں خوفِ خدا باقی نہیں رہتا۔ وہ انسانوں کا خون چوستے ہیں۔ انسان اُن کے سامنے بھوک قرض اور افلاس سے خود کشیاں کرتے ہیں مگر ان کی دولت میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوتا رہتا ہے۔
صرف ہندوستان اور افریقہ کے غریب ملکوں ہی میں نہیں امریکہ یونان اسپین اور اسرائیل میں بھی ایک طرف غربت بیروزگاری اور بھکمری بڑھ رہی ہے تو دوسری طرف ارب پتیوں اور نَودَولَتیوں کی تعداد میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے ؎
یہ علم یہ حکمت یہ تَدَبُّر یہ حکومت
پیتے ہیں لہو، دیتے ہیں تعلیم مساوات!
اب کچھ باتیں مقامی قیادت کے بارے میں بھی ہو جائیں لیکن یہ لفظ ’مقامی ‘ صرف ممبئی کے لیے شاید مناسب نہ ہو اس میں ممبئی لکھنؤ دہلی حیدر آبادی سب ہی کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی خیال رہے کہ ہم بات کسی ’استثناء ‘ کی نہیں کررہے ہیں۔ جس طرح ہر کلیے کا ایک استثناء ہوتا ہے قیادت بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔
باہمی اتحاد و اتفاق کی کمی،تقویٰ کی کمی اور پرتعیش لائف اسٹائل اس قیادت کے مشترکہ عیوب ہیں۔ جب ہم انتشار کی بات کرتے ہیں تو اس میں مسلکی اختلاف و انتشار سر فہرست ہوتا ہے ۔ یہ قیادت ہم جس کا مرثیہ پڑھنے کا نہایت تکلیف دہ کام کررہے ہیں رحمائُ بینھم اور اَشِدَّاء علی الکفار کے بالکل خلاف ہے۔ یہ قیادت کافروں مشرکوں اور دیگر اہل کتاب سے تو رشتۂ ولایت استوار کر سکتی ہے لیکن ایک اللہ ایک رسول اور ایک قرآن کے ماننے والوں کے ساتھ وہ معاملہ بھی کرنے کو تیار نہیں جو ذمّیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے اور منافقت کا یہ حال ہے کہ جب کسی مشترکہ پلیٹ فارم پر یا سرکاری دربار میں ملتے ہیں (جہاں سے اکثر بلاوا آتا رہتا ہے یا اپنے کاموں سے جانا ہوتا رہتا ہے) تو بالکل پتہ نہیں چلتا کہ یہ ایک دوسرے کو کافر کہتے اور سمجھتے ہیں۔ لیکن سماج میں وہ درجہ اور اختیار بھی دینے کو تیار نہیں ہوتے جو دوسرے کافرین و مشرکین کو دے رکھا ہے۔
تقویٰ کی کمی کا معاملہ تو سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ اول تو اتحاد کا فقدان بھی تقویٰ ہی کے نہ ہونے کا ایک مظہر ہے، لیکن عالم یہ ہے کہ اِتقُو اللہ اِتقُو اللہ کہتے اور سنتے رہنے کے باوجود اللہ کے سوا اور سبھی سے ڈرتے ہیں۔ جس میں پولس کا خوف انتظامیہ کا خوف حکومت کا خوف اور ہر طرح کے صاحبان اختیار و اقتدار کا خوف سر فہرست ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے حق و باطل کی تلبیس بھی پیٹ بھر کے کرتے ہیں اور کتمانِ حق سے بھی باز نہیں آتے۔ کیونکہ سچ بولنے ، حق کو حق اور باطل کو باطل کہنے، ظلم کے خلاف آواز اٹھانے اور انصاف کی گہار لگانے میں ’’خطرہ‘‘ جو ہے! اقبالؒ کا یہ شعر تقریر میں تو ہم خوب پڑھتے ہیں کہ ؎
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
لیکن عمل میں اس کا مظاہرہ دور دور تک نظر نہیں آتا۔لیڈر کو تو بہر صورت وبہر قیمت کردار کا غازی ہونا چاہیے لیکن وہ بھی ہماری طرح گفتار کا غازی بن کے رہ گیا ہے۔
اب جہاں تک پر تعیش لائف اسٹائل کا معاملہ ہے تو اس آخری زمانے میں جو بلا شبہ فتنۂ مال کا زمانہ ہے اس سے بچ پانا اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ قرآن ہمارے سینوں میں نہ اتر جائے لیکن مشکل یہی ہے کہ وہ حلق میں اٹکا ہواہے۔
تو حضرات! قیادت نہ کسی خلا سے اترے گی۔ نہ کسی بلیک ہول سے پیدا ہوگی ۔ وہ ہمارے اورآپ کے درمیان ہی سے اٹھے گی ۔جب افراد،صالح، خدا ترس اور متقی ہوں گے تو معاشرہ اپنے آپ قائدانہ صلاحیتوں سے مالا مال ہوگا اور پھر وہ بھیڑ چال چلنے کے بجائے دنیا کو اپنی پیروی پر مجبور کر دے گا۔
ہمیں اس کے لیے سب سے پہلے اِسراف کو بند کرنا ہوگا۔ نکاح اور شادی کو آسان سے آسان تر بنانا ہوگا اور انفاق فی سبیل اللہ کو بہر قیمت قل العفو کی قرآنی سطح تک پہنچانا ہوگا تاکہ ہمارا سارے کا سارا فاضل مال فلاح انسانیت اور خدمت خلق میں خرچ ہوسکے۔ قیادت وہی مستحکم ہوتی ہے جو خدمت کے راستے سے آگے بڑھتی ہے۔ یہ کام اللہ کا حقیقی تقویٰ اختیار کیے بغیر اور اپنے قائدو رہبر رسولؐ کے اسوۂ حسنہ کو اپنے کردار میں ڈھالنے کی شعوری کوشش کے بغیر نہیں ہو سکتا۔
ابھی ہمارے شہرلکھنؤ میں ایک بہت مشہور عالم دین کے گھرانے میں شادی ہوئی اس میں قریب ڈیڑھ کروڑ روپئے خرچ کردیے گئے ۔ پوری شادی Pomp&Showاور دولت کے برہنہ اسراف کا بدترین نمونہ تھی۔
ہمارے لکھنؤ میں ایک اور شادی مستقبل قریب میں ہونے والی ہے۔ اس کا مجموعی بجٹ بھی ایک کروڑ سے اوپر جائے گا کیونکہ ابھی توصرف کیٹرنگ کا ٹھیکہ ہی 22لاکھ روپئے میں دیا گیا ہے۔ یہ مسلمانوں کے کسی Knownٹاٹا برلا یاا مبانی کا قصہ نہیں ہے۔ یہ ایک Un Knownمسلمان نودولتیے کا الف لیلوی قصہ ہے۔
ہمیں اگر قیادت کی تلاش ہے تو دولت کی اس برہنہ نمائش کو ختم کرنا ہی ہوگا۔یہ کام وہ ہے جس میں ملیکۃ العرب ام المومنین خدیجہ اور بعض متمول صحابہ کرام کی پوری دولت صر ف ہو جاتی ہے۔ او ریہ کام نعرے لگانے اور محض دوسروں کو نصیحت کرنے سے ہرگز نہیں ہوگا۔ یہ کام ہمیں اور آپ کو فرداً فرداً خود اپنی ذات اور اپنے گھر سے کرنا ہوگا۔ معاشرے کی اصلاح ، محض جلسے کرنے اور بھیڑ جمع کرکے دھواں دھار تقریریں کرنے سے نہیں ہوتی۔ جو کچھ ہم اسٹیج سے دوسروں سے کہتے ہیں اسے اپنی ذات اور اپنے گھر پر نافذ کرنے سے ہوتی ہے آپ جانتے ہیں کہ ملک کے بعض دیگر حصوں اور بالخصوص مہاراشٹر کے بیشتر علاقے اس وقت بدترین خشک سالی کے شکار ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے اس نے 70ہزار کروڑ روپئے اس مد میں خرچ کیے ہیں۔ رقم تو ضرور خرچ ہوئی ہے لیکن وہ وزیروں اور بیوروکریسی کی جیب اور پیٹ کے جہنم میں گئی۔ ابھی کل ہی کی خبر ہے مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ چوہان اور نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے گھروں میں صرف کھانے پینے کا سالانہ خرچ ایک ارب روپئے ہے! جب تک پورے ملک میں ہونے والی یہ اعلیٰ سطحی بدعنوانی جڑ سے اکھاڑ کر نہیں پھینکی جائے گی ملک میں نہ امن قائم ہوگا نہ دہشت گردی کا خاتمہ ہو سکے گا کیونکہ یہ کرپشن ہی سب سے بڑی دہشت گردی ہے اور سب سے بڑا دیش دروہ بھی ۔
اور یادرکھیے پھر قیامت کے روز ہم سے لازماً یہ سوال ہوگا کہ نیکی پھیلانے اور بدی کے خاتمے کے لیے ہم نے اپنی مقدور بھر کوشش کیوں نہیں کی؟ کیا اللہ نے ہمیں دولت اور طاقت اس لیے دی ہے کہ ہم صرف اس کا ناجائز استعمال اور اسراف کرتے رہیں؟ کیا اس نے علم ہمیں اس لیے دیا تھا کہ ہم اس پر فخر کریں یا علم کے اس خزانے پر سانپ کی طرح پھن کاڑھ کے بیٹھ جائیںکہ نہ خود فائدہ اٹھائیں نہ دوسروں کو فائدہ اٹھانے دیں؟
ہمیں اگر اچھی قیادت چاہیے تو ہمیں خود کو، اپنی اولاد کو اور اپنے زیر دستوں کو اچھا بنانا ہوگا اس لیے کہ قائد کو بھی صالح افراد کی ضرورت ہتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قول مبارک میں، مستقبل میں جس صالح قیادت کی بشارت ہے کیا ہم خودکو اور اپنے بعد آنے والی نسلوں کو اس صالح قائد کے پیچھے چلنے کے لائق بنانے کی کوئی کوشش کررہے ہیں؟
عزیز ساتھیو! نوجوانو! دوستو او ربزرگو! آنے والا ہر پل ہمیں’ اِلیٰ وقت المعلوم‘سے قریب ترکررہا ہے۔ لیکن اس سے پہلے یہ دنیا غلبہ دین بھی دیکھے گی اور انشاء اللہ نظام عدل وانصاف کا قیام بھی۔ گُر کی بات یہ ہے کہ ہم قائد بنانے کی کوشش سے زیادہ مقتدی بننے اور مقتدی بنانے کی کوشش میں اپنی توانائیاں صرف کریں۔ جب مقتدی اچھے ہوں گے تو انھیں میں سے کوئی قائد بھی انشاء اللہ کھڑا ہوجائے گا۔ یہ وقت اجتماعی توبہ و استغفار کا ہے۔ بینی و بین اللہ رشتوں کو مضبوط کرنے کا ہے۔ سورۂ کہف کی مداومت ترجمے کے ساتھ اس زمانے میں بہت ضروری ہے۔ بالخصوص اس کی ابتدائی دس آیات اور آخری رکوع تو نماز فجر کے بعد او رسونے سے قبل ضرور پڑھنے کی عادت ڈالیے اور قرآن کریم کے آخری دونوں سورتوں مُعَوِّذتَیْن کے ساتھ ساتھ ان تمام مسنون دعاؤں کا اہتمام کیجئے۔ جن میں اعوذ کا لفظ آتا ہے۔ مثلاًاللّٰھُم اِنّی اَعُوذُ بِکْ مِنْ شَرِّ نَفْسِی وَمِنْ شَرِّ قَضَائِ السُّوئِ وَمِنْ شرِّ کُلِّ ذی شرٍّ وَّ مِنْ شَرِّ الْجِنِّ والْانْسِ وَمِنْ شَرِّ دَابَّۃٍ وَّ اَنْتَ آخِذٌ بِنَا صِیَتِھَا اِنَّ رَبّی علی صِراطٍ مُسْتَقِیْمٍ ہ یا یہ دعا
اللّٰھُمَّ اِنّی اَعُوذُبِکَ مِنَ الْھَمِّ والحزْنِ وَاَعُوذبِکَ مِنَ الْعَجز وَالکَسَلْ وَاَعُوذُبِکَ مِنَ الجُبُنِ والْبُخْلِ وَاَعُوذُ بِکَ مِنْ غَلَبَۃِ الدَیْنِ وقَھْرِ الرِّجَال واَللّٰھُم اِنّی اَعَوذُ بِکَ مِنْ شَرِ فِتْنَۃِ المَسِیْحِ الدَّجّالِ
تومیرے عزیز!
غبار دشتِ طلب زیادہ ہے تو جنوں میں زیادہ ہو جا
مہار ناقہ کو پشت ناقہ پہ ڈال دے پاپیادہ ہو جا
یہ میرا ذمہ کہ خود تری منزلیں تعاقب کریں گی تیرا
بس ایک محمل کو دیکھ اور بے نیاز ہر رَخت و جادہ ہو جا
بس ایک ہی راستہ ہے دنیا کو زیر کرنے کا جیتنے کا
یہ جتنی پُر پیچ ہوتی جائے اسی قدر سہل و سادہ ہو جا
وہ! جس کے ادنیٰ سے اک اشارے پہ مہر و مہتاب جاگتے ہیں
اسی کے قدموں پہ اپنی مرضی کو ڈال دے بے ارادہ ہو جا
وآخردعوانا ان الحمد للہ رب العالمین والسلام علیکم ورحمۃ اللہ

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *